اِس ماہ کی خبروں کے روابط : اکتوبر ،2011

ابوعکاشہ نے 'خبریں' میں ‏اکتوبر، 2, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,903
    بسم اللہ الرحمن الرحیم


    اس تھریڈ میں اکتوبر، 2011 کی خبروں کے روابط شیئر کیے جائیں گئے ۔ برائے مہربانی حالات حاضرہ کے قواعد و ضوابط کی پابندی کریں اور خبروں پر الگ تھریڈ شروع کرنے کی بجائے اس تھریڈ میں روابط پیش کرتے جائیں ۔۔ اس تھریڈ کو مثبت کردیا گیا ہے ۔ شکریہ ۔ ​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
  3. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    پاکستان سے مایوس نہیں ہونا، ملن کی ڈیمسی کو نصحیت

    ایڈمرل مائیک ملن نے ، جو امریکی افواج کے سربراہ کے عہدے سے جمعہ کو ریٹائرڈ ہوئے ہیں، اپنی جگہ آنے والے نئے چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارٹن ڈیمسی کو نصحیت کی ہے کہ کشیدہ تعلقات کے باوجود وہ پاکستان سے ناامید نہیں ہونگے۔
    بقیہ درج ذیل لنک
    پاکستان سے مایوس نہیں ہونا، ملن کی ڈیمسی کو نصحیت | Top Story Online
     
  4. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    عازمین حج کی تربیت کے لیے سوڈان میں خانہ کعبہ کی شکل کا ماڈل تعمیر

    سوڈان میں عازمین حج وعمرہ کی تربیت کے لیے حسب سابق اس سال بھی خرطوم میں بیت اللہ شریف کا ماڈل تعمیر کر کے عازمین حج کی تربیت کا اہتمام کیا گیا ہے۔ مناسک حج کے طریقے سکھانے کے لیے بنائے گئے اس منفرد ماڈل کو دیکھنے کے لیے شہریوں کی بڑی تعداد خرطوم آ رہی ہے۔

    العربیہ ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق دارالحکومت خرطوم کے شمال میں الحضراء گراؤنڈ میں بنائے گئے بیت اللہ کےنمونے کا تجربہ ملائیشیا سے حاصل کیا گیا ہے کیونکہ ملائیشیا میں گذشتہ کئی سال سے عازمین حج کو مناسک کی ادائیگی کے طریقے بتانے کے لیے اسی طرح کا ماڈل بنایا جاتا ہے۔ خرطوم میں پہلی مرتبہ گذشتہ برس خانہ کعبہ کا ماڈل بنایا گیا تھا۔

    خرطوم وزارتِ مذہبی و امور وحج کمیشن کو توقع ہے کہ خانہ کعبہ کا ماڈل تعمیر کر کے انہوں نے نہ صرف حجاج کرام کی تربیت کا بہترین انتظام کیا ہے بلکہ اس طریقے سے امسال سوڈان سے حجاج کرام کی تعداد میں دس ہزار عازمین کے اضافے کی توقع ہے۔

    خرطوم میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے سوڈانی وزیر اوقاف و مذہبی امور عثمان الکباشی کا کہنا تھا کہ خانہ کعبہ کے نمونے کے ذریعے وہ زیادہ فعال طریقے سے عازمین حج وعمرہ کی تربیت کر سکیں گے تاکہ وہ مناسک حج صحیح اسلامی طریقے کے مطابق ادا کر سکیں۔

    ایک سوال کے جواب میں الکباشی نے کہا کہ خانہ کعبہ کا ماڈل تعمیر کرنے میں دو ہزار ڈالرز کی لاگت آئی۔ یہ رقم وزارت مذہبی امورکی جانب سے ادا کی گئی ہے، جس کے بعد عازمین حج میں یہ خوف بھی پیدا ہوا ہے کہ حکومت ان سے حج کی اضافی فیس وصول کرے گی۔ تاہم حکومت نے عازمین حج وعمرہ کو اطمینان دلایا ہے کہ ان سے کوئی اضافی چارجز وصول نہیں کیے جائیں گے۔

    حج کمیشن کے ایک دوسرے عہدیدار نے بھی کہا ہے کہ خانہ کعبہ کا ماڈل بنا کرحجاج کرام کو لوٹنا ہمارا مقصد نہیں بلکہ ہم عازمین کی بہتر طریقے سے تربیت کرنا چاہتے ہیں۔ بیت اللہ شریف کے نمونے کی تعمیر سے حجاج کے حقوق پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

    العربیہ ٹی وی نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ الخضراء گراؤنڈ میں بنائے گئے خانہ کعبہ کے نمونے کو دیکھنے کے لیے بڑی تعداد میں شہری آ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ امسال حجاج کرام کی تعداد میں بھی خاطرخواہ اضافے کی توقع ہے۔
    ازقلم:رفیدہ یاسین
     
  5. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    ایران:تین خلیجی جزیروں پر متحدہ عرب امارات کا دعویٰ مسترد

    ایران نے اپنے زیرقبضہ تین جزیروں پر متحدہ عرب امارات کے دعوے کو ایک مرتبہ پھر مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اس کا حصہ رہیں گے۔
    جاری ہے درج ذیل میں
    ایران:تین خلیجی جزیروں پر متحدہ عرب امارات کا دعویٰ مسترد
     
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,903
    السلام علیکم ورحمتہ اللہ ۔
    العربیہ نے تو ایسے خبر شائع کی ہے ۔ جیسے کوئی انہونی ہو گئی ہو ، بیت اللہ کے ماڈل کے ذریعے تربیت کا سلسلہ سب سے پہلے ایران نے شروع کیا تھا ، اب بہت سے ممالک جس میں انڈونیشیاَ، ملائیشیا اور ترکی وغیرہ اس طرح کے تربیت کے پروگرام کرتے ہیں اور ان کے حاجی سب سے زیادہ منظم ہوتے ہیں ۔ البتہ ایران کے حاجی اس تربیت سے فائڈہ اٹھانے کی بجائے وہابیوں کی نمازوں کو خراب کرنے اور بدنظمی پیدا کرتے ہوئے پائے جاتے ہیں‌۔
     
  7. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    پاک امریکہ تعلقات: محبت اور نفرت کی داستان ! آخر کیوں

    پاکستان اور امریکہ کے درمیان جاری موجودہ کشمکش ان لوگوں کیلئے کوئی حیرانی کا باعث نہیں ہوگی جو ان دو ملکوں کے درمیان پچھلے ساٹھ برس سے جاری محبت اور نفرت کے اس عالمی رشتے کی نفسیات کو سمجھتے ہیں۔ دنیا بھر میں تعلقات ایک دوسرے کی ضروریات اور مفادات پر تعمیر کیے جاتے ہیں لہذا جب ان ملکوں کے درمیان کوئی اتار چڑھاؤ آتا ہے تو ایک دوسرے کو اس طرح طعنے نہیں دیئے جاتے جیسا کہ ہم پاکستانی فوری طور پر دینا شروع کر دیتے ہیں۔ ہم مشرقی روایتوں میں بندھے ہوئے لوگ یہ محسوس کرتے ہیں کہ اگر دنیا کا کوئی ملک ہمارے ساتھ کسی مرحلے پر دوستی کا دعویٰ کرتا ہے اور ہم بھی اس کے ساتھ مل کر دوستی کے نام پر اس کے مفادات پورا کرنے پر اس کا ساتھ دیتے ہیں تو پھر یہ ضروری ہو جاتا ہے کہ وہ ملک ہر صورت میں پاکستان کا وفادار رہے چاہے پاکستان کچھ بھی کرتا رہے۔

    یہ وہ سوچ ہے جو کم از کم پاکستان اور امریکہ کے تعلقات پر حاوی ہے۔ ہم آج بھی یہی سمجھتے ہیں کہ امریکہ نے پاکستان کو استعمال زیادہ کیا ہے اور اس کے بدلے میں دیا کچھ نہیں۔

    ہم پاکستانیوں کی ایک یہ بھی بڑی عجیب سی نفسیات بن گئی ہے کہ جب امریکہ ہم پر فوجی اور اقتصادی پابندیاں لگاتا ہے تو ہم کہتے ہیں کہ امریکہ نے ہمیں استعمال کر کے چھوڑ دیا تھا۔ ہم شور مچا کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں کہ دہشتگردی کی وجہ سے پاکستان کو اربوں ڈالر کا نقصان ہوا تھا جبکہ امریکہ یہ نقصان پورا کرنے کو تیار نہیں تھا۔ یوں ہم دن رات یہ طعنے مارتے تھکتے نہیں کہ امریکہ صرف پاکستان کو استعمال کر رہا تھا۔ جب امریکی پاکستان کو امداد دینا شروع کرتے ہیں جیسا کہ کیری لوگر بل کے تحت آٹھ ارب ڈالر کی امداد کا وعدہ کیا گیا ہے تو ہماری غیرت یکدم جاگ اٹھتی ہے۔ ہمارے سیاستدان اور میڈیا ایک لمحے میں غیرتمند بن جاتے ہیں اور کہتے ہیں کہ پاکستان امریکی ٹکڑوں پر پل رہا تھا اور امریکی ڈالر لیکر ملک کو تباہ کیا جا رہا تھا۔ یوں امریکی پاکستان کی امداد نہ کر کے بھی برے ٹھہرتے ہیں اور اگر امداد دیں بھی تو زیادہ برے۔ سو جہاں پر ہم امریکہ کے حوالے سے شکوک و شبہات کا شکار ہیں وہاں یقیناً امریکی بھی حیران ہو کر سوچتے ہوں گے کہ ان کا کس قوم سے پالا پڑ گیا تھا کہ پیسے دو تو بھی گالی کھاؤ اور نہ دو تو بھی گالی۔

    اب مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی کہ اس میں قصور کس کا ہے اور اس طرح کا رویہ دونوں اطراف سے کیسے بن گیا ہے۔ میں آپ کو ٹیلیویژن پر ہونے والے درجنوں کے حساب سے وہ پروگرام دکھا سکتا ہوں جس میں امریکہ کو اس لیے گالیاں دی گئی ہیں کہ وہ پاکستان کی فوجی اور معاشی امداد نہیں کر رہا تھا۔ جب امداد شروع ہوئی تو اس کے بعد بھی اسی طرح کے بیسوں پروگرام کیے گئے جن میں کہا گیا کہ ہمیں یہ امداد نہیں لینی چاہیے۔ پاکستانیوں کی اس منطق سے تنگ آ کر پہلے رچرڈ ہالبروک اور بعد میں ہیلری کلنٹن نے بڑے واضح انداز میں پاکستان میں بیٹھ کر یہ بات کی کہ اگر آپ کو امداد نہیں چاہیے تو آپ لینے سے انکار کر دیں کیونکہ ہم اگر نہیں دیتے تو بھی آپ سب سے زیادہ رولا ڈالتے ہیں۔

    پاکستانی لیڈروں اور میڈیا کا خیال ہے کہ امریکہ امداد دیکر پاکستان کو ڈکٹیٹ کراتا ہے جس سے اس کی خودمختاری پر حرف آتا ہے۔ اس کا جواب امریکن سفیر منٹر نے سینیٹر انور بیگ کی طرف سے دیئے گئے ایک ظہرانے میں یہ کہہ کر دیا کہ ہاں یہ درست ہے کہ ہم پاکستان کو ڈکٹیٹ کراتے ہیں کیونکہ ہم اس ملک کو دنیا بھر میں سب سے زیادہ امداد بھی دیتے ہیں۔ جب امریکن امداد دیتے ہیں تو پھر وہ اس بات کا بھی خیال رکھتے ہیں کہ وہ امداد کہاں، کیسے اور کن لوگوں پر خرچ ہو رہی تھی۔ امریکن اپنی امداد کو مانیٹر کرنا چاہتے ہیں تاکہ وہ صحیح مقاصد کیلئے استعمال ہو اب یہ نہیں ہو سکتا کہ آپ کو آٹھ ارب ڈالر دے دیئے جائیں اور آپ سے پوچھا بھی نہ جائے کہ آپ نے وہ پیسے کہاں خرچ کیے تھے۔ امریکن سفیر کا خیال تھا کہ اگر آپ اس بات کو مداخلت سمجھتے ہیں تو پھر واقعی امریکہ مداخلت کرتا ہے۔

    پاکستان کی یہ بھی بدقسمتی رہی ہے کہ جب سیاستدانوں اور میڈیا میں موجود رائٹ ونگ کے لوگ امریکہ کے ساتھ مل کر افغانستان میں جنگ لڑ رہے تھے تو اس وقت ان کے پاس وہ جنگ لڑنے کیلئے ہزاروں توجیہات تھیں۔ اس وقت پاکستانی سیاستدانوں، مذہبی جماعتوں اور میڈیا کے لوگوں کو امریکہ اچھا لگتا تھا اور ہمیں یہاں تک بتایا جاتا تھا کہ اہل کتاب کے ساتھ تو شادی بھی جائز تھی لہذا مسلمانوں اور عیسائیوں میں زیادہ فرق نہیں تھا۔ ان دونوں پر لازم تھا کہ وہ روسیوں کے خلاف جہاد کریں جو خدا کو نہیں مانتے تھے۔ ان مذہبی جماعتوں نے میڈیا کی مدد سے کھل کر امریکن اور یورپی ایجنڈے کی تکمیل کی۔

    سب نے اپنے اپنے حصے کے ڈالر کمائے اور جب یہ امریکہ کے اس خطے سے چلے جانے کے بعد بیروزگار ہوئے اور ڈالروں کی یاد ستائی تو انہوں نے امریکہ کو ایک ایسا دوست قرار دیا جو دوسروں کو اپنے مقاصد کیلئے استعمال کر کے اکیلا چھوڑ جاتا تھا۔ امریکن اس بات پر حیران ہوتے تھے کہ انہیں اس طرح کے طعنے کیوں ملتے ہیں کیونکہ اگر وہ افغانستان میں پاکستان کے ساتھ مل کر جنگ لڑ رہے تھے تو پاکستانی حکومت اور لوگوں کو بھی روس کو شکست دینے میں اپنا مفاد نظر آتا تھا۔ پاکستانی روس کے ہمسائے نہیں بننا چاہتے تھے جبکہ امریکہ دنیا بھر سے روس کا اثر و رسوخ ختم کرنا چاہتا تھا لہذا دونوں کے مفادات مشترکہ تھے۔ وہ دونوں مل کر لڑے۔ جنرل ضیاء اور جماعت اسلامی نے اگر مین پاور فراہم کی تو یورپ نے اسلحہ گولہ بارود اور ڈالروں کی بوریاں دیں۔ دونوں نے اپنے اپنے مقاصد حاصل کیے اور جب یہ کنٹریکٹ ختم ہوا تو اپنے اپنے گھروں کو لوٹ گئے۔ پاکستان کو اس وقت حکمرانوں، فوجیوں، انٹیلی جنس ایجنسیوں اور مذہبی جماعتوں نے امریکہ سے اس کنٹریکٹ کی پوری پوری قیمت وصول کی تو اب یہ طعنے کیوں کہ امریکہ نے پاکستان کو اکیلا چھوڑ دیا تھا۔

    یہ بھی پاکستانیوں کی ایک بڑی عجیب سی سوچ رہی ہے کہ بھارت سے جنگیں لڑنے کیلئے انہوں نے ہمیشہ امریکہ سے اسلحہ لیا ہے۔ بھارت سے جنگ سے بچنے کیلئے بھی امریکہ کی مدد حاصل کی جاتی رہی ہے جیسا کہ نواز شریف نے امریکہ جا کر کارگل کے مسئلے پر بل کلنٹن سے امداد حاصل کی تھی۔ ممبئی میں 2008ء میں ہونے والے حملوں کے بعد بھارت کو پاکستان سے جنگ کرنے سے روکنے والا اور کوئی نہیں امریکہ ہی تھا۔ آج تک ہم سمجھتے ہیں کہ امریکہ کو 1971ء کی پاک بھارت جنگ میں اپنا بحری بیڑہ بھیجنا چاہیے تھا جو بھارت کے خلاف جنگ لڑتا۔

    یوں ہم امریکہ سے نفرت بھی کرتے ہیں لیکن ہر مشکل وقت میں امریکہ کی طرف دیکھتے بھی ہیں۔ ہم اس بات پر یقین نہیں رکھتے کہ دنیا کے ملکوں کے درمیان انسانوں کی طرح ذاتی دوستیاں نہیں ہوتیں بلکہ مشترکہ مفادات وقتی طور پر کسی دوستی کی وجہ بنتے ہیں۔ اس کی شاید وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں کبھی وزارت خارجہ کو دنیا کے ساتھ ڈپلومیسی سے ڈیل کرنے کا موقع ہی نہیں دیا گیا۔ جس ملک میں ساٹھ برسوں میں سے تیس برس سے زیادہ فوج نے ملک اور فارن آفس کو چلایا ہو وہاں بھلا اس کے علاوہ اور کیا سوچ پیدا ہو سکتی تھی کہ یا تو آپ ہمارے دوست ہیں یا دشمن، درمیان میں ہم نے کسی کیلئے اور کوئی راستہ نہیں چھوڑا۔ یہ وہ مائنڈ سیٹ ہے جس کی وجہ سے آج ہمیں تکلیف ہو رہی ہے۔ جس ملک کے فارن آفس کو جی ایچ کیو چلائے گا وہاں اسی طرح کے مسائل پیدا ہوں گے۔

    یہ بات طے ہے کہ ہم پسند کریں یا نہ کریں امریکہ ہمارے معاملات میں مداخلت کرے گا کیونکہ جب ہم افغانستان کے معاملات میں مداخلت کریں گے تو ہمیں تیار رہنا چاہیے کہ کچھ اور قوتیں یہی حق ہمارے ملک میں بھی استعمال کرنا چاہیں گی۔ ہمیں اپنے آپ کو یہ بات بھی سمجھانی پڑے گی کہ پاکستان دنیا کا آخری ملک نہیں ہے جہاں امریکہ مداخلت کرتا ہے۔ برطانیہ سے لیکر جاپان، جرمنی، فرانس اور حتیٰ کہ بہت سارے معاملات میں چین بھی وہی کچھ کرتا ہے جو اسے امریکہ کرنے کو کہتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ بعض ممالک اس کے بدلے میں امریکہ سے قیمت زیادہ لے لیتے ہیں جبکہ ہم اور ہمارے لیڈر کچھ زیادہ ہی سستے بک جاتے ہیں۔ اگر ہم اپنے آپ کو سستا بیچتے ہیں تو پھر اس میں قصور امریکہ سے زیادہ ہمارے ان سیاسی اور فوجی لیڈروں کا ہے جو ان سے بیٹھ کر یہ سارا لین دین طے کرتے ہیں !
    تحریر: رؤف کلاسرا
     
  8. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    نارووال کا ڈان احسن اقبال: پاکستان ٹو ڈے کی رپورٹ

    تحریر یاسر حبیب (پاکستان ٹوڈے)

    مترجم: مریم حسین

    لاہور: پاکستان مسلم لیگ کے سینئر راہنماء جو ناروال کے حلقہ این اے 117 سے تعلق رکھتے ہیں، اپنے علاقے میں ایک ” ڈان”کے طور پر ابھر کر سامنے آئے ہیں۔ ان کے اس غیرشریفانہ کردار نے ان کی اپنی پارٹی کے رہنماؤں کو پریشان کر دیا ہے جو ان کی ’غنڈہ گردی‘ اور بھائیوں کے لیے اقربا پروری سے بہت تنگ ہیں۔ احسن اقبال اور ان کے رشتہ داروں کے خلاف لاہور پریس کلب میں ہونے والے ایک مظاہرے میں ساٹھ سالہ عبدالغنی کی موت جس کا تعلق ڈھوک چک بس اڈا ناروال سے تھا، کی وجہ سے پہلے ہی عوام میں بہت غصہ پایا جاتا ہے۔ تاہم اس کے باوجود مسلم لیگ نواز پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ احسن اقبال کو ان کی پنجاب میں حکومت کرنے والی پارٹی نے یہ لائسنس دیا ہوا ہے کہ وہ ان کی حمایت سے جو چاہیں کرتے رہیں۔

    پارٹی کے مرکزی سیکریٹریٹ میں ذرائع نے یہ انکشاف کیا ہے کہ احسن اقبال نے ناروال میں اپنی حکومت قائم کرلی ہے جہاں سے وہ تین دفعہ الیکشن جیت کر رکن پارلیمنٹ بن چکے ہیں اور انہیں جتانے میں ان کی والدہ آپا نثار فاطمہ کے رشتہ داروں رانا رمضان اور رانا افضل نے بہت اہم کردار ادا کیا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کو احسن اقبال اور ان کے رشتہ داروں کے بارے میں بہت ساری شکایتں موصول ہوئیں جن میں کہا گیا تھا وہ سب ڈرگز اور انسانی سمگلنگ میں ملوث ہیں اور اس کے علاوہ لوگوں سے بھتہ بھی وصول کرتے ہیں۔ ان کے بیشتر رشتہ دار اپنے آپ کو ایم این اے یا ایم پی اے سے کم نہیں سمجھتے اور جو ان کی بات نہیں مانتے، انہیں ہراساں کرنے کے علاوہ اغواء یا قتل بھی کیا جا سکتا ہے۔

    ایڈوکیٹ احسن اختر، جو کہ احسن اقبال کے رشتہ داروں کے خلاف عدالت میں ایک کیس لڑ رہے ہیں نے ’پاکستان ٹوڈے‘ کو بتایا کہ احسن اقبال حکومت میں اپنا اثر و رسوخ استمعال کر کے کڑروں روپے کے کنٹریکٹ لے کر اپنے کزنز کو دیتے رہتے ہیں۔ ان کے رشتہ دار بہت مال بنا رہے ہیں اور اس کے علاوہ اپنی مرضی کے ٹرانسفر اور پوسٹنگ بھی کراتے ہیں۔

    احسن اقبال اس کے علاوہ اپنی دور طالبعلمی سے ایک بدنام زمانہ مائیگریشن کیس کے حوالے سے بھی خبروں میں رہے ہیں۔ احسن اقبال نے ٹیکسلا انجیرنگ یونیورسٹی سے لاہور کی انجیرنگ یونیورسٹی میں تبدیلی کے لیے سیاسی اثرو رسوخ استمعال کیا تھا۔ گیارہ مئی 1978( جنرل ضیاء کا دور جس میں احسن اقبال کی والدہ آپا نثار فاطمہ فوجی آمر کے بہت قریب سمجھی جاتی تھیں) کے سینڈیکٹ اجلاس کے منٹس سے یہ انکشاف ہوتا ہے کہ ان دو یونیورسٹیوں کے درمیان اس طرح کے کسی طالب علم کو تبادلہ کرانے کی کوئی گنجائش نہیں تھی کیونکہ طالب علم ان دو اداروں میں میرٹ پر داخل ہوتے تھے۔ تاہم سینڈیکٹ نے احسن اقبال رجسٹریشن نمبر 76-UCET-18 کو ٹیکسلا سے لاہور یونیورسٹی تبادلے کی اجازت دے تھی۔

    پاکستان مسلم لیگ نواز کے ایک سینئر لیڈر کے مطابق احسن اقبال اپنی سازشوں کی وجہ سے بھی بہت مشہور تھے۔ جب نواز شریف جلاوطنی کاٹ رہے تھے تو وہ سازش کرکے پارٹی کے مرکزی انفارمیشن سیکرٹری بن گئے۔ صدیق الفاروق کو پارٹی کا انفارمیشن سیکرٹری بنانے تک کا نوٹیفیکشن بھی جاری کر دیا گیا تھا ۔ تاہم احسن اقبال نے سابق ڈپٹی سپیکر پنجاب اسمبلی جعفر اقبال گجر کے ساتھ مل کر یہ سازش تیار کی اور نواز شریف کو ذہن بدلنے میں اہم کردار ادا کیا ۔

    اپنے بدتمیزانہ اندار گفتگو کی وجہ سے ان کا اپنی پارٹی کی سینئر قیادت کے ساتھ تعلق کوئی اچھا نہیں ہے۔ وہ دوسروں کے مقابلے میں اپنے آپ کو ذہانت، پروفیشنل ازم اور تعلیم میں بہت بہتر سمجھتے ہیں، لہذا وہ کسی کو خاطر میں نہیں لاتے اور سولو فلائٹ پر یقین رکھتے ہیں۔ مسلم لیگ نواز کے ایک لیڈر نے بتایا کہ احسن اقبال نے اپنے چھوٹے بھائی مجتبی جمال کو پنجاب حکومت کے لیگل پینل پر ایڈجسٹ کرایا۔ مجتبی احسن جیل کمیٹی کے رکن ہیں۔ جیل سے متلعقہ تمام تر قانونی کارروائیاں، کیسز جو ہوتے ہیں، وہ ان کے ہاتھوں سے ہو کر عدالتوں میں جاتے ہیں اور موصوف دونوں ہاتھوں سے مال کما رہے ہیں۔

    احسن اقبال نے اپنے ایک اور بھائی مصطفی کمال کو وزیراعلی کی ٹاسک فورس برائے پارکس اور ہارٹیکلچرل کا چیئرمین بنوا رکھا ہے۔ مصطفے کے خلاف اس وقت ایک انکوائری بھی ہو چکی ہے کہ وہ اپنے اس عہدے کو اپنے کاروبار کے لیے استمعال کر رہے ہیں۔ (موصوف کسی دور میں اس ادارے کو پھول فراہم کرتے تھے اور اب اس کے باس بن بییٹھے تھے)۔ پتہ یہ چلا کہ مصطفے کو ہرگز ہارٹی کلچر کا کوئی علم نہیں کہ اسے اس عہدے پر فائز کیا جاتا جو ویسے ایک ٹیکنوکریٹ کے لیے مختص ہے۔ یہ بھی انکشاف ہوا ہے کہ مصطفے پچھلے دور حکومت میں پنجاب ہارٹی کلچرل اتھارٹی کے ساتھ بہت ساری بزنس ٹرانزنکشن میں ملوث پائے گئے تھے۔ وہ ہارٹری گروپ، پلانٹ سپیس اور پلانٹ کیئر جیسی فرمز بھی چلاتے رہے جو پی ایچ اے کو پھول پودے فراہم کیا کرتی تھیں۔ ذرائع کے مطابق احسن اقبال کو خوش کرنے کے لیے پنجاب ہارٹی کلچر اتھارٹی نے یہ لازمی قرار دے دیا تھا کہ ان کی فرم سے پھول پودے ضرور حاصل کیے جائیں۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    (پاکستان مسلم لیگ کے لیڈر احسن اقبال کی ذاتی کرپشن اوراپنے بھائیوں کو غیرقانونی فائدے پنجاب حکومت سے لے کر پہنچانے پر مبنی یہ رپورٹ لاہور سے عارف نظامی کی زیرادارت چھپنے والے انگریزی روزنامے پاکستان ٹوڈے نے چھاپی تھی۔ ا س سٹوری کی سرخی یہ تھیThe Don of Narowal ۔ جب معروف کالم نگار ہارون الرشید نے اس سننسی خیز سٹوری کا حوالہ اپنے ’جنگ‘ کے ایک کالم میں دیا تو حیرانی کی بات ہے یہ کہ فوری طور پر یہ سٹوری پاکستان ٹوڈے کی ویب سائٹ سے ہٹا لی گئی تاکہ دینا بھر کے قارئین اس نیٹ پر نہ پڑھ سکیں۔ اپنے اردو کے قارئین کے لیے اس سٹوری کا ترجمہ شائع کیا جارہا ہے)
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  9. Riaz Ahmad

    Riaz Ahmad -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 23, 2011
    پیغامات:
    47
    کوئٹہ: اقلیتی شیعہ برادری پر حملے میں 13 افراد ہلاک

    صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں منگل کی صبح اقلیتی شیعہ برادری پر نامعلوم افراد کے حملے میں کم از کم 13 افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہو گئے۔

    ڈپٹی انسپکٹر جنرل آف پولیس حامد شکیل نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ یہ واقعہ اختر آباد کے علاقے میں پیش آیا جہاں نامعلوم مسلح افراد نے ایک بس پر اندھا دھند فائرنگ کر دی۔

    ’’ہلاک ہونے والے افراد کا تعلق شیعہ ہزارہ برادری سے ہے اور یہ لوگ کوئٹہ کے نواحی علاقے ہزار گنجی جا رہے تھے۔‘‘

    گزشتہ ماہ پاک ایران سرحد کی جانب سفر کرنے والے شیعہ زائرین کو ضلع مستونگ میں نشانہ بنایا گیا تھا اور اس حملے میں 26 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

    کوئٹہ: اقلیتی شیعہ برادری پر حملے میں 13 افراد ہلاک | Al Qamar Online
     
  10. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    موغا دیشو: خود کش کار بم دھماکہ، 65 افراد ہلاک

    صومالی دارالحکومت موغا دیشو میں سرکاری عمارت کے باہر خود کش کار بم دھماکے میں پینسٹھ افراد ہلاک اور پچاس سے زائد زخمی ہوگئے۔ غیر ملکی ایجنسی کے مطابق دھماکہ وزارت تعلیم کے قریب ایک عمارت کے باہر اس وقت ہوا جب خود کش حملہ آور نے بارود سے بھری کار کو دھماکے سے اڑا دیا۔ عینی شاہدین کے مطابق دھماکے کے وقت سینکڑوں نوجوان غیر ملکی اسکالرشپ کیلئے امتحان دے رہے تھے۔ زخمیوں کو ہسپتال پہنچا دیا گیا ہے۔ جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ میڈیکل ذرائع کا کہنا ہے کہ اکثر زخمیوں کی حالت نازک ہے اور ہلاکتوں کی تعداد بڑھ سکتی ہے۔[/b][/color]
    اردو ٹائمز
     
  11. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    انا للہ وانا الیہ راجعون۔
     
  12. خان

    خان ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جنوری 27, 2011
    پیغامات:
    391
    اللہ اکبر

    اللہ غارت کرے یہود و نصارا کو اور ایسے غیر مسلموں کو
     
  13. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    کوئٹہ: مسافر بس پر فائرنگ 12 جاں بحق،7زخمی

    [​IMG]
    کوئٹہ: اختر آباد کے علاقے میں مسافر بس پر فائرنگ کے نتیجے میں بارہ افراد جاں بحق ہو گئے۔ پولیس حکام کے مطابق مسافر بس کوئٹہ سے دالبندین جا رہی تھی کہ راستے میں نامعلوم موٹر سائیکل سواروں نے بس کو روک کر فائرنگ کر دی جس کے نتیجے میں بارہ افراد جاں بحق جبکہ سات زخمی ہوگئے۔ پولیس نے واقعہ کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے کر امدادی کارروائیاں شروع کر دی گئیں۔ پولیس حکام کے مطابق زخمیوں کو سی ایم ایچ منتقل کیا جا رہا ہے جبکہ کچھ زخمیوں کو بولان میڈیکل کالج منتقل کر دیا گیا ہے۔
    اردو ٹائمز
     
  14. علی کے کے

    علی کے کے -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 29, 2010
    پیغامات:
    68
    سب سے گندی سیاست اور گندے لوگ صرف پاکستان میں ہی ملیں گے۔
    یہاں نہ تو ضمیر نام کی کوئی شے ہے اور نہ ہی غیرت۔
    یہاں کی عوام کی سمجھ بوجھ اور عقلوں پر تو پہلے ہی دبیز سیاہ پردے پڑے ہوئے۔
    آپ ان کے کتنے ہی سیاہ اور گھناؤنے کرتوت سامنے لاتے رہیں۔اس سے ان کی غیرت،ضمیر اور ووٹروں پر کوئی اثر نہیں پڑنے والا۔
    بے فکر رہیں اس جمہوریت نامی گندی سیاست میں یہی چہرے منتخب ہوتے رہیں گے اور گنے چنے دردمند سینوں پر یونہی مونگ دلتے رہیں گے۔
     
  15. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,757
    مرنے والوں کی تعداد 13ہو گئی بھائی۔ اللہ تعالی مرنے والوں کی مغفرت کرے اور اُن کے گھر والوں‌کو صبر عطا فرمائے۔
    پتہ نہیں‌کون ہیں‌یہ لوگ جو مسلمانوں کا خون پانی کی طرح بہاتے جا رہے ہیں‌ اللہ غرق کرے ان کو
     
  16. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    سعودی عرب: حجاج کرام کی سہولت کے لیے ٹرین منصوبہ تیار

    سعودی عرب کے حکام نے مُلک کے جنوب میں المشاعر المقدس کے مقام پر حجاج کرام کی سہولت کے لیے شروع کیے گئےٹرین منصوبے پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرینیں چالو حالت میں ہیں اورمنصوبے میں کوئی فنی خرابی نہیں۔

    مزید ۔۔۔ تفصیل
    سعودی عرب: حجاج کرام کی سہولت کے لیے ٹرین منصوبہ تیار
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر، 6, 2011
  17. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    امریکہ اور لوڈشیڈنگ

    حامد میر
    کوئی غلط فہمی میں نہ رہے۔ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تناؤ میں وقتی طور پر کمی ضرور آئی لیکن یہ تناؤ اس وقت تک برقرار رہے گا جب تک افغانستان میں امریکی فوج موجود رہے گی۔ یہ خاکسار ٹھوس معلومات کی بنیاد پر اپنے قارئین کو خبردار کر رہا ہے کہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان حالیہ کشیدگی سے دونوں ممالک کے کئی مشترکہ دوست سخت پریشان ہیں اور ان میں سے کچھ دوستوں کو خطرہ ہے کہ پاکستان کا کوئی دشمن آنے والے دنوں میں کابل یا قندھار میں کوئی ایسی واردات کرائے گا جس کے بعد واشنگٹن اور اسلام آباد ایک دفعہ پھر دوست نہیں دشمن بن سکتے ہیں۔ واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے نے اسلام آباد کو واضح طور پر بتادیا ہے کہ امریکہ کسی بھی وقت کہیں بھی ایبٹ آباد آپریشن جیسی ایک اور کارروائی کر سکتا ہے اور اگر ایمن الظواہری یا ملا محمد عمر یا جلال الدین حقانی پاکستان سے برآمد ہو گئے تو پاکستان کو دنیا بھر میں ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔ اسلام آباد میں اکثر مغربی سفارت کاروں کا خیال ہے کہ 29 ستمبر کی آل پارٹیز کانفرنس میں منظور کی جانے والی قرارداد پاکستانی قوم کے عمومی مزاج کی عکاس ہے اور پاکستانی ارباب اختیار دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ سے پیچھا چھڑانے کے راستے تلاش کر رہے ہیں۔

    امریکہ اور لوڈشیڈنگ...قلم کمان …حامد میر
    بہ شکریہ روزنامہ جنگ
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر، 6, 2011
  18. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    العربیہ ڈاٹ نیٹ، ایجنسیاں

    پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کے کمپاؤنڈ پر امریکی حملے کی تفتیش کرنے والے پاکستانی کمیشن نے کہا ہے کہ القاعدہ کے سابق سربراہ کا پتہ لگانے میں سی آئی اے کی مدد کرنے والے ڈاکٹر کے خلاف غداری اور قتل کا مقدمہ قائم کیا جانا چاہیے۔

    سپریم کورٹ کے سابق سنیر جج جاوید اقبال کی سربراہی میں قائم کمیشن تحقیق کر رہا ہے کہ القاعدہ کے سابق سربراہ اسامہ بن لادن پاکستان میں طویل عرصے تک کیسے روپوش رہے۔ اس کمیشن نے سرکاری سرجن شکیل آفریدی پرغداری اور قتل کا مقدمہ بنانے کی سفارش کی ہے، جس کے بارے میں سکیورٹی حکام نے یقین ظاہر کیا ہے کہ انہیں ایبٹ آباد میں بن لادن کی موجودگی کا علم تھا اور انہوں نے معلومات امریکی انٹیلی جنس ایجنٹوں کو دی تھیں۔

    ڈاکٹر آفریدی سے مفت ویکسینیشن مہم کے بارے میں پوچھ گچھ کی جا رہی ہے، جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ اس نے مارچ سے اپریل کے دوران بن لادن کے کمپاؤنڈ کے قریبی علاقے میں چلائی۔ کہا جاتا ہے کہ اس کا مقصد بن لادن کے خاندان کے ڈی این اے نمونے حاصل کرنا تھا۔

    کمیشن نے ایک اعلامیئے میں کہا: ’’ڈاکٹر شکیل آفریدی کے حوالے سے کمیشن کے سامنے رکھے گئے ریکارڈ اور شواہد کے تناظر میں، کمیشن کا خیال ہے کہ ان کے خلاف پاکستانی ریاست کے خلاف سازش اور غداری کا مقدمہ قائم کیا جانا چاہیے۔‘‘

    دوسری جانب اس کمیشن نے بن لادن کے خاندان کو سفری پابندیوں سے آزاد کر دیا ہے۔ اس حوالے سے کہا گیا ہے: ’’کمیشن کو اب ان کی مزید ضرورت نہیں ہے۔‘‘ ایبٹ آباد کے کمپاؤنڈ میں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پاکستان نے بن لادن کی تین بیواؤں، جن میں دو سعودی اور ایک یمنی شہری ہے اور ان کے تقریباﹰ دس بچوں کو حراست میں لے لیا تھا۔ کمیشن نے اسامہ بن لادن کی رہائش گاہ بھی ایبٹ آباد کی انتظامیہ کے حوالے کرنے کی ہدایت کی گئی ہے جو اس کے مستقبل کا فیصلہ مقامی قوانین کے تحت کرے گی۔

    اس کمیشن نے قبل ازیں بدھ کو آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹنٹ جنرل احمد شجاع پاشا کا تفیصلی انٹریو بھی کیا گیا جس کا مقصد اسامہ بن لادن کی ایبٹ آباد میں موجودگی اور اس کی پناہ گاہ کے خلاف دو مئی کو خفیہ امریکی آپریشن کے بارے میں آئی ایس آئی کے ڈائریکٹر جنرل کا موقف جاننا تھا۔

    ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی طویل عرصے سے موجودگی اور اس کے کمپاؤنڈ پر یکطرفہ امریکی حملے کو بعض تجزیہ کاروں نے پاکستانی فوج کے لیے بنگلہ دیش کی علاحدگی کے بعد کا سب سے تباہ کن واقعہ قرار دیا تھا۔
    ربط:
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر، 7, 2011
  19. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    مریم حسین لکھتی ہیں کہ
    پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز کو یوریپن حکومتوں نے پچھلے تین سالوں میں سات کڑور روپے کا جرمانہ اس بناء پر عائد کیا ہے کہ وہ اپنی فلائٹس میں ایسے مسافروں کی انسانی سمگنلگ میں ملوث تھی جن کے پاس یا تو ان ممالک کے ویزے اور پاسپورٹس جعلی تھے یا پھر وہ بلیک لسٹ تھے۔ پیپلز پارٹی حکومت کے ان پچھلے تین سالوں میں ائرپورٹس سے انسانی سمگلنگ میں مبینہ طور پر اضافہ ہونے کے ساتھ جرمانے کی شرح میں بھی اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

    جعلی ویزے، بلیک لسٹ مسافر: PIA کو کروڑوں کا جرمانہ | Top Story Online
     
  20. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    رؤف کلاسرا لکھتے ہیں کہ
    آئی آیس آئی کے سابق کرنل اور سابق چیف جسٹں لاہور ہائی کورٹ خواجہ شریف قتل سازش کیس کے ایک متنازعہ مرکزی کردار احسان الرحمن نے سپریم کورٹ کے حکم پر بنائے گئے عدالتی کمیشن کو دیے گئے اپنے بیان میں سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں کہ کیسے انہوں نے نواز شریف، شہباز شریف، جنرل ضیاء الدین بٹ اور سعید مہدی سے بارہ اکتوبر 1999 کی فوجی بغاوت کے بعد ان پر تفتیش کے بعد طیارہ اغوا کیس بنایا تھا اور ان کے” اچھے سلوک” کا بدلہ اسے دس سال بعد 2008 کے انتخابات کے بعد پنجاب میں شریف برادرز کی حکومت بننے کے بعد براہ راست اکیسویں گریڈ میں سپیشل برانچ کا سربراہ لگا کر دیا گیا تھا۔
    خواجہ قتل سازش: کرنل کے شریف برادران بارے انکشافات | Top Story Online
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر، 8, 2011
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں