اِس ماہ کی خبروں کے روابط : اکتوبر ،2011

ابوعکاشہ نے 'خبریں' میں ‏اکتوبر، 2, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    سعودی عرب پر بآسانی قبضہ کر سکتے ہیں: رکن ایرانی نیشنل سیکیورٹی

    ایران کی پارلیمانی کمیٹی برائے نیشنل سیکیورٹی اور خارجہ پالیسی کمیٹی کے رکن محمد کریم عابدی کا کہنا ہے کہ اگر ہم [ایران] چاہیں تو بآسانی سعودی عرب پر قبضہ کر سکتے ہیں۔

    خبر رساں ایجنسی "فارس"کے ذریعے جاری ہونے والے منفرد بیان میں گارڈین کونسل کے رکن آیت اللہ عباس الکعبی نےدھمکی دی ہے کہ امسال حج کے موقع پر بڑے بڑے مظاہرے کئے جائیں گے جن میں بہ قول الکعبی مشرکین سے برات اور عرب انقلابات سے اظہار یک جہتی کیا جائے گا۔

    انہوں نے کہا امریکی اور صہیونی کارپرداز اس سال موسم حج پر پریشان ہیں، اسی وجہ سے انہوں نے ایران کے خلاف واشنگٹن میں سعودی سفیر کے قتل کی بہتان باندھی ہے۔

    ایرانی عہدیدار کا ردعمل گورنر مکہ ترکی الفیصل کے اس بیان کا جواب ہے جس میں سعودی عہدیدار نے اپنے امریکا میں سفیر عادل الجبیر کے قتل کی مبینہ سازش میں تہران کے ملوث ہونے پر سزا کا مطالبہ کیا تھا۔

    امریکی اٹارنی جنرل ایرک نے اس حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا تھا کہ مبینہ طور پر اس سازش کی تیاری اور معاونت میں ایران شامل ہے۔ تاہم ایرانی حکومت نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔

    ایرک ہولڈر نے کہا کہ ابھی تک کی تحقیقات سے معلوم ہوتا ہے کہ اس سازش کا حکم بھی ایران سے ہی دیا گیا تھا، جو نہ صرف امریکا بلکہ بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس سازش میں ایرانی حکومت کے مبینہ کردار پر اسے جوابدہ ہونا پڑے گا۔ بتایا گیا ہے کہ اس سازش کی تیاری میں جن افراد پر فرد جرم عائد کی گئی ہے، ان دونوں کا تعلق ایران ہی سے ہے۔

    ایرک ہولڈر کے بہ قول اس سازش کی تیاری میں جن افراد پر فرد جرم عائد کی گئی ہے، ان دونوں کا تعلق ایران ہی سے ہے۔ چھپن سالہ منصور اربابسیار ایرانی نژاد امریکی شہری ہے جبکہ دوسرے کا نام غلام شکوری ہے، جو پاسداران انقلاب کی القدس نامی فورس کا رکن ہے۔ ہولڈر کے مطابق یہ سازش القدس فورس نے ایران میں تیار کی اور اس پر عملدرآمد کے لیے 1۔5 ملین ڈالر کی رقم مختص کی گئی تھی۔

    سیٹلائٹ حملوں کی صلاحیت

    مسٹر عابدی نے مزید کہا کہ میں پوچھنا چاہتا ہوں کہ کیا سعودی عرب کے پاس ایرانی دھمکیوں کا جواب ہے؟ انہیں [سعودی عرب] معلوم نہیں کہ ایران جب چاہے، ریاض کا امن تہہ و بالا کر سکتا ہے۔ سعودی عرب کو ایران کے خلاف الزامات کی قمیت اداء کرنا ہو گی۔

    بنیاد پرست رکن پارلیمنٹ نے یہ بات زور دیکر کہی کہ ایرانی فوج، سعودی عرب کے خلاف کسی بھی اقدام کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ ہم پورے سعودی عرب پر بہ آسانی قبضہ کر سکتے ہیں۔

    یاد رہے کہ اسی رکن پارلیمنٹ نے گذشتہ ہفتے اعلان کیا تھا کہ ایرانی انٹلیجنس کو اسرائیلی خفیہ اداروں میں نفوذ کی کامیابی حاصل ہوئی ہے۔ اس کامیابی کے بل پر تہران کو ایسی اہم معلومات ملی ہیں کہ جو کسی بھی فوجی مڈبھڑ کے موقع پر کام آ سکتی ہیں۔

    رکن پارلیمنٹ محمد کریم عبادی کا مذکورہ بیان اسرائیل کے اس اعلان کے بعد سامنے آیا جس میں کہا گیا تھا کہ اسرائیل جاسوسی کی خاطر ایران کی فضاء میں منصوعی سیارہ چھوڑنے والا ہے۔

    مسٹرعابدی نے کہا کہ ایران کے پاس مصنوعی سیارے سے بھیجی جانے والی معلومات میں تشویش پیدا کرنے کی صلاحیت ہے۔ انہوں نے مزید دعوی کیا کہ ایرانی بحریہ نے خلیج میں امریکی بحری ہدف کی جانب بغیر پائلٹ جاسوسی طیارہ بھجوانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔
    بہ شکریہ:
    سعودی عرب پر بآسانی قبضہ کر سکتے ہیں: رکن ایرانی نیشنل سیکیورٹی
     
  2. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    ’ہیلری کلنٹن پاکستانیوں کی امریکہ تعریف سے شرمندہ‘

    امریکی وزیرخارجہ ہیلری کلنٹن کو اس وقت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا جب پاکستانی طالبعلموں اور سول سوسائٹی سے ڈائیلاگ کے نام پر اسلام آباد میں واقع امریکی سفارت خانے نے یو ایس ایڈ کے تحت چلنے والے پراجیکٹس کے ملازمین اور این جی اوز کے لوگوں کو اکٹھا کر کے ان سے بنے بنائے سوالات کی شکل میں تعریف کرانی شروع کردی۔ یہ بات اتنی محسوس کی گئی کہ تقریب کے اختتام پر ہیلری کلنٹن کا پریشان امریکی سٹاف وہاں متعلقہ لوگوں سے یہ تحقیق کرتا پایا گیا کہ یہ بنے بنائے سوالات کس نے ان سے کرائے تھے۔
    ’ہیلری کلنٹن پاکستانیوں کی امریکہ تعریف سے شرمندہ‘ | Top Story Online
     
  3. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
  4. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    لیکن حامد کرزئی تو امریکن پپٹ صدر ہیں، تو یہ چیز کی پیش قیاسی تو کر رہے ہیں۔ خدانخواستہ۔ اور ساتھ ساتھ اپنی روٹی بھی سیک نہ رہے ہوں‌کہ وہ پاک کے ساتھ ہیں۔۔۔!!!

    اللہ پاکستان کو یا کسی بھی مسلم ملک امریکہ اور یورپ جیسے بدترین امن پسندوں سے محفوظ رکھے۔۔آمین ثم آمین
     
  5. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    نصرت بھٹو: یہ کہانی آپ ہی لکھیں؟

    نصرت بھٹو کی کہانی آج ختم ہو گئی ہے۔ تو پھر اسے نئے سرے سے لکھنے کے لیے کہاں سے شروع کیا جائے۔ آپ یہ بھی تو پوچھ سکتے ہیں کہ اسے نئے سرے سے لکھنے کی کیا ضرورت ہے۔
    نصرت بھٹو: یہ کہانی آپ ہی لکھیں؟ | Top Story Online
     
  6. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    امریکہ کے لیے ایک اورمصیبت؟؟؟؟

    لیبیا کی قومی عبوری کونسل کے سربراہ مصطفی عبدالجلیل نے اتوار کے روز لیبیا سے کرنل معمر القذافی کے اقتدار کے خاتمے اور ملک کی آزادی کا اعلان کرتے ہوئے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ ملکی قوانین کا ماخذ اسلامی شریعت ہو گی۔

    بنغازی میں منعقدہ تقریب آزادی سے خطاب کرتے ہوئے مصطفی عبدالجلیل نے کہا کہ اسلامی شریعت کے خلاف تمام ملکی قوانین بشمول تعدد ازواج پر پابندی کا قانون منسوخ کر دیئے گیے۔ عبدالجلیل نے تمام سول اور فوجی اہلکاروں کے لئے معافی کا اعلان کیا۔ معافی پانے والوں میں میجر جنرل یونس اور ان کے ہم پیالا افسر بھی شامل ہیں۔

    انہوں نے کہا کہ ملک سے سود کے خاتمے کے لئے اسلامی بینکاری متعارف کرائیں گے۔ انہوں نے ملک سے استبدادی حکومت کے خاتمے کی جنگ لڑنے والوں کے لئے آٶٹ آف ٹرن ترقیوں کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی وہ کرنل قذافی کے دور حکومت میں تلف ہونے والے حقوق کا بدلہ لیتے وقت درگزر سے کام لیں۔ انہوں نے شامی اور یمنی عوام کی انقلابی جدوجہد کے لئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔
     
  7. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    کرنل قذافی کے ساتھ چند گھنٹے

    آغا مسعود حسین

    یہ 1976 کا ذکر ہے، مہینہ اگست کے شروعات کا تھا، میں ان دنوں بھٹو صاحب کے اخبار ”مساوات“ میں سینئر رپورٹر کی حیثیت سے کام کررہا تھا۔ شوکت صدیقی، مشہور اخبار نویس اور ناول نگار اخبار کے ایڈیٹر تھے (بعد میں ان کہ جگہ ابراہیم جلیس ایڈیٹر مقرر ہوئے) انہوں نے مجھے ٹیلکس دکھایا اور کہا کہ جناب بھٹو نے 4 صحافیوں کو کولمبو (سری لنکا) میں ہونے والی غیروابستہ ممالک کی کانفرنس کی کوریج کیلئے منتخب کیا۔ میرے علاوہ باقی تین صحافیوں میں مرحوم منصوری صاحب، افتخار چوہدری اور جناب سلامت علی شامل تھے۔ شوکت صدیقی نے مزید بتایا کہ کیونکہ تم بھٹو صاحب کے اخبار کی نمائندگی کرو گے، اس لئے … تین سیاسی شخصیات کا انٹرویو تمہاری ذمہ داری ہوگی۔ ان تین شخصیات میں بھارت کی آنجہانی وزیراعظم مسز اندرا گاندھی، افغانستان کے صدر جناب سردار داؤد اور لیبیا کے کرنل قذافی۔

    کانفرنس کا آغاز نہایت دھوم دھڑکے سے ہوا۔ تقریباً تمام بڑے بڑے سیاسی رہنما مثلاً مسز اندرا گاندھی، صدر انور سادات، یاسر عرفات، حافظ …… کرنل قذافی، سردار داؤد ، غیر وابستہ ممالک کی تنظیم کی مہمان مسز بندرانایکے (دنیا کی پہلی خاتون وزیراعظم) کے علاوہ چین، روس، لاطینی امریکہ اور افریقی ممالک کی اہم شخصیات موجود تھیں۔ کانفرنس تین دن تک جاری رہی۔ اس دوران عالمی سامراج اور اس کی ریشہ دوانی کے خلاف زبردست تقریریں ہوئیں۔ اجلاس کے دوسرے دن میں نے کرنل قذافی کے ملٹری سیکریٹری سے رابطہ قائم کیا اور ان سے قذافی کے انٹرویو کیلئے درخواست کی اور اس کے ساتھ ہی انہیں یہ بھی بتایا کہ میرا تعلق بھٹو صاحب کے اخبار سے ہے۔

    شام کے وقت کرنل قذافی کے ملٹری سیکریٹری نے مجھے بتایا کہ برادر کرنل قذافی کل ہالی ڈے ان ہوٹل میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کریں گے، آپ وہاں آجائیں، کانفرنس کے بعد وہ آپ سے علیحدہ ملاقات کریں گے۔ چنانچہ دوسرے دن میں ہالی ڈے ان ہوٹل پہنچا، وہاں پہلے ہی سے تقریباً 100 کے قریب صحافی کرنل قذافی کی پریس کانفرنس کور کرنے کیلئے بیٹھے تھے۔ قذافی صاحب کے ملٹری سیکریٹری نے مجھے دیکھ لیا اور اپنے قریب ہی ایک نشست پر بٹھادیا۔ ان کی اس محبت اور شفقت کا مظاہرہ بھٹو صاحب کے سبب ہی تھا۔ جس کے کرنل قذافی سے ذاتی تعلقات تھے۔ ورنہ میں اس وقت ایک معمولی جونیئر اخبار نویس تھا۔ پریس کانفرنس میں کرنل قذافی نے کہا کہ لیبیا کی حکومت قومی آزادی کی تمام تحریکوں کی مدد کرتی رہے گی۔ جس میں کشمیر کا مسئلہ بھی شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ عرب ممالک کی اکثریت امریکہ کی حمایت کررہی ہے اور اسرائیل کے ساتھ بعض ممالک کے خفیہ تعلقات قائم ہیں اس ہی لئے فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا ہے۔

    ہر روز فلسطینی نوجوانوں کو اسرائیلی فوج ہلاک کررہی ہے اور یہ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔ کرنل قذافی بڑے جذباتی انداز میں اخبار نویسوں سے مخاطب تھے۔ کانفرنس کے اختتام کے بعد ان کے ملٹری سیکریٹری نے کرنل قذافی کے کان میں کچھ کہا، وہ میری طرف دیکھ کر مسکرائے اور ہاتھ کے اشارے سے لابی کی طرف چلنے کو کہا۔ وہ تھوڑی دیر تک دیگر اخبار نویسوں سے غیررسمی باتیں کرتے رہے۔ بعد میں وہ میرے قریب آکر بیٹھ گئے اور انگریزی میں پوچھا کہ برادر بھٹی کیسے ہیں؟ میں نے کہا بالکل ٹھیک ہیں اور آپ کو سلام کہلوایا ہے۔ پھر انہوں نے پوچھا کہ کیا یہ صحیح ہے کہ برادر بھٹو عام انتخابات کرانے کی تیاریاں کررہے ہیں؟ میں نے کہا کہ کچھ ایسا ہی نظر آرہا ہے، لیکن وہ کیوں وقت سے پہلے انتخابات کرارہے ہیں؟

    شاید انہیں معلوم نہیں ہے کہ کچھ طاقتیں ان کے خلاف حزب اختلاف کو جمع کرکے ان کیلئے مشکلات پیدا کرنا چاہتی ہے۔ میں ان کا یہ تبصرہ سن کر خاموش رہا۔ اس کے علاوہ اور دیگر باتیں بھی ہوئیں جو بعد میں انٹرویو کی شکل میں شائع ہوئی تھیں۔ تاہم کرنل قذافی پاکستان سے بے پناہ محبت کرتے تھے۔ بھٹو مرحوم سے ان کی دوستی مثالی تھی۔ انہوں نے بھٹو کی پھانسی کا بہت برا منایا تھا۔ جنرل ضیاء سے وہ اس حد تک ناراض تھے کہ انہوں نے ان سے کبھی ملاقات نہیں کی۔

    حالانکہ کئی اہم بین الاقوامی کانفرنسوں میں ان دونوں کا ایک دوسرے کے ساتھ آمنا سامنا ہوا تھا۔ بھٹو صاحب کی موت کے سوگ میں لیبیا کے جھنڈے سرنگوں رہے تھے۔ بھٹو مرحوم کے بعد کرنل قذافی نے ان کے بیٹوں بیٹیوں کی بہت زیادہ مالی اور اخلاقی مدد کی تھی بلکہ اس وقت کے لیبیا کے سفیر نے مجھے بتایا کہ بینظیر بھٹو کو انہوں نے مالی مدد کیلئے بلینک چیک بھی دیئے تھے۔ مرتضیٰ بھٹو کی بھی مدد کی تھی، لیکن انہوں نے مرتضیٰ بھٹو کو تنبیہ کی تھی کہ وہ لیبیا کی سرزمین سے پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی سرگرمیاں برداشت نہیں کریں گے۔ پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام میں بھی ان کا ایک اہم کردار رہا تھا۔

    اب کرنل قذافی اس دنیا میں نہیں رہے، خدا ان کی مغفرت کرے، آمین، وہ پاکستان کے قابل اعتماد دوست تھے، ان ہی کے زمانے میں پاکستان کے سیکڑوں بیروزگاروں کو لیبیا میں روزگار ملا تھا۔ عالمی سیاست میں وہ ایک طویل عرصے تک سامراج کو للکارتے رہے اور قومی آزادی کی تحریکوں کی دامے درمے اور سخنے مدد کرتے رہے۔ یہی وجہ تھی کہ وہ امریکہ کی آنکھوں میں کھٹکتے تھے اور کئی بار سامراج کے ایجنٹوں نے ان کو قتل کرنے کی کوششیں کی تھیںِ، ایک ایسی کوشش میں ان کی منہ بولی بیٹی ہلاک ہوئی تھی۔

    حال ہی میں بن غازی سے اٹھنے والی تحریک نے آخرکار ان کی 42 سالہ حکومت کا تختہ الٹ کر رکھ دیا۔ اب لیبیا کرنل قذافی کے ساے سے آزاد ہوگیا ہے اور اس کے ساتھ ہی مغربی ممالک کو جنونیت کے ساتھ فرانس، برطانیہ اور اٹلی کو لیبیا کے وسائل کو لوٹنے کا ایک نادر موقع حاصل ہوا ہے اور آئندہ بھی یہ لوٹ کھسوٹ کا سلسلہ جاری رہے گا۔ لیبیا میں بننے والی نئی حکومت مغرب نواز ہوگی اور اپنی تمام پالیسیوں کے سلسلے میں مغرب کی طرف دیکھے گی، رہ گئے لیبیا کے عوام، وہ برادر کرنل قذافی کو یاد کرتے رہیں گے۔

    بہ شکریہ روزنامہ جنگ
     
  8. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے بھارتی ہیلی کاپٹر کی واپسی

    بھارت کی وزارت دفاع کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ پاکستان نے اُس بھارتی فوجی ہیلی کاپٹر کو عملے کے تمام ارکان سمیت چھوڑ دیا ہے جسے پاکستانی حکام نے فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے پر لڑاکا طیاروں نے نیچے اتار لیا تھا۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر اور اس پر سوار چار فوجی افسران بحفاظت بھارتی علاقے میں واپس اتر گئے ہیں۔
    پاکستانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کرنے والے بھارتی ہیلی کاپٹر کی واپسی
     
  9. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    "ممانعت نکاح کے فتوے سابق حکومت کی باقیات اور شریعت کے منافی ہیں"

    مصر کے ایک سرکردہ مذہبی اسکالر اور اسلامک ریسرچ کونسل کے رکن ڈاکٹر عبداللہ النجار نے سابق صدر حسنی مبارک کے دور حکومت کی باقیات سے نکاح کی ممانعت کے حق میں دیے گئے فتاویٰ کو اسلامی شریعت اور کتاب وسنت کے منافی قرار دیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ نکاح اور شادی کی ممانعت کے بارے میں فتوے سابق حکمراں جماعت "نیشنل ڈیموکریٹک پارٹی"(این ڈی پی" کی منحوس باقیات میں سے ایک ہے، جس کی اسلام میں قطعا کوئی گنجائش نہیں۔

    "العربیہ" ٹی وی سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے النجار نے مذہب کو اپنے مخصوص مفادات کے لیے استعمال کرنے پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلامی تعلیمات کےخلاف جاری کیے گئے فتاویٰ کے پیچھے زیادہ تر ان لوگوں کا ہاتھ رہا ہے جو فرقہ بندی میں ایک دوسرے کومات دینے اور خود کو غالب ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

    مصری اسکالر کا کہنا تھا کہ نکاح کی ممانعت جیسے فتاویٰ سابق حکومت کی باقیات اور اس کے جرائم میں سے ایک جُرم ہے۔ اس طرح کے توہین آمیز فتوے دینے والوں کو بھی سزا ملنی چاہیے کیونکہ یہ لوگ دین میں افراط و تفریط کرتے رہے ہیں۔

    ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر النجار نے کہا کہ دین میں افراط و تفریط کا کوئی جواز نہیں لیکن سابق حکومت نے مذہب کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنے کا ارتکاب کر کے اسلامی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی کی ہے۔ آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے دین میں افراط و تفریط سے سخت منع فرمایا ہے۔ رہا نکاح کی ممانعت کے فتاویٰ کا مسئلہ تو میں اس کی اپنی جانب سے مذمت نہیں کرتا۔ اس طرح کے فتوے قرآن کی نص صریح کے خلاف اور متفق علیہ احادیث اور سنت نبوی کے عمل کے خلاف ہیں۔ کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نےخانگی زندگی اہمیت کے پیش نظرنکاح کو اپنی ایک سنت قرار دیا تھا۔

    ڈاکٹر النجار نے عدم نکاح کے بارے میں فتوے دینے والوں سے کہا کہ وہ خدا کا خوف کریں اور لوگوں کی غلط رہ نمائی نہ کریں ورنہ ان کی گمراہی کے وہ ذمہ دار ہوں گے۔

    خیال رہے کہ مصر کی سب سے بڑی مذہبی درسگاہ جامعہ الازھر سے وابستہ ایک عالم دین الشیخ عمر سطوحی نے حسنی مبارک حکومت کی باقیات سے نکاح کی ممانعت کا ایک فتویٰ دیا تھا، جس پر ملک مذہبی حلقوں اور اعتدال پسند طبقات میں بھی شدید ردعمل پایا جا رہا ہے۔عوامی سطح پر اس طرح کے فتاویٰ کو فرقہ واریت کو ہوا دینے کی ایک سازش قرار دیا جا رہا ہے۔

    ادھر دوسری جانب مذہبی رہ نماؤں اورسیاست دانوں نے واضح کیا ہے کہ کسی مسلمان خاتون کا مسلمان مرد سے نکاح کو حرام قرار دینے کا کوئی جواز نہیں۔ حتی کہ دونوں (مرد اور خاتون) میں اگر کوئی فساد فی الارض اور یا کسی بھی دوسرے جرم کا مرتکب ہوا ہو تب بھی دونوں کے درمیان نکاح کی کوئی ممانعت نہیں۔ شیخ سطوحی کے فتوے کی اس اعتبار سے کوئی حیثیت نہیں کیونکہ یہ اسلامی تعلیمات کے صریح خلاف ہے۔
     
  10. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    زرداری مرزا لڑائی: ’فہمیدہ مرزا ناقابل بھروسہ نکلیں‘

    صدر آصف زرداری سپیکر قومی اسمبلی ڈاکٹر فہمیدہ مرزا سے اس وجہ سے ناخوش ہیں کہ انہوں نے ان کے بھیجے گئے ایک پیغام رساں کو اپنے خاوند کے ہاتھوں مبینہ طور پر ’ذلیل‘ کرایا اور وہ باتیں بھی ذوالفقار مرزا کو بتا دیں جو کہ صدر زرداری کے خیال میں انہیں نہیں بتانی چاہیے تھیں اوریوں دونوں کے درمیان روز بروز تیز ہوتی لڑائی میں وہ ایوان صدر کا بھروسہ کھو بیٹھی ہیں۔
    زرداری مرزا لڑائی: ’فہمیدہ مرزا ناقابل بھروسہ نکلیں‘ | Top Story Online
     
  11. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    تویہ لوگ کیک کیوں نہیں کھاتے؟

    یہ واقعہ پڑھ کرمجھے فرانس کے بادشاہت کے دنوں کاایک واقعہ یادآگیاکہ فرانسیسی عوام غربت اوربےروزگاری کے خلاف محل کے باہرمظاہرہ کررہی تھی ایک فرانسیسی رانی نے اپنے کسی عہدے دارسے سوال کیاکہ یہ کیامانگ رہے ہیں توجواب ملاکہ یہ کہتے ہیں کہ انہیں کھانے کوروٹی نہیں ملتی ہے رانی نے جواب دیاکہ اچھاپھریہ لوگ کیک کیوں نہیں کھاتے۔
    آپ بھی ذرایہ واقعہ ملاحظہ کریں
    پاکستان کے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ایک بے روزگار باپ نے غُربت سے تنگ آکر پارلیمنٹ ہاٶس کے سامنے خودسوزی کرلی ہے اور اسے تشویشناک حالت میں پمز اسپتال داخل کرادیا گیا ہے۔

    خودسوزی کرنے والے نوجوان باپ کا نام راجہ خان ہے ،اس کی عمر پینتیس سال اور وہ دوبچوں کا باپ ہے۔اس کا تعلق صدر آصف علی زرداری کے آبائی صوبہ سندھ کے ضلع نوشیروفیروز ہے۔

    اسلام آباد پولیس کے ترجمان نعیم اقبال نے بتایا ہے کہ نوجوان نے پارلیمینٹ شکے سامنے سے گذرنے والی شاہراہ دستور پر پہلے خود پر تیل انڈیلا اور پھر آگ لگادی۔ وہاں ڈیوٹی پر موجود پولیس اہلکاروں نے اسے فوری طور پر پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) پہنچا دیا ہے۔

    پمز کے برن یونٹ کے ڈاکٹر فرخ کمال نے بتایا ہے کہ راجہ خان کی حالت تشویش ناک ہے اور اسے انتہائی نگہداشت میں رکھا جارہا ہے۔انھوں نے مزید بتایا کہ ''اس کا نوے فی صد جسم جھلس چکا ہے اور ہم اس کی زندگی بچانے کی کوشش کر رہے ہیں''۔

    پولیس ترجمان کے مطابق راجہ خان نے خود سوزی سے قبل ایک خط لکھا اوراسے اپنے کپڑوں کے ایک بیگ کے ساتھ رکھ دیا۔بیگ سے اس کا قومی شناختی کارڈ بھی برآمد ہواہے۔اس نے خط میں لکھا ہے کہ :''میں غُربت سے تنگ آچکا ہوں اور کوئی ملازمت اور رقم نہ ہونے کی وجہ سے خودکشی کررہا ہوں۔میں اپنی موت کا خود ذمے دارہوں کیونکہ میں اپنی مالی حالت سے مایوس ہوچکا ہوں''۔

    اس بے روزگار نوجوان نے مزید لکھا ہے کہ ''اگر میں خودسوزی کے نتیجے میری موت واقع ہو جاتی ہے تو میری تدفین اسلام آباد ہی میں کی جائے اور حکومت کو میرے بچوں کی کفالت کرنی چاہیے''۔پولیس کا کہنا ہے کہ ''یہ شخص پارلیمینٹ ہاٶس کے سامنے اچانک نمودار ہوا تھا جب اسے روکا گیا تو اس نے کہا کہ ''میں مرنا چاہتا ہوں۔ پھر اس نے مٹی کے تیل کی بوتل نکالی اور خود پر انڈیل کر آگ لگالی''۔

    واضح رہے کہ پاکستان میں آئے دن غُربت سے تنگ افراد خودکشیاں کرتے رہتے ہیں۔ گذشتہ ہفتے پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں ایک بے روزگارشخص نے اپنے دوبچوں کو قتل کرنے کے بعد خودکشی کرلی تھی لیکن پاکستان میں غربت کا شکار بے روزگار افراد کی خودکشیوں پر عوام یا حکومت کی جانب سے اس طرح کا ردعمل دیکھنے میں نہیں آیا جس طرح کا ردعمل دوسرے ممالک اور خاص طور پر عرب دنیا میں حالیہ مہینوں میں دیکھنے میں آیا ہے۔

    عرب ملک تیونس میں جنوری میں برپا ہونے والے انقلاب بہار کی شروعات ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ بے روزگار مگر پھل بیچنے والے نوجوان محمد بوعزیزی کی خودسوزی سے ہی ہوئی تھی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا اور تیونس کے تئیس سال سے صدرچلے آرہے زین العابدین بن علی اقتدار چھوڑ کر سعودی عرب بھاگ گئے تھے۔

    تیونس کے بعد مصر، لیبیا، یمن اور شام میں بھی عوامی احتجاجی تحریکیں برپا ہوئی ہیں جن کے نتیجے میں مصر میں صدرحسنی مبارک کو تیس سال کی حکمرانی کے بعد اقتدار چھوڑنا پڑا اور لیبیا کے صدر معمر قذافی کو اقتدار کے ساتھ جان سے بھی ہاتھ دھونا پڑے ہیں جبکہ شامی صدر بشارالاسد اور یمنی صدر علی عبداللہ صالح اپنی بقا کی جنگ لڑرہے ہیں لیکن ان کے خلاف ہر نئے دن کے ساتھ عوام کے مظاہروں میں شدت آتی جارہی ہے اور ان سے اقتدار چھوڑنے کے مطالبات زور پکڑتے جارہے ہیں۔
     
  12. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,399
    کمال ہے، زرداری صاحب کیا چاہتے ہیں کہ فہمیدہ مرزا راز و نیاز کی باتیں شوہر کے بجائے ان سے کریں!
     
  13. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,757
    یہ ہمارے صدر صاحب بہت کچھ چاہتے ہیں لیکن یہ سمجھ میں آج تک نہیں‌آیا کہ وہ اتنا کچھ چاہ کیسے لیتے ہیں
     
  14. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    پمز جعلی ادویات سکینڈل: کمپنیاں آزاد، مریض بے حال

    اسلام آباد کے بڑے ہسپتال پاکستان انسٹیویٹ میڈیکل سائنسز ( PIMS) میں پچھلے پانچ سالوں میں انسانی جان بچانے والی جعلی اور ناکارہ ادویات کی فراہمی میں ملوث سات کمپنیوں پر الزامات ثابت ہونے کے باوجود انہیں معمولی جرمانے یا ادویات کی رقم وصول کرکے چھوڑ دیا گیا اور کسی ایک کے خلاف بھی انسانی جانوں سے کھیلنے کی کوشش کرنے پر نہ تو کوئی مقدمہ درج کرایا گیا اور نہ ہی انہیں بلیک لسٹ کیا گیا۔
    پمز جعلی ادویات سکینڈل: کمپنیاں آزاد، مریض بے حال | Top Story Online
     
  15. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    ایران پر ہمہ نوع پابندیوں کے لیے امریکا میں بحث، اوباما متردد

    امریکا میں گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ایران پرعالمی اقتصادی پابندیوں کا دائرہ وسیع کرنے اور ہمہ نوع پابندیاں عائد کرنے پر کانگریس اورصدراوباما کی انتظامیہ میں بحث جاری ہے۔ تاہم صدر براک اوباما کی جانب سے ایران پرمزید اقتصادی پابندیوں کے نفاذ پرکھلی حمایت کے بجائے تذبذ کا اظہارکیا جا رہا ہے۔
    ایران پر ہمہ نوع پابندیوں کے لیے امریکا میں بحث، اوباما متردد
     
  16. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    چین کی پانچویں نسل کی قیادت ۔ شی جن پنگ

    نذیر لغاری



    سنہ 2012ء کے موسم خزاں میں پانچویں نسل کی سربراہی ملک کے موجودہ نائب صدر چینی کمیونسٹ پارٹی کے سیکریٹریٹ کے فرسٹ سیکریٹری‘ سینٹرل ملٹری کمیشن کے وائس چیئرمین اور چینی کمیونسٹ پارٹی کے پولٹ بیورو کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے رکن شی جن پنگ سنبھالیں گے۔ نائب صدر شی جن پنگ کے والد شی ژونگ شن منگولیائی سرحد سے منسلک صوبہ شان شی میں کمیونسٹ گوریلا تحریک کے بانیوں میں شامل تھے۔ ان کے والد چین کے نائب وزیراعظم کے منصب پر فائز رہنے کے علاوہ کمیونسٹ پارٹی کے پروپیگنڈے کے شعبے کے سربراہ رہے۔

    چین کے مستقبل کے رہنما اور پانچویں نسل کی قیادت کے سربراہ نائب صدر شی1971ء میں کمیونسٹ یوتھ لیگ میں شامل ہوئے اور 1974ء میں انہوں نے چینی کمیونسٹ پارٹی کی رکنیت حاصل کی۔ انہوں نے 1975ء سے 1979ء تک بیجنگ کی ایک یونیورسٹی میں کیمیکل انجینئرنگ کی تعلیم حاصل کی۔ 1979ء میں انہوں نے اپنے والد کے ایک معاون‘ چین کے سابق وزیر اعظم اور سینٹرل ملٹری کمیشن کے سابق سیکریٹری جنرل جینگ بیاؤ کی ماتحتی میں کام کیا۔ نائب صدر شی نے چین کے چار مختلف صوبوں میں مختلف حیثیتوں میں خدمات انجام دیں۔ وہ صوبہ فوجیان کے ڈپٹی گورنر رہے۔ یہ صوبہ چین کے انتہائی جنوب میں تائیوان کے قریب واقع ہے۔ فوجیان میں ان کے قیام کے دوران چین اور تائیوان کے مابین تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔

    انہوں نے تائیوان کے سرمایہ کاروں کو فوجیان میں سرمایہ کاری کے لئے پرکشش ترغیبات دیں۔ 2000ء میں انہیں یوآن ہوا اسکینڈل کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالنے کے لئے پولٹ بیورو کی اسٹینڈنگ کمیٹی کے اعلیٰ ترین چار منصب داروں کے روبرو پیش ہونے کے لئے کہا گیا۔ اس اسکینڈل کا مرکزی کردار شیامن کے خصوصی اقتصادی زون دمیں یوآن ہوا گروپ کا بانی لئی چانگ شینگ تھا۔ کمیونسٹ معیشت میں سرمایہ داری کا تڑکا لگانے والے اس کردار نے چین کو ڈبلیو ٹی او میں لانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ وہ کاروں اور سگریٹوں کی درآمد کا دھندا کرتا تھا۔

    ایک وقت ایسا بھی آیا جب وہ چین کی مجموعی درآمدات کا چھٹا حصہ خود درآمد کرتا تھا۔ 1990ء کے عشرے کے آخری ایام میں وہ اسمگلنگ کے دھندے اور کرپشن میں ملوث پایا گیا۔ وہ چین سے بھاگ کر کینیڈا چلا گیا۔ پھر اسے چین کا انتہائی مطلوب شخص قرار دیا گیا۔ چین لئی چانگ شینگ کو وطن واپس لانے کیلئے ہر طرح کے جتن کرتا رہا۔ بالآخر چین کو تین ماہ قبل 22 جولائی 2011ء کو لئی چانگ شینگ کو وطن واپس لانے میں اس وقت کامیابی حاصل ہوئی جب کینیڈا نے اسے اس کے ملک کے حوالے کرنے کی خاطر ونکوور سے چین کی جانب بھجوا دیا۔

    2002ء میں صدر ہوجن تاؤ نے چین کی چوتھی نسل کی قیادت سنبھالی۔ اسی سال شی جن پنگ نے صوبہ ژی جیانگ میں کمیونسٹ پارٹی اور حکومت میں اہم ذمہ داریاں سنبھالیں۔ پہلے وہ اس صوبے کے قائم مقام گورنر رہے۔ بعد ازاں انہوں نے اس صوبہ میں کمیونسٹ پارٹی کے سربراہ کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ صوبہ ژی جیانگ کی سرحدیں صوبہ فوجیان سے ملتی ہیں۔ یہ دونوں صوبے چین کے جنوب میں واقع ہیں۔ ان دونوں صوبوں نے چینی قیادت کی چوتھی نسل کے دور میں بے مثال ترقی کی۔ صوبہ ژی جیانگ میں پارٹی سربراہی کے ایام میں ہی انہیں چینی کمیونسٹ پارٹی کی 16ویں سینٹرل کمیٹی کا متبادل رکن مقرر کیا گیا۔ اس دوران صوبہ ژی جیانگ میں ترقی کی شرح نمو 14 فیصد سے آگے بڑھ گئی اور اس صوبے نے اقتصادی ترقی کے اعتبار سے چین کے کامیاب ترین صوبے کا درجہ حاصل کر لیا۔

    چینی عوام کی بے مثال جدوجہد‘ مستقل مزاجی‘ انقلابی حرکت پذیری اور انتھک محنت کے بارے میں دنیا میں بہت کچھ لکھا جاتا رہا۔ اس ضمن میں امریکہ‘ برطانیہ‘ آسٹریلیا اور دیگر ممالک میں اہم مطبوعات شائع ہوئیں۔ اس ضمن میں دلچسپ امر یہ ہے کہ یونیورسٹی آف برٹش کولمبیا کینیڈا میں 8 مارچ2009ء کو ایک ورکشاپ منعقد ہوئی۔ اس ورکشاپ میں آسٹریلیا کی یونیورسٹی آف سڈنی کے مطالعہ چین کے شعبے کے پروفیسر بونی ایس مگڈوگل نے ترجمہ اور حاکمیت کے عنوان سے طویل مقالہ پیش کیا۔ اس مقالے کے ایک اہم حوالے پاکستان کے نامور صحافی اور دانشور رشید بٹ کی کتابوں اور مضامین سے لئے گئے۔ مزید برآں ہالینڈ اور امریکہ میں بریل اکیڈمک پبلشر کی طرف سے ”علوم کے ترجمے“ کے عنوان سے ڈیوڈ رائٹ کی 584 صفحات کی کتاب شائع ہوئی اس کتاب میں بھی جگہ جگہ رشید بٹ کی کتاب” چین میں قیام“ اور ایک طویل مضمون ”چین میں میرے ایام“ سے حوالے لئے گئے ہیں۔

    اس ضمن میں2005ء میں امریکی ریاست مسی سیپی کی یونیورسٹی میں تحقیق کی عالمی اکیڈمی کے لئے ڈان لینڈلیس نے ایک تحقیقی مقالہ لکھا بعد ازاں یہ مقالہ برطانیہ میں شائع ہوا۔ اس مقالے میں بھی رشید بٹ کے نام کے حوالے موجود ہیں۔ پاکستان کے دانشور صحافی رشید بٹ نے چینی ادب‘ سیاست‘ تاریخ اور انقلاب کے مختلف ادوار پر گہرا مطالعہ کیا اور انہوں نے اردو داں طبقے کو چین کے بارے میں لکھی گئی درجنوں کتابوں سے روشناس کرایا۔چین کی پانچویں نسل کی قیادت کے بارے میں جاننے کے لئے ضروری ہے کہ ہم چین کی پہلی‘ دوسری‘ تیسری اور چوتھی نسل کی قیادت کے بارے میں آگاہی حاصل کریں اور چین کی اولین چار نسلوں کی قیادت کے بارے میں ہمیں زیادہ سے زیادہ آگاہی کیلئے مذکورہ پاکستانی صحافیوں کے کام سے آگاہی ضروری ہے۔

    بہ شکریہ روزنامہ جنگ
     
  17. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    حامد کرزئی کا انٹرویو اور اس کا ردعمل

    سلیم صافی

    گذشتہ جمعہ کو کابل میں ریکارڈ اور ہفتہ کو جیو نیوز پر نشر ہونے والے میرے ساتھ انٹرویو میں افغان صدر حامد کرزئی صاحب نے جو کچھ فرمایا وہ ان کا کوئی جذباتی نہیں بلکہ سوچا سمجھا بیان تھا ۔ میں نے اس پورے انٹرویو سے یہ تاثر لیا کہ اس انٹرویو کے ذریعے انہوں نے شعوری طور پر پاکستان اور امریکہ کو پرزور انداز میں الگ الگ پیغام دینے کی کوشش کی۔اس انٹرویو میں انہوں نے افغان بحران اور پاکستان سے متعلق اپنی سوچ،ذہنی کیفیت اور اپروچ کو پوری قوت کے ساتھ واضح انداز میں بیان کیا۔ ان کا لہجہ مفاہمانہ اور التجایانہ ضرور تھا لیکن پاکستان کے خلاف اپنے کیس کو انہوں نے پوری قوت کے ساتھ پیش کیا۔ انہوں نے پاکستان کو اس کی پالیسی کے برے نتائج سے بھی نہایت خوبصورت طریقے سے متنبہ کیا۔ ماضی میں وہ پاکستان کے خلاف افغان سرزمین کے استعمال کو عموما رد کرتے رہے لیکن اب کے بار انہوں نے کھل کر یہ حقیقت تسلیم کی اور یہ پیغام بھی دیا کہ اگر پاکستان اور افغانستان کے تعلقات کشیدہ رہیں گے اور پاکستانی سرزمین افغانستان کے خلاف استعمال ہوگی تو افغان سرزمین بھی پاکستان کے خلاف استعمال ہوتی رہے گی۔ اپنا کیس پیش کرنے کے بعد انہوں نے افغانستان سے متعلق پاکستان کے خدشات کو رفع کرنے کی موثر انداز میں کوشش کی اور میرے نزدیک امریکہ اور ہندوستان کے ساتھ جنگ کی صورت میں پاکستان کے ساتھ کھڑا رہنے کے بیان کے ذریعے انہوں نے یہ پیغام دیا ہے کہ اگر پاکستان ان کی مرضی کے مطابق تعاون کرلے تو افغانستان اس کے ساتھ ہر حد تک جانے اور کسی بھی قوت کی ناراضگی مول لینے کو تیار ہے۔

    حامد کرزئی صاحب کے اس انٹرویو نے پوری دنیا میں ہلچل مچادی ہے ۔ واشنگٹن پوسٹ ہو کہ نیویارک ٹائم، گارڈین ہو کہ ہندوستان ٹائمز ، ہر جگہ یہ انٹرویو شہہ سرخیوں کی ساتھ شائع ہوا۔ بھارتی اور امریکی میڈیا میں حامد کرزئی پر لعن طعن کا سلسلہ زور پکڑ گیا ہے ۔ جب سے یہ انٹرویو نشر ہوا ہے ، افغان میڈیا میں صرف اسی کا تذکرہ زوروں پرہے ۔ افغان پارلیمنٹ میں اسی ہی کا غلغلہ ہے ۔افغانستان کے اندر حامد کرزئی کو ایک بار پھر پاکستانی ایجنٹ اور ذہنی توازن کی خرابی کے طعنے دئے جانے لگے ہیں۔ افغان میڈیا کے پاکستان مخالف عناصرجیو ٹی وی اور خود اس طالب علم پر بھی تبرابھیج رہے ہیں۔ انٹرنیٹ پر بعض افغان دوست اس انٹرویو کو حسب روایت گہری سازش سے تعبیرکرنے لگے ہیں لیکن تماشہ یہ ہے کہ پاکستان کے اندر بھی پاکستان کے بعض ٹھیکیداروں کو امریکہ کے خلاف حامد کرزئی کا یہ بیان ناگوار گزرا ہے ۔ حامد کرزئی امریکہ کے قریب تھے تو انہیں بھی عزیز تھے لیکن وہ امریکہ مخالف بنتے یا اس کی مرضی کے بغیر پاکستان کے قریب آنے کی کوشش کرتے ہیں تو وہ انہیں گالیاں دینے لگ جاتے ہیں ۔ پاکستانیت کے نام پر افغانوں اور پختونوں کو گالیاں دینے والے ان پراسرار لوگوں کے اسی روش کی وجہ سے آج افغانستان کے عام شہریوں (سب سے زیادہ پختونوں میں) پاکستان مخالف جذبات عروج پر ہیں اور یہی وجہ ہے کہ وہاں برہان الدین ربانی حکمران بنتے ہیں، صبغت اللہ مجددی یا پھر حامد کرزئی وہ قریب آنے کی کوشش کے باوجود پاکستان کے قریب نہیں آسکتے اور پاکستان کے سپورٹ سے حکمران بننے والے افغان حکمران عموما پاکستان مخالف بن جاتے ہیں۔

    نہ جانے ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ افغانستان میں امریکہ گذشتہ دس سال سے قابض ہوگیا ہے لیکن پاکستان گذشتہ ساٹھ سالوں سے امریکیوں کی چراگاہ ہے۔ ہر کوئی جانتا ہے کہ یہاں موجودہ سیاسی سیٹ اپ کی بساط امریکہ نے بچھائی ہوئی ہے اورامریکہ کے حکم پر ہی پرویز مشرف اور بے نظیر بھٹو کی ڈیل ہوئی تھی جبکہ دوسری طرف ہر کوئی جانتا ہے کہ گذشتہ صدارتی انتخابات میں امریکہ نے عبداللہ عبداللہ کو جتوانے اور حامد کرزئی کو ہروانے کے لئے پورا زور لگا رکھا تھا لیکن جو بھی حربے استعمال کئے، حامد کرزئی نے بہ ہر حال اپنے آپ کو امریکہ کی مرضی کے خلاف افغانستان کا صدر بنوادیا ۔ اب جب امریکہ کی یہ تابعدارپاکستانی حکومت امریکہ کے ساتھ جنگ کی مصنوعی فضا بنالیتی ہے تو ہم اسے تو ڈرامہ قرار نہیں دیتے لیکن جب افغان حکومت مستقبل کے حوالے سے ایسا کرنے کا عزم ظاہر کرتی ہے تو ہم اسے ڈرامہ بازی کا نام دے دیتے ہیں ۔ آخر بے شرمی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ۔ پاکستان میں افغانستان کے سابق سفیر اور گلبدین حکمتیار کے دامادڈاکٹر غیرت بھیر کو اسلام آباد سے گرفتار کرکے ہم نے امریکہ کے حوالے کیا لیکن حامد کرزئی شروع دن سے ان کی رہائی کے لئے کوشش کرتے رہے(تصدیق خود ڈاکٹر غیرت بھیر سے کی جاسکتی ہے) ۔

    امریکیوں کی قید سے رہائی کے بعد حامد کرزئی نے انہیں دو ہفتے تک اپنے پاس صدارتی محل میں سرکاری مہمان بنائے رکھا۔ انہیں بڑے بڑے مناصب کی پیش کش کی اور جب انہوں نے پاکستان آنے پر اصرار کیا تو اپنے خصوصی جہاز میں انہیں پاکستان روانہ کیا۔ اسی طرح طالبان کے سابق سفیر عبدالسلام ضعیف کو ہم نے بے شرمی سے امریکہ کے حوالے کیا لیکن آج انہیں حامد کرزئی نے عزت و احترام کے ساتھ کابل میں بٹھائے رکھا ہے ۔ آج بھی افغانستان میں امریکہ جو اسلحہ استعمال کررہا ہے ، اس کا اسی فیصد سے زیادہ پاکستان کے راستے وہاں جارہا ہے اور ہم اس خدمت کا صلہ ڈالروں کی شکل میں بھیک کی طرح وصول کررہے ہیں لیکن تماشہ یہ ہے کہ اس سب کچھ کے باوجود ہم نہ صرف آزاد و خودمختار ملک ہیں بلکہ جب چاہیں امریکہ کے ساتھ جنگ کے مصنوعی ڈرامے بھی رچا دیں لیکن ہم اٹھ کر افغان حکومت کو امریکی پٹھو ہونے کے طعنے دیتے رہتے ہیں ۔ امریکہ پچھلے چھ سالوں سے پاکستان پر حملے کررہا ہے ۔جہاں اس کا جی چاہتا ہے ، ڈرون مار دیتا ہے ۔ کسی میں ہمت ہوتی تو جواب دے دیتا لیکن پھر بھی ہم نہیں صرف افغان ڈرامہ باز ہیں۔

    افغان صدر حامد کرزئی نے یہ نہیں کہا کہ اگر امریکہ یا ہندوستان کے ساتھ جنگ ہوئی تو وہ خودصدارتی محل سے نکل کر ان کے خلاف لڑیں گے ، انہوں نے افغانستان کی بات کی ہے کہ جنگ کی صورت میں افغانستان ، پاکستان کا ساتھ دے گااور ایک پاکستانی کی حیثیت سے میرا بھی یہ عقیدہ ہے کہ امریکہ یا ہندوستان کے ساتھ جنگ کی صورت میں افغان عوام پاکستان ہی کا ساتھ دیں گے ۔ ہم یہ کیوں بھول جاتے ہیں کہ صرف حامد کرزئی نہیں بلکہ ملا محمد عمر بھی افغانستان کا حصہ ہیں اور گلبدین حکمتیار بھی۔ جب افغانستان کی بات کی جاتی ہے تو اس میں سب افغانی شمار ہوتے ہیں ۔1965ء اور 1971ء کی پاک بھارت جنگوں کے دوران افغانستان اور پاکستان کے تعلقات موجودہ دور کے مقابلے میں کئی گنا زیادہ خراب تھے لیکن افغانستان نے اس وقت بھی ہندوستان کا ساتھ دینے سے گریز کیا۔ استعمار دشمنی اور ہندو سے نفرت افغانوں کے خون میں رچی بسی ہے ۔ وہ اگر امریکہ سے ٹھکرانے کی بات کرتے ہیں تو انہیں زیب دیتا ہے کیوں کہ وہ ماضی میں انگریز سے بھی ٹھکرائے ہیں ، سوویت یونین کو بھی سبق سکھاچکے ہیں اور آج امریکہ کو بھی سکھا رہے ہیں۔ اس کے برعکس ہمارا حکمران طبقہ ہمیشہ سے انگریز اور امریکہ کا غلام رہا ہے۔

    اب ہمارے ہاں امریکہ کو للکارنے کا نمائشی عمل ،جوحقیقت میں ڈرامہ بازی ہوتی ہے تو قابل ستائش ہے لیکن افغانوں کی دھمکی کو ڈرامہ قرار دیا جاتا ہے ۔ ہندوستان نے ہمارا ملک تڑوایا ہے ۔ ہمارے کشمیر پر وہ گذشتہ ساٹھ سالوں سے قابض ہے۔ ہم نے کشمیر کی آزادی اور ہندوستان دشمنی کے نام پر عوام کے جذبات سے کھیلنے والے ان مداریوں کو کبھی بھی اپنے کشمیر کی آزادی کے لئے بندوق اٹھاتے اور ہندوستان پر حملہ آور ہوتے نہیں دیکھا جبکہ ملا محمد عمر اور حامد کرزئی کے آباؤ اجداد کی ہندووں کو شکست دے کر لمبے عرصے تک ان پر حکومت کرتے رہے ۔ وہ کئی بار ہندوستان کو شکست دے چکے ہیں لیکن ہندوستان کبھی بھی ان کو زیر نہیں کرسکا ۔ اب جب ہمارے ڈرامہ باز ہندوستان کو للکارتے ہیں تو اسے ڈرامہ نہیں گردانا جاتا لیکن اگر کوئی افغان ہندوستان کے ساتھ جنگ کی صورت میں پاکستان کا ساتھ دینے کی بات کرے تو ہم اسے ڈرامہ قرار دیتے ہیں ۔ آخر بے شرمی اور ڈھٹائی کی بھی کوئی حد ہوتی ہے ۔ نہ جانے ہم کیوں افغانستان کا ذکر کرتے ہوئے سفارتی صحافتی اور بین الاقوامی آداب کو بھول جاتے ہیں ۔ملا محمد عمر ہوں، گلبدین حکمتیار ہوں یا پھر حامد کرزئی ، وہ افغانوں کے لیڈر ہیں ۔ ایک الگ اور پڑوسی ملک ہونے کے ناطے ان کے لیڈروں کا احترام ہم پر فرض ہے ۔ افغانستان کے حکمران اگر امریکہ کے زیراثر ہیں تو کبھی کبھار ان کو آنکھیں بھی دکھادیتے ہیں لیکن عرب حکمران تو دائمی طور پر امریکہ کے تابعدار ہیں۔

    افغانی تو روٹی اور سیکورٹی ، غرض ہر چیز کے لئے ان دنوں امریکہ کے محتاج ہیں لیکن عرب حکمرانوں کے پاس تو دولت بھی بہت ہے ۔ ان کے ہاں صرف ہمت اور جرات کی کمی ہے ورنہ تو امریکہ ان کا محتاج ہوتا ۔ افغانوں کے معاملے میں شیر بننے والے یہ حضرات کبھی ایک دن کے لئے عرب حکمرانوں کو اس لہجے میں یاد کرکے تودکھادیں ۔ سچ تو یہ ہے کہ وہ امریکہ کے غلاموں کے غلام ہیں لیکن چونکہ وہ پاکستان کے مامے اور چاچے بنے ہوئے ہیں، اس لئے دوسروں کو طعنہ دینے سے قبل اپنے گریبان میں نہیں جھانکتے۔حالانکہ ان حالات میں افغانستان کو پاکستان سے دور کروانا یا پھر افغانستان کے اندر پختون اور تاجک کی تقسیم کو ابھارنا امریکہ کی خدمت ہے نہ کہ پاکستان کی ۔خطے میں امریکی عزائم کو ناکام بنانے کا واحد راستہ یہ ہے کہ افغانستان کو متحد ہواور ہر افغانی کے دل میں پاکستان کی قدر ہو۔ افغانوں (وہ طالب ہو، ترقی پسند ، ازبک ہو، تاجک ہو، ہزارہ ہو یا پختون) کولڑوانے میں نہیں بلکہ ایک ساتھ بٹھانے میں ہماری خیر ہے۔

    پاکستان بڑا اور افغانستان چھوٹا بھائی ہے اور بڑا بھائی ہونے کے ناطے اسے افغان قیادت کی بعض غلطیوں سے صرف نظر بھی کرنا ہوگا نہ کہ ان کے جذبہ خیرسگالی کا جواب گالی سے دیا جائے۔حسد کی بیماری انسانیت کے لئے زہرقاتل ہے تبھی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب کا اختتام اس بیماری سے بچنے کی تلقین کے ساتھ کیا ہے ۔ میں حاسدوں کو یوں بھی جواب نہیں دیتا کیونکہ حضورﷺ کے فرمان کے مطابق حاسد کے لئے یہ سزا کافی ہوتی ہے کہ وہ حسد کی آگ میں جلتا رہتا ہے لیکن جیو ٹی وی یا پھر میرے حسد میں اگر افغانوں اور پختونوں کا مذاق اڑانے سے گریز کیا جائے تو بہتر ہوگا۔ میری والدہ نے میری تربیت ایسی کی ہے کہ میں گالی کا جواب گالی سے نہیں دے سکتا ۔ میں اپنی قومیت پر فخر لیکن دوسروں کی قومیت کی قدر کرتا ہوں لیکن رگوں میں چونکہ قبائلی اور پختون خون دوڑ رہا ہے ، اس لئے اپنی قومیت کو دی جانے والی گالی سے دکھی بھی ہوجاتا ہوں۔ میری قومیت کو کوئی گالی سے نوازے تو اس سے مجھے اتنی تکلیف بہ ہر حال ضرور پہنچتی ہے جتنی کہ کسی حاسد کو اپنے کسی ہم پیشہ کی عزت اور شہرت سے پہنچتی ہے۔

    بہ شکریہ روزنامہ جنگ
     
  18. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    ایران پاکستان گیس پائپ لائن: چین، روس پیسہ لگانے پر تیار

    ڈالروں کی تلاش میں سرگرداں حکومت پاکستان کو چینی، روسی اور مشرق وسطی کے مختلف سرمایہ کاروں نے پیشکش کی ہے کہ وہ پاکستان ایران گیس پراجیکٹ کے لیے پیسہ لگانے کو تیار ہیں اور اب فیصلہ حکومت نے کرنا ہے کہ پیسہ کس سے لیا جائے۔
    ایران پاکستان گیس پائپ لائن: چین، روس پیسہ لگانے پر تیار | Top Story Online
     
  19. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    چئیرمین واپڈا کو ماہانہ دو ہزار یونٹس بجلی فری!

    ایک ایسے وقت جب پاکستان میں ہر ماہ بجلی کی قیمیتں مسلسل بڑھ رہی ہیں اور عام آدمی کے لیے بجلی کے بل ادا کرنا مشکل سے مشکل ہوتا جا رہا ہے ایسے میں چئرمین واپڈا کو یہ سہولت دی گئی ہے کہ وہ ہرماہ دوہزار یونٹ تک کی بجلی کھل کر استعمال کرسکتے ہیں اور ان سے کوئی بل نہیں لیا جائے گا۔
    چئیرمین واپڈا کو ماہانہ دو ہزار یونٹس بجلی فری! | Top Story Online
     
  20. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    دوگززمیں بھی نہ ملی کوئے یارمیں

    لیبیا کے مقتول لیڈر کرنل معمر قذافی، ان کے فرزند معتصم قذافی اور سابق وزیر دفاع ابوبکر یونس کو صحراء میں نہایت راز داری کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا ہے۔

    تدفین کے تمام مراحل خفیہ رکھنے کے باعث ان کی تجہیز وتکفین کے بارے میں کوئی زیادہ تفصیلات سامنے نہیں آ سکیں۔ تاہم لیبیا کےبعض ٹی وی چینلز اور انٹرنیٹ ویب سائٹس نے اپنی رپورٹس میں بتایا ہے کہ معمر قذافی، معتصم قذافی اور سابق وزیر دفاع کی نماز جنازہ میں 10 سے بھی کم افراد شریک تھے اور وہ بھی سب کے سب لمبی مدت کی سزا کاٹنے والے قیدی تھے۔

    لیبیائی ٹی وی چینلز پر نشر رپورٹس کے مطابق تینوں سابق عہدیداروں کی میتوں کو سبزی منڈی کے ایک نجی کولڈ اسٹوریج میں رکھا گیا تھا۔ سب سے پہلے کرنل معمر قذافی کی میت کوغسل دیا گیا، جس کے ابوبکر یونس اور اس کے بعد معتصم باللہ قذافی کی میت کو غسل دیا گیا۔ غسل کے بعد تینوں میتوں کو کفن دیا گیا اور ان پر خوشبو چھڑکی گئی۔

    سیکیورٹی کےانتظامات، قرآن پرحلف

    "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق کرنل قذافی اور ان کے مقتول ساتھیوں کی تدفین کے موقع پر سیکیورٹی کےسخت ترین انتظامات کیے گئے تھے۔ مصراتۃ سے صحراء کی جانب میتوں کے ساتھ 10 کے قریب قیدیوں کو بھی لے جایا گیا۔ راستے میں ان کی آنکھوں پر سیاہ پٹیاں باندھی گئی تھیں تاکہ وہ مقام تدفین کی شناخت نہ کر پائیں۔ کوئی دو گھنٹے کی مسافت کے بعد صحراء کے ایک ویران علاقے میں رات کی تاریکی میں ان کی نماز جنازہ ادا کرنے کے بعد وہاں پر کھودی گئی قبروں میں انہیں دفن کر دیا گیا۔

    دبئی کے ایک عربی ٹی وی "الآن" نے میتوں کی تدفین کے موقع پر موجود ایک سیکیورٹی اہلکار کے حوالے سے بتایا ہے کہ قذافی اس کے بیٹے اور دوسرے ساتھی کی تدفین کے موقع پر قیدیوں کے علاوہ سیکیورٹی اہلکار ہمراہ تھے۔ تاہم سیکیورٹی اہلکار صرف حفاظتی امور انجام دیتے رہے۔انہوں نے نماز جنازہ میں شرکت نہیں کی۔

    سیکیورٹی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ تینوں میتوں کو اسلامی طریقے کے مطابق تجہیز وتکفین کے بعد سپرد خاک کیا گیا۔ نمازجنازہ بھی کرنل قذافی ہی کے ایک قریبی عالم دین شیخ خالد تنوش نے پڑھائی۔ شیخ خالد تنوش بھی قیدیوں ہی میں شامل تھے اور کرنل قذافی کی حمایت کرنے پر وہ "شیخ القذافی" کے لقب مشہور رہے ہیں۔

    سیکیورٹی پر مامور اہلکار نے عرب ٹی وی کو بتایا کہ کرنل قذافی کی نماز جنازہ میں شریک کرائے گئے قیدیوں میں دو مقتول کرنل کے خالہ زاد بھائی حنیش اور الشیخ منصور ضو، ایک قذافی کا سابق ڈرائیور اور چند دیگر افراد شامل تھے۔

    الجزائری اخبار"الشروق" نے بھی ذرائع کے حوالے سے کرنل معمر قذافی کی نماز جنازہ کے شرکاء کے بارے میں بتایا ہے کہ ان کی کل تعداد دس سے کم تھی۔ ان میں زیادہ کرنل قذافی کے مقرب یا عزیز تھے اور انہیں مصراتۃ کی جیلوں سے نماز جنازہ میں شرکت کے لیے لے جایا گیاتھا۔

    "الشروق" کے مطابق نماز جنازہ اور تدفین کے انتظامات گذشتہ پیر اور منگل کی درمیانی شب مکمل کرلیے گئے تھےتاہم نماز جنازہ منگل کو نمازفجر سے کچھ پہلے ادا کرکے انہیں اندھیرے ہی میں سپرد خاک کیا گیا۔

    اخبار نے عسکری ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ قذافی کی نمازجنازہ میں ان کے مقرب خاص اوران کے ترجمان موسیٰ ابراہیم کو بھی لایا گیا تھا۔ تدفین سے قبل تینوں کی قبروں میں بدبوکُش کیمیائی مادہ بھی ڈالا گیا تاکہ ممکنہ طورپر قبروں سے نکلنے والی بدبوکتوں یا دیگر جانوروں کو روکا جاسکے۔

    ذرائع کے مطابق اگرچہ تدفین کے موقع پرسخت ترین حفاظتی انتطامات کے ساتھ ساتھ یہ بات بھی یقینی بنائی گئی تھی کہ تدفین میں شریک افراد میں سے کسی کو قبروں کے اصل مقام کا اندازہ نہ ہوسکے۔ اس کے باوجود تمام افراد سے قرآن پر یہ حلف بھی لیا گیا کہ وہ کرنل قذافی، ان کے بیٹے معتصم قذافی اور ابوبکر یونس کی قبروں کی نشاندہی نہیں کریں گے۔

    خیال رہےکہ کرنل قذافی 20 اکتوبر کو اپنے آبائی شہرسرت سے فرار کے دوران باغیوں کے ساتھ لڑائی میں مارے گئے تھے۔ باغیوں نے ان کے ایک بیٹے معتصم باللہ قذافی کو زخمی حالت میں گرفتار کیا تھا، جسے بعد ازاں گولیاں مار کرقتل کر دیا گیا۔ قذافی کے ساتھ مرنے والوں میں ان کے وزیر دفاع وآرمی چیف میجر جنرل ابوبکر یونس بھی شامل تھے۔ ان کی میتیں کئی روز تک ایک گولڈ سٹوریچ میں رکھی گئی تھیں جنہیں بعد ازاں منگل کو رات گئے ایک نامعلوم مقام پر دفن کر دیا گیا۔
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں