اقتباسات "راز حیات" از مولانا وحیدالدین خاں

marhaba نے 'مطالعہ' میں ‏اکتوبر، 11, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    محترم ومکرم اراکین اردو مجلس
    السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ

    امید کہ آپ حضرات بخیر و بعافیت ہوں۔

    عرض یہ کہ میں کتاب "راز حیات از مولانا وحیدالدین خاں" سے مفید اور کام آنے والی عملی زندگی سے متعلق اقتباسات پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔ امید کہ آپ حضرات استفادہ کریں گے۔۔۔۔۔​

    تو لیجئے یہ پہلا اقتباس​



    ۔۔۔۔بامقصد زندگی گزارنے والا آدمی ایک ایسے مسافر کی طرح ہوتا ہےجو اپنا ایک ایک لمحہ اپنی منزل کی طرف بڑھنے میں لگا دیتا ہے۔دنیا کے خوش نما مناظر ایسے مسافر کےلبھانے کے لئے سامنے آتے ہیں،مگر وہ ان سے آنکھیں بند کر لیتا ہے۔سائے اور اقامت گاہیں اس کو ٹھرنے اور آرام کرنے کی ترغیب دیتی ہیں مگر وہ ان کو چھوڑتا ہوا اپنی منزل کی طرف بڑھتا رہتا ہے۔ دوسری دوسری چیزوں کے تقاضے اس کا راستہ روکتے ہیں مگر وہ ہر ایک سے دامن بچاتا ہوا بڑھتا چلاجاتا ہے۔ زندگی کے نشیب و فراز اس سے ٹکراتے ہیں مگر اس کے باوجود اس کے عزم اور اس کی رفتار میں کوئی فرق نہیں آتا۔


    راز حیات:مولانا وحیدالدین خاں ص11
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر، 11, 2011
  2. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    ۔۔۔۔۔۔زندگی کو بامعنی بنانے کے لئے ضروری ہے کہ آدمی کے سامنے ایک سوچا ہوا نشانہ ہو۔جس کی صداقت پر اس کا ذہن مطمئن ہو۔جس کے سلسلے میں اس کا ضمیر پوری طرح اس کا ساتھ دے رہا ہو،جو اس کی رگ و پے میں خون کی طرح اترا ہوا ہو۔یہی مقصدی نشانہ کسی انسان کو جانوروں سے الگ کرتا ہے۔ اگر یہ نہ ہو تو انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں۔ اور جس آدمی کے اندر مقصدیت آجائے اس کی زندگی لازما ایک اور زندگی بن جائے گی۔ وہ چھوٹی چھوٹی غیر متعلق باتوں میں الجھنے کے بجائے اپنی منزل پر نظر رکھے گا ۔وہ یک سوئی کے ساتھ اپنے مقررہ نشانے پر چلتا رہےگا یہاں تک کہ منزل پر پہچ جائے۔

    رازحیات:مولانا وحیدالدین خاں ص11
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر، 11, 2011
  3. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    ۔۔۔۔۔ آج ہماری قوم نے مقصد کا شعور کھو دیا ہے۔وہ ایک بے مقصد گروہ ہو کر رہ گئے ہیں۔ان کے سامنے نہ دنیا کی تعمیر کا نشانہ ہے اور نہ آخرت کی تعمیر کا نشانہ۔ یہی ان کی اصل کمزوری ہے۔اگر لوگوں میں دوبارہ مقصد کا شعور زندہ کردیا جائے تو دوبارہ وہ ایک جاندار قوم نظر آئیں گے۔ وہ دوبارہ ایک باکردار گروہ بن جائیں گے جس طرح وہ اس سے پہلے ایک باکردار گروہ بنے ہوئے تھے۔
    قوم کے افراد کے اندر مقصد کا شعور پیدا کرنا ان کے اندر سب کچھ پیدا کرنا ہے۔ مقصد آدمی کی چھپی ہوئی قوتوں کو جگاتا دیتا ہے،وہ اس کو نیا انسان بنا دیتا ہے۔

    رازحیات:مولانا وحیدالدین خاں ص14
     
  4. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    ۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بڑا فکری کام وہی شخص کر پاتا ہے جو اپنے سارے جسم کا خون اپنے دماغ میں سمیٹ دے۔۔۔
    بیشتر لوگوں کا حال یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی قوت کو تقسیم کئے ہوئے ہوتے ہیں۔وہ اپنے آپ کو ایک مرکز پر یکسو نہیں کرتے اسی لئے وہ ادھوری زندگی گزار کر اس دنیا سے چلے جاتے ہیں۔ہر کام آدمی سے اس کی پوری قوت مانگتا ہے۔وہی شخص بڑی کایابی حاصل کرتا ہے جو اپنی پوری قوت کو ایک کام میں لگا دے۔


    رازحیات:مولانا وحیدالدین خاں ص15
     
  5. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    یاد رکھئے، ہمارا سب سے پہلا کام یہ ہے کہ ہم ایک با مقصد قوم تیار کریں۔ہمیں قوم کے افراد کو وہ تعلیم دینا ہے جس سے وہ ماضی اور حال کو پہچانیں ۔ان کے اندر وہ شعور بیدار کرنا ہے کہ وہ اختلاف کے باوجود متحد ہونا جانیں۔ان کے اندر وہ حوصلہ ابھارنا ہے کہ وہ شخصی مفاد اور وقتی جذبات سے اوپر اٹھ کر قربانی دے سکیں۔یہ سارے کام جب قابل لحاظ حد تک ہو چکے ہوں گے اس کے بعد ہی کوئی ایسا اقدام کیا جاسکتا ہے جو فی الواقع ہمارے لئے کوئی نئی تاریخ پیدا کرنے والا ہو۔اس سے پہلے اقدام کرنا صرف موت کی خندق میں چھلانگ لگانا ہے نہ کہ زندگی کے چمنستان میں داخل ہونا۔

    رازحیات:مولانا وحیدالدین خاں ص19
     
  6. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    جب آدمی کی زندگی مقصد سے خالی ہو جائے تو اس کی نظر میں اپنے وقت کی کوئی قیمت نہیں رہتی۔ وہ اپنا اندازہ خود اپنی رائے سے کرنے کے بجائے دوسروں کی رائے سے کرنے لگتا ہے۔ وہ رسمی جلسوں اور تقریبات میں رونق کا سامان بنتا رہتا ہے۔وہ اپنے لئے جینے کے بجائےدوسروں کے لئے جینے لگتا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی عمر پوری ہو جاتی ہے۔بظاہر مصروفیتوں سے بھری ہوئی ایک زندگی اس طرح اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے کہ اس کے پاس ایک خالی زندگی کے سوا اور کوئی سرمایہ نہیں ہوتا۔


    رازحیات:مولانا وحیدالدین خاں ص21

    نوٹ: اس قتباس کو لکھتے ہوے میری عجیب حالت ہوئی۔رقت کی وجہ سے آنکھیں بھرآئیں ۔۔۔۔۔۔ دعاء کیجئے کہ اللہ ہمیں ان جیسے بے مقصد زندگی گزارنے والے لوگوں میں نہ بنائے۔۔ آمین
     
  7. وحیداحمدریاض

    وحیداحمدریاض -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏فروری 25, 2011
    پیغامات:
    1,104
    السلام علیکم

    جزاک اللہ
     
  8. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    ۔۔۔۔ ہرآدمی کو دنیا میں کام کرنے کی ایک مدت اور کچھ مواقع دئے گئے ہیں۔یہ مدت اور مواقع اس وقت تک نہیں چھنتے جب تک خدا کا لکھا پورا نہ ہو جائے۔اگر رات کے بعد خدا آپ کے اوپر صبح طلوع کرے تو سمجھ لیجئے کہ خدا کے نزدیک ابھی آپ کے عمل کے کچھ دن باقی ہیں۔اگر آپ حادثات کی اس دنیا میں اپنی زندگی کو بچانے میں کامیاب ہیں تو اس کا مطلب یہ ہے کہ خدا کے منصوبہ کے مطابق آپ کو کچھ اور کرنا ہے جو ابھی آپ نے نہیں کیا۔

    رازحیات:مولانا وحیدالدین خاں ص22
     
  9. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667

    ۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ایک امکان جب ختم ہوتا ہے تو اسی وقت دوسرے امکان کا آغاز ہوجا تا ہے۔سورج غروب ہوا تو دنیا نے چاند سے اپنی بزم روشن کرلی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔خدا کی اس دنیا میں کسی کے لئے پست ہمت یا مایوس ہونے کا سوال نہیں۔حالات خواہ بظاہر کتنے ہی ناموافق دکھائی دیتے ہوں، اس کے آس پاس آدمی کے لئے ایک نئی کامیابی کا امکان موجود ہوگا۔آدمی کو چاہئے کہ اس نئے امکان کو جانے اور اس کو استعمال کرکےاپنی کھوئی بازی کو دوبارہ جیت لے۔


    رازحیات:مولانا وحیدالدین خاں ص26
     
  10. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    ۔۔۔۔۔ ہر سماج میں طرح طرح کے انسان ہوتے ہیں اور وہ طرح طرح کے حالات پیدا کئے رہتے ہیں۔ سماج میں کہیں "دلدل" ہوتا ہے اور کہیں "پٹرول" ۔ کہیں "کانٹا" ہوتا ہے تو اور کہیں "گڑھا"۔ عقل مند وہ ہے جو اس قسم کے سماجی مواقع سے بچ کر نکل جائے نہ کہ اس سے الجھ کر اپنے راستے کو کھوٹا کرے۔
    جس آدمی کے سامنے کوئی مقصد ہو وہ راستہ کی ناخوشگواریوں سے نہیں الجھے گا۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے کہ ان سے الجھنا اپنے آپ کو اپنے مقصد سے دور کر لینا ہے۔ بامقصد آدمی کی توجہ آگے کی طرف ہوتی ہے نہ کہ دائیں بائیں کی طرف ۔ وہ مستقل نتائج پر نظر رکھتا ہے نہ کہ وقتی کاروائیوں پر۔ وہ حقیقت کی نسبت سے چیزوں کو دیکھتا ہے نہ کہ ذاتی خواہشات کی نسبت سے۔


    رازحیات:مولانا وحیدالدین خاں ص28
     
  11. محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    3,702
  12. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    جزاک اللہ بھائی
     
  13. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    ۔۔۔۔۔ درخت اپنے وجود کے نصف حصہ کو سر سبز و شاداب حقیقت کے طور پر اس وقت کھڑا کر پاتا ہے جب کہ وہ اپنے وجود کے نصف حصہ کو زمین کے نیچے دفن کرنے کے لئے تیار ہو جائے۔درخت کا یہ نمونہ انسانی زندگی کے لئے خدا کا سبق ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ زندگی کی تعمیر اور استحکام کے لئے لوگوں کو کیا کرنا چاہئے۔۔۔۔۔۔۔۔

    ۔۔۔۔۔۔ درخت زمین کے اوپر کھڑا ہوتا ہے۔مگر وہ زمین کے اندر اپنی جڑیں جماتا ہے۔وہ نیچے سے اوپر کی طرف بڑھتا ہے نہ کہ اوپر سے نیچے کی طرف ۔ درخت گویا قدرت کا معلم ہے جو انسان کو یہ سبق دے رہا ہے:اس دنیا میں داخلی استحکام کے بغیر خارجی ترقی ممکن نہیں۔


    رازحیات:مولانا وحیدالدین خاں ص31
     
  14. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    ۔۔۔۔۔ دنیا کی زندگی میں کس طرح خدا نے ناخوش گوار چیزوں کے ساتھ خوش گوار چیزیں رکھ دی ہیں۔ جس طرح پھول کے ساتھ کانٹا ہوتا ہے اسی طرح زندگی میں پسندیدہ چیزوں کے ساتھ ناپسندیدہ چیزوں کا جوڑا بھی لگا ہوا ہے۔
    اب جب کہ خود قدرت نے پھول اور کانٹے کو ایک ساتھ پیدا کیا ہے تو ہمارے لئے اس کے سوا چارہ نہیں کہ ہم اس کے ساتھ نباہ کی صورت پیدا کریں۔ موجودہ دنیا میں اس کے سوا کچھ اور ہونا ممکن نہیں۔۔
    دوسروں کی شکایت کرنا صرف اپنے وقت کو ضائع کرنا ہے۔ یہ دنیا اس ڈھنگ پر بنائی گئی ہے کہ یہاں لازماً شکایت کے مواقع آئیں گے۔ عقل مند آدمی کا کام یہ ہے کہ وہ اس کو بھول جائے۔ وہ شکایت کو نظر انداز کرکے اپنے مقصد کی طرف اپنا سفر جاری رکھے۔


    رازحیات:مولانا وحیدالدین خاں ص33
     
  15. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    ۔۔۔۔ ایک بات بظاہر سادی سی ہے مگر انسان اپنی عملی زندگی میں اکثر اسے بھول جاتا ہے۔وہ یہ کہ ہم اپنی بنائی ہوئی دنیا میں نہیں ہیں بلکہ خدا کی بنائی ہوئی دنیا میں ہیں۔ جب صورتحال یہ ہے کہ یہ دنیا خدا کی دنیا ہے تو ہمارے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں کہ ہم خدا کے بنائے ہوئے قوانین کو جانیں اور اس کے ساتھ اپنے آپ کو ہم آہنگ کریں۔ اس کے سوا کسی اور تدبیر سے یہاں ہم اپنے لئے جگہ حاصل نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔

    رازحیات:مولانا وحیدالدین خاں ص34
     
  16. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    ۔۔۔۔۔۔۔۔ انسان ایک ایسی مخلوق ہے کہ ناکامی اس کو فکری گہرائی عطا کرتی ہے۔ رکاوٹیں اس کے ذہن کے بند دروازے کو کھولتی ہیں۔ حالات اگر اس کے وجود کو تکڑے تکڑے کردیں تو اس کا ہر تکڑا دوبارہ نئی زندگی حاصل کر لیتا ہے۔
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس امکان نے اس دنیا میں کسی انسان کو ابدی طور پر ناقابل تسخیر بنا دیا ہے،شرط یہ ہے کہ وہ زندہ ہو، وہ ٹوٹنے کے بعد دوبارہ اپنی قوتوں کو متحد کرنا جانتا ہو۔ بازی کھونے کے بعد وہ اپنا حوصلہ نہ کھوئے۔ ایک کشتی ٹوٹنے کے بعد وہ دوبارہ نئی کشتی کے ذریعہ اپنا سفر شروع کر سکے۔


    رازحیات:مولانا وحیدالدین خاں ص36
     
  17. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    ------------اس دنیا میں سب سے بڑی دولت روپیہ نہیں ہے،اس دنیا میں سب سے بڑی دولت اعتبار ہے۔ اعتبار کی بنیاد پر آپ اسی طرح کوئی چیز لے سکتے ہیں جس طرح نوٹ کی بنیاد پر کوئی شخص بازار سے سامان خریدتا ہے۔ اعتبار ہر چیز کا بدل ہے۔
    مگر اعتبار زبانی وعدوں سے قائم نہیں ہوتا اور نہ اعتبار ایک دن میں حاصل ہوتا ہے۔ اعتبار قائم ہونے کی صرف ایک ہی بنیاد ہے اور وہ حقیقی عمل ہے۔ خارجی دنیا اس معاملہ میں انتہائی حد تک بے رحم ہے۔ لمبی مدت تک بے داغ عمل پیش کرنے کے بعد ہی وہ وقت آتا ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


    رازحیات:مولانا وحیدالدین خاں ص52
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  18. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,485
    ايك اچھی كتاب سے مفيد اقتباسات نقل كرنے كا شكريہ ۔
     
  19. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    ۔۔۔۔۔۔۔۔ کوئی شخص پچھلے کل میں اپنا سفر شروع نہیں کر سکتا۔ سفر جب بھی شروع ہوگا "آج" سے شروع ہوگا نہ کہ گزرے ہوے "کل" سے۔ جو لوگ آج کے دن بھی کل میں جئیں ان کے لئے اس دنیا میں بربادی کے سوا اور کوئی چیز مقدر نہیں۔
    جو مواقع گزرچکے انہیں بھول جائیے۔ جو مواقع آج موجود ہیں ان کو جانئے اور انہیں استعمال کیجئے۔ ان شاءاللہ آپ یقینا کامیاب ہوں گے۔ یاد رکھیئے گزرا ہوا دن کبھی کسی کے لئے واپس نہیں آیا۔ گزرا ہوا دن آپ کے لئے بھی واپس آنے والا نہیں۔


    رازحیات:مولانا وحیدالدین خاں ص60
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر، 13, 2011
  20. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    ۔۔۔۔۔۔ موجودہ دنیا ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہر انسان پر غم اور تکلیف کا لمحہ آتا ہے۔ مگر ایسے لمحات ہمیشہ وقتی ہوتے ہیں۔ اگر آدمی اس لمحہ کو برداشت کرلے تو اس کو بہت جلد معلوم ہوتا ہے کہ "تاریک حال" میں اس کے لئے ایک "روشن مستقبل" کا امکان چھپا ہوا تھا۔ وہ شکست خوردہ ہو کر اپنے آپ کو مٹا دینا چاہتاتھا۔ حالان کہ مستقبل اس انتظار میں تھا کہ اس کا نام فاتح کی حیثیت سے تاریخ عالم میں درج کرے۔


    رازحیات:مولانا وحیدالدین خاں ص61
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں