سلطان نور الدین زنگی اور نبی کریم کا دیدار '' واقعہ کی حقیقت''

ابوعکاشہ نے 'اسلامی متفرقات' میں ‏ستمبر 5, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,869
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    سلطان نوری الدین زنگی رحمہ اللہ کا واقعہ ؟

    تحقیق ::
    شیخ زبیرعلی زئی حفظ اللہ ۔ الحدیث نمبر 62


    سوال : اگر راجح قول کے مطابق نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار قیامت کو ہو گا تو پھر سلطان نور الدین زنگی کے واقعہ کی حقیقت آشکار کریں کہ یہ واقعہ صحیح ہے یا نہیں ؟ کیونکہ اس سے تو یہی ثابت ہوتا ہے کہ اس دنیا میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار ممکن ہے ؟

    جواب :: سلطان نورالدین محمود بن ابی سعید زنگی بن آق سنقر الترکی السلجوقی رحمہ اللہ 511 ھجری میں پیدا ہوئے اور 569 میں اپنے بستر پر فوت ہوئے ، دیکھئے تاریخ دمشق لابن عساکر ( 118/60) اور تاریخ ابن الجوزی : المنتظم فی تاریخ الملوک والامم(208/18)

    آپ حنفی فقہا میں سے متبع کتاب وسنت تھے ـ حافظ ابن کثیررحمہ اللہ نے ایک عظیم الشان واقعہ لکھا ہے ، جس کا خلاصہ یہ ہے کہ نورالدین زندگی سیدنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کو ترجیح دینے والے متبع سنت تھے دیکھئے البدایہ والنہایہ (ج 14 ص 246 ، 247 وفیات 569ء) آپ عظیم مجاہد اور عادل سلطان تھے ـ رحمہ اللہ ـ آپ بستر پر فوت ہوئے لیکن ہر وقت شہادت کی تمنا اور جستجو میں رہتے تھے اسی وجہ سے لوگوں نے آپ کو نورالدین الشہید کا لقب دیا ، آپ نے مدینہ منورہ کی فصیلوں کی تکیمل کا حکم دیا تھا دیکھئے سیر اعلام النبلاء للذھبی ( 532/20 ) آپ کے مفصل حالات کے لیے درج ذہل کتابوؓ کا مطالعہ کریں ـ المنتظم ( 210-209/18) ، تاریخ دمشق لابن عساکر ( 123 -118 /60) الکامل فی التاریخ لابن الاثیر ( 126-124/9) ، تاریخ الاسلام للذھبی ( 387-370/39) سیر اعلام النبلاء ( 539-531/20) اور البدایہ و النہایہ( 254-239/14)
    ابن اثیر نے لکھا ہے : '' وكان عرفا بالفقه على مذهب أبي حنيفة ليس عنده فيه تعصب " الكامل 125/9
    اس قسم کے حنفی علماء مقلد اور تقلید اور تقلید پرست نہیں ہوتے بلکہ مکتب فکر اور تقفہ کی نسبتوں کے باوجود متبع کتاب و سنت رہتے ہیں ـ ان کے برعکس دیوبندی اور بریلوی حضرات تقلید کی دلیل اور تعصب کے خولوں میں سر تا پا غرق ہیں ـ ھداھم اللہ تعالٰی ـ
    844 ہجری میں پیدا اور 911 ھجری میں فوت ہونے والے نورالدین علی بن عبداللہ بن احمد السمہودی نے علامہ جمال الدین الاسنوی (عبدالرحیم بن الحسن بن علی الشافعی / پیدائش 704 ھجری وفات 772ھجری ) سے نقل کیا ہے کہ دونصرانیوں (عیسائیوں ) نے حجرہ مبارکہ کے پاس کسی گھر میں کھدائی کر رکھی تھی تاکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم مبارک قبر سے نکال لیں ـ نور الدین الشہید نے خواب میں دیکھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دو آدمیوں کی طرف اشارہ کر رہے تھے ، بعد میں دو نصرانیوں پکڑے گئے اور انہیں قتل کر دیا گیا ـ نورالدین رحمہ اللہ نے حجرے کے چاروں طرف سیسے کی عظیم دیوار بنادی ـ ملخصا ـ دیکھئے وفاء الوفاء باخبار المصطفی صلی اللہ علیہ وسلم للسمہودی (ج 2ص 185- 188)
    یہ قصہ اس وجہ سے ضعیف اور غیر ثابت ہے کہ جمال الدین الاسنوی نے نورالدین الشہید کے معاصر میں سے کسی ثقہ و صدوق گواہ تک کوئی متصل سند بیان نہیں کی اور بے سند و منقطع روایت مردود ہوتی ہے ـ
    نورالدین زنگی رحمہ اللہ کے حالات ابن جوزی ، ابن عساکراور دیگر علماء نے لکھے ہیں مگر کسی نے اس واقعے کا تذکرہ نہیں کیا لہذا وہ کون سا ذریعہ تھا ، جس سے اسنوی مذکور (جو زنگی رحمہ اللہ کی وفات کے 135 سال بعدپیدا ہوئے ) کو اس واقعہ کا پتا چل گیا ؟
    سہمودی نے المجد اور مطری کا بھی ذکر کیا ہے ـ یہ دونوں بھی زنگی رحمہ اللہ کی وفات کے بعد پیدا ہوئے تھے ـ
    خلاصتہ التحقیق: خواب والا یہ قصہ باسند صحیح ثابت نہیں ہے ـ
    یاد رہے کہ اس فانی دنیا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دیدار ہونا کسی صحیح حدیث یا آثار سلف صالحین سے ثابت نہیں ہے ـ اگر اس طرح دیدار ہوتا تو صحابہ ، تابعین اور تبع تابعین کو ضرور ہوتا ، مگر کسی سے بھی اس کاثبوت نہیں آی اـ رہے اہل تصوف اور اہل تصوف اور اہل خراقات کے دعوت تو علمی میدان میں ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے ـ
    فائدہ :: سبط ابن الجوزی (یوسف بن قزغلی الواعظ ) نے اس واقعے کے علاوہ ایک دوسرے خواب کا ذکر کیا ہے جس میں (بقول سبط الجوزی ) نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرنگیوں (کافر انگریزوں ) کے حملے کی اطلاع دی تھی ـ
    دیکھئے مرآتہ الزمان ( 200-199/8) اور سیر اعلام النبلاء ( 538/20) اس واقعے کا راوی سبط ابن الجوزی بذات خود سخت مجروح اور بدعتی تھا ـ حافظ ذہبی نے کہا: میں اسے نقل روایت میں ثقہ نہیں سمجھتا ، وہ رافضی تھا ، اس نے مرآتہ الزمان نامی کتاب لکھی جس میں وہ منکر حکایتیں لاتا ہے ـ
    شیخ محی الدین السوسی نے کہا: جب میرے دادا کو سبط ابن الجوزی کی موت اطلاع ملی تو انھوں نے فرمایا : اللہ اس پر رحم نہ کرے ، وہ رافضی تھا ـ ( دیکھئے میزان الاعتدال 471 /4 ، دوسرا نسخہ 304 /7)
    ابن قزعلی پر مزید جرح کے لے دیکھئے اس کی کتاب '' تذکرتہ الخواص اور محمد نافع تقلیدی جھنگوی کی کتاب '' حدیث ثقلین ''( ص 174)

    کمپوزنگ : عُکاشہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
    • اعلی اعلی x 1
  2. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    جزاکم اللہ خیرا، معلومات میں اضافہ ہوا۔
    یہ واقعہ بچپن میں شاید کسی بچوں کی کہانی والی کتاب میں پڑھا تھا،
     
  3. کفایت اللہ

    کفایت اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اگست 23, 2008
    پیغامات:
    2,017
    جزاکم اللہ خیرا
     
  4. محمد عرفان

    محمد عرفان -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 16, 2010
    پیغامات:
    764
    جزاکم اللہ خیرا احسن الجزاء
     
  5. ابن قاسم

    ابن قاسم محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2011
    پیغامات:
    1,718
    جزاکم اللہ خیرا بھائی
     
  6. ابوبکرالسلفی

    ابوبکرالسلفی محسن

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2009
    پیغامات:
    1,672
    جزاکم اللہ خیرا
     
  7. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    جزاکم اللہ خیرا
     
  8. ابو عبداللہ صغیر

    ابو عبداللہ صغیر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مئی 25, 2008
    پیغامات:
    1,979
    جزاک اللہ خیرا

    نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے دیدار کی طرح یہ بات بھی بہت مشہور ہے۔
     
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,869
    جی ۔ جب خواب ہی جھوٹا ، تو یہ بات خود ہی غلط ثابت ہو گئی ۔
     
  10. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,869
    یہاں جس دیوار کا ذکر ہے وہ عمربن عبدالعزیز اموی خلیفہ نے بنوائی تھی ـ ان کی خلافت کا زمانہ 99 ھجری سے 101 ھجری تک ہے ـ جیسا کہ ویڈیو میں وضاحت موجود ہے کہ دیوار کے اندرداخلہ ممکن نہیں جس کے اندرحجرہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا ہے ـ نورالدین زنگی کا قصہ ثابت نہیں ـ کیونکہ اس کی بنائی گئی عظیم دیوار کا کوئی وجود نہیں ـ
    http://www.urdumajlis.net/threads/ر...انتظامیہ-کی-جانب-سے-پہلی-بارمنظرعام-پر.37093/
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں