حج ، زاد راہ، رشتہ دار،ترجیحات ، ، ، ، ،،

طالب علم نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏ستمبر 6, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    960
    السلام علیکم شیخ!

    حج اور اس سے متعلقہ مسائل کے متعلق کچھ سوالات ہیں، پہلے کچھ صورتحال واضح ہوجائے پھر سوال پوچھتاہوں:

    ایک شخص جو کہ دو بار عمرہ کی ادائیگی کر چکا ہے۔ اب جب کہ اس کے پاس 'اکیلے' حج پر جانے کی استطاعت موجود تھی تو اس نے اپنے ایک قریبی رشتہ دار کو بے روزگاری سے بچانےکے لئے کچھ لاکھ روپے بطور قرض حسنہ دے دئیے ہیں۔ صورتحال یہ ہے کہ ابھی تک اس کے والد، والدہ، زوجہ بھی حج کی سعادت سے محروم ہیں جبکہ حج کی رہائش، سفر کے اخراجات مع طعام و دیگر لوازمات قریب قریب 3لاکھ یا اس سے زیادہ ہیں،
    اوپر پیش کردہ صورتحال کی روشنی میں اس شخص کو:

    1) کیا ترجیحات طے کرنی چاہییں کہ وہ پہلے اپنے والدین کو حج کروائے جبکہ کہ اس کے پاس استطاعت مستقبل میں ہو
    2) والدین سے پہلے اکیلا ہی حج کی سعادت سے بہرہ مند ہو جائے (کیا یہ خودغرضی کے زمرے میں‌آئے گا کہ اپنے والدین اور زوجہ کے لیے ممد و معاون نہ بنا)
    3)کیا وہ شخص زوجہ کو اپنے ساتھ حج پر لے کر جائے بعدازاں کہ جب اس کے والدین فریضہ حج سے عہدہ برا ہو چکے ہوں جبکہ اس کے زوجہ کو ساتھ لے جانے کی صورت میں حج کا پروگرام کئی سال موخر ہوجانے کااندیشہ ہو کہ ہر سال حج کے اخراجات میں‌اضافہ ہی اضافہ ہے
    4) کیا اس شخص کو اپنے رشتہ دار کو دی گئی رقم فورا واپس لے لینا چاہیے تا کہ وہ حج پر جا سکے؟ یا یہ ایک غیراخلاقی بات ہوگی کہ کسی کو امید دلا کر وہ امید چھین لی جائے، واضح رہے کہ اس شخص نے اپنی رضا و رغبت سے لاکھوں روپے اپنے رشتہ دار کو بطور قرض حسنہ دئیے
     
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,938
    حج کرنا اس شخص پر فرض ہے جسکے پاس استطاعت ہو , اور صلہ رحمی کرنا بھی فرض ہے , صورت مسؤلہ میں اس شخص کے پاس حج کرنے کی استطاعت آچکی ہے اوراس پر حج فرض ہوچکا ہے ۔ لہذا وہ حج ضرور کرے خواہ ابھی یا آئندہ !
    ۱۔ والدین کے پاس استطاعت نہیں , لہذا ان پر حج فرض نہیں , اسکے پاس استطاعت ہے , اس پر حج فرض ہے ۔
    ۲۔ نہیں اسے خود غرضی نہیں کہتے بلکہ اوامر الہیہ پر عمل کہتے ہیں ۔
    ۳۔ جسکے پاس استطاعت ہے وہ حج کرے , اور باقی باتیں بعد میں کرے ۔
    ۴۔ قرض حسنہ کہتے ہی اسے ہیں کہ جو اس وقت واپس لیا جائے جب مقروض ادا کرنے کے قابل ہو ۔
     
  3. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    960
    جزاک اللہ، شیخ محترم
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں