شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا عظیم الشان مقام

ابوعکاشہ نے 'امام ابنِ تیمیہ' میں ‏ستمبر 7, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,966
    بسم اللہ الرحمن الرحیم

    شيخ الإسلام ابن تيمية رحمه الله کا عظیم الشان مقام
    از- شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ
    سوال : کیا حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ علمائے اہلِ سنت و الجماعت میں سے تھے یا نہیں ؟ محمد ابوبکر غازییپوری دیوبندی نے ایک رسالہ لکھا ہے :'' کیا ابنِ تیمیہ علماءِ اہل سنت و الجماعت میں سے ہیں ؟ ابن تیمیہ کے بعض معتقدات پر ایک طائرانہ نظر''
    اس رسالے میں میں غازیپوری نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ اہلِ سنت و الجماعت سے خارج ہیں ـ ابن تیمیہ کا عقیدہ تھا کہ انبیاء علیہم السلام گناہوں سے معصوم نہیں ہوتے ـ وغیر ، دیکھئے ص 34،36
    غازیپوری کے اس رسالے کو الیاس گھمن پارٹی (حیاتی گروپ) کے مکتبہ ( 87- جنوبی لاہور روڈ سرگودھا ) سے شائع کیا گیا ہے ـ اس کی کیا حقیقت ہے برائے مہربانی واضح فرمائیں ـ

    الجواب : حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ نہ صرف کبار علمائے اہلِسنت و جماعت سے تھے بلکہ شیخ الاسلام تھے ، فی الحال مشتے از خروارے دس حوالے پیشِ خدمت ہیں :
    1- حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ (متوفی 728 ھجری) کے شاگر جافظ ذہبی ( متوفی 748 ) نے ابن تیمیہ کے بارے میں لکھا : ''الشيخ الإمام العلامه الحافظ الناقد (الفقيه) المجهتد المفسر البارع شيخ الإسلام علم الزهاد نادرة العصر - - -" (تذكرة الحفاظ 1496/4 ت 1175)
    نیز لکھا :' الإمام العالم المفسر الفقيه المجتهد الحافظ المحدث شيخ الإسلام نادرة العصر, ذوالتصانيف الباهره والذكا‘ المفرط "اور لکھا"
    شيخنا الإمام "(معجم الشيوخ 56/1 ت 40)
    معلوم ہوا کہ حافظ ذہبی انہیں امام اور شیخ الاسلام سمجھتے تھے ـ
    2- حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے شاگرد حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (متوفی 774ھجری ) نے لکھا :
    وفاة شيخ الإسلام أبي العباس تقي الدين أحمد بن تيمية "
    (البداية والنهايه 141/14 وفيات 728 هجري نیز دیکھیے ص 146)
    3- شیخ علم الدین ابومحمد القاسم بن محمد بن البزالی الشافعی رحمہ اللہ ( متوفی 739 ھجری ) نے اپنی تاریخ میں کہا کہ : ''الشيخ الإمام العالم العلم العلامه الفقيه الحافظ الزاهد العابد المجاهد القدوة شيخ الإسلام" (البدايه والنهايه 141/14) نیز دیکھئے العقورية ( ص 246)
    4- حافظ ابن تیمیہ کے شاگرد حافظ ابوعبداللہ محمد بن احمد بن عبدالہادی المقدسی الحنبلی رحمہ اللہ ( متوفی 744 ھجری) نے ''العقود الدرية من مناقب شيخ الإسلام أحمد بن تيمية "کے نام سے ایک کتاب لکھی جو 353 صفحات پر مشتمل ہے ، مطبعتہ المدنی قاہرہ مصر سے مطبوع ہے کہ اور ہمارے پاس موجود ہے ، والحمد للہ ـ اس کتاب میں ابن عبدالہادی نے کہا کہ :
    " هو الشيخ الإمام الرباني , إمام الأئمة ومفتي الأئمه و بحر العلوم , سيد الحفاظ وفارس المعاني و الألفاظ و قريع الدهر , شيخ الإسلام بركة الأنام و علامة الزمان و ترجمان القرآن , علم الزهد وأوحد العباد , قامع المبتدعين و آخرين المجتهدين "(العقود الدريه ص 3)
    5- حافظ ابوالفتح ابن سید الناس الیعمری المصری رحمہ اللہ (متفوفی 734 ھجری نے حافظ جمال الدین ابوالحجاج المزی رحمہ اللہ کے تذکرے میں کہا : "" وهو تاذي حداني علٰى رؤية الشيخ الإمام شيخ الإسلام تقي الدين أبي العباس أحمد ... (العقود الدريه ص 9)
    6- کمال الدین ابوالمعالی محمد بن ابی الحسن الزملکانی (متوفی 727 ھجری ) نے حافظ ابن تیمیہ کی کتاب ''بيان الدليل على بطلان التحليل" پر اپنے ہاتھ سے لکھا :
    ا
    لشيخ السيد الإمام العالم العلامة الأوجد البارع الحافظ الزاهد الورع القدوة الكامل العارف تتقي الدين , شيخ الإسلام مفتى الأنام سيد العلماء , قدوة الأئمة الفضلاء ناصر السنة قامع البدعة حجة الله على العباد في عصره , راد أهل الزيغ و العناد , أوحد العلماء العاملين آخر المجتهدين "
    (العقود الدريه ص 8، الرد الوافر لابن ناصر الدين الدمشقي ص 104 واللفظ له)
    7-ابوعبداللہ محمد بن الصفی عثمان بن الحریری الانصاری الحنفی (متوفی 728 ھجری ) فرماتے تھے :" إن لم يكن ابن تيمية شيخ الاسلام فمن ؟"(اگر شیخ ابن تیمیہ شیخ الاسلام نہیں تو پھر کون ہے ؟ (الرد الوافر لابن ناصر الدين الدمشقي ص 56،98)
    8- ابوعبداللہ محمد بن محمد بن ابی بکر بن ابی العباس احمد بن عبدالدائم المعروف بابن عبدالدائم المقدسی الصالحی ( متوفی 775 ھجری ) نے حافظ ابن تیمیہ کوشیخ الاسلام کہا ہے ـ الرد الوافر( ص 61)
    9- شمس الدین ابوبکر محمد بن محب الدین ابی محمد عبداللہ بن المحب عبداللہ الصالحی الحنبلی المعروف بابن الصامت نے اپنے ہاتھ سے لکھا :
    " شيخ الإمام الرباني شيخ الإسلام إمام الأعلام بحر العلوم و المعارف "
    (الرد الوافر ص 91)
    10- حافظ ابن تیمیہ کے مشہور شاگرد حافظ ابن القیم الجوزیہ (متوفی 751 ھجری ) نے ان کے بارے میں : شیخ الاسلام ''( اعلام الموقعین ج 2 ص 241 طبع دارالجیل بیروت )

    ان دس حوالوں کے علاوہ اور بھی بہت سے حواللے ہیں جس میں حافظ ابن تیمیہ کی بے حد تعریف کی گئی ہے اور انہیں شیخ الاسلام جیسے عظیم الشان لقب سے یاد کیا گیا ہے مثلا :
    حافظ ابن رجب الحنبلی (متوفی 795 ھجری) نےکہا:
    " الإمام الفقيه المجتهد المحدث الحافظ المفسر الأصولي الزاهد تقي الدين أبوالعباس شيخ الإسلام وعلم الأعلام ..... "( الذيل على طبقات الحنبلة 387/2 ت 395)
    ابن العماد الحنبلی نے کہا: ''........ الحنبلي بل المجتهد المجتهد المطلق "(شذرات الذهب 81/6)
    تہذیب الکمال اور تحفتہ الاشراف کے مصنف حافظ ابوالحجاج المزی رحمہ اللہ نے فرمایا :
    "ما رأيت مثله ، ولا رأى هو مثل نفسه وما رأيت أحداً أعلم بكتاب الله وسنة رسوله ولا أتبع لهما منه "میں نے ان جیسا کوئی نہیں دیکھا اور نہ انھوں نے اپنے جیسا کوئی دیکھا، میں نے کتاب اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کا ان سے بڑا عالم نہیں دیکھا اور نہ اس سے زیادہ کتاب وسنت کی اتباع کرنے والا کوئی دیکھا ہے ـ (العقود الدريه ص 7 نتصنیف الامام ابن عبدالہادی تلیمذ الحافظ المزی رحمہما اللہ )
    ان گواہیوں کا خلاصہ یہ ہے کہ حافظ ابن تیمیہ اہلِ سنت کے کبار علماء میں سے تھے اور شیخ الاسلام تھے ـ

    فرقہ بریلویہ اور بعض مبتدعین ان کی شان میں گستاخی کرتے ہیں جن کی تقلید میں ابوبکر غازی دیپوری دیوبندی نے بھی اپنے رسالے '' کیا ابن تیمیہ اہل سنت و الجماعت میں سے ہیں ؟ ابن تیمیہ کے بعض معتقدات پر ایک طائرانہ نظر'' میں کذب و افتراء ، دجل و فریب اور تحریفات کرتے ہوئے بڑا گناہ پروپیگنڈہ کیا ہے جس کا حسان اسے اللہ کے دربار میں دینا پڑے گا ان شاء اللہ ـ
    شیخ الاسلام رحمہ اللہ کے بارے میں '' قافلہ حق '' نامی دیوبندی رسالے میں محمد محمود عالم صفدر اوکاڑوی دیوبندی نے بہت زبان درازی کی ہے ـ یکھئے قافلہ حق ( فی الحقیقت: قافلہ باطل ) جلد 1 شمارہ 2 ص 20 تا 33)
    ماضی قریب میں زاہد بن حسن الکوثری (الجہمی ) نام کا ایک شخص گزرا ہے جس پر شیخ عبدالرحمن بن یحی المعلمی الیمانی اور شیخ البانی رحمہ اللہ وغیرہما نے سخت جراح کر رکھی ہے ـ اس شخص (کوثری ) کے بارے میں ابوسعد الشیرازی (دیوبندی ) نے لکھا :
    '' فخرا المحدثین امام المتکلمین شیخ الاسلام زاہد بن الحسن الکوثری (قافلہ باطل جلد 1 شمارہ 4 ص 27 ) یہ وہی کوثری تھا جس نے امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ کی کتاب التوحید کو '' کتاب الشرک'' لکھا ہے ، دیکھئے مقالات الکوثری ( ص 330 ـ الطبعتہ الاولیٰ 1372 ھجری )
    اس کوثری نے شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے بارے میں توہین کرتے ہوئے لکھا ہے کہ :"
    ومع هذا كله لإن إن كان لا يزال يعد شيخ الإسلام فعلي الإسلام السلام "
    اور اگر ان سب (باتوں ) کے باوجود اسے شیخ الاسلام کہا جاتا ہے تو (ایسے ) اسلام پر سلام ہے ـ ( الاشقاق علٰی احکام الطلاق ص 89 ) دیکھئے کوثری چرکسی جہمی نے کس شیخ الاسلام پر اپنی بھڑاس نکالی حالانکہ حافظ ذہبی ، حافظ برزالی ، حافظ ابن عبدالہادی ، حافظ ابن سید الناس ، حافظ ابن کثیر اور حافظ ابن القیم وغیرہم نے حافظ ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام قرار دیا تھا ـ کوثری کے گمراہ کن نظریات و عقائد کے لئے دیکھئے مولانا ارشاد الحق اثری کی کتاب : مقالات ( ج 1 ص 53 ، 163 ، 179 )
    آخر میں حنفیت کی طرف منسون ان مبتدعین کی خدمت میں حنفیوں اور مبتدعین کے حوالے پیش کرتا ہوں جو اپنی تحریروں میں حافظ ابن تیمیہ کو شیخ الاسلام کہتے یا ان کی تعریف میں رطب اللسان تھے یا ہیں ـ :
    1-ملاعلی قاری حنفی تقلیدی نے ابن تیمیہ اور ابن القیم کے بارے میں لکھا :
    'ومن طالع شرح منازل السائرين تبين أنها كانا من أكابر أهل السنة والجماعة ومن أولياء هذه الأمة " جس نے منازل السائرین کی شرح کا مطالعہ کیا تو اس پر واضح ہو یا کہ وہ دونوں (ابن تیمیہ اور ابن القیم ) اہلِ سنت و الجماعت میں سے اور اس امت کے اولیاء میں سے تھے ( جمع الوسائل فی شرح الشمائل ج 1 ص 207 )
    ملا علی قاری کی اس عبارت کو اختصار کے ساتھ سرفرازخان صفدر گکھڑوی کڑمنگی نے اپنی کتاب '' المنہاج الواضح یعنی راہِ سنت '' میں نقل کیا اور کوئی جرح نہیں کی ـ دیکھئے ص 187 نیز دیکھئے تفریح الخواطر فی ردتنویز الخواطر ص 29 ، اور راہِ ہدایت ص 138
    2- سرفرازخان صفدر دیوبندی گکھڑوی کڑمنگی نے لکھا :
    ''شيخ الاسلام ابن تيميه رحمه الله ........" (أحسن الكلام طبع جون 2006 جلد 1 ص 94 )
    3- محمد منظور نعمانی دیوبندی نے کہا :
    '' ساتویں اور آٹھویں صدی کے مجدد شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے اپنی تصنیفات اور فتاوٰی میں جا بجا شیعت کا رد فرمایا ہے " (ماہنامہ بینات کراچی ، خصوصی اشاعت : خمینی و شیعت کیا ہے ، ص 84
    4- بریلوی اور دیوبندیوں کے ممدوح ملا ابن عابدین شامی نے کہا:
    ورأيت في كتاب الصارم المسلول لشيخ ابن تيميه الحنبلي......." (رد المختار على الدر المختار 305/3)
    5- اشرف علی تھانوی دیوبندی نے کہا:
    ابن تیمیہ بزرگ ہیں ، عالم ہیں ، اللہ اور رسول پر فدا ہیں ، دین پر جان نثار ہیں ـ دین کی بڑی خدمت کی ہے ، مگر فطرتاً تیز میزاج ہونے کے تشدد ہو گیا ـ "
    (ملفوظات ''حکیم الامت '' ج 10 ص 49 ، 50 ،مطبوعہ ادارہ تالیفات اشرفیہ ملتان )
    تشدد والی بات تو مردود ہے نیز تھانوی نے حافظ ابن تیمیہ اور حافظ ابن القیم دونوں کےبارے میں کہا :

    '' یہ سب نیک تھے اور نیت سب کی حفاظت دین کی تھی ـ" (ملفوظات ج 26 ص 287)
    6- محمد تقی عثمانی دیوبندی نے لکھا :
    '' اور علامہ ان تیمیہ رحمہ اللہ علیہ فرماتے ہیں :" ( حضرت معاویہؓ اور تاریخی حقائق ص 117)
    7-عتیق الرحمن سنبھلی نے لکھا :
    '' ابن تیمیہ رحہمہ اللہ علیہ کا ارشاد ہے .......(واقعہء کربلا اور اس کا پس منظر ، دوسرا ایڈیشن ص 239 )
    8-بشیر احمد قادری دیوبندی مدرس قاسم العلوم فقیر والی نے لکھا :
    ''شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کا فتوٰ ی ہے ـ ـ ـ ـ ـ (تجلیاتِ صفدر جلد 3 ص 105 )
    9-ماسٹر امین اکاڑوی دیوبندی نے لکھا:
    '' نیلوی صاحب شیخ الاسلام ابن تیمیہ ، علامہ ابن قیم ، علامہ سیوطی اور نواب صدیق حسن سے نقل کرتے ہیں ........ " (تجلیات صفدر7 ص 162)
    10-محمد محمود عالم صفدر اوکاڑوی دیوبندی جس نے شیخ الاسلام کے بارے میں بہت زبان درازی کی ہے ، دیکھئے قافلہء باطل ج 1 شمارہ 2 ص 20 تا 32
    اسی محمود عالم نے '' اصول حدیث '' والے مضمون میں خود لکھا ہے :
    '' شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ لکھتے ہیں ......"(قافلہء باطل ج 1 شمارہ 4 ص 8 )
    ان کے علاوہ اور بھی بہت سے حوالے ہیں ، دیکھئے منختہ الخالق علی البحر الرائق (ج 5 ص 246 ) برات عثمان بن عفانؓ تصنیف ظفر احمد عثمانی تھانوی دیوبندی (ص 17) ، خاتمہ الکلام فی ترک القرأة خلف الامام تصنیف فقیر اللہ دیوبندی ( ص 43) ، اور '' صبرو تحمل کی روشن مثالیں '' تالیف محمد صاحب بن مفتی ابراہیم دیوبندی( ص 53،56)
    جب مرضی کا معاملہ ہو مثلا فاتحہ خلف الامام کا مسئلہ وغیرہ ہو تو دیوبندی حضرات حافظ ابن تیمیہ رحمہ اللہ کو شیخ الاسلام ، امام اورعلامہ وغیرہ لکتے ہیں ، اور اگر مرضی کے خلاف بات ہو تو یہی لوگ شیخ الاسلام پر تنقید ، تنقیص اور توہین آمیز جملے بے دریگ استعمال کرتے ہیں – کیا انہیں اللہ کا خوف نہیں ؟
    [ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ کے بارے میں ابن بطوطہ سیاح کے کذب و افترا کی تردید دیکھئے محترم محمد صدیق رضا کی کتاب '' مشہور واقعات کی حقیقت ص 160- 164] اس کے علاوہ دیکھئے ۔ مولانا عطاء اللہ حنيف بھوجيانى( رح) كى تحقيق
    آخر میں دوبارہ عرض ہے کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ اہلِسنت والجماعت کے کبار علماء میں سے جلیل القدر ثقہ امام تھے ، آُپ 20 ذوالقعدہ 728 ھجری میں دمشق کے قلعے کی جیل میں فوت ہوئے ـ رحمہ اللہ ـ )
    (دسمبر // 11 ، 2008 )


    کمپوزنگ /:عُکاشہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. ابو عبداللہ صغیر

    ابو عبداللہ صغیر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مئی 25, 2008
    پیغامات:
    1,979
    جزاک اللہ‌ خیرا
     
  3. نعمان نیر کلاچوی

    نعمان نیر کلاچوی ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 25, 2011
    پیغامات:
    552
    جزاک اللہ خیرامحترم بھائی
    نہایت مفید پوسٹ ہے۔
     
  4. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    جزاکم اللہ خیرا
     
  5. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,322
    بارک اللہ فیک
    بہت ہی عمدہ
    دلائل سے مزین
    جزاک اللہ خیرا
     
  6. محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    3,702
    جزاک اللہ خیرا
     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,479
    جزاك الله خيرا وبارك فيك ۔
     
  8. طارق راحیل

    طارق راحیل -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2009
    پیغامات:
    351
    شکریہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  9. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,323
    بغدادو دمشق کو آج پھر ایک ابن تیمیہ درکار ہے
     
  10. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,394
    جزاک اللہ‌ خیرا
     
  11. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,966
    وایاکم . اگر شیخ الاسلام ابن تیمیہ اهل السنة والجماعة میں سے نہیں تھے. پھر معلوم نہیں کون اس جماعت سے ہے. رحمہ اللہ.
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  12. JUNAID BIN SHAHID

    JUNAID BIN SHAHID نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    805
    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں