علامہ الکوثری کے بدعی افکار

منہج سلف نے 'غیر اسلامی افکار و نظریات' میں ‏مئی 28, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    علامہ الکوثری کے بدعی افکار

    علمائے دیوبند کے لیے لمحہ فکریہ


    علامہ محمد ذاہد الکوثری المتوفی 1371ھ اہل علم کے ہاں محتاج تعارف نہیں- انہیں بالخصوص حنفی دیوبندی مکتب فکر میں بڑی پذیرائی حاصل ہے- اس لیے کہ انہوں نے ماضی قریب مین امام اجو حنیفہ رح اور حنفی نقطہ نظر کا بھرپور دفا ع کیا ہے- موصوف عقائد میں ماتریدی بلکہ جہمی تھے- اس لئے فروغ میں ہی نہیں بلکہ اصولی مسائل میں بھی انہوں نے اپنے موقف کی جس انداز سے ترجمانی کی- اس کی نظیر ماضی میں علمائے احناف میں شاید تلاش بیسار کے بعد بھی نہ ملے- غالبا وہ پہلی ذات شریف ہے جس نے امام ابن حزیمہ رح کی " کتاب التوحید" جسے خود انہوں نے صحیح ابن حزیمہ کا حصہ قرار دیا۔ (مقالات الکوثری ص 50 و ص 143، ط 1994) کو "کتاب الشرک" قرار دیا- (مقالات ص 409 التانیب ص29) اور امام حنبل رح کے بیٹے امام عبداللہ رح کی "کتاب السنہ" کو " کتاب الزیغ" (مقالات ص324) اور امام عثمان بن سعید الدارمی المتوفی 280ھ کی "الرد علی الجھیمہ" اور "الرد علی بشر المریسی" کو "کتاب الکفر و الوثینۃ" قرار دیا ہے- (مقالات ص300)

    غور کیجیے امام ابن حزیمہ رح، امام عبداللہ رح بن احمد، اور امام عثمان رح بن سعید الدارمی جن کے علم و فضل، امانت و دیانت، حفظ و ضبط اور توثیق و تعدیل پر تمام محدثین کا اتفاق ہے- اگر وہی شرک ، بت پرستی، کفر اور گمراہی کے معاذ اللہ علمبردار ہیں تو بتلائیے توحید و سنت کا داعی کون ہے؟

    اسی طرح شیخ الاسلام ابن تیمیہ رح اور ان کے تلمیذ امام ابن قیم رح کے بارے میں جو کچھ انہوں نے "مقالات " اور "تبدید الظلام" اور "الاشفاق" میں کہا اس کی داستان طویل ہے- حتی کہ انہیں بدعتی، کذاب ، جاہل، غبی، ضال مضل، خارجی، زندیق، قلیل الدین والعقل تک لکھ مارا- امام ابو حنیفہ رح اور ان کے تلامذہ کے دفاع میں امام ابو عوانہ وضاح بن عبداللہ، امام ابو اسحاق الفزاری ابریہیم بن محمد، امام ابو اسحاق ابراہیم بن محمد المزکی، امام احمد بن سلیمان النجاد، امام زکریا بن یحی الساجی، امام علی بن عمر ابوالحسن الدارقطنی، امام محمد بن عیسی الترمذی، امام محمد بن حبان ابو حاتم البستی، امام محمد بن عبداللہ الحاکم صاحب المستدرک اور امام محمد بن عمرو العقیلی رحمھم اللہ وغیرہ جیسے ائمہ حفاظ کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا امام احمد بن حنبل رح اور امام شافعی رح پر ان کے تبصرے بھی کسی طاحب علم سے مخفی نہیں-
    خطیب بغدادی رح سے لےکر حافظ ابن حجر رح تک کے بعض علمائے شافعیہ پر ان کی تنقید بھی اہل علم کے ہاں معلوم و معروف ہے- حتی کہ حضرت انس بن مالک رضہ اور معاویہ بن ابوحکم جیسے صحابی بھی ان کے قلم کی کاٹ سے نہ بچ سکے- غالبا ان کی جرات کی بنا پر مولانا محمد یوسف بنوری مرحوم نے ان کی بڑی تحسین کی اور فرمایا:

    " وہ ایسے (حنیف) مخلص حنفی ہیں جنہوں نے چھوٹے بڑے سب بت پاش پاش کردیے"
    (مقدمہ مقالات الکوثری ص د)

    بلکہ یہ بھی فرمایا کہ:

    " وہ چمکتی تلوار، سونتی تلوار اور مشہور ہندی لوہے کی تلوار تھے"
    (ایضار ص ز)

    گویا تاریخ کے اوراق میں جس تلوار کا ذکر حجاج بن یوسف کے تذکرہ میں ہے وہ ماضی قریب میں شیخ الکوثری کو "نصیب" ہوئی- جس سے نہ کسی بڑےکو چھوڑا اور نہ ہی کسی چھوٹے کو-
    حنفی اصول و فروغ کے دفاع میں ( گواکثر اصول امام ابوحنیفہ رح کے قطعا نہیں) ان کی اسی بے باکانہ "خدمات" کو علمائے احناف بالعموم اور علمائے دیوبند بالخصوص بڑی تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں- مگر ان سطور کے واسطہ سے ہم اپنے ان دیوبندی علماء سے دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ کیا وہ علامہ الکوثری کے ان بدعی افکار سے بھی متفق ہی جن کی تردید میں انہوں نے بے شمار صفحات سیاہ کئے اور ان کی وجہ سے اپنے ہی حنفی بریلوی حصرات سے لڑائی مول لی؟

    علامہ کوثری اور قبروں کو پختہ کرنا

    انہی مسائل میں ایک مسئلہ قبروں کو پختہ بنانا اور ان پر مسجدیں تعمیر کرنا بھی ہے۔ ربیع الآحر 1366ھ میں مجلہ "الازھر" میں ایک مضمون شائع ہوا جس میں مضمون نگار نے صحیح مسلم (ج1ص312) میں حضرت جابر رض بن عبداللہ اور حصرت علی رض کی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے حافظ ابن قیم رح کی "اغاثۃ اللھفان" سے نقل کیا ہے کہ قبروں پر یہ بنائے ہوئے قبے گرانے چاہییں- کیونکہ ان کے بنانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی ہے-
    ا س مضمون کے جواب میں "بناء مساجد علی قبور و الصلوۃ الیھا" کے عنوان سے شیخ کوثری نے مضمون لکھا جو ان کے مقالات (ص 456 تا 159) میں مطبوع ہے- جس میں وہ بڑے جذباتی انداز میں لکھتے ہیں-

    " اس رائے کی بنا پر عالم اسلام کے بادشاہوں پر واجب ہے کہ وہ کدال، پھاوڑے پکڑلیں اور صحابہ کرام رض، ائمہ دین اور صلحائے امت کی قبروں پر مشرق و مغرب میں بنے ہوئے قبوں کو گرادیں اور ان کے قریب بنی ہوئی مساجد، ہر جگہ بادشاہوں اور امراء اسلام وغیرہ کی قبروں پر بنے ہوئے قبوں کو ڈھادیں- جب کہ سلف و خلف میں امت کا مسلسل عمل اس کے خلاف ہے-"
    (مقالات ص 156، 157 و ص 245، 246 ط 1994)

    اسی طرح "الھجرۃ النبویہ" کے عنوان سے اپنے مقالے میں لکھتے ہیں-

    " اگر قبروں پر قبوں کا بنانا بدعت مکروہ ہوتا تو ابتدائے اسلام سے لےکر آج تک امت اسی پر عمل نہ کرتی"
    ( مقالات الکوثری ص437)

    گویا قبروں پر قبے بنان اجماع امت سے ثابت ہے- انا للہ وانا الیہ راجعون-
    بلکہ لطف یہ ہے کہ اس سلسلے میں وہی عامۃ الورود دلائل کہ اصحاب الکہف کف بارے میں اس دور کے "مسلمان" حاکم اور "مسلمانوں" نے عزم کیا تھا کہ ہم اس پر مسجد بنادیں-
    اللہ تعالی کا ارشاد ہے-

    قَالَ الَّذِينَ غَلَبُوا عَلَى أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِم مَّسْجِدًا (الکہف:21)
    "ان لوگوں نے کہا جو اپنے کام پر غالب تھے کہ ہم ان پر ایک مسجد بنادیں گے"

    یہ لوگ کون تھے- علاوہ الکوثری لکھتے ہیں:-

    "اس عزم کا اظہار مسلمانوں اور ان کے مسلمان بادشاہ نے کیا"
    (مقالات ص159)

    حالانکہ اس عزم کا اظہار کرنے والے موحدمسلمان نہیں بلکہ عیسائی تھے-
    مالانا شبیر احمد عثمانی مرحوم نے سای آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ-

    "جن لوگوں نے معتقد ہوکر وہاں مکان بنایا وہ نصاری تھے"
    (تفسیر عثمانی ص395)

    اگر انہیں مسلمان تسلیم کرلیا جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صریح فرمان کہ:

    " اللہ تعالی یہود و نصاری پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے انبیاء اور صلحاء کی قبروں کو مسجدیں بنالیا"
    (بخاری و مسلم)
    کے بعد یہ کیسے مان لیا جائے کہ یہ طریقہ موحد مسلمانوں کا تھا اور صلحاء کی قبروں پر مسجدیں بنانا جائز ہے-

    شیخ کوثری نے مزید یہ بھی فرمایا کہ علامہ عبدالغنی نابلیسی رح وغیرہ نے اس کے جواز کا فتوی دیا ہے- اسی قسم کے اقوال ہمارے بریلوی حضرات کا سہارا ہیں- مگر دیکھنا یہ ہے کہ حنفی دیوبندی مسلک کیا ہے-
    ہم یہاں متقدمین علمائے احناف کی تصریحات کی بجائے علمائے دیوبند کی چند شہادتی پیش کرتے ہیں- چنانچہ سرخیل علمائے دیوبند مولانا رشید احمد گنگوہی مرحوم سے پوچھا گیا کہ قبروں کا پختہ بنانا اور ان پر عمارت و قبہ و روشنی وغیرہ کا کیا حکم ہے؟
    انہوں نے فرمایا:

    " یہ سب امور ناجائز ہیں اور جہاں کہیں لوگوں نے کیا ہے وہ علمائے مقبولین نے نہیں کیا بلکہ امراء و سلاطین نے کیا ہے اور خلاف قرآن شریف و سنت رسول صی اللہ علیہ وسلم کےجو کوئی کرے وہ ناجائز ہے"
    (فتاوی رشیدیہ ص116)

    اسی نوعیت کے ایک استفتاء کے حواب میں موصوف لکھتے ہیں-

    "ہرگاہ کہ احادیث میں ممانعت ان امور کی وارد ہے پھر کسی کے فعل سے وہ جائز نہیں ہوسکتے- اور اعتبار قرآن و حدیث و اقوال مجتہیدن کا ہے نہ افعال مخالف شرع کا- اگر عرب اور حرمین میں امور غیر مشروع خلاف کتاب و سنت رائج ہوگئے تو جواز ان کا نہیں ہوسکتا- اور جو وہاں ان بدعات کو کوئی منع نہ کرسکے تو یہ حجت جواز نہیں ہوسکتی- اس پر سکوت کو کوئی وجہ نہیں کتاب و سنت سے رد کرنا چاہیے- "
    (فتاوی رشیدیہ ص113)

    دارالعلوم دیوبند کے مطبوعہ فتاوی میں حضرت مولانا عزیز الرحمن رحمہ اللہ مزارات سلاطین و اولیاء کرام پر تعمیر ہونے والے قبوں کے بارے میں فرماتے ہیں:

    " قبہ بنانا مکان میں دفن کرنا سوائے انبیاء کے اور کسی کو جائز نہیں"
    (فتاوی دارالعلوم ج5 ص395)

    اس کے بعد انہوں نے اس کی تائید رد المحتار شامی کی عبارت نقل کی ہے-

    مولانہ اشرف علی تھانوی کے فتاوی امداد الفتاوی (ج1 ص 487۔488) میں بھی یہی کچھ ہے اور حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ مرحوم لکھتے ہیں:

    " اونچی اونچی قبریں بنانا، قبروں کو پختہ کرنا، قبروں پر گنبذ اور قبے اور عمارتیں بنانا غلاف دالنا، چادریں چڑھانا، نذریں ماننا، طواف کرنا، سجدہ کرنا، یہ تمام امور منارات شرعیہ میں داخل ہیں شریعت مقدسہ اسلامیہ نے ان امور سے صراحتا منع فرمایا ہے-"
    (کفایت المفتی ج 4 ص69- مطبوعہ امدادیہ- ملتان)

    اس فتوے پر دوسرے علمائے احناف دہلی کے بھی دستخط ہیں بلکہ "بناء القبب علی القبور" کے مستقل عنوان کے تحت کتب احناف سے قبوں کے ناجائز اور مکروہ ہونے کے حوالہ جات مندرج ہیں-
    علمائے دیوبند کے اس فتوی کے بعد ہم دیوبندی علمائے کرام ہی سے نہایت ادب سے سوال کرتے ہیں کہ بریلوی حصرات اکر قبروں کو پختہ اور ان پر قبے بنائيں تو وہ بدعتی اور ناجائز کام کے مرتکب ٹھہریں- مگر جناب کوثری صاحب فقہ حنفی کے "حنفی حنیف" اور علمبردار پائيں!!!ع

    بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر

    اقتباسات: الاعتصام: 26 حولائی 1996
    مقالات ارشاد الحق اثری رح، ج 1، ص 162،
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,966
    السلام علیکم
    جزاکم اللہ خیرا بھائی عتیق
    "الاشفاق" میں جس طرح کی بدزبانی شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اور اس کے تلیمذ ابن قیم رحمہ اللہ کے خلاف کی گئی وہ یقیننا تعصب اور بغض کی ایک بد ترین مثال ہے ۔ حنفیت کو منزل من اللہ ثابت کرنے کےلیے انتہی گھٹیا طریقہ اختیار کیا گیا جس پر وہ اپنے پچھلوں کو مات دے گئے ۔ جس قبیل کے لوگ ہوں گئے وہی طریقہ استعمال کریں گئے اس کے علاوہ اور کر ہی کیا سکتے ہیں ۔ ان دونوں شیخین کو جن القاب سے نوازا ان الفاظ کے سب سے زیادہ مستحق موصوف خود تھے ۔ جس کا اندازا ان کتابوں کو پڑھ کر لگایا جا سکتا ہے ۔ معذرت میرے یہ الفاظ تھوڑے سخت ہیں لیکن اگر آپ "الاشفاق" پڑھیں تو میرے استعمال کردہ الفاظ مہذبانہ معلوم ہوں گئے ۔
     
  3. ابن بشیر

    ابن بشیر ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جنوری 29, 2012
    پیغامات:
    268
    زاہد الکوثری الجہمی فی میزان الشیخ ارشاد الحق اثری حفظہ اللہ

    علامہ الکوثری کے بدعی افکار

    علمائے دیوبند کے لیے لمحہ فکریہ


    علامہ محمد ذاہد الکوثری المتوفی 1371ھ اہل علم کے ہاں محتاج تعارف نہیں- انہیں بالخصوص حنفی دیوبندی مکتب فکر میں بڑی پذیرائی حاصل ہے- اس لیے کہ انہوں نے ماضی قریب مین امام اجو حنیفہ رح اور حنفی نقطہ نظر کا بھرپور دفا ع کیا ہے- موصوف عقائد میں ماتریدی بلکہ جہمی تھے- اس لئے فروغ میں ہی نہیں بلکہ اصولی مسائل میں بھی انہوں نے اپنے موقف کی جس انداز سے ترجمانی کی- اس کی نظیر ماضی میں علمائے احناف میں شاید تلاش بیسار کے بعد بھی نہ ملے- غالبا وہ پہلی ذات شریف ہے جس نے امام ابن حزیمہ رح کی " کتاب التوحید" جسے خود انہوں نے صحیح ابن حزیمہ کا حصہ قرار دیا۔ (مقالات الکوثری ص 50 و ص 143، ط 1994) کو "کتاب الشرک" قرار دیا- (مقالات ص 409 التانیب ص29) اور امام حنبل رح کے بیٹے امام عبداللہ رح کی "کتاب السنہ" کو " کتاب الزیغ" (مقالات ص324) اور امام عثمان بن سعید الدارمی المتوفی 280ھ کی "الرد علی الجھیمہ" اور "الرد علی بشر المریسی" کو "کتاب الکفر و الوثینۃ" قرار دیا ہے- (مقالات ص300)

    غور کیجیے امام ابن حزیمہ رح، امام عبداللہ رح بن احمد، اور امام عثمان رح بن سعید الدارمی جن کے علم و فضل، امانت و دیانت، حفظ و ضبط اور توثیق و تعدیل پر تمام محدثین کا اتفاق ہے- اگر وہی شرک ، بت پرستی، کفر اور گمراہی کے معاذ اللہ علمبردار ہیں تو بتلائیے توحید و سنت کا داعی کون ہے؟

    اسی طرح شیخ الاسلام ابن تیمیہ رح اور ان کے تلمیذ امام ابن قیم رح کے بارے میں جو کچھ انہوں نے "مقالات " اور "تبدید الظلام" اور "الاشفاق" میں کہا اس کی داستان طویل ہے- حتی کہ انہیں بدعتی، کذاب ، جاہل، غبی، ضال مضل، خارجی، زندیق، قلیل الدین والعقل تک لکھ مارا- امام ابو حنیفہ رح اور ان کے تلامذہ کے دفاع میں امام ابو عوانہ وضاح بن عبداللہ، امام ابو اسحاق الفزاری ابریہیم بن محمد، امام ابو اسحاق ابراہیم بن محمد المزکی، امام احمد بن سلیمان النجاد، امام زکریا بن یحی الساجی، امام علی بن عمر ابوالحسن الدارقطنی، امام محمد بن عیسی الترمذی، امام محمد بن حبان ابو حاتم البستی، امام محمد بن عبداللہ الحاکم صاحب المستدرک اور امام محمد بن عمرو العقیلی رحمھم اللہ وغیرہ جیسے ائمہ حفاظ کو اپنی تنقید کا نشانہ بنایا امام احمد بن حنبل رح اور امام شافعی رح پر ان کے تبصرے بھی کسی طاحب علم سے مخفی نہیں-
    خطیب بغدادی رح سے لےکر حافظ ابن حجر رح تک کے بعض علمائے شافعیہ پر ان کی تنقید بھی اہل علم کے ہاں معلوم و معروف ہے- حتی کہ حضرت انس بن مالک رضہ اور معاویہ بن ابوحکم جیسے صحابی بھی ان کے قلم کی کاٹ سے نہ بچ سکے- غالبا ان کی جرات کی بنا پر مولانا محمد یوسف بنوری مرحوم نے ان کی بڑی تحسین کی اور فرمایا:

    " وہ ایسے (حنیف) مخلص حنفی ہیں جنہوں نے چھوٹے بڑے سب بت پاش پاش کردیے"
    (مقدمہ مقالات الکوثری ص د)

    بلکہ یہ بھی فرمایا کہ:

    " وہ چمکتی تلوار، سونتی تلوار اور مشہور ہندی لوہے کی تلوار تھے"
    (ایضار ص ز)

    گویا تاریخ کے اوراق میں جس تلوار کا ذکر حجاج بن یوسف کے تذکرہ میں ہے وہ ماضی قریب میں شیخ الکوثری کو "نصیب" ہوئی- جس سے نہ کسی بڑےکو چھوڑا اور نہ ہی کسی چھوٹے کو-
    حنفی اصول و فروغ کے دفاع میں ( گواکثر اصول امام ابوحنیفہ رح کے قطعا نہیں) ان کی اسی بے باکانہ "خدمات" کو علمائے احناف بالعموم اور علمائے دیوبند بالخصوص بڑی تحسین کی نگاہ سے دیکھتے ہیں- مگر ان سطور کے واسطہ سے ہم اپنے ان دیوبندی علماء سے دریافت کرنا چاہتے ہیں کہ کیا وہ علامہ الکوثری کے ان بدعی افکار سے بھی متفق ہی جن کی تردید میں انہوں نے بے شمار صفحات سیاہ کئے اور ان کی وجہ سے اپنے ہی حنفی بریلوی حصرات سے لڑائی مول لی؟

    علامہ کوثری اور قبروں کو پختہ کرنا

    انہی مسائل میں ایک مسئلہ قبروں کو پختہ بنانا اور ان پر مسجدیں تعمیر کرنا بھی ہے۔ ربیع الآحر 1366ھ میں مجلہ "الازھر" میں ایک مضمون شائع ہوا جس میں مضمون نگار نے صحیح مسلم (ج1ص312) میں حضرت جابر رض بن عبداللہ اور حصرت علی رض کی حدیث سے استدلال کرتے ہوئے حافظ ابن قیم رح کی "اغاثۃ اللھفان" سے نقل کیا ہے کہ قبروں پر یہ بنائے ہوئے قبے گرانے چاہییں- کیونکہ ان کے بنانے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی ہے-
    ا س مضمون کے جواب میں "بناء مساجد علی قبور و الصلوۃ الیھا" کے عنوان سے شیخ کوثری نے مضمون لکھا جو ان کے مقالات (ص 456 تا 159) میں مطبوع ہے- جس میں وہ بڑے جذباتی انداز میں لکھتے ہیں-

    " اس رائے کی بنا پر عالم اسلام کے بادشاہوں پر واجب ہے کہ وہ کدال، پھاوڑے پکڑلیں اور صحابہ کرام رض، ائمہ دین اور صلحائے امت کی قبروں پر مشرق و مغرب میں بنے ہوئے قبوں کو گرادیں اور ان کے قریب بنی ہوئی مساجد، ہر جگہ بادشاہوں اور امراء اسلام وغیرہ کی قبروں پر بنے ہوئے قبوں کو ڈھادیں- جب کہ سلف و خلف میں امت کا مسلسل عمل اس کے خلاف ہے-"
    (مقالات ص 156، 157 و ص 245، 246 ط 1994)

    اسی طرح "الھجرۃ النبویہ" کے عنوان سے اپنے مقالے میں لکھتے ہیں-

    " اگر قبروں پر قبوں کا بنانا بدعت مکروہ ہوتا تو ابتدائے اسلام سے لےکر آج تک امت اسی پر عمل نہ کرتی"
    ( مقالات الکوثری ص437)

    گویا قبروں پر قبے بنان اجماع امت سے ثابت ہے- انا للہ وانا الیہ راجعون-
    بلکہ لطف یہ ہے کہ اس سلسلے میں وہی عامۃ الورود دلائل کہ اصحاب الکہف کف بارے میں اس دور کے "مسلمان" حاکم اور "مسلمانوں" نے عزم کیا تھا کہ ہم اس پر مسجد بنادیں-
    اللہ تعالی کا ارشاد ہے-

    قَالَ الَّذِينَ غَلَبُوا عَلَى أَمْرِهِمْ لَنَتَّخِذَنَّ عَلَيْهِم مَّسْجِدًا (الکہف:21)
    "ان لوگوں نے کہا جو اپنے کام پر غالب تھے کہ ہم ان پر ایک مسجد بنادیں گے"

    یہ لوگ کون تھے- علاوہ الکوثری لکھتے ہیں:-

    "اس عزم کا اظہار مسلمانوں اور ان کے مسلمان بادشاہ نے کیا"
    (مقالات ص159)

    حالانکہ اس عزم کا اظہار کرنے والے موحدمسلمان نہیں بلکہ عیسائی تھے-
    مالانا شبیر احمد عثمانی مرحوم نے سای آیت کی تفسیر میں لکھا ہے کہ-

    "جن لوگوں نے معتقد ہوکر وہاں مکان بنایا وہ نصاری تھے"
    (تفسیر عثمانی ص395)

    اگر انہیں مسلمان تسلیم کرلیا جائے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صریح فرمان کہ:

    " اللہ تعالی یہود و نصاری پر لعنت کرے جنہوں نے اپنے انبیاء اور صلحاء کی قبروں کو مسجدیں بنالیا"
    (بخاری و مسلم)
    کے بعد یہ کیسے مان لیا جائے کہ یہ طریقہ موحد مسلمانوں کا تھا اور صلحاء کی قبروں پر مسجدیں بنانا جائز ہے-

    شیخ کوثری نے مزید یہ بھی فرمایا کہ علامہ عبدالغنی نابلیسی رح وغیرہ نے اس کے جواز کا فتوی دیا ہے- اسی قسم کے اقوال ہمارے بریلوی حضرات کا سہارا ہیں- مگر دیکھنا یہ ہے کہ حنفی دیوبندی مسلک کیا ہے-
    ہم یہاں متقدمین علمائے احناف کی تصریحات کی بجائے علمائے دیوبند کی چند شہادتی پیش کرتے ہیں- چنانچہ سرخیل علمائے دیوبند مولانا رشید احمد گنگوہی مرحوم سے پوچھا گیا کہ قبروں کا پختہ بنانا اور ان پر عمارت و قبہ و روشنی وغیرہ کا کیا حکم ہے؟
    انہوں نے فرمایا:

    " یہ سب امور ناجائز ہیں اور جہاں کہیں لوگوں نے کیا ہے وہ علمائے مقبولین نے نہیں کیا بلکہ امراء و سلاطین نے کیا ہے اور خلاف قرآن شریف و سنت رسول صی اللہ علیہ وسلم کےجو کوئی کرے وہ ناجائز ہے"
    (فتاوی رشیدیہ ص116)

    اسی نوعیت کے ایک استفتاء کے حواب میں موصوف لکھتے ہیں-

    "ہرگاہ کہ احادیث میں ممانعت ان امور کی وارد ہے پھر کسی کے فعل سے وہ جائز نہیں ہوسکتے- اور اعتبار قرآن و حدیث و اقوال مجتہیدن کا ہے نہ افعال مخالف شرع کا- اگر عرب اور حرمین میں امور غیر مشروع خلاف کتاب و سنت رائج ہوگئے تو جواز ان کا نہیں ہوسکتا- اور جو وہاں ان بدعات کو کوئی منع نہ کرسکے تو یہ حجت جواز نہیں ہوسکتی- اس پر سکوت کو کوئی وجہ نہیں کتاب و سنت سے رد کرنا چاہیے- "
    (فتاوی رشیدیہ ص113)

    دارالعلوم دیوبند کے مطبوعہ فتاوی میں حضرت مولانا عزیز الرحمن رحمہ اللہ مزارات سلاطین و اولیاء کرام پر تعمیر ہونے والے قبوں کے بارے میں فرماتے ہیں:

    " قبہ بنانا مکان میں دفن کرنا سوائے انبیاء کے اور کسی کو جائز نہیں"
    (فتاوی دارالعلوم ج5 ص395)

    اس کے بعد انہوں نے اس کی تائید رد المحتار شامی کی عبارت نقل کی ہے-

    مولانہ اشرف علی تھانوی کے فتاوی امداد الفتاوی (ج1 ص 487۔488) میں بھی یہی کچھ ہے اور حضرت مولانا مفتی کفایت اللہ مرحوم لکھتے ہیں:

    " اونچی اونچی قبریں بنانا، قبروں کو پختہ کرنا، قبروں پر گنبذ اور قبے اور عمارتیں بنانا غلاف دالنا، چادریں چڑھانا، نذریں ماننا، طواف کرنا، سجدہ کرنا، یہ تمام امور منارات شرعیہ میں داخل ہیں شریعت مقدسہ اسلامیہ نے ان امور سے صراحتا منع فرمایا ہے-"
    (کفایت المفتی ج 4 ص69- مطبوعہ امدادیہ- ملتان)

    اس فتوے پر دوسرے علمائے احناف دہلی کے بھی دستخط ہیں بلکہ "بناء القبب علی القبور" کے مستقل عنوان کے تحت کتب احناف سے قبوں کے ناجائز اور مکروہ ہونے کے حوالہ جات مندرج ہیں-
    علمائے دیوبند کے اس فتوی کے بعد ہم دیوبندی علمائے کرام ہی سے نہایت ادب سے سوال کرتے ہیں کہ بریلوی حصرات اکر قبروں کو پختہ اور ان پر قبے بنائيں تو وہ بدعتی اور ناجائز کام کے مرتکب ٹھہریں- مگر جناب کوثری صاحب فقہ حنفی کے "حنفی حنیف" اور علمبردار پائيں!!!ع

    بندہ پرور منصفی کرنا خدا کو دیکھ کر

    اقتباسات: الاعتصام: 26 حولائی 1996
    مقالات ارشاد الحق اثری رح، ج 1، ص 162
     
  4. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,966
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ ۔
    منتقل کیا گیا ۔۔۔۔۔
    ''علامہ الکوثری کے بدعی افکار'' یہ تھریڈ پہلے سے ہی اردو مجلس پر کمپوز کیا ہوا موجود ہے ۔ شکریہ
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں