زیارت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم

khuram نے 'نقطۂ نظر' میں ‏جولائی 8, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
    صحیح بخاری
    کتاب المناقب
    باب: آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزوں یعنی نبوت کی نشانیوں کا بیان۔
    حدیث نمبر: 3589

    وليأتين على أحدكم زمان،‏‏‏‏ لأن يراني أحب إليه من أن يكون له مثل أهله وماله).
    اور تم پر ایک ایسا دور بھی آنے والا ہے کہ تم میں سے کوئی اپنے سارے گھربار اور مال و دولت سے بڑھ کر مجھ کو دیکھ لینا زیادہ پسند کرے گا۔


    صحیح بخاری اردو، یونی کوڈ، حدیث سرچ انجن

    ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : میری امت میں سے میرے ساتھ شدید محبت کرنے والے وہ لوگ ہیں جو میرے بعد آئیں گے اور ان میں سے ہر ایک کی تمنا یہ ہوگی کہ کاش وہ اپنے سب اہل و عیال اور مال و اسباب کے بدلے میں مجھے (ایک مرتبہ) دیکھ لیں۔ ‘‘


    الحديث رقم 22 : أخرجه مسلم في الصحيح، کتاب : الجنة وصفة نعيمها وأهلها، باب : فيمن يود رؤية النبي صلي الله عليه وآله وسلم بأهله وماله، 4 / 2178، الرقم : 2832، وأحمد بن حنبل في المسند، 2 / 417، الرقم : 9388، وابن حبان في الصحيح، 16 / 214، الرقم : 7231.
    Islamic Library - Hadith Sciences > Al-Minhaj as-Sawiyy min al-Hadith an-Nabawiyy >


    ’’حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یقیناً میری اُمت میں میرے بعد ایسے لوگ بھی آئیں گے جن میں سے ہر ایک کی خواہش یہ ہوگی کہ وہ اپنے اہل و مال کے بدلے (اگر) میرا دیدار (ملے تو وہ) خرید لے (یعنی اپنے اہل و مال کی قربانی دے کر ایک مرتبہ مجھے دیکھ لے)۔ ‘‘

    رَوَاهُ الْحَاکِمُ.

    وَقَالَ الْحَاکِمُ : هَذَا حَدِيْثٌ صَحِيْحُ الإِْسْنَادِ.


    الحديث رقم 24 : أخرجه الحاکم في المستدرک، 4 / 95، الرقم : 6991.

    Islamic Library - Hadith Sciences > Al-Minhaj as-Sawiyy min al-Hadith an-Nabawiyy >


    ’’حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : خوشخبری اور مبارک باد ہو اس کے لئے جس نے مجھے دیکھا اور مجھ پر ایمان لایا اور سات بار خوشخبری اور مبارک باد ہو اس کے لئے جس نے مجھے دیکھا بھی نہیں اور مجھ پر ایمان لایا۔ ‘‘


    الحديث رقم 28 : أخرجه أحمد بن حنبل في المسند، 5 / 257، الرقم : 22268، 22192، 22331، وابن حبان في الصحيح، 16 / 216، الرقم : 7233، والحاکم عن عبداﷲ بن بُسر رضي الله عنه، في المستدرک، 4 / 96، الرقم : 6994، والطبراني في المعجم الکبير، 8 / 259، الرقم : 8009، وفي المعجم الصغير، 2 / 104، الرقم : 858، وأبويعلي عن أنس بن مالک رضي الله عنه في المسند، 6 / 119، الرقم : 3391، والمقدسي في الأحاديث المختارة، 9 / 99، الرقم : 87، والروياني في المسند، 2 / 311، الرقم : 1266.

    Islamic Library - Hadith Sciences > Al-Minhaj as-Sawiyy min al-Hadith an-Nabawiyy >


    صحیح بخاری
    کتاب المغازی
    باب: غزوہ احد کا بیان​


    حدیث نمبر: 4042
    حدثنا محمد بن عبد الرحيم،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أخبرنا زكرياء بن عدي،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ أخبرنا ابن المبارك،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن حيوة،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن يزيد بن أبي حبيب،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن أبي الخير،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ عن عقبة بن عامر،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ قال صلى رسول الله صلى الله عليه وسلم على قتلى أحد بعد ثماني سنين،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ كالمودع للأحياء والأموات،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ثم طلع المنبر فقال ‏"‏ إني بين أيديكم فرط،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وأنا عليكم شهيد،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإن موعدكم الحوض،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإني لأنظر إليه من مقامي هذا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ وإني لست أخشى عليكم أن تشركوا،‏‏‏‏ ‏‏‏‏ ولكني أخشى عليكم الدنيا أن تنافسوها ‏"‏‏.‏ قال فكانت آخر نظرة نظرتها إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم‏.‏

    ہم سے محمد بن عبدالرحیم نے بیان کیا، کہا ہم کو زکریابن عدی نے خبر دی، کہا ہم کو عبداللہ بن مبارک نے خبر دی، انہیں حیوہ نے، انہیں یزید بن ابی حبیب نے، انہیں ابو الخیر نے اور ان سے حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آٹھ سال بعد یعنی آٹھویں برس میں غزوہ احد کے شہداء پر نماز جنازہ ادا کی، جیسے آپ زندوں اور مردوں سب سے رخصت ہو رہے ہوں۔ اس کے بعد آپ منبر پر تشریف لائے اور فرمایا، میں تم سے آگے آگے ہوں، میں تم پر گواہ رہوں گا اور مجھ سے (قیامت کے دن) تمہاری ملا قات حوض (کوثر) پر ہو گی۔ اس وقت بھی میں اپنی اس جگہ سے حوض (کوثر) کو دیکھ رہا ہوں۔ تمہارے بارے میں مجھے اس کا کوئی خطرہ نہیں ہے کہ تم شرک کرو گے، ہاں میں تمہارے بارے میں دنیا سے ڈرتا ہوں کہ تم کہیں دنیا کے لیے آپس میں مقابلہ نہ کرنے لگو۔ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ آخری دیدار تھا جو مجھ کو نصیب ہوا۔

    (۳۴۰۴) ہم سے عبیداللہ بن موسیٰ نے بیان کیا، ان سے اسرائیل نے بیان کیا، ان سے ابن اسحاق (عمرو بن عبیداللہ سبیعی) نے اور ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ جنگ احد کے موقع پر جب مشرکین سے مقابلہ کے لیے ہم پہنچے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے تیراندازوں کا ایک دستہ عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہما کی ما تحتیٰ میں (پہاڑی پر) مقرر فرمایا تھا اور انہیں یہ حکم دیا تھا کہ تم اپنی جگہ سے نہ ہٹنا، اس وقت بھی جب تم لوگ دیکھ لو کہ ہم ان پر غالب آ گئے ہیں پھر بھی یہاں سے نہ ہٹنا اور اس وقت بھی جب دیکھ لو کہ وہ ہم پر غالب آ گئے، تم لوگ ہماری مدد کے لیے نہ آنا۔ پھر جب ہماری مڈبھیڑ کفار سے ہوئی تو ان میں بھگدڑ مچ گئی۔ میں نے دیکھا کہ ان کی عورتیں پہاڑیوں پر بڑی تیزی کے ساتھ بھاگی جا رہی تھیں، پنڈلیوں سے اوپر کپڑے اٹھائے ہوئے، جس سے ان کے پازیب دکھائی دے رہے تھے۔ حضرت عبداللہ بن جبیر رضی اللہ عنہما کے (تیرانداز) ساتھی کہنے لگے کہ غنیمت غنیمت۔ اس پر عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاکید کی تھی کہ اپنی جگہ سے نہ ہٹنا (اس لیے تم لوگ مال غنیمت لوٹنے نہ جاؤ) لیکن ان کے ساتھیوں نے ان کا حکم ماننے سے انکار کر دیا۔ ان کی اس حکم عدولی کے نتیجے میں مسلمانوں کو ہار ہوئی اور ستر مسلمان شہید ہو گئے۔ اس کے بعد ابوسفیان نے پہاڑی پر سے آواز دی، کیا تمہارے سا تھ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) موجود ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کوئی جواب نہ دے، پھر انہوں نے پوچھا، کیا تمہارے ساتھ ابن ابی قحافہ موجود ہیں؟ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے جواب کی بھی ممانعت فرما دی۔ انہوں نے پوچھا، کیا تمہارے ساتھ ابن خطاب موجود ہیں؟ اس کے بعد وہ کہنے لگے کہ یہ سب قتل کر دیئے گئے۔ اگر زندہ ہوتے تو جواب دیتے۔ اس پر عمر رضی اللہ عنہ بے قابو ہو گئے اور فرمایا، خدا کے دشمن تو جھوٹا ہے۔ خدا نے ابھی انہیں تمہیں ذلیل کرنے لیے باقی رکھا ہے۔ ابوسفیان نے کہا، ہبل (ایک بت) بلند رہے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس کا جواب دو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا کہ ہم کیا جواب دیں؟ آپ نے فرمایا کہ کہو، اللہ سب سے بلند اور بزرگ و برتر ہے۔ ابوسفیان نے کہا، ہمارے پاس عزیٰ (بت) ہے اور تمہارے پاس کوئی عزیٰ نہیں۔ آپ نے فرمایا، اس کا جواب دو۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے عرض کیا، کیا جواب دیں؟ آپ نے فرمایا کہ کہو، اللہ ہمارا حامی اور مددگار ہے اور تمہارا کوئی حامی نہیں۔ ابوسفیان نے کہا، آج کا دن بدر کے دن کا بدلہ ہے اور لڑائی کی مثال ڈول کی ہوتی ہے۔ (کبھی ہمارے ہاتھ میں اور کبھی تمہارے ہاتھ میں) تم اپنے مقتولین میں کچھ لاشوں کا مثلہ کیا ہوا پاؤ گے، میں نے اس کا حکم نہیں دیا تھا لیکن مجھے برا نہیں معلوم ہوا۔
     
  2. محمدي

    محمدي -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اگست 30, 2009
    پیغامات:
    30
    اللھم انا نسئلک لذۃ النظر علی وجھک الکریم برحمتک یا ارحم الراحمین
    اور اے اللہ ہمیں قیامت کے دن محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں حوض کوثر نصیب فرما اآمین یاکریم!
     
  3. فتاة القرآن

    فتاة القرآن -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 30, 2008
    پیغامات:
    1,444
    اللھم انا نسالک حبک و حب من یحبک وحب عمل یقربنا الی حبک

    اللھم صل علی سیدنا محمد وعلی اصحابہ

    قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللّهُ
     
  4. khuram

    khuram رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏مارچ 16, 2010
    پیغامات:
    277
    اللھم صل علی سیدنا محمد وآلہ و اصحابہ و سلم
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں