آصف زرداری اور نواز شریف دونوں مہنگائی کے ذمہ دار ہیں،عوام کی رائے

m aslam oad نے 'متفرقات' میں ‏جولائی 22, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. m aslam oad

    m aslam oad نوآموز.

    شمولیت:
    ‏نومبر 14, 2008
    پیغامات:
    2,443
    کراچی (جنگ نیوز) پنڈی شہر کے عوامی مسائل پر گفتگو کرنے کیلئے کیپٹل ٹاک کے میزبان حامد میر وزیر مملکت برائے صنعت و پیداوار آیت اللہ درانی اور مسلم لیگ (ن) کے رکن قومی اسمبلی شکیل اعوان کو لیکر عوام کے درمیان پہنچ گئے۔ اُنہوں نے ٹیکسی اور رکشے میں بھی سفر کیا۔ عوام نے کھل کر حکومتی عہدیداروں کو اپنے مسائل سے آگاہ کیا۔ ایک شہری نے بتایا کہ لوڈشیڈنگ نے ہمارے کاروبار کی حالت بہت خراب کردی ہے، حکومت نے تمام اشیاء ضروریہ پر ٹیکس عائد کردیا ہے اور سارا ٹیکس زرداری کے اکاؤنٹ میں جاتا ہے جس سے عوام مشکلات سے دو چار ہو گئے ہیں ، جب تک زرداری ٹیکس ختم نہیں ہوگا عوام سکون میں نہیں آئے گی، صدر زرداری اور نوازشریف دونوں ہی مہنگائی کے ذمہ دار ہیں۔ مشرف دور سے اب تک ملک میں 300 گنا مہنگائی ہو گئی ہے لیکن حکومت کوئی ذمہ داری قبول نہیں کرتی۔ آیت اللہ درانی نے کہا کہ ہم اس وقت حالت جنگ میں ہیں، جب شہری ٹیکس ادا کرنا شروع کردیں گے تو ہم اِن مسائل سے چھٹکارہ حاصل کرلیں گے ،مگر مشکل یہ ہے کہ عوام ٹیکس کی بچت کرتے ہیں اور ”زر“ کمانے والے اپنے ٹیکس کو زرداری ٹیکس سمجھتے ہیں۔ بجلی کے شدید بحران پر ایک شہری کے سوال کا جواب دیتے ہوئے آیت اللہ درانی نے کہا کہ حب میں غیر ملکی سرمایہ کار نے سرمایہ کاری کی تھی لیکن اُسے نواز حکومت نے گرفتار کر لیا جس کی وجہ سے غیر ملکی سرمایہ کار ملک سے چلے گئے، (ن) لیگ مینٹل پاور ٹھیک کرلیں تو رینٹل پاور خود ٹھیک ہو جائیں گے۔ اُنہوں نے کہا کہ آج پاکستان کے زمیندار اور چھوٹے چھوٹے کاشتکار بہت خوش ہیں کیونکہ منڈیوں کا پیسہ براہ راست کاشتکار کو مل رہا ہے۔ درانی نے کہا کہ قومی کانفرنس کا ایجنڈا تیار ہو چکا ہے اور کچھ دِنوں میں وزیراعظم اور صدر سیاسی قیادت سے ملاقات کے بعد اِسی ہفتے قومی کانفرنس کی حتمی تاریخ کا اعلان کردیں گے۔ ایک شہری کا کہنا تھا کہ رات 8 بجے لوگوں کاکاروبار شروع ہوتا ہے اور یہاں بازار بند کروادیئے جاتے ہیں۔ ایک اور شہری کا کہنا تھا کہ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر اربوں روپے خرچ ہوئے مگر کسی ایک کا فائدہ نہیں ہوا، اگر 50 ہزار روپے میں ایک غریب کو ٹھیا لگا کر دیتے تو حکومت کو بھی فائدہ ہوتا اور غریب کا بھی اپنا کاروبار ہوجاتا ۔ شکیل اعوان نے کہا کہ لوگوں کے کاروبار تباہ ہورہے ہیں اور وہ خودکشیوں پر مجبور ہیں۔ جب سے ڈی سی او ، مجسٹریٹ اور کمشنری نظام ختم ہوا ہے مہنگائی بڑھ گئی ہے اور مارکیٹ کو کنٹرول کرنا مشکل ہو گیا ہے، اُنہوں نے کہا کہ جب شہری کو سارا دِن بجلی نہ ملے اور رات 8 بجے دکانیں زبردستی بند کرادی جائیں تو عوام میں یقینا اشتعال پھیلے گا۔ 70 ارب روپے جو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام پر خرچ کئے جارہے ہیں ، اس کی جگہ عوام کو سبسڈی فراہم کی جائے تو عوام سکون میں آجائیں گے۔ ایک موقع پر شکیل اعوان کا کہنا تھا کہ اگر صدر زرداری اپنی دولت عوام میں تقسیم کردیں تو ملک سے غربت ختم ہوجائے گی۔

    آصف زرداری اور نواز شریف دونوں مہنگائی کے ذمہ دار ہیں،عوام کی رائے
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں