حج انتظامات میں گھپلے، سعودی شہزادے کے خط پر چیف جسٹس کا ازخود نوٹس

m aslam oad نے 'حالاتِ حاضرہ' میں ‏نومبر 4, 2010 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. m aslam oad

    m aslam oad نوآموز.

    شمولیت:
    ‏نومبر 14, 2008
    پیغامات:
    2,443
    خط کے مندرجات حقائق کے منافی ہیں، تحریر کے اصلی یا جعلی ہونے کے بارے میں سعودی وزارت خارجہ کو خط لکھ دیا ہے، وزارت مذہبی امور نے عدالت میں جواب جمع کرا دیا
    پاکستانی حکام نے حرم کے قریب سستی عمارتوں کی پیشکش مسترد کردی، شہزادہ بندر بن خالد ،معاملہ سنجیدہ ہے وزارت خارجہ سعودی حکومت کے ساتھ اٹھائے، افتخار چوہدری


    اسلام آباد (نیوز رپورٹر،سپیشل رپورٹر) سعودی شہزادہ پرنس بندر بن خالد بن عبدالعزیز کے چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری کے نام خط پر وزارت مذہبی امور نے اپنا جواب عدالت عظمیٰ میں جمع کرا دیا ہے جس میں سعودی شہزادہ کے خط کے مندرجات کو حقائق کے منافی قرار دیاگیا ہے۔ وزارت مذہبی امور نے اس خط کی صحت کی تصدیق کے لئے وزارت خارجہ کے توسط سے سعودی وزارت خارجہ کو خط لکھ دیا ہے جس کے بعد یہ طے ہو گا کہ خط اصلی ہے یا جعلی، پرنس بندربن عبدالعزیز نے وفاقی وزیر برائے مذہبی امور کو بھی خط لکھا ہے تاہم دونوں کا متن ایک ہے۔ وزیر مذہبی امور کو خط میں سعودی شہزادے نے کہا ہے کہ ہم نے آپ کو سستی رہائش گاہوں کی پیشکش کی مگر اس کے باوجود مہنگی اور حرم سے دور رہائش گاہیں لی گئیں جو اس امر کی مظہر ہے کہ کرپشن کی گئی ہے اور عازمین حج کی برسوں کی جمع پونجی میں بے ضابطگی کی گئی ہے۔ سیکرٹری کو کیا اختیار ہے کہ وہ غریب اور کمزور لوگوں کی رقم کو اس طرح استعمال کرے۔ ہمیں امید ہے کہ وزیر حج کی سربراہی کوئی کمیٹی قائم کی جائے گی جو اس معاملے کی تحقیقات کرے کیونکہ ہمارے پاس پاکستانی مسلمانوں کی رقم میں کی گئی بدعنوانی اور خورد برد کے ثبوت موجود ہیں، ہم اللہ تعالیٰ کے نام پر آپ سے اور آپ کے ضمیر سے اپیل کرتے ہیں کہ اس معاملے کی انکوائری کرائی جائے۔ چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری نے سعودی عرب میں پاکستانی حکام کی جانب سے رہائشگاہوں کو کرائے پر حاصل کرنے میں مبینہ کرپشن کے حوالے سے سعودی شہزادہ بندر بن خالد بن عبدالعزیز السعود کے خط پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے سیکرٹری مذہبی اُمور سے جواب طلب کر لیا ہے۔ سپریم کورٹ کے رجسٹرار نے سعودی شہزادے کے خط پر سوموٹو لینے کی تصدیق کر دی ہے۔ سعودی شہزادے نے چیف جسٹس کے نام خط میں یہ موقف اپنایا ہے کہ پاکستانی حکام نے سعودی عرب میں مہنگے داموں رہائشگاہوں کو کرائے پر حاصل کرکے پاکستانی حجاج کرام کے ساتھ زیادتی کی ہے۔ اُنکی کمپنی نے حرم کے نزدیک عازمین حج کو رہائشگاہیں دینے کی پیشکش تھی، جوکہ حرم کے 2کلومیٹر کے اندر واقع ہے۔ 35ہزار عازمین حج کیلئے 3350 ریال کے حساب سے رہائشگاہوں کی پیشکش کی تھی تاہم پاکستانی حکام نے اُنکی اِس پیشکش کو مستردکرتے ہوئے یہ موقف اختیار کر لیا کہ اُن کو حرم سے ساڑھے تین کلومیٹر کی مسافت پر رہائشگاہیں درکار ہیں جبکہ بعدازاں پاکستانی حکام نے حرم سے ساڑھے تین کلومیٹر سے بھی زیادہ مسافت پر رہائشگاہ حاصل کیں۔ اس جگہ کا مارکیٹ کا کرایہ 1500 ریال ہے لیکن پاکستانی حکام نے اُسی جگہ کو 3600 ریال پر حاصل کیا۔ سعودی شہزادے نے خط میں بتایاہے کہ وزارت مذہبی اُمور نے اُنکی پیشکش اِس بناءپر بھی مسترد کر دی کہ وزارت مذہبی اُمور 2500 ریال تک کرائے پر رہائشگاہیں حاصل کرنا چاہتی ہے تاہم بعد میں ساڑھے تین کلومیٹر کے فاصلے پر 3400 سے 3600 ریال پر رہائشگاہیں حاصل کیں اور اس طرح دور رہائشگاہیں حاصل کرکے عازمین حج پر اضافی بوجھ ڈال دیا گیا۔ چیف جسٹس پاکستان عازمین حج کیلئے عمارتوں کو کرائے پر حاصل کرنے میں کرپشن کیخلاف ایکشن لیں تاکہ مناسک حج جیسے مقدس فریضے کو ادا کرنے والے پاکستانیوں کو انصاف فراہم کیا جائے۔ سعودی شہزادے نے کہا کہ وہ اِس کرپشن کے حوالے سے عدالت کو ٹھوس ثبوت بھی فراہم کرنے کو تیار ہیں۔ سپریم کورٹ نے اِس لیٹر پر ازخود نوٹس لیتے ہوئے وزارت مذہبی اُمور سے 15دن میں جواب طلب کر لیا ہے۔ رجسٹرار سپریم کورٹ ڈاکٹر فقیر حسین نے جنگ سے گفتگو کرتے ہوئے اِس بات کی تصدیق کی ہے کہ سعودی شہزادے کے خط پر سیکرٹری وزارت مذہبی اُمور سے کمنٹس طلب کئے گئے ہیں۔ دریں اثناءسپریم کورٹ کو وزارت مذہبی امور کے کمنٹس موصول ہو گئے ہیں اور چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی ہدایت پر یہ کمنٹس وزارت خارجہ کو بھجوا دیئے گئے ہیں جبکہ وزارت خارجہ کو ہدایت کی ہے کہ وہ اس معاملے کو حکومتی سطح پر اٹھائے۔ چیف جسٹس نے سعودی شہزادے کے خط پر آبزرویشن دیتے ہوئے کہا ہے کہ یہ ایشو بہت سنجیدہ دکھائی دیتا ہے اور ہماری حکومت کےلئے بدنامی کا باعث بن سکتا ہے۔ عدالت نے وزارت خارجہ کو سعودی عرب کےساتھ معاملہ اٹھانے کی ہدایت کرتے ہوئے رپورٹ طلب کرلی ہے۔
    روزنامہ جنگ راولپنڈی
    __________________
     
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,925
    یہ بھی یاد رہے کہ حکومت کی طرف سے اس خط کو جعلی قرار دیا گیا ۔
    ویسے یہ کوئی نئی بات نہیں ۔ پاکستانی حکومت حج کے انتظامات کے حوالے سے پہلے ہی بہت بدنام ہے۔ جس کی ایک لمبی تفصیل ہے ۔ اس کا موقع نہیں‌۔ چیف جسٹس نے سنجیدگی سے نوٹس لیا تو ان شاء اللہ بہت سے حقائق سامنے آئیں گئے ۔ اللہ کرے ایسا ہو تاکہ حجاج کی پریشانیاں ختم ہو سکیں ۔
     
  3. ابو وقاص

    ابو وقاص -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 13, 2008
    پیغامات:
    382
    حج۔ بے لاگ تحقیقات کی ضرورت ہے!

    حج کا مرحلہ شوق تمام ہوگیا۔ دیکھنے والی نگاہیں کچھ بھی دیکھتی اور نکتہ آفریں طبیعتیں کوئی بھی نکتہ آٹھاتی رہیں‘ اس کا فیصلہ صرف الله تعالیٰ کی بارگاہ میں ہی ہوگا کہ کس کا حج قبول ہوا‘ کون گناہوں سے اس طرح پاک ہوکر لوٹا جیسے اُس نے ابھی ابھی شکم مادر سے جنم لیا ہو اور کون اُسی حال میں لوٹ آیا‘جس حال میں احرام پہن کر طیارے میں سوار ہواتھا۔ یہ کرم کے فیصلے اور نصیب کی باتیں ہیں۔ دعا کی جانی چاہئے کہ اُن سب کے حج قبول و منظور ہوں جو عمر بھر ریزہ ریزہ جوڑ کر بڑی منتوں اور مشقتوں کے بعد دیار حجاز پہنچے اور وہ بھی جو ”انتہائی اہم شخصیات “کے طورپر شاہی اڑن کھٹولے پر سوار عازم مکہ ہوئے۔ حیرت ہے کہ الله کی بارگاہ اور نبی کے دربار میں حاضری دیتے ہوئے بھی اُن کے سروں میں ”اہم ترین “کا خناس سمایا رہتا ہے۔ اور اُن کے دلوں میں اپنی بڑائی کی خار دار جھاڑیاں اُگی رہتی ہیں۔
    تین دن بعد اخبارات آئے تو ایک بار پھر اس افسوسناک خبر نے دل مجروح کردیا کہ وزارت مذہبی امور اور مقامی ناقص انتظامات کے ستائے ہوئے پاکستانی حجاج‘ دعاؤں کی قبولیت والے ایام سعید میں بھی جھولیاں پھیلا پھیلا کر پاکستانی حکام کو بددعائیں دیتے رہے۔ ایک خبر رساں ایجنسی کے مطابق جب وفاقی وزیر مذہبی امور‘ مولانا حامد سعید کاظمی ‘ قائم مقام ڈائریکٹر حج کے ہمراہ کیمپس کا دورہ فرمارہے تھے تو انہیں حجاج کے شدید ردعمل کا سامنا کرنا پڑا۔ مرد‘ مردہ باد کے نعرے لگارہے تھے اور خواتین جھولیاں پھیلا کر انہیں بددعائیں دے رہی تھیں۔ نوبت یہاں تک پہنچی کہ انہوں نے شیاطین کو مارنے کے لئے جمع کردہ کنکریاں ‘ دورہ فرمانے والے معزز حکام پر برسانا شروع کردیں۔ یقینا یہ نہایت ہی نامطلوب منظر تھا لیکن اصل سوال یہ ہے کہ عازمین حج کے اندر اس قدر تلخی کیوں پیدا ہوئی اور وہ اتنے شدید ردعمل پر کیوں مجبور ہوگئے؟۔
    کہا جاتا ہے کہ اس بار حکومت پاکستان نے اپنے ہر حاجی سے پانچ سو ریال ( تقریباً بارہ ہزار روپے) فالتو وصول کئے تاکہ انہیں‘ قدیم منیٰ کے اُن مکتبوں میں ٹھہرایا جاسکے جو شیاطین سے کم فاصلے پر ہیں۔ اس ضمن میں موسسہ جنوبی ایشیاء سے ایک معاہدہ بھی طے پاگیا۔ اب یہ پاکستانی حکام اور مکہ میں موجود ڈائریکٹر جنرل کی ذمہ داری تھی کہ وہ سرکا ر کے زیر اہتمام جانے والے حجاج کے بارے میں خبر رکھیں کہ انہیں کن خیموں میں ٹھہرایا جائے گا؟ کیا وہ طے شدہ معاہدے کے مطابق ہیں یا نہیں؟ اگر نہیں تو منیٰ کا مرحلہ شروع ہونے سے پہلے ہی کیا متبادل انتظامات کرلئے جائیں؟ ایسا کیوں ہوا کہ کم از کم چار مکتبوں کے سرے سے موجود ہی نہ ہونے یا ہنگامی طور پرآرستہ کئے جانے کے باعث حجاج کو شدید پریشانی اور مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ نہ قیام کے لئے مناسب جگہ ‘ نہ پانی ‘ نہ بجلی نہ بیت الخلاء ‘ موسسہ جنوبی ایشیاء کا کہنا ہے کہ ریلوے ٹریک بچھانے سے جگہ کم پڑگئی اور بعض نئے خیمے ایستادہ کرنے پڑے۔ اس سے پاکستان کے علاوہ بھارت‘ بنگلہ دیش اور یمن کے حاجی بھی متاثر ہوئے۔ موسسہ کی وضاحت زیادہ وزنی نہیں کیوں کہ ریلوے ٹریک کوئی اس موسم الحج میں نہیں بچھا ۔ اسے تو ایک سال کے لگ بھگ عرصہ گزرچکا ہے۔ متبادل اقامت گاہیں ضروری تھیں تو انہیں بہت پہلے بن جانا چاہئے تھا اور ضروری سہولتیں بھی فراہم کردینی چاہئیں تھیں۔ لیکن یہ سوال اپنی جگہ موجود رہتا ہے کہ ہمارے حج ڈائریکٹوریٹ کی بھاری بھرکم فوج کیا کرتی رہی؟ وزارت کیوں بے خبر رہی؟ کس کی ذمہ داری تھی کہ وہ موسسہ سے رابطہ رکھتے ہوئے انتظامات کا جائزہ لیتا رہتا اور ایک ایک حاجی کی معقول رہائش گاہ کو یقینی بناتا۔خود وزیر موصوف دورے فرماتے رہے۔ اب کے بھی وہ حج سے کچھ دن قبل مکہ معظمہ پہنچ چکے تھے۔ سیکریٹری وزارت آغا قزلباش کئی ہفتے وہاں موجود رہے۔ ان لوگوں کو کیوں خبر نہ ہوسکی کہ بائیس ہزار کے لگ بھگ پاکستانی حجاج کے لئے منیٰ میں کوئی اقامت گاہ ہی نہیں؟
    اب جناب حامد سعید کاظمی کا پورا جوش خطابت‘ سعودی حکام پر مرکوز ہوگیا ہے۔انہوں نے تعلقات خارجہ کی نزاکتوں ‘ بالخصوص سعودی عرب جیسے دیرینہ دوست سے رشتہ و تعلق کے تقاضوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے سعودی حکومت کے خلاف شکایات کا انبار لگادیا ہے اور یہاں تک کہہ دیا ہے کہ ہم ”ہرجانہ“ طلب کریں گے۔قیام پاکستان کے بعد‘ گزشتہ تریسٹھ برس میں ایسا پہلی بار ہوا کہ ایک پاکستانی وزیر نے ایسی برہمی کا اظہار کیا اور سعودی حکومت کے خلاف ایسی ناتراشیدہ زبان استعمال کی۔ موصوف اس حکومت کے وزیر ہیں جسے ڈرون حملوں کا نشانہ بننے والے معصوم پاکستانیوں میں سے کسی کے خون بہا کا تقاضا کرنے کا حوصلہ نہیں ہوا اور جو پیہم تازیانے کھانے کے باوجود امریکہ کی دہلیز پر سجدہ ریز ہے لیکن اُس سعودی عرب سے ہرجانہ طلب کیا جارہاہے جو برسوں ہمیں مفت تیل فراہم کرتا رہا ‘ جس نے افتاد کی ہر گھڑی میں ہمارا ہاتھ بٹایا اور جو اسلامی دنیا میں ہمارا سب سے معتمد دوست ہے۔
    25 لاکھ مہمانوں کی دیکھ بھال کوئی معمولی بات نہیں۔ بلا شبہ موسسہ جنوبی ایشیاء وہاں کے حج منتظمین سے کوتاہی ہوسکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ شاہ عبدالله نے سعودی حج کمیٹی کے چیئرمین اور وزیر داخلہ شہزادہ نائف کی سربراہی میں ایک کمیٹی قائم کردی ہے جو حجاج کو پیش آنے والی مشکلات کے محرکات کا جائزہ لے گی۔ اس کے نتائج کا انتظار کرنا چاہئے لیکن کاظمی صاحب نے بڑی حکمت سے سارے معاملات کا رخ منیٰ کے سہ روزہ قیام کی طرف موڑ دیا ہے تاکہ لوگوں کی توجہ پاکستانی حجاج کو پیش آنے والی مشکلات سے ہٹ جائے جن کی چکی میں وہ کم و بیش ایک ماہ پستے رہے یا پستے رہیں گے۔ابھی اگلے دن بھارتی حکومت کے ایک حج منتظم نے بتایا کہ وہاں سے جانے والے حجاج کو تین کیٹیگریز میں بانٹا گیا تھا۔ پہلی کیٹیگری ان عازمین کی تھی جنہیں حرم سے ایک ہزار میٹر کے اندر اندر رہائش دی گئی۔ ان سے کل ایک لاکھ چوبیس ہزار روپے وصول کئے گئے۔ دوسری کیٹیگری ایک ہزار سے پندرہ سو میٹر کی تھی جن سے ایک لاکھ پندرہ ہزار روپے لئے گئے۔ تیسری کیٹیگری پندرہ سوکلومیٹر سے زائد کی تھی جن سے ایک لاکھ دس ہزار روپے وصول کئے گئے۔ کیا وجہ ہے کہ حکومت پاکستان نے ہر حاجی سے دو لاکھ اڑتیس ہزار روپے لئے اور ان سب کو رہائش گاہیں دو کلومیٹر سے لے کر سات کلومیٹر تک فراہم کی گئیں۔ کیا اس کی ذمہ دار بھی سعودی حکومت ہے؟کیا وجہ ہے کہ مناسب ٹرانسپورٹ کے لئے سعودی عرب کی سرکاری کمپنی ”نقل الجماعی“ کے بجائے کسی پرائیویٹ کمپنی سے معاہدہ کیا گیا اور حاجی رلتے رہے۔ کیا یہ بھی سعودی حکومت کی غلطی تھی؟ کیا وجہ ہے کہ بھارت نے ہر حاجی سے ساٹھ ہزار روپیہ کرایہ لیا جب کہ حکومت پاکستان کے زیر انتظام چلنے والا پی آئی اے حجاج کی کھال اتارتا رہا؟ جو کرایہ عام دنوں میں 35 ہزار ہوتا ہے وہ عمرہ سیزن شروع ہوتے ہی 50 ہزار‘ رمضان میں 65 ہزار‘ آغاز حج میں 85 ہزار اور آخری عشرے کی پروازوں میں سوالاکھ روپے سے کیوں بڑھ جاتا ہے؟ کیا اس کا ذمہ دار سعودی عرب ہے؟۔
    وزیر مذہبی امور کو منیٰ کے سہ روزہ قیام کی بدنظمی کا بھی جواب دینا ہے اور حجاج کی جیبوں سے نکلنے والے اُن اربوں روپوں کا بھی جو کرپشن کی نذر ہوگئے۔یہ معاملہ اتنا سادہ نہیں کہ اسے منیٰ کے چار مکاتب تک محدود کردیاجائے۔ ایک ٹھوس‘ موثر اور بے لاگ تحقیق کا اہتمام ناگزیر ہے۔

    DAILY JANG
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں