”کیا موجودہ حکمرانوں کو طاغوت کہنے والے۔۔۔۔(1(

فرقان خان نے 'نقطۂ نظر' میں ‏فروری 19, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. فرقان خان

    فرقان خان -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 4, 2010
    پیغامات:
    208
    ”کیا موجودہ حکمرانوں کو طاغوت کہنے والے

    ’ تکفیری‘ او ر’خارجی ‘ہیں ؟“

    سعودی علماءکے ایک اہم فتویٰ کے ضمن میں کچھ فکر انگیز اور غور طلب نکات

    حامد كمال الدين

    عالم اسلام کے اطراف و اکناف میں روز بروز یہ مسئلہ الحمد اﷲ مسلمانوں خصوصا نوجوانوں کی توجہ کا مرکز بنتا جارہا ہے کہ آج کے حکمرانوں کا شریعت میں کیا حکم ہے ؟ مسلمان ان کو کیا سمجھیں اور انکے ساتھ کیا برتاؤ کریں؟ شریعت میں جہاں اور حقوق و فرائض کی تفصیل ملتی ہے والدین ، زوجین ، پڑوسی ، رشتہ دار وغیرہ سب کے حقوق اور فرائض شریعت نے کھول کھول کر واضح کردیئے ہیں وہاں شریعت نے یہ رہنمائی کرنے میں بھی کمی نہیں چھوڑی کہ حکمران اور رعایا میں تعلق کی نوعیت کیا ہو اور ان دونوں کے حقوق اور فرائض کیا ہوں۔ مگر چونکہ فتوی دینے کے لیے صرف قرآن کی آیا ت اور سنت سے احادیث نکال لانا ہی کافی نہیں زمان او ر مکان کا صحیح علم و ادارک ہونا ضروری ہے اس لیے آج کے مسلمانوں کو انکے معاشرتی حقوق و فرائض بتانے میں اور انکے کرنے کا کام سمجھانے میں بہت سارے مخلص حضرات قرآن اور حدیث کے حوالے لے آنے کے باوجود کچھ غلطی ہائے مضامین کا شکار ہوجاتے ہیں ۔ موجود ہ دور کے ان اہم مسائل میں سے ایک اہم مسئلہ وقت کے حکمرانوں کا بھی ہے کہ موجودہ دور کے حکمرانوں کا شریعت میں کیاحکم ہے۔

    یہ بات تو اظہر من الشمس ہے کہ شریعت نے جوحقوق اور فرائض بتائے ہیں وہ مطلق نہیں ۔ پڑوسی یا رشتہ دار کافر ہوں تو بھی شریعت میں ان کے حقوق ضرو ر ہونگے مگر ظاہر ہے وہی حقوق نہیں جو ایک مسلمان ہمسایہ یا رشتہ دارکے ہوسکتے ہیں۔ کوئی صاحب اگر حقوق زوجین پر طویل وعریض تقریر کریں اور قران و حدیث سے مسلمان خاوند بیوی کے حقوق و فرائض پرسیر حاصل بحث کریں مگر بیچ سے ایک بات نظر انداز کرجائیں کہ جس واقعہ میں وہ فتوی صادر فرمارہے ہیں وہاں شوہر یا بیوی میںسے کوئی ایک کفر کا ارتکاب کرچکا ہے تو ان کی عزارت علم کے باوجود آ پ انکی فقاھت کے باریے میں کیا رائے رکھیں گے ؟

    چنانچہ ایک عرصہ سے عالم اسلام میں جو سوال بار بار اٹھ رہا ہے اور عموما دین کی غیرت رکھنے والے نوجوانوں کی زبان پر رہتا ہے وہ یہ کہ موجودہ حکمرانوں کا ”کیا موجودہ حکمرانوں کو طاغوت کہنے والے

    ’ تکفیری‘ او ر’خارجی ‘ہیں ؟“شریعت میں کیا حکم ہے اور مسلمانوں سے انکے تعامل کی نوعیت کیا ہونا چاہیے؟ جسکا جواب ہمارے ہاں علما ءکی جانب سے عموما یہ آتا رہا ہے کہ مسلمان حکمرانوں کے حقوق و فرائض یہ یہ ہوا کرتے ہیں اور شریعت کی رو سے رعایا کے ان سے تعلقات ایسے اور ایسے ہونے چاہئیں !یعنی سوال کچھ ہے تو جواب کچھ اور ! یہی وجہ ہے کہ بار بار یہی سوال اٹھنے کے باوجود اور علماء کرام کی جانب سے بار بار اسکا جواب آنے کے باوجود کسی کی تشفی نہیں ہوپارہی کیونکہ اس مسئلہ سے جتنی بھی آنکھیں چرائی جاتی رہیں یہ اپنی جگہ برقرار ہے اور علماءدین اور زعما ئے امت سے جرات گفتار اور افضل الجہاد کا بدستور تقاضا کررہا ہے کہ وہ امت کے نوجوانوں کو کھل کر بتائیں کہ موجود ہ حکمران جو جانتے بوجھتے اور ہوش و حواس رکھتے ہوئے رب العالمین کی شریعت کو ایوان اقتدار سے بے دخل کرکے لاکھوں مربع میل کے اند ر اور کروڑوں انسانوں کی گردنوں پر صریحاً غیر اﷲ کا حکم اور قانون چلاتے ہیں آیا مسلمان ہیں یا کافر؟ موحد ہیں یا مشرک؟ اور کیا مسلمانوں کو انکی وفادار رعایا بن کر رہنا چاہیے اور(الدین النصیحتہ والی حدیث کے مطابق) انکی خیر خواہی اور اعانت کرنی چاہیے (جوکہ اس حدیث کی روسے ائمہ المسلمین کا حق ہے ) یا انکے کے لیے شریعت کا کوئی اور حکم ہے ؟ اور کیا شرک کے ارتکاب کے باوجود بلکہ بار بار سمجھائے جانے پر بھی شرک کرتے رہنے کے باوجود کلمہ گو ہونا انکے کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے ؟ ملک کے طول و عرض میں شرک کی تہذیب و ثقافت ، کفر کا قانون اور استعمار کا دین پورے منظم اور باقاعدہ انداز میں رائج کرنے کے بعد بھی ان حکمرانوں کی کلمہ گوئی کا ڈھنڈورا پیٹا جانا شریعت میں کیا وقعت رکھتا ہے ؟ اخباروں میں ان کے حج و عمر ہ کرنے کی تصویریں چھپنے اور سیر ت کانفرنسوں کے افتتاح کرنے کا امت کی صحت پر کیا اثر ہوسکتا ہے ؟؟

    یہ ہے وہ اصل سوال جس پر مراکش سے انڈونیشیا تک پھیلا ہو ا اور برس ہا بر س سے تہذیب کفار کے پنجوں میں گرفتار عالم اسلام چیخ چیخ کر زعمائے دین کو دعوت سخن دے رہا ہے ۔ حالات کی تیزی اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ جس طرح اس سوال کی شدت میں اضافہ ہورہا ہے اور دوسری طرف جس انداز سے ابنائے اسلام میں دین کا شعور بھی بڑھ رہا ہے ، لگتا ہے بہت دیر تک اس سوال کو سر د خانے میں پڑا رہنے دینا اب کسی کے بس میں نہ ہوگا۔

    سوال کا صحیح تعین ہوجائے تو شریعت میں اس کا جواب پانا کچھ مشکل نہیں۔ جو آدمی اﷲ کی مخلوق پر اﷲ کے حکم اور قانون کی بجائے اپنا حکم اور قانون چلائے وہ اﷲ کا شریک اور ہم سر ہے ۔ شریعت کی اصطلاح میں اس کو طاغوت کہا جاتا ہے۔ ایک طاغوت اور ایک مسلم حکمران میں زمین آسمان کا فرق ہے ۔ اگرچہ مسلم حکمران ظالم اور فاسق ہی کیوں نہ ہو ۔ ان دونوں کا حکم ایک کردینا کسی ظلم عظیم سے کم نہیں۔

    مگر چونکہ پاکستان میں لفظ طاغوت کا استعمال بڑی حد تک شرعی سے زیادہ سیاسی رہا ہے اس لیے باوجود یہ کہ یہ لفظ زبان زد عام ہے اس کا صحیح ادراک اور درست اطلاق بہت کم لوگ کرتے ہیں ۔ ایک طرف ایسے لوگ ہیں جو کسی حکمران کو نا انصافی یا بد عنوانی یا عوامی آزادیاں سلب کرنے کی وجہ سے ناپسندیدہ قرار دینے کے لیے یا اس پر اپنا احتجاج واضح کرنے کے لیے یہ لفظ استعمال کرتے ہیں ۔ حالانکہ ایسی حرکت کسی ظالم یا فاسق مسلم حکمران سے بھی ہوسکتی ہے مذہب خوارج کے برعکس جبکہ دوسری جانب ایسے نکتہ ور حضرات ہیں جو حکمرا ن کو جھٹ سے طاغوت تو کہہ دیتے مگر اسے دائر اسلام میں بدستور داخل بھی سمجھتے ہیں اور اس پر کفر یا شرک کا اطلاق کرنا خلا ف ادب جانتے ہیں یہ حضرات طاغوت اور مسلم کے الفاظ کو قطعی متضاد نہیں سمجھتے حالانکہ شریعت کی اصطلاح میں طاغوت کسی شخص کے کافر یا مشرک ہونے کی بد ترین شکل ہے ۔ ایک آدمی غیر اﷲ کی بندگی کرکے بھی مشرک تو کہلا سکتا ہے مگر ضروری نہیں کہ وہ طاغوت کے درجے کو بھی پہنچتا ہو ۔

    طاغوت وہ اس صورت میں قرار پائے گا جب وہ مخلوق سے خود اپنی ہی بندگی کرائے اور اس پر اپنا حکم چلانے لگے شرک کے اس آخر ی درجے کو پہنچنے کے بعد ہی اس پر اس گھناؤنے لفظ کا اطلاق ہوگا چنانچہ جب آپ نے کسی کو طاغوت کہہ دیا تو اسے کافر اور مشرک کہنے میں آپ نے کوئی کسر ہی نہ چھوڑی ۔ بلکہ ایسا ویسا مشرک ہی نہیں آپ نے اسکو بدترین مشرک کہہ دیا ہے ۔ بشرطیکہ آپ اس لفظ کا مطلب جانتے ہوں ۔ بلکہ تو یہ کہنا بہتر ہوگا کہ آپ نے یہ لفظ بول کر اس پر اﷲ کا شریک اور باطل خدا ہونے کا فتوی لگایا ہے جب ایسا ہے تو پھر اسکو تاحال مسلمان ہی قرار دینا چہ معنی دارد ؟

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,939
    اور طاغوت کی گود میں پلنے والے اور طاغوت کو گود میں لوریاں دینے والے اگر بروئے عوام طاغوت کو برا بھی کہہ دیں تو کیا انکا طاغوت کو گود کھلانے کا عمل اور طاغوت کو اپنی مجبوری کہنے کا قول اور طاغوت کے سامنے چاروں شانے چت کرنے کا فعل اور طاغوت کی عزت افزائی اور مشرکین و مبتدعین کی توقیر کا جرم قبیح و شنیع کم ہو جائے گا ؟؟؟
     
  3. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
  4. فرقان خان

    فرقان خان -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 4, 2010
    پیغامات:
    208
    اج یہ تصویر بی بی سی نے لگائی ہے....

    [​IMG]
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں