لبوں پہ آ کے قلفی ہو گئے اشعار سردی میں

s4shakeel نے 'طنزیہ و مزاحیہ کلام' میں ‏اکتوبر، 2, 2007 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. s4shakeel

    s4shakeel -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    2,196
    لبوں پہ آ کے قلفی ہو گئے اشعار سردی میں

    لبوں پہ آ کے قلفی ہو گئے اشعار سردی میں
    غزل کہنا بھی اب تو ہو گیا دشوار سردی میں
    محلے بھر کے بچوں نے دھکیلا صبح دم اس کو
    مگر ہوتی نہیں اسٹارٹ اپنی کار سردی میں
    مئی اور جون کی گرمی میں جو دلبر کو لکھا تھا
    اسی خط کا جواب آیا ہے آخر کار سردی میں
    دوا دے دے کے کھانسی اور نزلے کی مریضوں کو
    معالج خود بچارے پڑ گئے بیمار سردی میں
    کئی اہلِ نظر اس کو بھی ڈسکو کی ادا سمجھے
    بچارا کپکپایا جب کوئی فنکار سردی میں
    یہی تو چوریوں اور وارداتوں کا زمانہ ہے
    کہ بیٹھے تاپتے ہیں آگ پہریدار سردی میں
    لہو کو اس طرح اب گرم رکھتا ہے مرا شاہین
    کبھی چائے، کبھی سگرٹ، کبھی نسوار سردی میں
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. راضی

    راضی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 3, 2007
    پیغامات:
    10,524
    مئی اور جون کی گرمی میں جو دلبر کو لکھا تھا
    اسی خط کا جواب آیا ہے آخر کار سردی میں

    لہو کو اس طرح اب گرم رکھتا ہے مرا شاہین
    کبھی چائے، کبھی سگرٹ، کبھی نسوار سردی میں

    ہی ہی ہی ۔۔۔بہت زبردست بھائی۔۔۔واہ
     
  3. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,479
    بہت خوب
     
  4. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,494
    یہ تو ہمارے ماحول کی عکاسی ہے.جہاں منفی چودہ ہے اور
    جلتا ہے تیل لگاتار سردی میں
    کالے ہوگئے در و دیوار سردی میں
    کیسے لکھیں مجلس پہ جا کے
    دماغ سرد ہاتھ ہوگئے بےکارسردی میں

    Sent from my LG-E970 using Tapatalk
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں