توحید کی فضیلت اور اس سے گناہوں کے مٹنے کا بیان

فاروق نے 'غاية المريد فی شرح کتاب التوحید' میں ‏جون 29, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    باب:1--توحید کی فضیلت اور اس سے گناہوں کے مٹنے کا بیان (1)


    (الَّذِينَ آمَنُوا وَلَمْ يَلْبِسُوا إِيمَانَهُمْ بِظُلْمٍ أُولَئِكَ لَهُمُ الْأَمْنُ وَهُمْ مُهْتَدُونَ (سورةً الأنعام6: 82))
    “جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو ظلم (شرک)سے آلودہ نہیں کیا، ان ہی کے لیے امن ہے اور وہی راہ راست پر ہیں”۔(2)
    عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہﷺنے فرمایا:

    (مَنْ شَهِدَ أَنْ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ، وَكَلِمَتُه أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ، وَالجَنَّةً حَقٌّ، وَالنَّارُ حَقٌّ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ الجَنَّةً عَلَى مَا كَانَ مِنَ العَمَلِ)(صحیح البخاری، احادیث الانبیاء، باب قولہ تعالی (يَا أَهْلَ الْكِتَابِ لَا تَغْلُوا فِي دِينِكُمْ) ح:3435 و صحیح مسلم، الایمان، باب الدلیل علی ان مین مات علی التوحید دخل الجنةً قطعا، ح:28)
    “جو شخص اس بات کی گواہی دے کہ:
    ٭ اللہ تعالی کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ یکتا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں۔
    ٭ اور محمد ﷺاس کے بندے اور رسول ہیں۔
    ٭ اور عیسی علیہ السلام بھی اللہ کے بندے ، اس کے رسول اور اس کا کلمہ ہیں جو اس نے سیدہ مریم علیھا السلام کی طرف ڈالا تھا، اور وہ اسی کی طرف سے بھیجی ہوئی روح ہیں۔
    ٭ اور یہ کہ جنت برحق ہے اور جہنم (بھی )برحق ہے۔
    تو ایسے شخص کو اللہ تعالی (بہرحال)جنت میں داخل کرےگا خواہ اس کے اعمال کیسے ہی ہوں۔” (3)
    اور صحیحین ہی میں عتبان رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:

    (فَإِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ عَلَى النَّارِ مَنْ قَالَ: لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، يَبْتَغِي بِذَلِكَ وَجْهَ اللَّهِ)(صحیح البخاری، الصلاةً، باب المساجد فی ابیوت، ح:425، الرقاق، باب اعمل الذی یبتغی بہ وجه اللہ، ح:6423 و صحیح مسلم، المساجد، الرخصةً فی التخلف عن الجماعةً لعذر، ح:273 / 33)
    “جو شخص محض رضائے الہی کی نیت سے “لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه” کا اقرار کرے، اللہ تعالی اس پر دوزخ حرام کردیتا ہے۔”(4)
    ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہﷺنے فرمایا:
    (قال موسى عليه السلام: يا رب! علمني شيئا أذكرك وأدعوك به, قال: قل يا موسى: لا إله إلا الله. قال:كل عبادك يقولون هذا, قال: يا موسى! لو أن السماوات السبع وعامرهن غيري والأرضين السبع في كفةً،ولا إله إلا الله في كفةً، مالت بهن لا إله إلا الله)(موارد الظمآن الی زوائد ابن حبان ، ح:2324 و المسترک للحاکم:1 / 528 و مسند ابی یعلی الموصلی، ح:1393)
    موسی علیہ السلام نے اللہ تعالی سے عرض کیا، اسے میرے پروردگار! مجھے کوئی ایسی چیز بتائیں جس کے ذریعے میں تیراذکر کیا کروں اور تجھے پکارا کروں۔ اللہ تعالی نے فرمایا: اے موسی!“لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه”پڑھا کرو۔ موسی علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے رب ! یہ کلمہ تو تیرے سب بندے پڑھتے اور کہتے ہیں۔(مجھے کوئی خصوصی وظیفہ بتایا جائے) تو اللہ تعالی نے فرمایا: اے موسی! اگر ساتوں آسمان اور ان کی مخلوق بجز میرے اور ساتوں زمینیں ترازو کے ایک پلڑے میں ہوں اور“لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه”دوسرے پلڑے میں ہو تویہ کلمہ ان سب سے وزنی ہوگا”۔(امام حاکم نے اسے صحیح کہا ہے)(5)
    جامع ترمذی میں حسن سند کے ساتھ، انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، کہتے ہیں میں نے رسول اللہ ﷺکو فرماتے سنا:
    ( قَالَ اللَّهُ تَعَالَى:يَا ابْنَ آدَمَ! لَوْ أَتَيْتَنِي بِقُرَابِ الأَرْضِ خَطَايَا ثُمَّ لَقِيتَنِي لَا تُشْرِكُ بِي شَيْئًا لَأَتَيْتُكَ بِقُرَابِهَا مَغْفِرَةً)(جامع الترمذی ، الدعوات، باب یا ابن آدم انک ما دعوتنی، ح: 3540)
    “اللہ تعالی فرماتے ہیں:اے ابن آدم! اگر تم میرے پاس زمین بھر گناہ کر کے آئے، پھر تو اس حال میں مجھ سے ملے کہ تو میرے ساتھ کسی بھی چیز کو شریک نہ ٹھہراتا ہو تو میں اسی قدر مغفرت و بخشش لے کر تیرے پاس آؤں گا۔”
    مسائل
    1) ان احادیث سے معلوم ہوا کہ اللہ تعالی کا فضل بہت وسیع ہے۔
    2) اللہ تعالی کے ہاں توحید کا ثواب بہت زیادہ ہے۔
    3) توحید کا عقیدہ ثواب کے ساتھ ساتھ گناہوں کا کفارہ بھی ہے۔
    4) سورۃ الانعام کی آیت 82 کی تفسیر بھی واضح ہوئی کہ اس میں “ظلم”سے مراد “شرک”ہے۔
    5) حدیث عبادہ میں جو پانچ امور مذکور ہیں ان پر غور کیا جائے کہ ان میں سرفہرست شرک نہ کرنا ہے۔
    6) حدیث عبادہ ، حدیث عتبان اور اس کے بعد والی مذکورہ احادیث کو جمع کیا جائے تو کلمۂ توحید (لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه)کا مفہوم مزید نکھر کر سامنے آتا ہے۔ اور جو لوگ اس دھوکے میں مبتلا ہیں کہ محض زبان سے کلمۂ توحید کا اقرار نجات کے لیے کافی ہے، ان کی غلطی بھی واضح ہوتی ہے۔

    7) حدیث عتبان میں مذکورہ شرط بھی قابل توجہ ہے کہ کلمہ گونے اللہ تعالی کی رضا کے لیے کلمہ پڑھا ہو۔
    8) انبیاء کرام بھی اس کلمہ کی اہمیت و فضیلت کو جاننے کے محتاج تھے۔
    9) یہ امر بھی قابل غور ہے کہ اگرچہ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه تمام آسمانوں اور زمینوں سے وزنی ہے اس کے باوجود بہت سے کلمہ گو لوگوں کے پلڑے ہلکے ہوں گے۔

    10) یہ بھی صراحت ہے کہ آسمانوں کی طرح زمینیں بھی سات ہیں۔
    11) آسمانوں اور زمینوں میں اللہ تعالی کی مخلوق آباد ہے۔
    12) اللہ تعالی کی بہت سی صفات ہیں جبکہ فرقہ اشاعرہ اللہ تعالی کی بعض صفات کا انکار کرتے ہیں۔
    13) حدیث انس پر غور کریں تو سمجھ میں آتا ہے کہ حدیث عتبان “جو شخص محض رضائے الہی کی خاطر کلمہ“لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه”کا اقرار کرے تو اللہ تعالی اس پر جہنم حرام کردیتا ہے” سے مراد شرک کو کلیۃ چھوڑ دینا ہے۔ محض زبان سے کلمہ پڑھ لینا نجات کے لیے کافی نہیں۔

    14) جناب محمدﷺاور جناب عیسی علیہ السلام دونوں اللہ تعالی کے بندے اور رسول ہیں۔
    15) ہر چیز اللہ تعالی کے حکم سے پیدا ہونے کی بنا پر اس کا کلمہ ہے تاہم یہاں خصوصی طور پر عیسی علیہ السلام کو اللہ تعالی کا کلمہ کہا گیا ہے۔
    16) عیسی علیہ السلام کو خصوصی طور پر اللہ کی روح کہا گیا ہے۔
    17) ان احادیث سے جنت اور جہنم پر ایمان لانے کی اہمیت اور فضیلت بھی معلوم ہوئی۔
    18) ان تفصیل سے حدیث عبادہ میں عَلَى مَا كَانَ مِنَ العَمَلِ”(خواہ اس کے اعمال کیسے ہی ہوں)کا مفہوم بھی متعین ہو جاتا ہے کہ جنت میں جانے کے لیے صاحب توحید یعنی موحد ہونا شرط ہے۔

    19) روز قیامت اعمال کا وزن کرنے کے لیے جو ترازو رکھی جائے گی اس کے بھی دو پلڑے ہوں گے۔
    20) حدیث میں اللہ تعالی کے لیے “وَجْهٌ ”کا لفظ استعمال ہوا ہے جس کا معنی “چہرہ”ہے۔ یعنی اللہ تعالی کی اس صفت (چہرہ)پر ایمان لانا بھی ضروری ہے۔ البتہ “لَيْسَ كَمِثْلِه شَيْئٌ”(اس جیسی کوئی چیز نہیں۔) کی رو سے ہم اس کی کیفیت سمجھنے سے بیان کرنے سے قاصر ہیں۔

    نوٹ:-
    (1) یعنی جو بندہ توحید کے اقرار و اعتراف میں جس قدر پختہ ہو وہ اسی قدر جنت میں داخل ہونے کاحق دار ہوتا ہے۔ اس کے اعمال خواہ کیسے ہی ہوں۔ اسی لیے امام محمد بن عبد الوہاب رحمتہ اللہ علیہ نے سورۃ الانعام کی مندرجہ بالا آیت بیان کی ہے۔
    (2) ظلم کا معنی : اس آیت مین “ظلم”سے مراد شرک ہے۔ جیسا کہ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس آیت کو اپنے لیے عظیم (بوجھ اور مشکل)سمجھا تو انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول ! ہم میں سے کون ہے جس نے اپنے اوپر ظلم نہ کیا ہو؟ آپ نے فرمایا: “اس کا وہ مفہوم نہیں جو تم سمجھتے ہو بلکہ یہاں “ظلم”سے مراد “شرک”ہے۔ کیا تم نے اللہ کے نیک بندے (حضرت لقمان) کا یہ قول نہیں سنا:

    (إِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيمٌ (سورة لقمان31: 13))
    “بے شک شرک بہت بڑا ظلم یعنی گناہ ہے”۔
    (صحیح بخاری ، التفسیر، باب لاتشرک باللہ ان الشرک.....حدیث:4776)
    لہذا اس باب کی مناسبت سے آیت کا ترجمہ یوں ہوا کہ:
    “جو لوگ ایمان لائے اور انہوں نے اپنے ایمان کو شرک سے آلودہ نہیں کیا ان ہی کے لیے مکمل امن ہے اور وہی راہ راست پر ہیں۔”پس جو شخص ایمان لایا یعنی اس نے توحید اختیار کی اور اس نے اپنے ایمان کو ظلم سے یعنی عقیدۂ توحید کو شرک سے آلودہ نہیں کیا اس کے لیے مکمل امن اور مکمل ہدایت ہے۔ لہذا بندہ جس قدر ظلم یعنی شرک کا مرتکب ہو کر توحید میں نقص پیدا کرلے گا، اس سے اسی قدر امن اور ہدایت مفقود ہو جائےگی۔
    (3) یعنی وہ شخص عملی طور پر کتنا ہی کم ترکیوں نہ ہو اور اس کے نامہ اعمال میں کتنے ہی گناہ کیوں نہ ہوں، اللہ تعالی اسے بالآخر جنت میں ضرور داخل کرےگا۔ یہ اہل توحید کے لیے توحید کے ثمرات میں سے ایک ثمرہ ہے۔
    (4) یہی جملہ لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه کلمہ توحید ہے۔ اس کلمہ کو اللہ تعالی کی رضا کے لیے زبان سے ادا کرنے اور اس کا دلی طور پر اقرار کرنے والا شخص جب اس کی شرائط اور لوازمات کو صحیح طور پر بجالائے تو اللہ تعالی جسب وعدہ اس بندے پر جہنم کو حرام کردیتا ہے۔ یہ اس کا بہت بڑا فضل ہے۔ البتہ جو شخص توحید کا اقرار کرے اور شرک سے بچ کر رہے مگر بتقاضائے بشریت اس سے بعض گناہ بھی سرزد ہوگئے ہوں اور وہ توبہ کیے بغیر فوت ہو جائے تو اس کا معاملہ اللہ تعالی کے سپرد ہے۔ وہ چاہے تو گناہوں کی پاداش میں عذاب دینے کے بعد اسے جہنم سے رہائی دے یا معاف کردے اور اس پر ابتدائی سے جہنم کو حرام کردے۔

    (5) وجہ استدلال: اس حدیث سے وجہ استدلال یہ ہے کہ بالفرض کسی بندے کے گناہ سات آسمانوں ، سات زمینوں اور ان کے درمیان موجود تمام انسانوں اور فرشتوں کے وزن سے بھی بڑھ کر ہوں تو کلمۂ، توحید لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه کا پلڑا ان تمام گناہوں سے زیادہ وزنی اور بوجھل ہوگا۔ وہ حدیث جس میں لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّه والے پرزہ کاگناہوں کے طویل و عریض دفاتر سے زیادہ ہونے کا تذکرہ ہے اور پیش نظر باب میں مذکور حدیث انس رضی اللہ عنہ بھی اسی مفہوم پر دلالت کرتی ہیں۔ کلمۂ توحید کی یہ عظیم فضیلت اسی کے لیے ہے جس کے دل میں یہ کلمہ خوب راسخ ہو چکا ہو اور وہ خلوص دل سے اس کا اقرار اور اعتراف بھی کرتا ہو، اس کلمے کے تقاضوں کو اچھی طرح جاننے، سمجھنے، اور ان کی تصدیق کے ساتھ ساتھ ان کا دلی طور پر اعتقاد بھی رکھتا ہو،اور اسے اس کے تقاضوں سے ایسے دلی محبت بھی ہو کہ اس کا حقیقی اثر اور ان کا نور اس کے قلب پر خوب اثر انداز بھی ہو۔ پس جس شخص کا کلمۂ توحید اس معیار کا ہو گا تو اس کی برکت سے اس کے تمام گناہ “جل”(مٹ)جائیں گے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں