قرآن وسنت کے مقابلے میں قول امام کو مقدم رکھنا

شاہد نذیر نے 'نقطۂ نظر' میں ‏فروری 14, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    774
    جی ہاں! حنفی اپنے امام ، ابوحنیفہ کی عبادت کرتے ہیں!

    اس عنوان کو پڑھ کر ہر حنفی اس کا انکار کرتے ہوئے بڑے یقین سے کہے گا کہ یہ بات بالکل غلط اور خلاف واقع ہے کیونکہ ہم ہرگز ہرگز اپنے امام ابوحنیفہ کی عبادت نہیں کرتے بالکل ایسے ہی جیسے عیسائی مذہب کو چھوڑ کر دین اسلام قبول کرنے والے صحابی عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ نے قرآ ن کی آیت اتّخذوا احبارھم ورھبانھم ارباباً من دون اللہ (سورہ توبہ: ۳۱) سن کر کہا تھا کہ ہم نے توکبھی اپنے علماء کی عبادت نہیں کی(سنن ترمذی)

    جس طرح عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ عیسائی ہوتے ہوئے اپنے علماء کی عبادت کر رہے تھے اور اس حقیقت سے لاعلم اور بے خبر تھے اسی طرح حنفی حضرات بھی حقیقت سے بے خبر دن رات ابوحنیفہ کی عبادت میں مصروف عمل ہیں ۔

    رسول اللہ ﷺ نے تو یہ کہہ کر عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی غلط فہمی دور فرما دی کہ عیسائیوں کا اپنے علماء اور درویشوں کی حلال او ر حرام کردہ چیزوں کو تسلیم کر لینا ہی اصل میں ان کا اپنے علماء کو رب بنانا اور ان کی عبادت کرنا ہے۔ اس فعل میں عیسائی واقعتا ملوث تھے جس کا اعتراف عدی بن حاتم ؓ نے فرمایا۔اب ہم حنفیوں کی غلط فہمی دور کرنے کے لئے ان کے علماء کی وہ تحریرات پیش کرتے ہیں جس سے یہ حقیقت اظہر من الشمس ہو جائے گی کہ عیسائیوں کی طرح حنفی بھی اللہ کی وحی کے مقابلے میں اپنے علماء اور اماموں کو واجب الاطاعت قرار دے کر ان کی عبادت میں مصروف ہیں۔اب دیکھنا یہ ہے کہ جس طرح عدی بن حاتم ؓ نے حقیقت کا اعتراف فرمالیا تھا اس طرح حنفی حضرات بھی اعتراف حقیقت کرتے ہیں یا اپنی روایتی ہٹ دھرمی پر قائم رہتے ہیں۔

    ۱۔ غلام رسول سعیدی بریلوی صاحب سورہ توبہ کی آیت نمبر ۳۱کے تحت عدی بن حاتم ؓ کی حدیث بحوالہ جامع ترمذی درج کرنے کے بعد رقم طراز ہیں:
    قرآن مجید کی اس آیت اور اس حدیث سے واضح ہوگیاکہ اللہ تعالیٰ کے ارشاد کے مقابلہ میں اپنے کسی دینی پیشوا کے قول کو ترجیح دینا اور اس پر اصرار کرنا اس دینی پیشوا کو خدا بنا لینا ہے۔(تبیان القرآن: ۵/۱۲۲)

    ۲۔ مولانا اشرف علی تھانوی سورہ توبہ کی آیت نمبر ۳۱کی تفسیر میں فائدہ کے تحت رقم طرا ز ہیں:
    یعنی ان کی اطاعت تحلیل اور تحریم میں مثل طاعت خدا کے کرتے ہیں کہ نص پر ان کے قول کو ترجیح دیتے ہیں اور ایسی اطاعت بالکل عبادت ہے۔پس اس حساب سے وہ انکی عبادت کرتے ہیں۔(القرآن الحکیم مع تفسیر بیان القرآن از حکیم الامت حضرت مولانا اشرف علی تھانوی ، صفحہ 172 طبع تاج کمپنی لمیٹیڈ پاکستان)

    بریلویوں اور دیوبندیوں کے مستند علماء کی وضاحت سے معلوم ہوا کہ قرآن و سنت کے مقابلے میں کسی عالم یا امام کے قول کو ترجیح دینا ہی اصل میں اس عالم یا امام کی عبادت کرنا اور اسے رب بناناہے۔

    حنفیوں نے کس طرح قرآن و سنت کے مقابلے میں اپنے امام کے قول کو مقدم رکھکر اپنے امام کورب بنایا ہے اس کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیں:

    ۱۔ قرآن کے بارے میں حنفیوں کا یہ اصول دیکھیں:
    ہر وہ آیت جو ہمارے اصحاب (یعنی فقہاء حنفیہ)کے قو ل کے خلاف ہو گی اسے یا تو منسوخ سمجھا جائے گا یا ترجیح پر محمول کیا جائے گااور اولیٰ یہ ہے کہ اس آیت کی تاؤیل کر کے اسے (فقہاء کے قول) کے موافق کر لیا جائے۔ (اصول کرخی، صفحہ 12 )

    اصول کرخی میں ایسا ہی ایک اصول حدیث کے بارے میں بھی بنایا گیا ہے۔ چاہیے تو یہ تھا کہ حنفی فقہاء کے اقوال کو قرآن و حدیث کے مطابق بنانے کی کوشش کی جاتی لیکن حنفیوں نے الٹی گنگا بہاتے ہوئے اس کے برعکس کیا۔ حنفیوں کا یہ اصول اس بات کا منہ بولتا ثبو ت ہے کہ ان کے ہاں امام کی تقلید ہر حال میں واجب ہے اگر چہ وہ قرآن کے خلاف ہو یا حدیث کے۔ امام کے قول کے آگے آنی والی ہر دیوار چاہے وہ قرآن ہو یا حدیث اسے گرانا ضروری ہے مذکورہ بالا اصول اسی ضرورت کے تحت وضع کیا گیا ہے۔ اپنے اماموں کو رب بنانے اور ان کی عبادت کرنے کی یہ بدترین مثال ہے۔

    ۲۔ شیخ احمد سرہندی تشہد میں شہادت کی انگلی سے اشارہ کرنے کے بارے میں لکھتے ہیں:
    جب روایات معتبرہ میں اشارہ کرنے کی حرمت واقع ہوئی ہو اور اس کی کراہت پر فتویٰ دیا ہو اور اشارہ و عقد سے منع کرتے ہوں اور اس کو اصحاب کا ظاہر اصول کہتے ہوں تو پھر ہم مقلدوں کو مناسب نہیں کہ احادیث کے موافق عمل کرکے اشارہ کرنے میں جرات کریں اور اس قدر علمائے مجتہدین کے فتویٰ کے ہوتے امر محرم اور مکروہ اور منہی کے مرتکب ہوں۔(مکتوبات، جلد 1، صفحہ 718، مکتوب : 312)

    لعنت ہے ایسی تقلید پر جو انسان کو قرآن وحدیث پر عمل کرنے سے روک دے۔

    ۳۔ محمود الحسن دیوبندی فرماتے ہیں:
    والحق والانصاف ان الترجیح للشافعی فی ھذہ المسالۃ ونحن مقلدون یجب علینا تقلید امامنا ابی حنیفۃ۔ کہ حق اور انصاف یہ ہے کہ خیار مجلس کے مسئلہ میں امام شافعی کو ترجیح حاصل ہے لیکن ہم مقلد ہیں ہم پر امام ابوحنیفہ کی تقلید واجب ہے۔(تقریر ترمذی، جلد 1، صفحہ 49)

    یہی نص پر قول کو ترجیح دینا ہے جو کہ بقول اشرف علی تھانوی علماء کی عبادت ہے۔

    ۴۔ مفتی تقی عثمانی دیوبندی رقم طراز ہیں:
    بلکہ ایسے شخص کو اگر اتفاقاً کوئی حدیث ایسی نظر آجائے جو بظاہر اس کے امام مجتہد کے مسلک کے خلاف معلوم ہوتی ہو تب بھی اس کا فریضہ یہ ہے کہ وہ اپنے امام و مجتہد کے مسلک پر عمل کرے...... اگر ایسے مقلد کو یہ اختیار دے دیا جائے کہ وہ کوئی حدیث اپنے امام کے مسلک کے خلاف پاکر امام کے مسلک کو چھوڑ سکتا ہے، تو اس کا نتیجہ شدید افراتفری اور سنگین گمراہی کے سوا کچھ نہیں ہوگا۔(تقلید کی شرعی حیثیت، صفحہ 87)

    چناچہ اس کا کام صرف تقلیدہے، اور اگر اسے کوئی حدیث اپنے امام کے مسلک کے خلاف نظر آئے تب بھی اسے اپنے امام کا مسلک نہیں چھوڑنا چاہیے۔(تقلید کی شرعی حیثیت، صفحہ 92)

    ا ن کا کام یہ ہے کہ وہ ہر حال میں اپنے امام مجتہد کے قول پر عمل کریں،اور اگر انہیں کوئی حدیث امام کے قول کے خلاف نظر آئے تو اس کے بارے میں سمجھیں کہ اس کا صحیح مطلب یا صحیح محمل ہم نہیں سمجھ سکے۔(تقلید کی شرعی حیثیت، صفحہ 94)

    انا اللہ وانا علیہ راجعون! تقی عثمانی صاحب کی اس تحریر سے یہ واضح ہوگیا کہ ان کے نزدیک امام کی مخالفت میں قرآن اور حدیث پرعمل کرنا گمراہی ہے جبکہ اس کے برعکس قرآن اور حدیث کی مخالفت میں امام کے قول پر عمل کرنا عین حق اور صراط مستقیم ہے۔استغفراللہ۔ یہ لوگ شاید اللہ کی پکڑ سے بے خوف ہوگئے ہیں جو مسلمانوں پر حدیث کو چھوڑنااور امام کے قول کو لازم پکڑنا فرض قرار دے رہے ہیں۔ثابت ہوگیا کہ حنفی قرآن اور حدیث کو چھوڑنے کے لئے تیار ہیں بلکہ چھوڑ چکے ہیں لیکن اپنے امام کے قول کو چھوڑنے کے لئے تیار نہیں۔
    اس کے بعد بھی کیا یہ یقین کیا جاسکتا ہے کہ واقعی یہ لوگ اللہ کو اپنا رب مانتے ہیں؟! ایسے ماننے کا کوئی فائدہ نہیں کہ صرف زبانی کلامی رب اللہ کو مانا جائے اور عبادت اپنے امام کی کی جائے۔ یہ عبارات چیخ چیخ کر اعلان کر رہی ہیں کہ حنفی عملی طور پر اپنے امام کو اپنا رب بناتے ہوئے اس کی عبادت کرتے ہیں۔

    ۵۔ مفتی احمد یار نعیمی بریلوی حنفیوں کے نزدیک قرآن اور حدیث کی حیثیت یوں واضح کرتے ہیں:
    کیونکہ حنفیوں کے دلائل یہ روایتیں نہیں ان کی دلیل صرف قول امام ہے۔(جاء الحق، حصہ دوم، صفحہ 484)

    ہم مسائل شرعیہ میں امام صاحب کا قول و فعل اپنے لئے دلیل سمجھتے ہیں اور دلائل شرعیہ میں نظر نہیں کرتے۔(جاء الحق، حصہ اول، صفحہ 22)

    معلوم ہوا کہ حنفیوں کے نزدیک قول امام کے سامنے قرآن اور حدیث کی کوئی حیثیت نہیں بلکہ قرآن اور حدیث پر عمل کرنے والاحنفیوں کے نزدیک گمراہ اور گمراہ کرنے والاہے لیکن امام کے ہر صحیح اور غلط اقوال کو تھام لینے والاہی صراط مستقیم پر ہے۔احمد یار نعیمی بریلوی تفسیر صادی سے بطور رضامندی نقل کرتے ہیں:
    یعنی چار مذہبوں کے سوا کسی کی تقلید جائز نہیں اگرچہ وہ صحابہ کے قول اور صحیح حدیث اور آیت کے موافق ہی ہو۔ جو ان چار مذہبوں سے خارج ہے وہ گمراہ اور گمراہ کرنے والا ہے۔ کیوں کہ حدیث و قرآن کے محض ظاہری معنےٰ لینا کفر کی جڑ ہے۔(جاء الحق، حصہ اول، صفحہ 33)

    غلام رسول سعیدی بریلوی کی تصریح کے مطابق حنفیوں کا یہی رویہ دینی پیشوا یا امام کو خدا بنالیناہے کہ یہ لوگ اللہ کے ارشاد کے مقابلہ میں اپنے دینی پیشوا یا امام یا عالم کے قول کو ترجیح دیتے ہیں ۔

    ۶۔ احمد رضا بریلوی نے پوری ایک کتاب بنام اجلی الاعلام ان الفتوی مطلقا علیٰ قول الامام صرف اس مسئلہ پر لکھی ہے کہ فتویٰ ہمیشہ قول امام پر ہوتا ہے۔اس بات سے انہیں کوئی غرض نہیں کہ امام کا فتویٰ قرآن کے مخالف ہے یا حدیث کے۔ بلکہ امام کے قول کے مقابلے میں یہ لوگ صحیح احادیث کی مخالفت کے لئے بھی بخوشی تیار ہو جاتے ہیں چناچہ احمد رضا لکھتے ہیں:
    انھیں وجوہ سے صحیح و موکد احادیث کے خلاف کیا جاتا ہے۔(اجلی الاعلام ان الفتوی مطلقا علیٰ قول الامام ص۱۲۸)
    پھر مزید ایک جگہ لکھتے ہیں: امام کا قول ضروری ایسا امر ہے جس کے ہوتے ہوئے نہ روایت پر نظر ہوگی نہ ترجیح پر۔(اجلی الاعلام ان الفتوی مطلقا علیٰ قول الامام ص۱۶۳)

    بریلویوں کے امام جناب احمد رضا صاحب کس قدر ڈھٹائی سے اقرار کر رہے ہیں کہ امام کے قول کے سامنے نہ روایت( قرآن وحدیث) دیکھی جائے گی نہ ترجیح اور یہ بھی اعتراف فرما رہے ہیں کہ ان کے مذہب میں صحیح احادیث کی مخالفت کی جاتی ہے۔ اب کوئی صاحب انصاف ہمیں بتائیں کہ اس کے علاوہ اور کیا چیز ہے جسے حنفیوں کی طرف سے ان کے امام، ابوحنیفہ کی عبادت سے تعبیر کیا جائے؟!

    مذکورہ بالا حوالہ جات سے معلوم ہوا کہ حنفیوں کا اپنے امام ابوحنیفہ کی عبادت سے زبانی کلامی انکار ان کی لاعلمی اور جہالت کا نتیجہ ہے۔ جبکہ یہ لوگ حقیقتاً اپنے امام کی عبادت کرتے ہیں۔ اور جس طرح عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کا اپنے علماء کو رب بنانے اور ان کی عبادت سے انکار خلاف واقع تھااسی طرح حنفیوں کا یہ انکار بھی غلط اور جھوٹ پر مبنی ہے۔

    حنفی حضرات کو یاد رکھنا چاہیے کہ اس معاملے میں ان کی جہالت اور بے خبری یا ہٹ دھرمی انہیں کوئی فائدہ نہیں پہنچائے گی اور نہ ہی اس سے حقیقت میں کوئی تبدیلی واقع ہوگی۔ انہیں اللہ سے ڈر جانا چاہیے اور ابوحنیفہ کی عبادت کو چھوڑ کر ایک اللہ واحد لاشریک کی عباد ت کرنی چاہیے تاکہ جنت کا حصول اور جہنم سے دوری ممکن ہوسکے۔


     
  2. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    774
  3. شاہد نذیر

    شاہد نذیر -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏جون 16, 2009
    پیغامات:
    774
    ایک عام شبہ :
    اس قسم کی آیات سے استدلال پر دیوبندیوں اور بریلویوں کی طرف سے یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ یہ آیات تو کفار کے حق میں نازل ہوئیں تھیں اسلئے ان آیات کو مسلمانوں پر چسپاں کرنا غلط ہے۔

    ازالہ:
    جب مسلمان اعمال میں کفار کے نقش قدم پر چلنے لگیں تو کفار کے حق میں نازل شدہ آیات کو مسلمانوں پر چسپاں کرنے میں کیا چیز مانع ہے؟!
    جب عمل و عقیدہ یکساں ہو تو حکم بھی یکساں ہوتا ہے قطع نظر اس کے کہ آیت کس کے حق میں نازل ہوئی ہے اور مسلمانوں کا عیسائیوں اور یہودیوں جیسے اعمال کرنا اور ان کے نقش قدم پر چلنا تو حدیث سے بھی ثابت ہے چناچہ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد پاک ہے: تم ضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں پر چلو گے۔ بالشت کے برابر بالشت اور ہاتھ کے برابر ہاتھ حتیٰ کہ اگر وہ سانڈھے کے بل میں داخل ہوئے تھے تو تم بھی ان کی پیروی کروگے، ہم نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ﷺ، یہود و نصاریٰ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اور کون؟ (صحیح بخاری: ۷۳۲۰، صحیح مسلم: ۲۶۶۹)

    اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ مسلمان ضرور عیسائیوں اور یہودیوں کے نقش قدم پر چلتے ہوئے وہ اعمال کرینگے جن کی بنا پر عیسائیوں اور یہودیوں پر اللہ کا غضب نازل ہوا۔ سورہ توبہ کی آیت نمبر ۳۱میں عیسائیوں کے جس عمل کی مذ مت اللہ رب العالمین نے فرمائی ہے حنفی حضرات آج عیسائیوں کے اسی عمل کی پیروی کرتے ہوئے قدم بہ قدم ان کے ساتھ ہیں جسے دلائل سے ثابت کردیا گیا ہے۔

    جب عیسائیوں اور حنفیوں کا عمل ایک ہے تو قرآن کا حکم ان کے لئے ایک کیوں نہیں؟؟؟!!!

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. عدیل سلفی

    عدیل سلفی رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2014
    پیغامات:
    30
    جزاك اللہ خیرا محترم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  5. حافظ عبد الکریم

    حافظ عبد الکریم محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 12, 2016
    پیغامات:
    546
    جزاک اللہ خیرا
    تحریر پڑھ کو بہت خوشی ہوی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں