اِس ماہ کی خبروں کے روابط : (جنوری -فبروری)-2012) ‏ ‏

ابوعکاشہ نے 'خبریں' میں ‏اکتوبر، 2, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,903
    بسم اللہ الرحمن الرحیم


    اس تھریڈ میں اکتوبر، 2011 کی خبروں کے روابط شیئر کیے جائیں گئے ۔ برائے مہربانی حالات حاضرہ کے قواعد و ضوابط کی پابندی کریں اور خبروں پر الگ تھریڈ شروع کرنے کی بجائے اس تھریڈ میں روابط پیش کرتے جائیں ۔۔ اس تھریڈ کو مثبت کردیا گیا ہے ۔ شکریہ ۔ ​
     
  2. allah ke bande

    allah ke bande -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 15, 2011
    پیغامات:
    25
    سندھ کی تاریخ اور مزید خبریں


    کراچی: ایک بچوں کی کتاب جو سندھ کی تاریخ اور ثقافت کے بارے میں ہے، جو معروف تاریخ دان اور سندھ کے سابق منسٹر ڈاکٹر حامد کھوڑو نے لکھی ہے، اس بدھ کو ریلیز ہوئی۔
    کتاب کا نام، "بچوں کے لئے سندھ کی تاریخ" کتاب آٹھ سے تیرہ سال کے بچوں کے لئے لکھی گئی ہے۔ مصنف اور شاعر فہمیدہ ریاض، جنہوں نے کتاب کا اردو میں ترجمہ کیا ہے، انہوں نے خود کی تاریخ کے بارے میں لکھنے کے پہلو کو نماياں کیا، اور ڈاکٹر کھوڑو کی کوششوں کو بہترین قرار دیا ہے۔
    http://www.dawn.com/2012/01/05/book-on-sindhs-history-for-children-launched.html

    چترال: لوگوں کو جو برف کے طوفان سے خطرے پیش آتے ہیں، اس کو نظر میں رکھتے ہوئے ایک مقامی نوجوان نے ایسی مشین ایجاد کی ہے جو پہاڑیوں اور اونچے علاقوں سے آنے والے برف کے طوفانوں سے خبردار کرتی ہے۔
    "اس سے برفی طوفانوں سے ہونے والی تباہی میں کچھ کمی ہوگی"، یہ محمد خالد کا کہنا ہے، جس کہ پاس پشاور یونیورسٹی کی ماسٹرز ڈگری ہے۔
    ان کا کہنا ہے کہ مشین کا نام "گلیشر ایبسٹین سسٹم" کے بعد دیا گیا ہے، لیکن اسے وہ صحیح طور سے پھر سے نام دیں گے جب اس کا عام طریقے سے استعمال ہونا شروع ہوگا۔
    http://www.dawn.com/2012/01/05/chitrali-youth-invents-avalanche-warning-device-2.html

    کھر:پاکستان طالبان نے 17 بچوں کو رہا کردیا جنہوں نے غلطی سے شمال مغربی افغانستان کا بارڈر کراس کیا تھا۔
    تیس سے زیادہ جوان بچے جو 20 سے 30 سال کی عمر کے درمیان تھے، انہیں پاکستان کے باجوڑ علاقے سے عید کے دنوں میں ستمبر2011 میں اغوا کرلیا گیا تھا۔
    باجوڑ حکام کے نمائیندے اسلام زیب نے اے ایف پی کو بتایا،"آج طالبان نے ان میں سے سترہ کو چھڑا دیا اور ابھی آٹھ سے دس بچھے ابھی بھی ان کی قید میں ہیں"۔
    خدا ایسے شدت پسند نظریات سے سب کے بچوں کو محفوظ رکھے۔


    Pakistani Taliban release 17 kidnapped Bajaur boys The Express Tribune
     
  3. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,050
    پوربوپاکستان سے… بنگلہ دیش تک

    پوربوپاکستان سے… بنگلہ دیش تک
    غیروں کی سازشوں اوراپنوں کی غداریوں کی المناک داستان
    ماضی سے سبق نہ سیکھاگیا توایک اور’’سقوط‘‘پاکستان کامنتظرہوگا
    حنظلہ محمود


    ’’مساجدکاشہر‘‘کہلانے والاڈھاکہ غیض وغضب کی آگ میں جھلس رہاتھا۔ بنگالی‘اردو کاجھگڑا بپاتھا۔ پلٹن کاتاریخی میدان بہت سی کہانیاں بتارہاتھا۔ 11جنوری1970ء کومجیب الرحمن کی عوامی لیگ نے اس میدان میں اپنی انتخابی مہم کاپہلا بھرپور جلسہ منعقدکیا۔مشرقی پاکستان کے کونے کونے سے محبان بنگلہ بندھو جمع تھے۔ انگریزی روزنامہ ’’آبزرور‘‘ نے 13جنوری 1970ء کے دن لکھاکہ بلاشبہ یہ ایک تعداد اور کلام وگفتگو کے اعتبار سے یادگاراجتماع تھا۔ مجیب الرحمن کی آواز پورے گھن گرج کے ساتھ اسلامیان مشرقی پاکستان کے دلوں میں دراڑیں ڈال رہی تھی۔ ایک ہفتہ کے بعدجماعت اسلامی کاجلسہ اسی میدان میں منعقدکیا گیا۔جلسہ میں شرکت کے لیے مولانامودودی بطورخاص لاہور سے ’’مسجد بیت المکرم‘‘ کے شہر پہنچے تھے۔ مگریہ جلسہ ہلٹر بازی کی نذرہوگیا۔ دو افراد ہلاک اور25زخمی ہوگئے ۔عوامی لیگ کی دھاک جماعت اسلامی پرثبت ہوچکی تھی اوراسلامی بھائی چارے کی بجائے جلسہ گاہ سے ’’جوائے بنگلہ‘‘ (بنگلہ دیش زندہ باد) کے نعرے سنائی دے رہے تھے۔ ان دوبڑے ناموں کے علاوہ ایک تیسرابڑا سیاسی نام مولانا بھاشانی کی ’’نیشنل عوامی پارٹی‘‘ کاتھا جس نے تمام سوشلسٹ قوتوں کوجمع کرکے سنتوش میں ’’کسانوں کی ریلی‘‘ نکالنے کی ناکام کوشش کی اورہرطرف خون ‘آگ اورگولی کی صدا بلند ہونے لگی۔
    مغربی پاکستان میں شدید بے چینی اورایک انجانا خوف سما چکاتھا۔ مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان جاکر ملک وقوم کی خدمت کے فرائض سرانجام دینے والے افسران‘سپاہی یا سول لوگ اپنے دلوں میں ہزاروں اندیشے سموئے کام میں جتے تھے۔ شام کے سائے گہرے ہوتے ہی گلیوں میں خوف ناچنے لگتا۔ سیاستدان اپنی بساط بچھائے مہروں کواپنے اندازسے بڑھارہے تھے۔ عسکری قیادت ‘مارشل لاء کے جام لنڈھارہی تھی۔ یحییٰ خان جیسا مے کش ملک وقوم کی سیاہ وسفید کے فیصلے کررہاتھا۔ جوکبھی ایرانی جشن میں لوگوں کے روبرونشے میں دھت نظرآتا توکبھی فاحشہ ’’جنرل رانی‘‘ کی زلف گرہ گیر کااسیربنانظرآتا۔ 1970ء کے انتخابات میں مغربی پاکستان میں روٹی‘کپڑااورمکان کانعرہ مستانہ دے کر ذوالفقاربھٹوشہرت کے بلندیوں کوچومتانظرآتا۔مشرقی پاکستان میں مجیب الرحمن اپنے بیان کردہ ’’چھ نکات‘‘کے برخلاف لیگل فریم ورک آرڈر(lfo-1970) کونشانہ عبرت بنانے کی بات کرتا۔ اپنے قریبی حلقوں میں بنگلہ دیش کے قیام کو اپنا مقصد گردانتا۔ انتخابات ہوئے تونتائج نہایت حیران کن تھے۔ مغربی پاکستان میں بھٹوکی پیپلزپارٹی اکثریت سے جیت چکی تھی اورمشرقی پاکستان میں مجیب الرحمن نے ناقابل شکست فتح حاصل کرلی تھی۔ یحییٰ خان کے لیے یہ حالت نہایت عجیب تھی کہ اسی اثناء میں بھٹو کی طرف سے ’’اُدھرتم‘اِدھرہم‘‘ کانعرہ لگادیاگیا‘ اس نعرے نے جلتی پر تیل کاکام کیا۔
    ڈھاکہ سے لے کر چٹاگانگ اورآسام تک فسادات شروع ہوچکے تھے۔ برسوں سے جاری سازشوں نے پوری قوت سے سراٹھایاتھا۔ مشرقی پاکستان میں آبادایک کروڑ ہندوؤں کے دل بھارت کے ساتھ ہی دھڑکتے تھے اورستم ظریفی یہ کہ کلیدی عہدوں پر زیادہ ترہندوبراجمان تھے۔ یونیورسٹی میںپروفیسرز کی اکثرتعداد متعصب ہندؤوں پرمشتمل تھی۔ حتّٰی کہ مطالعہ پاکستان اور اسلامیات جیسے مضامین بھی بعض کالجز اورجامعات میں ہندو اساتذہ پڑھاتے۔یہ اساتذہ مسلم دشمنی کے ازلی سبق کوکبھی نہ بھولے تھے اوراکھنڈ بھارت یااشوک اعظم کادور واپس لانے کے لیے اپنا کردار ادا کررہے تھے۔ بنگالی مسلمان ان کے زہریلے پروپیگنڈے سے متاثرہوئے بنانہ رہ سکے۔ بنگلہ زبان کو بنیاد بنا کر ایک بغاوت کھڑی کردی گئی۔ یونیورسٹی طلباء اس تحریک میں پیش پیش رہے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی تخریب کاروں اور پاکستان دشمنوں کا گڑھ بن چکی تھی۔ مشرقی پاکستان کی بالعموم غربت کو بہت زیادہ کارآمدہتھیار کے طورپراستعمال کیاگیا۔
    مجیب الرحمن کاایک عوامی جلسے میں یہ کہناکہ اسے مشرقی پاکستان میں اگائی گئی پٹ سن کی خوشبو اسلام آباد کی سڑکوں پرمحسوس ہوتی ہے۔ اسے زبان پرست لوگوں کاواحد نمائندہ بناگئی۔ اگر تلہ سازش کیس میں مجیب کی گرفتاری نے بنگالی متعصبین میں اسے مزید مقبول بنادیا۔
    قبل ازپاکستان کے حالات دیکھے جائیں توقرارداد پاکستان 1940ء ایک عظیم بنگالی رہنما مولوی فضل حق کی طرف سے پیش کی گئی تھی۔ اسی قرار داد نے قیام پاکستان میں کلیدی کردار اداکیاتھا۔ ایک اوربنگالی رہنماحسین شہید سہروردی نے 1946ء کے سالانہ اجلاس میں دوریاستوں کی بجائے ایک ملک یعنی پاکستان کے مطالبہ کی توثیق کی۔ ملی وحدت کے پرچارکرتے بنگالی رہنماؤں کے پیروکارایک اورراستہ پر چل پڑے تھے جونفرت اورتشددکی طرف جارہاتھا۔ محبتوں میں گندھے بنگالی اب پاکستان پائندہ و تابندہ کی بجائے ’’امرنیتا تمرنیتا‘ شیخ مجیب شیخ مجیب‘‘ اور’’امردیش تمردیش بنگلہ دیش بنگلہ دیش‘‘ کے نعرے بلند کررہے تھے۔
    مشرقی پاکستان کے سپوت اب بھارت کی بھاشامیں بات کررہے تھے۔ مکتی باہنی اپنے پورے پرپھیلا چکی تھی۔ شدت پسند بنگالی نوجوان بھاگ بھاگ کرہندوستان میں داخل ہورہے تھے۔ایک کروڑ ہندؤوں کے لیے ویسے ہی ہندوستان نے اپنی سرحد کھول رکھی تھی۔ ان ہندؤوں اورباغی مسلمان نوجوانوں کو ہندو شاطر دماغوں نے مہاجرظاہر کرکے دنیا بھرکے میڈیا کوگم گشتہ کر دیا تھا۔ کوٹلہ چانکیہ کے روحانی فرزندوں نے بھارتی سرحد کے ساتھ ساتھ کئی تربیتی کیمپ بنارکھے تھے۔ یہ تربیتی کیمپ مشرقی پاکستان کے علاقوں سے بھاگ بھاگ کر آنے والے لوگوں کوتخریب کاری‘ بلوہ اورگھات لگانے کی تربیت دے رہے تھے۔یہ مکتی باہنی کے نام سے ایک ایسی باغی فوج تیار ہورہی تھی جس میں اکثریت ان لوگوں کی تھی جن کے آباؤاجداد نے انگریزی استعمار کے خلاف علم جہاد بلند کیا تھا۔ مکتی باہنی نے طلباء کے ذہنوں کوپراگندہ کردیاتھا۔ تمام شعبہ ہائے زندگی ان سے متاثرتھے۔ مذہب کے تعلق کے بجائے کلکتہ کوثقافتی کعبہ قرار دیاجارہاتھا۔
    1970ء کاسال کشمکش اورسازشوں میں گزرگیا۔ مغربی پاکستان کے سیاسی قائدین اورghqراولپنڈی کے زعماء اپنی الگ دنیا میں مگن رہے۔ جبکہ پوربو(مشرقی)پاکستان نفرت کی آگ میں جلتا ر ہا۔
    1971ء کے اوائل میں ہی حالات میں سخت گرمی آگئی۔ 3مارچ 1971ء کوڈھاکہ میں اسمبلی کااجلاس ہونا طے پایا مگر 28فروری کواس خبرنے ڈھاکہ کاامن تہہ وبالا کردیاکہ اجلاس ملتوی کردیاگیاہے۔ ریڈیوایسٹ پاکستان پراس اعلان کے نشر ہونے کے آدھ گھنٹے بعدلوگ سڑکوں پرنکل آئے۔بپھرے ہوئے عوام بانس کی لاٹھیاں اورلوہے کی سلاخیں اٹھائے نعرے لگا نے لگے۔ ان کے دشنام آمیزنعرے سن کریوں لگتاتھا کہ پوراشہر غصے سے کانپ رہاہے۔ مشتعل ہجوم نے غیربنگالیوں کی دکانیں لوٹ لیں اور ہرچیزکوتہس نہس کردیا۔حتّٰی کہ سٹیڈیم میں ہونے والے بین الاقوامی کرکٹ میچ کوبھی درہم برہم کردیا۔مجیب نے اس موقع پر پریس کانفرنس کرتے ہوئے 3مارچ کوسارے صوبے میں مکمل ہڑتال کااعلان کردیا۔ الفاظ نفرت کے گولے بن کر پھٹ رہے تھے۔ عوامی لیگ کے غنڈے ہرطرف دندناتے پھرتے تھے اورجو کوئی ان سے تعاون نہیں کرتاتھا‘اسے ٹھکانے لگادیتے تھے۔ حکومت لوگوں کومکمل تحفظ دینے سے قاصر تھی۔
    ڈھاکہ میں کرفیو نافذکردیاگیا۔جسے توڑنے کے لیے عوامی لیگ نے سردھڑکی بازی لگادی۔گورنمنٹ ہاؤس پردھاوا بول دیاگیاجس کے نتیجے میں فوجی بند وقوں سے چھ بنگالی حملہ آور مارے گئے۔اگلے دن ان چھ لاشوں کاخوب گھن گرج کے ساتھ استعمال کیاگیا۔ مکتی باہنی کے لوگوں کوایک نیاپتہ مل چکاتھا۔جگہ جگہ مشتعل ہجوم اورسرکاری عملہ (پولیس‘فوج اورایسٹ پاکستان رائفلز) کے درمیان جھڑپیں ہوتی رہیں۔ خون بہتارہا۔ جائیدادیں تباہ ہوتی رہیں۔حالات میں کشیدگی بڑھتی رہی۔ ہلاکتوں کی خبریں ڈھاکہ کے علاوہ چٹاگانگ ‘جیسور‘کھلنا‘ کومیلا‘سلہٹ اور رنگ پور سے بھی موصول ہورہی تھیں۔ جہاں سرکار کے نمائندے نظر نہ آتے یہ سرپھرے مکتی باہنی کے کاسہ لیس غیربنگالی عوام پرپل پڑتے اوران کوگاجرمولی کی طرح کاٹ دیتے ۔کئی خاندانوں کی عصمتیں تار تار کردی گئیں۔ صرف 3مارچ کے دن ہی چٹاگانگ کے علاقہ پہاڑ تلی میں102غیربنگالی ہلاک کردیئے گئے۔ فوجی جوان بھی کٹ رہے تھے اورافسربھی کام آرہے تھے۔
    7مارچ کوجاری ہفت نامہ میں سرکاری طورپر چھ دنوں میں 172افراد کے ہلاک اور 358افراد کے زخمی ہونے کا اعتراف کیاگیا جبکہ عوامی لیگ کے زیراثر اخبار اور بھارتی اثر رکھنے والا انٹرنیشنل میڈیا ان خبروں کو خوب اچھال رہاتھا اور ہزاروں افراد کی ہلاکت کی خبریں بیان کررہاتھا۔ عوامی اشتعال کومزید ہوادی جارہی تھی۔
    مجیب الرحمن نے ایک مدافعتی فورس تشکیل دینے کافیصلہ کیا جوبراہ راست پاک فوج سے جنگ کرے ۔اس ضمن میں اس نے کرنل (ریٹائرڈ) ایم اے جی عثمانی کواس فورس کاکمانڈر مقرر کیا۔مجیب کی اس پرائیویٹ فوج کے افراد سابق فوجیوں ‘عوامی لیگ کے رضاکاروں اوریونیورسٹیوں کے طلباء سے لیے گئے۔ اسلحے کی ضروریات کو اسلحہ خانوں کولوٹ کر‘صوبائی حکومت کے تحت ’’انصار‘‘فورس کی ہزاروں رائفلوں پرقبضہ کرکے اوربہت بڑی مقدار میں بھارت سے حاصل کرکے پوراکیاگیا۔ یونیورسٹی کی لیبارٹریوں میں نصابی تجربات کی بجائے طلباء وطالبات دستی بم بنانے لگے۔
    17مارچ1971ء کویحییٰ خان ڈھاکہ پہنچے۔ شیخ مجیب الرحمن سے ملاقاتیں اورمذاکرات ہوئے۔ مگر 23مارچ کادن جو ہمیشہ پاکستان کے نام سے منایا جاتاتھا‘ تحریک پاکستان اور استقلال پاکستان کی بازگشت سنائی دیتی تھی۔ 1971ء کے 23 مارچ کا دن عوامی لیگ نے ’’یومِ مزاحمت‘‘ کے طورپرمنایا۔ قومی پرچم کوجلادیاگیا۔ محمدعلی جناح کی تصویر پھاڑ ڈالی اوران کا پتلا بناکر نذرِ آتش کردیاگیا۔ آزادبنگلہ دیش کاپرچم ہرجگہ لہرایاگیا اور مجیب الرحمن کی تصاویر جگہ جگہ آویزاں کردی گئیں۔
    ریڈیو اورٹیلی ویژن نے رابندرناتھ ٹیگور کامشہور نغمہ ’’سوناربنگلہ‘‘ قومی ترانے کے طورپرنشرکیا۔ مجیب الرحمن کے گھر پر بھی آزادبنگلہ دیش کاپرچم لہرایا گیا اورسلامی دی گئی۔25مارچ کی رات کو جب یحییٰ خان واپس مغربی پاکستان پہنچ چکاتھا۔ ڈھاکہ یونیورسٹی میں مورچہ بند مکتی باہنی پاکستانی فوج کے لیے لوہے کاچناثابت ہورہی تھی۔ریڈیو پر مجیب الرحمن کاپیغام نشر ہوچکاتھا۔ جس کامکمل متن بھارتی وزارتِ خارجہ کی مرتب کردہ ’’بنگلہ دیش کی دستاویزات‘‘میں یوں درج ہے:
    ’’شایدیہ میراآخری پیغام ہو۔ میں آپ کو بتادینا چاہتا ہوں کہ آج سے بنگلہ دیش آزادہے۔میںعوام سے اپیل کرتاہوں کہ وہ جہاں بھی ہوں اورجووسائل بھی رکھتے ہوں‘ غاصب فوج کا اس وقت تک مقابلہ کریں کہ جب تک بنگلہ دیش کی دھرتی سے پاکستان کاآخری سپاہی نکل نہیں جاتا۔ جب تک آپ مکمل کامیابی حاصل نہ کرلیں‘ اپنی جنگ جاری رکھیں۔‘‘(بنگلہ دیش کی دستاویزات ‘ ازوزارت خارجہ بھارت۔جلد اول‘ص286)
    اسی اثناء میں کمانڈوزنے دھان منڈی میں مجیب الرحمن کو اس کے گھرسے گرفتارکرلیا۔ یونیورسٹی کیمپس پرفوج کوگولہ باری کرکے کنٹرول حاصل کرناپڑا۔ ڈھاکہ پر ایک رات میں سکوت طاری ہوچکاتھالیکن باقی پورے صوبے میں جگہ جگہ جنگ کے الاؤ بھڑک اٹھے تھے۔ بھارتی ہندو فوجی مقامی لوگوں کے ساتھ شہروں کے اندرگھس آئے تھے۔ مکتی باہنی اپنے آقاؤں کی پوری پوری نمک حلالی میں مصروف تھے۔ ہزاروں لوگ ہندوستان چلے گئے جن کو مستقبل کے حسین سپنے دکھائے گئے۔ ایسے لوگوں کاانجام بہت بڑا ہوا ۔کلکتہ کی گلیوں ‘بازاروں میں بنگالی مسلمان عورتیںبیچی جانے لگیں۔
    مارچ سے لے کر21نومبر1971ء تک مشرقی پاکستان خانہ جنگی کی لپیٹ میں رہا۔حالات یہ تھے کہ نہ دوست کاعلم ہوتااور نہ دشمن کی پہچان۔ مغربی پاکستان سے مشرقی پاکستان پہنچنے والے سپاہی جوحق وباطل کے معرکہ میں حق کی خاطر جانیں قربان کرنے پہنچے‘یہ دیکھ کر دنگ رہ جاتے کہ مقابلہ میں بھی مسلمان صف آراء تھے۔ سرحدی علاقے تواس قدر غیرمحفوظ ہوچکے تھے کہ بھارتی سکیورٹی فورس (bsf)کے لوگ باغیوں کے ساتھ مل کر پاکستانی چوکیوں پر حملہ کررہی تھی ۔کیفیت یہ تھی کہ کشتیاکے سرحدی علاقے میں موجودچوکی کے اسلحہ خانے پرباغیوں نے حملہ کیا جس سے ملحقہ ایک جج کاتین منزلہ مکان تھا۔ باغی اور bsf کے اہلکار اس اونچے مکان کی چھت پرکھڑے ہوکراسلحہ خانہ پرگولیاں برساتے رہے اور پاکستانی فوج کے پچیس جوان شہیدکردیئے گئے۔چند ایک سپاہی بمشکل اپنی جانیں بچاکر وہاں سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہوئے۔ قریب قریب یہی حالات پنبہ‘راجشاہی ‘جیسور‘ چٹاگانگ‘پاکسی‘چندرگھونا‘ طکشم‘چوآڈنگا‘ ہلی رنگپور‘نواکھلی ‘سراج گنج اور دیگرعلاقوں میں بھی تھے۔ فوج کی طرف سے آپریشن سرچ لائٹ کے نتیجہ میں ہزاروں شہادتوں کے بعدوسط مئی تک بڑے شہروں اورقصبوں کوعملاً کنٹرول کرلیاگیا۔ اس آپریشن کے بارے میں غیرملکی ذرائع ابلاغ نے اعدادوشمار کوبڑھاچڑھا کربیان کیا۔ اکثرصحافی کلکتہ میں بیٹھ کرغیرمصدقہ خبروں اوربھارتی تخمینوں پرتکیہ کر کے دنیاکو پاک فوج کی ’’ظلم وبربریت‘‘ کی کہانیاں سنا رہے تھے۔
    مکتی باہنی ‘بوبی ٹریپس ‘بارودی سرنگوں اورریموٹ کنٹرول بموں کے ذریعے تباہی کے نشانات رقم کرتی جارہی تھی۔ پاک فوج کے لیے دوست اوردشمن کی پہچان ممکن نہ تھی کہ ایک جیسے لباس اور ایک جیسے رنگ زبان انہیں دھوکہ دینے کے لیے کافی تھے۔ ذہنی طورپر پاک فوج کے سپاہی اورافسران ایک اعصاب کوتھکادینے والی جنگ میں مبتلاتھے۔ ہندوستان نے raw(را)کے نام سے انٹیلی جنس ایجنسی صرف پاکستان کوتوڑنے کے لیے تشکیل دی تھی ۔را کے افسران نے حکام کی آشیربادسے مکتی باہنی کے لیے تین ادوار میں جنگ لڑنے کے احکامات جاری کیے تھے۔
    جون کے اوائل سے جولائی تک مکتی باہنی نے اپنی کارروائیاں سرحدی علاقے تک محدود رکھیں اورچھوٹے پل تباہ کرکے بھاگ جاتے۔ اگست‘ستمبر میںوہ فوجی قافلوں اورکمین گاہوں پر حملہ آور ہونے لگے۔ بحری جہازوں کوڈبونے اور اہم سیاسی شخصیات کوقتل کرنے لگے۔ ڈھاکہ ان کاخصوصی ہدف رہا۔ اکتوبر اورنومبرکے دوران سرحدی علاقے اورصوبے کے اندرون بھی ان سے محفوظ نہ رہے تھے۔ سرحدی چوکیوں پربھارتی توپ خانے کی مدد سے باقاعدہ حملہ کرتے اوراہم شہروں میں تخریب کاری کرتے۔ بعض سرحدی علاقوں میںمورچے کھودلیے گئے جوبعد میں بھارتی افواج کے لیے بہت کارآمد ثابت ہوئے۔
    19نومبر کوعیدالفطرتھی۔ خبرتھی کہ عید کے روزبھارتی فوج حملہ آورہوگی۔مگرعیدکادن ٹل گیا اوراگلے دنوں میں 21نومبر کو کھلا حملہ شروع ہوگیا ۔3دسمبر کوبھرپورجنگ شروع ہوگئی۔ پاکستانی افواج نے ہرجگہ بہادری کے جوہر دکھائے۔ پاک فضائیہ کے پاس فقط ایک سکواڈرن سیبرطیاروں کا اوردس دن کا ایمونیشن موجودتھا۔ 5دسمبر کے دن بھارتی ہنٹرطیاروں نے ڈھاکہ ائیرپورٹ پرپانچ سوکلوگرام وزنی چھ بم پھینکے جنہوں نے فضائیہ کوعملاً بے بس کردیا۔ دور دراز کے علاقوں میں کمک پہنچانا ممکن نہ رہاتھا کہ مشرقی پاکستان کا مغربی پاکستان سے فاصلہ سولہ سو(1600)کلومیٹرتھا۔ درمیان میں کلکتہ کابھارتی علاقہ تھا۔ واحدفضائی راستہ بندتھا اورسری لنکا اوردیگرممالک کی فضاعبورکرکے آتے آتے یہ فاصلہ مزیدبڑھ جاتا۔ ہرسیکٹر پر عجب داستانیں رقم ہوئیں۔ سپاہی اپنے ایمان کی حرارت سے بے سروسامانی کے عالم میں لڑتے رہتے۔ پاکستان کا روایتی ’’دوست‘‘ ملک امریکہ پاکستان پرجنگی سازوسامان کے نقل و حمل پرپابندی لگاچکاتھا۔ناعاقبت اندیش عمائدین قوم امریکہ کے ساتویں بحری بیڑے کاانتظارکررہے تھے جوپاکستان کی امداد کے لیے مبینہ طورپر محوسفرتھااورآج تک پاکستان نہ پہنچ سکا۔
    15دسمبر 1971ء کوجنگ بندی کی درخواست‘ ہندوستان نے فوج کے مکمل سرنڈرکی شرط کے ساتھ منظورکرلی۔16دسمبر کو ہندوستانی 101کمیونیکشن زون کاکمانڈر میجر جنرل ناگرا میرپور پل کے پاس آکررک گیا ۔وہاں سے اس نے جنرل نیازی کے نام ایک مختصرخط لکھا جس میں درج تھا:
    پیارے عبداللہ!’’میں میرپورپل پرہوں‘اپنانمائندہ بھیج دو۔‘‘
    میرپورپل کی حفاظت پرمتعین میجر سلامت کو’’سیزفائر‘‘ کے آداب کاخیال رکھنے کاکہاگیااورناگرا بغیرکوئی گولی چلائے ڈھاکہ میں فاتح کی حیثیت سے داخل ہوچکاتھا۔کچھ دیرکے بعد بھارتی ایسٹرن کمانڈ کاکمانڈر جگجیت سنگھ اروڑہ ڈھاکہ ائیرپورٹ پر پہنچا جس کا استقبال جنرل نیازی نے کیا۔ وہاں سے جنرل نیازی اورجنرل اروڑہ سنگھ سیدھے رمنا ریس گراؤنڈ پہنچے جہاں سرعام ہتھیار ڈالنے کی تقریب منعقدکی گئی۔ ایک چھوٹی سی میز پرنیازی نے سقوط ڈھاکہ کے دستاویزات پردستخط ثبت کیے اور اپناریوالور اروڑہ سنگھ کو پیش کردیا۔
    پوربوپاکستان ڈوب چکاتھا۔جہاں سے کوئی اب پاکستان زندہ باد کانعرہ بلندکرنے والانہ تھا۔ 90ہزار جوان اور افسران قیدی کرلیے گئے۔پوری اسلامی تاریخ میں مسلمانوں کی اتنی بڑی فوج کبھی قیدی نہ بنائی جاسکی تھی۔ صرف اسی پر اکتفانہ کیاگیا بلکہ ہزاروں لوگوں کو اس کے بعدمکتی باہنی نے قتل کردیا۔ ہندوستانیوں نے شہروں‘محلوں‘گھروں کولوٹ لیا ۔حتّٰی کہ گھریلوسامان ہندوفوجی اپنے ٹرکوں میں بھربھرکر لے جاتے رہے۔ یہ عمل تقریباً سال تک جاری رہا۔اب بنگالی ہونٹوں میں انگلیاں دبائے اپنے ہاتھوں لگائی گئی آگ کامنظر دیکھ رہے تھے۔ عوامی لیگ کے اس ’’انقلاب‘‘ کے کچھ عرصہ بعد بنگلہ فوج کے میجر ضیاء الرحمن نے ایک دستے کے ساتھ شیخ مجیب پرحملہ کرکے خاندان سمیت قتل کردیا اور بنگلہ بندھو پھٹی آنکھوں سے آسمان تلے اس دوہرے انقلاب کودیکھتے ہوئے عالم بالاسدھارگیا۔
    تاریخ کے اس المناک سانحے نے مغربی پاکستان کو بھی غم کی اتھاہ گہرائیوں میں ڈبودیاتھا۔قہقہے غم میں ڈوب گئے ۔حسرتیں رنج والم میں بدل گئیں۔لیکن اس کے بعدبھی ارباب نے بست وکشاد اس اندوہناک سقوط سے سبق نہ سیکھااوروطن عزیز کے 18 کروڑ پاکستانیوں کوسیاست کے چندمہروں نے تختہ مشق بنا رکھا ہے۔ آج دسمبر2011ء کے دنوں میں عجب حالات ہیں۔ ملک ابتری کاشکار ہے۔ہرادارہ لوٹ مارکاشکارہے۔ مغربی اورمشرقی محاذوں پرذلیل ترین دشمن گھات لگائے بیٹھے ہیں۔غداری پرمشتمل میمورنڈم‘ انکل سام کوپیش کیے جارہے ہیں۔ سیاستدان ایک دوسرے کو نیچادکھانے میں مصروف اورسیاسی دنگل جیتنے میں کوشاں ہیں۔ داخلی طورپر فتنے پوری قوت کے ساتھ کھڑے ہیں۔ ایسے میں ہمیں اپنے کردار کاتعین کرنا ہے اورملت مسلمہ کے لیے روشنی کے مینار کھڑے کرناہیں۔ نوجوانانِ اسلام کو اپنے دوست اوردشمن میں تمیزکرناسکھاناہے۔ وہ بھارت جس نے پاکستان کودولخت کیا‘ مشرقی پاکستان کے 30لاکھ لوگوں کو بالواسطہ یابلاواسطہ موت کے گھاٹ اتار دیا۔ہزاروں عزتوں کو پامال کیا‘بھائی کوبھائی سے لڑوادیا ۔اس بھارت کو ’’پسندیدہ ترین قوم‘‘ کااعزاز نہیں دیاجاسکتا۔بلکہ ازل سے جاری توحیدوشرک کی جنگ میں توحیدکی بالادستی کے لیے اسلام کااصول واضح کردینے کی ضرورت ہے۔ آج کاایٹمی پاکستان ہم سے بہادری اورعزت وغیرت کے کردار کا متقاضی ہے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏جنوری 7, 2012
  4. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,050
    پیر پگاڑا کا انتقال

    مسلم لیگ فنکشنل کے سربراہ اور حروں کے روحانی پیشوا پیر پگاڑا لندن میں انتقال کر گئے۔
     
  5. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    انا لله و انا اليه راجعون
     
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,903
    [qh]انا لله وإنا اليه راجعون[/qh]
     
  7. مطيع الحق

    مطيع الحق -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2012
    پیغامات:
    67
    انا لله و انا اليه راجعون جزاه الله ما يشاء
     
  8. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    انا لله وإنا اليه راجعون
     
  9. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,922
    انا لله وإنا اليه راجعون
     
  10. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,757
    انا لله وإنا اليه راجعون

    اللہ تعالی ان کی مغفرت فرمائے
     
  11. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,903
    الزامات سنگین ہیں: فوج، ’سیکرٹری دفاع برطرف‘

    پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ وزیراعظم پاکستان کی جانب سے فوج کے سربراہ اور خفیہ ادارے آئی ایس آئی کے سربراہ پر متنازع میمو معاملے میں جوابات جمع کروانے سے متعلق لگائے گئے الزامات سنگین ہیں اور اس کے ملک پرگہرے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

    ادھر پاکستان کے سرکاری ٹی وی پاکستان ٹیلیویژن کے مطابق وزیراعظم پاکستان نے سیکرٹری دفاع لیفٹیننٹ جنرل(ر) نعیم لودھی کو قواعد کی خلاف ورزی اور ریاستی اداروں کے درمیان غلط فہمیاں پھیلانے کے الزامات پر برطرف کر دیا ہے۔
    چینی اخبار کو دیے گئے انٹرویو میں وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے کہا تھا کہ پاکستان کی فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہان نے مجاز اتھارٹی کی منظوری کے بغیر ہی متنازعہ میمو سے متعلق دائر کی گئی درخواستوں پر سپریم کورٹ میں اپنے جوابات جمع کرائے تھے۔

    آئی ایس پی آر کی جانب سے بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں وزیراعظم گیلانی کے اس انٹرویو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے یہ بیان ایک ایسے موقع پر دیا جب خود فوجی سربراہ چین کے دورے پر تھے اور اس انٹرویو میں فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہ پر آئین سے روگردانی کا الزام لگایا گیا جس سے زیادہ سنگین کوئی الزام نہیں ہو سکتا۔

    آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ یہ الزامات بہت سنجیدہ ہیں اور ان کے نتیجے میں ملک کو سنگین نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فوج کے سربراہ سے یہ توقع رکھنا کہ وہ حقائق بیان نہیں کریں گے نہ قانونی اور نہ ہی آئینی ہے۔

    بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے فوج اور آئی ایس آئی کے سربراہان کو براہِ راست نوٹس دیے تھے جبکہ ان کے جوابات عدالت میں پیش کرنے کے لیے وزارتِ دفاع کو بھجوائے گئے تھے۔ بیان کے مطابق یہ جوابات براہِ راست عدالتِ عظمٰی کو نہیں بھجوائے گئے اور اٹارنی جنرل اور سپریم کورٹ کو ایک خط کے ذریعے مطلع کیا گیا تھا کہ جوابات وزارتِ دفاع کے حوالے کر دیے گئے ہیں۔

    خیال رہے کہ پاکستان کی سرکاری خبر رساں اے پی پی کے مطابق وزیراعظم نے نو جنوری کو اپنے انٹرویو میں کہا تھا کہ ’مجاز اتھارٹی سے منظوری کے لیے وزارت دفاع کی طرف سے بھی کوئی سمری نہیں بھیجی گئی اور نہ ہی اس سلسلے میں وزرات دفاع سے کوئی منظوری حاصل کی گئی‘۔

    آئی ایس پی آر کے مطابق فوج اور خفیہ ادارے کے سربراہ اپنے جواب میں عدالت کو میمو معاملے پر وہ حقائق بتانے کے ذمہ دار تھے جو وہ جانتے تھے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم نے سولہ دسمبر کو جاری ہونے والی پریس ریلیز میں دائر کیے گئے جوابات کو قواعد کے مطابق قرار دیا تھا اور ان پر کسی قسم کا کوئی اعتراض سامنے نہیں آیا تھا۔
    سیکرٹری دفاع کی برطرفی

    وزیراعظم ہاؤس سے جاری ہونے والے اعلامیہ کے مطابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے سیکرٹری دفاع ریٹائرڈ لیفٹیننٹ جنرل نعیم خالد لودھی کو ان کے عہدے سے برطرف کر کے کابینہ ڈویژن کی سیکرٹری نرگس سیٹھی کو سیکرٹری دفاع کا اضافی چارج دے دیا ہے۔

    سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کے مطابق اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سیکرٹری دفاع کو غیر قانونی سرگرمیوں اور قواعد کی خلاف ورزی پر ہٹایا گیا ہے اور ان کے اقدام سے ریاستی اداروں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا ہوئیں۔

    یاد رہے کہ وزارتِ دفاع نے متنازع میمو کیس میں سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں کہا تھا کہ پاکستان فوج اور آئی ایس آئی پر انتظامی کنٹرول ہے لیکن آپریشنل کنٹرول نہیں ہے۔

    اس پر وزیراعظم پاکستان یوسف رضا گیلانی قومی اسمبلی میں دیے گئے بیان میں کہا تھا کہ ریاست کے اندر ریاست قائم کرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی اور فوج سمیت تمام ادارے پارلیمان کو جوابدہ ہیں اور کوئی قانون سے بالاتر نہیں۔

    انہوں نے کہا کہ اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ پارلیمان کو جوابدہ نہیں ہے تو یہ اس کی غلط فہمی ہے اور یہ بات کسی طور پر قبول نہیں۔

    حوالہ ::
     
  12. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,903
    وزیرستان: امریکی ڈرون حملے میں تین ہلاکتیں

    پاکستان کے قبائلی علاقے شمالی وزیرستان میں حکام کے مطابق امریکی ڈرون طیارے کے حملے میں کم از کم تین شدت پسند ہلاک ہوگئے ہیں۔

    منگل اور بدھ کی درمیانی شب ہونے والا یہ حملہ رواں سال پاکستان کے قبائلی علاقوں میں پہلا امریکی ڈرون حملہ ہے۔

    گزشتہ سال چھبیس نومبر کو مہمند ایجنسی میں سلالہ کے سرحدی علاقے میں پاکستانی چوکیوں پر نیٹو کے فضائی حملے کے بعد امریکہ اور پاکستان کے مابین تعلقات میں کشیدگی کی وجہ سے ڈرون حملوں کا سلسلہ روک دیا گیا تھا۔

    مقامی انتظامیہ کے ایک اہلکار نے بی بی سی کے نامہ نگار دلاور خان وزیر کو بتایا کہ ڈرون طیارے نے شمالی وزیرستان کے صدر مقام میران شاہ میں شہر سے تین کلومیٹر دور مشرق کی جانب گورا قبرستان کے علاقے میں ایک مکان کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں تین مشتبہ شدت پسند ہلاک ہوگئے۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ حملہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب ہوا ہے۔

    اہلکار کا کہنا تھا کہ ڈرون حملے کا ہدف بننے والے مکان میں حافظ گل بہادر گروپ کے مقامی طالبان مقیم تھے لیکن ہلاک ہونے والوں کے بارے میں فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ آیا وہ مقامی تھے یا ان میں کوئی غیرملکی بھی شامل تھے۔

    وزیرستان کے مقامی لوگوں کے مطابق سلالہ کے علاقے میں پاکستان کی سرحدی چوکیوں پر نیٹو کے حملے کے بعد وزیرستان میں طالبان نظر آنے لگے تھے اور ان کی نقل و حرکت دوبارہ شروع ہوگئی تھی لیکن اب تازہ ڈرون حملے کے بعد طالبان ایک بار پھر زیرزمین جانے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔

    پاکستان کے قبائلی علاقوں میں کئی سالوں سے شدت پسندوں کے خلاف ڈرون حملوں کا سلسلہ جاری ہے تاہم سلالہ چیک پوسٹ پر حملے کے بعد یہ پہلا موقع تھا جب ڈرون حملوں کو روک دیا گیا تھا۔

    سلالہ حملے پر پاکستان کی حکومت نے سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے پاکستان کے راستے جانے والی رسد کو بھی بند کر دیا تھا۔

    قبائلی علاقوں میں گزشتہ کئی سالوں سے امریکی جاسوس طیاروں کے حملے ایک معمول بن چکا ہے۔

    امریکی غیر سرکاری اداروں کے اعداد و شمار کے مطابق وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقوں میں دو ہزار چار سے لے کر اب تک کل دو سو تراسی امریکی ڈرون حملے ہوچکے ہیں جن میں ہزاروں افراد مارے جا چکے ہیں۔

    پاکستان میں پہلا ڈرون حملہ اٹھارہ جون دو ہزار چار کو جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا کے قریب ہوا تھا جس میں طالبان کمانڈر نیک محمد مارے گئے تھے۔

    امریکی اداروں کے مطابق دو ہزار چار سے لے کر دو ہزار سات تک پہلے چار سالوں میں کل نو حملے ہوئے جبکہ دو ہزار آٹھ میں تینتیس، دو ہزار نو میں تریپن، دو ہزار دس میں سب سے زیادہ یعنی ایک سو اٹھارہ اور دو ہزار گیارہ میں ستر امریکی حملے ہوئے۔

    بی بی سی ۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں