صوفیاء کے یہاں عقیدہ توحید کا تصور

ابوعکاشہ نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏اپریل 21, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,920
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    اعتقادات
    ڈاکٹر سید سعید عابدی
    جدہ ، سعودی عرب ـ

    ایک صاحب نے میرے نام اپنے خط میں لکھا ہے کہ ''میں نے ایک کتاب میں صوفیاءکے تذکرے کے ضمن میں پڑھا ہے کہ انکے عقائد عام اہل سنت و الجماعت سے مختلف ہیں اور ان کی توحید بھی وہ نہیں جو کہ کتاب و سنت میں بیان ہوئی ہے ـ جب کہ امر واقعہ یہ ہے کہ تصوف کی کتابوں میں کتاب و سنت کی تعلیمات پر زمرد پایا جاتا ہے ''

    دراصل تصوف کی کتابوں میں عام طور پر عقائد کاذکر نہیں کیا جاتا ، شاذو ناذ ہی ایسی کتابیں ملیں گی ،جن میں عقائد سے بحث کی گئی ہے اور اگر کی گئی ہے تو صرف عقیدہ توحید پر ـاس طرح کی کتابوں میں سرفہرست شیخ ابواسماعیل انصاری ہروی رحمہ اللہ کی کتاب '' منازل السائرین '' ہے ـ شیخ ابو اسماعیل کا شمار اکابر صوفیہ میں ہوتا ہے ـمسلکا حنبلی تھے اور لغت ، حدیث اور تاریخ میں بلند مقام پر فائز تھے اور اپنے وطن خراسان میں شیخ الاسلام کے لقب سے مشہور تھے ـ ان کی وفات 471 مطابق 1079 میں ہوئی ـ

    شیخ ہروی نے منازل السائرین میں تصوف کے تمام پہلوؤں اور راہ سلوک طے کرنے والوں کے اعمال اور وظائف کو خالص صوفیانہ اسلوب بیان کیا ہے ، اس ضمن میں انہوں نے صوفیانہ نقطہ نظر سے توحید پر بھی تفصیل سے روشنی ڈالی ہے ـ

    ''منازل السائرین '' میں جو توحید بیان کی گئی ہے ، چوں کہ کتاب وسنت میں بیان کردہ توحید سے کافی مختلف ہے ،اس لیے میں چاہتا ہوں کہ پہلےوہ توحید بیان کروں جو کتاب و سنت سے مطلوب ہے تاکہ اسلامی توحید اور صوفیانہ توحید کے فرق سمجھا جا سکے ـ
    چنانچہ کتاب وسنت کی نصوص کے تتبع اور تفصیلی مطالعہ سے اس توحید کے تین اجزاء کا ثبوت ملتا ہے ، جس کی دعوت دینے کے لیے اللہ تعالٰی نے اپنے انبیاء اور رسوک مبعوث فرمائے اور اپنی کتابیں نازل فرمائیں ـ

    1توحید ربوبیت
    اس توحید کا مطلب ہے کہ کسی شخص کے عند اللہ مقبول مومن اور مسلم ہونے کے لیے یہ بنیادی شرط ہے اس کا اس بات پر ایمان ہو کہ صرف اللہ تعالٰی ہی خالق و مالک ، رزاق ، اپنی تمام مخلوقات کے امور کی تدبیر کرنے والا ، ان کا محافظ و نگہبان اور دنیا و آخرت میں ان کے تمام امور و معاملات میں تنہا صاحب تصرف ہے ، اور کائنات کے انتظام و انصرام میں اس کے ساتھ نبیوں ، ولیوں ، فرشتوں اور جنوں وغیرہ میں سے کوئی شریک نہیں ـ توحید ربوبیت کا اقرار ہر دور میں کفار مشرکین بھی کیا کرتے تھے اور آج بھی کرتے ہیں قرآن پاک میں بکثرت ایسی آیات ہیں ، جو یہ صراحت کرتی ہیں کہ توحید ربوبیت کےقائل کفار و مشرکین بھی تھے ـ

    2-توحید الوہیت یا توحید عبودیت :
    اس کا مطلب یہ ہے کہ تنہا اللہ تعالٰی ہی معبود برحق ہے ، لہذا صرف اسی کی ذات مقدس و برتری ہی اس بات کی سزا وار ہے کہ اس کی عبادت کی جائے اور عبادر کی ہر صورت اور شکل کو اس کے لیے خاص رکھا جائے ـ قرآن پاک میں سب زیادہ زور اسی توحید الوہیت ہر دیا گیا ہے ، اسی کی دعوت انبیاء اور رسولوں نے دی ہے ـ رہی توحید ربوبیت تو اس کو توحید الوہیت کی دلیل کے طور پر بیان کیا گیا ہے ، بایں معنی کہ جب ہمارا خالق و مالک اور رب صرف تعالٰی ہے ، تو اسکا لازمی تقاضا ہے کہ صرف وہی ہمارا معبود بھی ہو ، ہم صرف اسی کو اپنا حاجت روا ، مشکل کشا ، نجات دہندہ اور بیماریوں سے شفا دینے والا مانیں ، اس کے سوا کسی اور کے سامنے دست سوال نہ پھیلائیں ، مصائب و آفات میں گھر جانے کے موقع پر اس کے سوا کسی اور کو نہ پکاریں وغیرہ ـ
    قرآن کریم میں سب سے زیادہ اسی توحید الوہیت پر زور دیا گیا ہے اور اسی کی دعوت تمام انبیاء اور رسولوں نےدی ہے ـ اسی توحید الوہیت کے اقرار اور اسکے مطابق عمل کرنے میں توحید ربوبیت بھی داخل ہے ؛ لیکن توحید ربوبیت میں توحید الوہیت داخل نہیں ، ورنہ غیر مشرکین جو توحید ربوبیت کے قائل تھے ، مشرکین نہ قرار پاتے ـ

    غیر اللہ کی عبادت ، چاہے مستقل بالذات کی جائےیا بالواسطہ ، شرک ہے ـ اسی طرح غیر اللہ سے استعانت اور استمداد یعنی اعانت طلبی اور امداد طلبی بھی شرک ہے ـ قطع نظر اس کے کہ ایسا غیر اللہ کو واسطئہ رحمت سمجھ کر کیا جاتا ہے ، یا براہ راست ـ کیونکہ اللہ تعالٰی نے مشرکین کو ان کے اس اقرار کے باوجود مشرک قرار دیا ہے کہ وہ معبودوں کی عبادت ان کو مستقل بالذات معبود سمجھ کر نہیں کرتے بلکہ ان کو اپنے اور اللہ کے درمیان واسطہ سمجھ کر تے ہیں ـ
    ارشاد ربانی ہے :
    ''خبردار ! خالص بندگی صرف اللہ کے لیے ہے اور جن لوگوں نے اللہ کے سوا دوسرے سرپر ست بنا رکھے ہیں (کہتے ہیں ) ہم تو ان کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ سے قریب تر کر دیں ـ ، یقننا اللہ ان کے درمیان ان باتوں کا فیصلہ کردے گا ، جن میں وہ اختلاف کررہے ہیں ، درحقیقت اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دینا جو جھوٹا اور منکر حق ہو ـ(الزمر:3)

    لیکن اس دنیا میں سلسلہ اسباب و علل کے تحت جن چیزوں سے انسان کی ضروریات پوری ہوتی ہیں اور وہ ایک دوسرے سے طلب کی جاتی ہیں ، مثلا بیمار پڑنے پر کسی ڈاکٹر سے رجوع کرنا ، پیاسا ہونے پر اپنے نوکر ، ماتحت یا لڑکے سے پانی طلب کرنا ، بے روزگار ہونے پر کسی صاحب عمل سے روزگار کی درخواست کرنا اور کہیں جانے کے لئے سواری استعمال کرنا وغیرہ وغیرہ ـ اللہ کو اللہ شریک بنانا نہیں ، کیونکہ کہ اولا : تو ان امور میں جس شصخ سے مدد طللب کی جاتی ہے وہ سامنے ہوتا ہے ،
    ثانیا : طالب کے ذہن و دماغ میں مطلوب کی برتری اور اس کی غیر معمولی حٰثیت کا جذبہ نہیں ہوتا ، بلکہ وہ اس کو اپنی ہی طرح کا انسان سمجھتا ہے ، جس کو اللہ تعالٰی نے بعض ایسے مادی اسباب فراہم کیے ہیں جو اس کو فراہم نہیں کیے ـ

    3- توحید اسماء صفات :یعنی اس بات پر ایمان کہ اللہ تعالٰی کی کتاب اورع اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت میں اس کے جو اسمائے ذات وصفات بیان ہوئے ہیں ، وہ سب حق ہیں اور ان یں کوئی تحریف یا تبدیلی کیے بغیر اور ان کی کوئی مثال اور کیفیت بیان کیے بغیر ان پر ایمان لانا فرض ہے اور یہ اعتقاد رکھنا صحت ایمان کے لئے شرط ہے کہ اللہ تعالٰی اپنی ذات وہ صفات میں اپنی کسی مخلوق کے مانند نہیں ـ ليس كمثله شىء'' اس کے مانند کوئی چیز نہیں ہے '' (الشوریٰ:11)
    اللہ تعالٰی کی صفات کی دو قسمیں ہیں ـ ذاتی صفات اور فعلی صفات ـ
    1- ذاتی صفات سے مراد وہ صفات ہیں ، جن سے اللہ تعالٰی ہمیشہ سے موصوف ہے اور ہمیشہ رہے گا وہ صفات یہ ہے ، علم ، قدرت ، سمع ، بصر ، عزت ، حکمت ، علو اور عظمت ـ
    2- فعلی صفات سے مراد وہ صفات ہیں ، جن کی اللہ تعالٰی اپنی حمت و مشیت کے تحت جب چاہتا ہے ، کرتا ہے اور جب چاہتا ہے نہیں کرتا : جیسے عرش پر بلند ہونا ،آسمان دنیا پر نزول فرمانا ، معصیت کے ارتکاب پر سزا دنیان وغیرہ ـ
    اللہ تعالٰی کی صفات اور اسمائے صفات میں بڑا فرق ہے اور کوئی بھی شخص اس کی صفات سے اس کے لئے صفاتی نام بنانے کا مجاز نہیں ـ
    مثال کے طور پر قرآن پاک میں اللہ تعالٰی کی جو صفات بیان ہوئی ہیں ، ان میں سے چند صفات یہ ہیں :
    آنا ، الاخذ، پکڑنا اور سزا دنیا ، الامساک ـ روکنا ، البطش سخت گیری کرنا ، وغیرہ تو ان صفات سے اللہ تعالٰی کے لئے صفاتی نا بنانا اور کہنا کہ اس کے اسمائے حسنی میں الجائی ، الآتی ، الآخذ ، المسک ، الباطش ، المرید اور النازل شال ہیں ، صحیح نہیں ، بلکہ اس کے صفاتی نام وہی ہیں ، جن کا ذکر کتان وسنت میں آیا ہے ـ
    اللہ تعالٰی کے تمام اسماء اسکی عظمت و کریائی ، اس کے تقوی و برتری اس کے تقدس و پاکیزگی ، نیر اس کی بے پایاں رحمت و شفقت پر دلالت کرتے ہیں ـ
    اوپر توحید کے جو تنیوں اجزاء بیان کیے گئے ہیں ان سب کا ماننا لازمی ہے ، کیونکہ ان میں سے کسی کو ماننا اور کسی کو نہ ماننا دائرہ توحید سے خارج کر دیتا ہے اورجو موحد نہ ہو وہ مومن نہیں اور اس کے اعمال کو کوئی اعتبار نہیں ـ

    تصوف کی کتابوں میں اولا تو توحید سے بحث نہیں کی گئی ،ثانیا اگر کسی کتاب میں کی بھی گئی ہے تو صرف توحید الوہیت سے ، رہی توحید ربوبیت اور توحید اسماء صفات سے تو اس کے ذکر سے تصوف کی کتابیں خالی ملیں گی ـ جس کا سبب یہ ہے ہے کہ صوفیاء یہ عقیدہ رکھتے ہیں اور پہلے بھی رکھتے رہے ہیں کہ ان کے نام نہاد اولیاء اور صلحاء کائنات کے انتظام و انصرام میں بالواسطہ یا بالاواسطہ تصرف کے مالک ہیں اور ان کا یہ تصرف ان کے وفات پا جانے کے بعد رہتا ہے ،وہ بماریوں کو شفاء دیتے ہیں ، بے اولادوں کو اولا دیتے ہیں اور محتاجوں ، تنگ دستوں کو مال و دولت سے نوازتے بھی ہیں ـ ان کے اسی عقیدے نے نزرگان دین کی قبروں کو ''مرجع خلائق '' بنا دیا ہے ـ
    جہاں تک توحید اسماء و صفات کا تعلق ہے تو صوفیاء اس سے واقف ہی نہیں رہے کہ اس ے بحث کرتے ـ رہی توحید الوہیت تو اگر چہ اس کا ذکر تصوف کی بعض کتابوں میں ملتا ہے ، مگر وہ اس توحید کو جس کی دعوت انبیاء علیہم السلام نے دی ہے اور جس کا ذکر قرآن پاک بھرا ہوا ہے عوام کی توحید کہتے ہیں ـ

    چنانچہ شیخ ہروی نے توحید کی تین قسمین قرار دی ہیں ـ
    1 عوام کی توحید
    ''توحید کی پہلی قسم عوام کی توحید ہے ، جو بذریعہ شواہد درست ہے ـ یہی وی ظاہری توحید ہے جس سے شرک اعظم کی نفی ہے ہوتی ہے '' (بحوالہ مدارج السالکین ، ص 375 ج 3) شیخ ہروی نے جس توحید کو عوام کی توحید قرار دیا ہے وہ توحید الوہیت و عبودیت ہے ، جس کی دعوت اللہ تعالٰی کے حکم سے تمام انبیاء اوررسولوں نے اپنی اپنی قوموں کو دی تھی ـ اور جس کی دعوت اللہ تعالٰی کے آخری اور محبوب رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کو دی ـ یعنی لا الہ الا اللہ '' اللہ کے سوا کوئی عبود نہیں '' اور اسی توحید کی دعوت پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے چچا ابوطالب کو ان کی وفات کے موقع پر دی تھی ـ اور فرمایا تھا کہ '' چچاجان ! کہیے لا الٰہ الا اللہ ایک ایسا کلمہ ہے جس کے ذریعے میں اللہ کے ہاں آپ کے حق میں ایمان کی گواہی دوں '' ایک دوسری روایت میں ہے :'' ایک ایسا کلمہ جس کے ذریعے میں اللہ کی بارگاہ میں آپ کے ایمان کی دلیل پیش کروں (بخاری و مسلم )ـ
    اس توحید کو عوام کی توحید قرار دینے سے یہ لازم آتا ہے کہ نعوذ باللہ ـ سید المرسلین علیہ السلام اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے مبعوث ہونے والے تمام انبیاء اور رسول نیز انبیاء کے بعد اس دنیا کی مقدس ترین جماعت صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم عوام کے درجے کے موحد تھے ـ رہے خواص اور خاص الخواص تو وہ صوفیاء ہیں ـ

    شیخ ہروی توحید کی دوسری تعریف کرتے ہوئے لکھتے ہیں ::'' توحید کی دوسری قسم جو حقائق کے ذریعے وجود میں آتی ہے ، خواص کی توحید پے، جس کا مفہوم یہ ہے کہ ظاہری اسباب کو کالعدم کر دیا جائے ، عقلی حجت بازیوں اور شواہد سے تعلق جوڑنے سے بلند ہو جایا جائے ، یعنی مؤحد کی نظر نہ توحید کے سلسلے یں کسی دلیل پر جائے ، نہ توکل کے سلسلے میں کسی سبب پر اعتماد کرے اور نہ نجات کے سلسلے یں کسی وسیلے کو اختیار کرے ـ
    "(بحوالہ مدارج السالکین ، ص 387 ج 3 )
    خواص کی مذکورہ توحید خالص صوفیانہ توحید ہے ، جس کو کتاب وہ سنت کی تائید حاصل نہیں ، بلکہ یہ ان کے ذوق کی پیداوار ہے ـ مزید یہ کہ اسلام میں عقائد و اعمال کے اعتبار سے اہل ایمان کو عوام اور خاص میں تقسیم نہیں کیا گیا ـ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے لے کر اس کے پیروؤں تک ہر ایک کے عقائد ، اعمال اور فرائض و واجبات ایک ہیں ـ

    رہی توحید کی تیسری قسم جو صوفیاء کے نزدیک خاصان خاص یا خاص الخواص کی توحید ہے ـ اس کی تعریف کرتے ہوئے شیخ ہروی لکھتے ہیں '' توحید کی تسری قسم وہ ہے ، جس کو اللہ نے اپنے لیے مخصوص کر رکھا ہے ، جو اس کے مقام وہ مرتبے کے لحاظ سے اسکی شان ہے ـ اس توحید کی صرف ایک جھلک اس نے اپنے برگزیدہ بندوں میں سے کچھ لوگوں کے باطن کو دکھائی ہے اور پھر ان کی زبانوں کو بیان کرنے سے گونگا بنا دیا ہے ، اور دوسروں تک اسے پھیلانے سے ان کو درماندہ کر دیا ہے
    (بحوالہ مدارج السالکین ـ ص 401 ج 3 ) ''
    یہ پوری عبارت گمراہ کن اور صوفیاء کی غیر اسلامی ذہنیت کی ترجمان ہے ، کیونکہ جو چیز مطلوب ہو اس کا ممکن الحصول بلکہ سہیل الحصول ہونا ضروری ہے ـ چنانچہ توحید کا اقرار بندوں سے مطلوب ہے اور اللہ تعالٰی نے اپنے انبیاء اور رسولوں کو اس بات کا مکلف بنایا تھا کہ وہ اپنی اپنی قوموں میں توحید کو پھیلائیں اور عام کریں ـ اب اگر اللہ کےنبی اور رسول نعوذ باللہ ـ اس توحید کے بیان سے عاجز تھے اور ان کی زبانیں اس کا وصف بیان کرنے سے گونگی تھیں ، تو پھر وہ ان سے اور ان کی قوموں سے مطلوب کیوں کر ہو سکتی تھی ؟؟
    قرآن یہ صراحت کرتا ہے کہ اللہ تعالٰی کے برگزیدہ اور محبوب بندے اور اس کے انبیاٰء اور رسول تھے اور رسولوں میں اس کے '' اولوالعزم '' رسولوں کو درجہ دوسروں سے افضل تھا اور ان میں سب سے افضل حضرت ابراہیم خیل اللہ اور حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تھے ـ اللہ تعالٰی نے اپنے ان تمام برگزیدہ بندوں کے دلوں میں جس توحید کی شمع کو روشن کی اور جس کے الفاظ ان کی مبارک زبانوں سے جاری کرائے ، وہی کامل ترین توحید تھی ، جس کو انہوں نےنہایت ہی واضح طریقے اور واضح اسلوب میں بیان فرمایا ـ

    درحقیقت صوفیاء کی توحید جس کی دعوت ان کی کتابو ں میں ملتی ہے اور جس کے بیان میں وہ کتاب وسنت کے واضح اور سادہ اسلوب کی بجائے فسلفیانہ اسلوب اختیار کرتے ہیں '' وحدت الوجود '' ہے ـ

    صوفیاء میں ایسے لوگ بھی گزرے ہیں کہ جب ان پر یہ اعتراض کیا گیا کہ آپ لوگوں کی بیان کردہ توحید اس توحید کے خلاف ہے ، جو قرآن میں بیان ہوئی ہے تو انہوں نے '' ترنگ '' میں آکر یہاں تک کہ دیا ہے کہ'' قرآن تو سارے کا سارا شرک ہے ، توحید تو وہ ہے جو ہم کہتے ہیں ـ
    ( مدارج السالکین ، ص 407 ج 3 )

    نعوذ باللہ من ذالک ـ

    کمپوزنگ :: عکاشہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں