اللہ تعالی کی تقدیر پر صبر کرنا ایمان باللہ کا حصہ ہے

فاروق نے 'غاية المريد فی شرح کتاب التوحید' میں ‏جولائی 8, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    باب:34-- اللہ تعالی کی تقدیر پر صبر کرنا ایمان باللہ کا حصہ ہے(1)
    اللہ تعالی کا ارشاد ہے:
    [qh](وَمَنْ يُؤْمِنْ بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ [/qh](سورة التغابن64: 11))
    “اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے، اللہ اس کے دل کو ہدایت بخشتا ہے اور وہ ہر چیز سے باخبر ہے۔”(2)

    اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں علقمہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں: اس سے مراد وہ شخص ہے جسے کوئی تکلیف پہنچے تو وہ اسے اللہ تعالی کا فیصلہ سمجھ کر اس پر راضی ہو اور دل سے اسے تسلیم کرے۔”(3)
    ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
    [qh]( اثْنَتَانِ فِي النَّاسِ هُمَا بِهِمْ كُفْرٌ: الطَّعْنُ فِي النَّسَبِ وَالنِّيَاحَةُ عَلَى الْمَيِّتِ)[/qh][qh](صحيح مسلم, كِتَابُ الْإِيمَانَ, بَابُ إِطْلَاقِ اسْمِ الْكُفْرِ عَلَى الطَّعْنِ فِي النَّسَبِ وَالنِّيَاحَةِ عَلَى الْمَيِّتِ, ح: 67 ومسند احمد :2ظ 377, 441, 496)[/qh]
    “لوگوں میں دوکام ایسے ہیں جو کفر ہیں، ایک تو کسی کے نسب پر طعن کرنا اور دوسرے میت پر نوحہ کرنا۔”(4)

    ابن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
    [qh](يْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الخُدُودَ، وَشَقَّ الجُيُوبَ، وَدَعَا بِدَعْوَى الجَاهِلِيَّةِ)(صحيح البخاري, كِتَابُ الجَنَائِزِ, بَابٌ: لَيْسَ مِنَّا مَنْ ضَرَبَ الخُدُودَ, ح:1297 وصحيح مسلم , كِتَابُ الْإِيمَانَ, بَابُ تَحْرِيمِ ضَرْبِ الْخُدُودِ وَشَقِّ الْجُيُوبِ وَالدُّعَاءِ بِدَعْوَى الْجَاهِلِيَّةِ, ح:103 ومسند احمد : 1ظ 386, 432, 442)[/qh]
    “جو شخص صدمے کے وقت چہرے پر دو ہتڑ مارے گریبان پھاڑے ، اور جہالت کے بول بولے، وہ ہم میں سے نہیں۔”(5)

    انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
    [qh](إِذَا أَرَادَ اللَّهُ بِعَبْدِهِ الخَيْرَ عَجَّلَ لَهُ العُقُوبَةَ فِي الدُّنْيَا، وَإِذَا أَرَادَ بِعَبْدِهِ الشَّرَّ أَمْسَكَ عَنْهُ بِذَنْبِهِ حَتَّى يُوَافِيَ بِهِ يَوْمَ القِيَامَةِ)(سنن الترمذى , أَبْوَابُ الزُّهْدِ, بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ عَلَى البَلَاءِ, ح:2396)[/qh]
    “جب اللہ تعالی اپنے کسی بندے کے ساتھ خیر خواہی کرنا چاہے تو اسے اس کے گناہوں کی سزا دنیا ہی میں جلد دے دیتا ہے اور جب اللہ تعالی اپنے کسی بندے کے ساتھ سختی کرنے کا ارادہ کرے تو اس سے اس کے گناہ کی سزا کو روک لیتا ہے یہاں تک کہ قیامت کے دن اسے پوری پوری سزا دے گا۔”(6)

    نبی ﷺنے مزید فرمایا ہے:
    [qh](إِنَّ عِظَمَ الجَزَاءِ مَعَ عِظَمِ البَلَاءِ، وَإِنَّ اللَّهَ إِذَا أَحَبَّ قَوْمًا ابْتَلَاهُمْ، فَمَنْ رَضِيَ فَلَهُ الرِّضَا، وَمَنْ سَخِطَ فَلَهُ السَّخَطُ)(جامع الترمذى , أَبْوَابُ الزُّهْدِ, بَابُ مَا جَاءَ فِي الصَّبْرِ عَلَى البَلَاءِ, ح:2396)[/qh]
    “بڑی آزمائش کی جزا بھی بڑی ہوتی ہے اور اللہ تعالی کو جن لوگوں سے محبت ہو وہ انہیں آزماتا ہے۔ جو شخص اس آزمائش پر راضی ہو، اللہ تعالی اس سے راضی ہوجاتا ہے اور جس شخص اس آزمائش پر ناخوش ہو، اللہ تعالی بھی اس سے ناخوش اور اس پرناراض ہوجاتا ہے۔”


    مسائل

    1) اس باب سے سورۃ التغابن کی آیت 11 کی تفسیر واضح ہوتی ہے جس میں بیان ہے کہ اللہ تعالی مومن کے دل کو ہدایت بخشتا ہے۔
    2) نیز یہ معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی کے فیصلوں یعنی تقدیر پر صبر کرنا بھی ایمان باللہ کا حصہ ہے۔
    3) کسی کے نسب پر طعن کرنا مذموم اور کفریہ کام ہے۔
    4) صدمہ کے وقت چہرے پر دوہتڑ مارنے ، گریبان پھاڑنے اور جہالت کے بول بولنے کی مذمت اور ایسا کرنے والوں کے بارے میں سخت وعید بیان ہوئی ہے۔
    5) اللہ تعالی اپنے بندے کے ساتھ کس انداز پر کس طرح بھلائی کرتا ہے۔
    6) اور اللہ تعالی اپنے کسی بندے پر سختی کا ارادہ کرے تو اس کے ساتھ کیا سلوک ہوتا ہے۔
    7) اللہ تعالی کو کسی بندے سے محبت ہو تو اس کی علامت کیا ہے۔
    8) اللہ تعالی کے فیصلوں پر ناخوش ہونا حرام ہے۔
    9) اور اللہ تعالی کی طرف سے آنے والی آزمائشوں پر راضی ہونے کا بہت زیادہ اجرہے۔

    نوٹ:-

    (1) یعنی اللہ تعالی کی تقدیر پر صبر کرنا انتہائی عظیم الشان اور جلیل القدر عبادت ہے کیونکہ اللہ تعالی کے احکام پر عمل کرنا اور اس کی منہیات سے رکنا صبر ہی سے ممکن ہے۔ صبر کی تین اقسام ہیں:
    زبان سے اللہ تعالی کا شکوہ نہ کرنا، قلبی طور پر ناراضی محسوس نہ کرنا اور اعضاء کے ذریعہ بے صبری کا اظہار نہ کرنا...... یہ سب صبر ہی ہے۔
    (2) یعنی جو شخص اللہ پر ایمان لا کر اس کی کماحقہ تعظیم کرے ، اس کے اوامر کو بجا لائے اور اس کے نواہی سے بچ کر رہے تو اللہ اس کے دل کو عبادت ، صبر اور اس کی تقدیر پر راضی رہے پر تیار کردیتا ہے۔
    (3) (تفسیر ابن جریر الطبری، رقم26496)علقمہ رحمہ اللہ کا قول نہایت درست اور صواب پر مبنی ہے۔ یاد رہے! مصائب اللہ تعالی کی تقدیر سے آتے ہیں اور تقدیر کا دارومدار اللہ تعالی کی حکمت پر ہوتا ہے اور اللہ عزوجل کی حکمت اس بات کی متقاضی ہوتی ہے کہ ہر امر کو اس کے انجام کے مناسب و موافق مقام پر رکھا جائے جس سے یہ بات واضح طور پر معلوم ہوتی ہے کہ جب بھی بندے کو مصیبت پہنچے تو اللہ کی طرف سے بندے کے لیے اسی میں خیر ہوتی ہے۔ اب اگر اس پر صبر کرے گا تو عند اللہ ماجور ہوگا اور اگر ناراضی کا اظہار اور شکوہ کرے گا تو گناہ گار ٹھہرے گا۔
    (4) دو کام ایسے ہیں جو اکثر لوگوں میں موجود ہیں اور موجود رہیں گے: نسب پر طعن کرنا اور نوحہ کرنا۔ زور سے رونا پیٹنا، چیخنا اور چلانا نوحہ ہے جو کہ صبر کے خلاف ہے۔ کسی پریشانی کے موقع پر صبر کرنے کا معنی یہ ہے کہ انسان اپنے اعضاپر کنٹرول رکھے، زور زور سے نہ روئے ، چہرے پر یا جسم کے کسی حصے پر دوہتڑ نہ مارے، دامن نہ پھاڑے ، اور زبان سے اللہ تعالی کا شکوہ نہ کرے۔
    ان کاموں کے کفر ہونے کا یہ مفہوم نہیں کہ جو شخص یہ کام کرے وہ کافر ہوجاتا ہے یا وہ دین اسلام سے مکمل طورپر خارج ہوجاتا ہے۔ بلکہ اس کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ جو شخص یہ کام کرے یا جس میں یہ خصلت پائی جائے اس میں یہ خصلت کفار کی ہے۔ گویا یہ کفار کا کام ہے، مسلمانوں کا نہیں۔
    (5) گویا صدمہ کے وقت بے صبری اور اللہ تعالی کے فیصلوں پر رضا مند نہ ہونا کبیرہ گناہ ہے۔ نیکی سے ایمان میں اضافہ ہوتا ہے جبکہ گناہوں سے ایمان میں کمی واقع ہوجاتی ہے۔ اور ایمان میں کمزوری ، توحید میں کمزوری ہوتی ہے اس لیے بے صبری ایمان اور توحید دونوں کے منافی ہے۔
    (6) اس حدیث میں اللہ تعالی کی ایک بہت بڑی حکمت بیان کی گئی ہے اور یہی حکمت جب بندے کے دل و دماغ میں راسخ ہوجاتی ہے تو وہ صبر کو ایک عظیم قلبی عبادت جانتے ہوئے اپنے آپ کو اس سے آراستہ پیراستہ کرلیتا ہے اور اللہ کی قضا و قدر پر ناراضی کا اظہار اور شکوہ نہیں کرتا ۔ اسی لیے بعض اسلاف کا معمول تھا کہ وہ بیمار نہ ہوتے یا ان پر کوئی آزمائش نہ آتی تو وہ سمجھتے کہ شاید اللہ تعالی ان سے ناراض ہے، اس لیے اس نے مبھے بھلادیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں