صدر اوبامہ کی جانب سے حج اور عيد الأضحى کے موقع پر بيان

Fawad نے 'خبریں' میں ‏نومبر 7, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    صرف دعا کے مطلق شائد نہیں‌تھا، چلیں چھوڑیں
     
  2. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    سب ایک جیسے تو نہیں ہوتے۔ ڈھونڈنے سے ہی صحیح لوگ ملتے ہیں۔

    جی، میں تو قنوتٍ نازلہ پڑھوں گا، کیونکہ مجھے اس کی اہمیت سے انکارنہیں۔ باقی جہاں اعمال کی بات ہے، اور انہیں ٹھیک کرنے کی، تو وہ بندے اور اللہ کا معاملہ ہے۔
    اب قبول ہو رہی ہے یا نہیں، آپ کو اس کا کیسے پتہ ہے؟


    کیا کہنا چاہ رہے ہیں؟ سمجھ نہیں‌ لگی۔ کیا بندہ دعا کرنا ہی چھوڑ دے اعمال کو دیکھ کر؟؟؟؟
     
  3. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    بے شک مگر یہاں ان اعمال کی طرف رہنمائی کی بات کی جارہی ہے ۔۔۔

    آپ خود کہ رہے ہیں کہ آپ ایک قنوتٍ نازلہ کی بات کرتے ہیں۔ ہمارے تو اعمال کی وجہ سے پتہ نہیں کون کون سی دعائیں قبولیت کے درجے کو نہیں‌پہنچتیں
    بالفرض قبول ہوبھی گئیں ہیں تو پھر قنوت نازلہ پڑھنے پر آپ کو اصرار کیوں ؟؟؟ دعائیں قابول ہوئی ہیں تو اب شکریہ دعائیں کیوں نہیں ؟؟؟
    آپ کے الفاظ ہی میں اس کا جواب ہے ۔۔۔ الفاظ کو آگے پیچھے کیجئے ۔۔۔ اعمال کو دیکھ کر نہیں دعاء کی قبولیت کے آثار نہ دیکھ کر اعمال کی طرف متوجہ ہوں تاکہ دعاء قبول ہو ۔۔
     
  4. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    میری بات میں "پتہ نہیں" کنفرم بات نہیں ہے۔
    مگر آپ کی بات سے تو ہر چیز کنفرم لگ رہی ہے۔ غور کریں نیچے:

    قبول کرنے والی اللہ کی ذات ہے۔ قنوتٍ نازلہ بھی قبول کرنے والی اللہ کی ذات ہے۔ باقی اعمال کی بات پر پھر یہی کہوں گا کہ وہ اللہ اور بندے کا معاملہ ہے۔ آپ کیوں کسی کو قنوتٍ نازلہ پڑھنے سے روک رہے ہیں؟ اگر یہی بات ہوتی تو بس پھر تو ہم کسی کی ہدایت کے لیے بھی دعا نا کرتے۔ نہ کفار کے لیے، نہ مسلمانوں کے لیے۔

    بہت عجیب بات۔۔۔۔۔
     
  5. ابن قاسم

    ابن قاسم محسن

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2011
    پیغامات:
    1,717
    اللہ تعالیٰ سیر حاصل حرکت کی توفیق دے۔
    شایداوبامہ بے خبر ہیکے، انکی مبارک باد پر یہاں بحث چل رہی ہے۔
     
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,903
    نہیں صحیح سوچ کا فقدان نہیں‌۔ اصل میں نے نظام الدین - دلی کی بات کر دی تھی ۔ آپ کو بری لگی ، اس پر معذرت خواں ہو ۔ اصل میں صحیح سوچ کا فقدان یہاں سے شروع ہوتا ہے ۔ جس کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔


    نہیں ، اوبامہ بلکل بے خبر نہیں‌، اگر اوبامہ بے خبرہوتا تو فواد مبارکبادی تھریڈ نہ لگاتا ۔ اسے معلوم ہے کہ اس کے لیے ہدایت کی دعا کرنے والے موجود ہیں -
     
  7. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    عکاشہ بھائی معذرت کے ساتھ اطلاعا عرض ہے کہ آپ کے ان جملوں کا مجھ سے کچھ بھی تعلق نہیں ۔۔۔۔۔ یہ دل کی بات تھی ۔۔۔ اچھا ہوتا آپ شاید یا غالبا جیسے الفاظ استعمال کرتے ۔۔۔۔ یا یہ کہتے کہ میں سمجھتا ہوں ۔۔۔۔۔ وغیرہ الفاظ
    آپ نے تو کنفرم بات کہہ دی ۔۔۔ جب کہ میرا حال یہ ہے کہ میں آپ کے ان جملوں پر کان تک نہیں دھرا ۔۔۔۔
    اللہ خوب جانتا ہے اللہ کا حوالہ دے رہا ہوں آپ کو ۔۔۔ کہ مجھے آپ کے یہ الفاظ (امریکہ ایک دو ڈرون حملے نیو دلی پر بھی کردے ، پھر دیکھتے ہیں‌کہ بددعا نکلتی ہے یا دعا ۔) بُرے نہیں لگے ۔۔۔۔
    بارک اللہ فیک ۔۔۔۔
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 25, 2011
  8. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    آپ کی راۓ سے مجھے ايک کہاوت ياد آ گئ جس کے مطابق شيطان کی سب سے بڑی خوبی يہ ہے کہ وہ يہ يقين دلانے ميں کامياب ہو جاتا ہے کہ اس کا کوئ وجود ہی نہيں ہے۔

    يہ بات خاصی دلچسپ ہے کہ ايک جانب تو آپ بغير کسی ثبوت، منطق اور حقائق کو يکسر نظرانداز کر کے امريکہ کی مسلمانوں کے خلاف مبينہ مہم جوئ پر يقين کرنے کو تو تيار ہيں ليکن اس کے برعکس آپ دہشت گردی کے عفريت اور اس کی حقيقت کو تسليم کرنے اور ان افراد کے وجود سے انکاری ہیں جو اپنے خونی افکار اور دقيانوسی سوچ کی بدولت دنيا بھر ميں مسلم اور غيرمسلموں کو بغير کسی تفريق کے قتل کر رہے ہيں۔

    آپ بدستور مسلمانوں کے خلاف امريکی سازشوں کا تذکرہ کرتے ہيں ليکن يہ تلخ حقيقت نظرانداز کر ديتے ہيں کہ دہشت گرد تو جرائم پيشہ لوگ ہیں جو اپنے مذموم مقاصد کے ليے بے دريخ قتل کرتے ہيں اور پھر مذہبی نعرے لگا کر اپنے جرائم کی توجيہہ پيش کرنے کی کوشش کرتے ہيں۔ جب بھی امريکی حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی جانب سے کسی دہشت گرد کو ہلاک يا گرفتار کر کے کاميابی حاصل کی جاتی ہے تو اس سے صرف غير مسلموں کی جانيں ہی محفوظ نہيں ہوتيں بلکہ مسلمان بھی محفوظ ہوتے ہيں۔ دنيا بھر ميں دہشت گردی کی وارداتوں ميں ہلاک ہونے والے افراد کے کوائف اور متعلقہ اعداد وشمار پر ايک سرسری نظر ڈالنے سے ہی اس دليل کی توثيق ہو جاتی ہے۔ دہشت گردوں نے غير مسلموں سے کہيں زيادہ مسلمانوں کا خون بہايا ہے۔

    اس حقيقت کا ادارک سعودی عرب سميت تمام کليدی مسلم ممالک کی حکومتوں کو بھی ہے۔ يقينی طور پر ايسا ہرگز نا ہوتا اگر آپ کے غلط دعوے کے مطابق امريکی مہم محض مسلمانوں کو قتل کرنے تک ہی محدود ہوتی۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    Incompatible Browser | Facebook
     
  9. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    خود امريكى حكومت مذہبی نعرہ لگا كر بدترين دہشت گردی كر رہی ہے ۔ كروسيڈ کا نام لے كر دوسرى قوموں پر ہيل فائر، ڈیزی کٹر ، شینوک اور ڈرونز سے حملہ آور ہونے والى خونى امريكى قوم خود كو امن پسند سمجھتی ہے واہ ! كيا كمال خوش فہمی ہے ۔ اس كے مانگے تانگے کے جملہ چمچے جتنا چاہيں زور لگائيں اس درندے كى باچھوں سے ٹپکتا خون سب كو نظر آ رہا ہے ۔ تم لوگوں كى موت تم كو ايشيا تك لائى ہے برطانوى بھی یہيں کفن كى تلاش ميں آئے تھے اس علاقے ميں دنيا كى بہترين کپاس اگتی ہے کپڑا اچھا بنتا ہے ، ليكن ان شاء اللہ امريكى عرياں تہذیب کے سپاہی يہاں بےگورو كفن لاشوں كى صورت ميں کھلے عام سڑيں گے ۔ متبادل نوكرى كا بندوبست كر لو ۔ تمہاری "پر پوسٹ پےمنٹ" والى نوكرى جلد ختم ہونے والى ہے۔ اللہ کرے تمہارا سارا خاندان كسى امريكى امن پسند ميزائيل كا شكار ہو تا کہ تم کو پتہ چلے انسان كى جان كتنى قيمتى ہوتی ہے اور خون كا مطلب كيا ہوتا ہے؟
     
  10. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    فواد صاحب ، آپ کی بات پڑھ کر یہ خیال آ گیا کہ امریکہ شیطان کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ وہ دہشت گردی بھی کر رہا ہے پر پھر بھی یہ باور کرانے میں کامیاب ہے کہ وہ دہشت گرد نہیں ہے۔
    یہ امریکی ڈرامہ بازی کا کھیل کھیل کر آپ کوکوئی فائدہ نہیں ہونا۔
     
  11. ابن حسیم

    ابن حسیم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 1, 2010
    پیغامات:
    891
    دہشت گردی تو یہودونصاری کا صرف ایک ٹوپی ڈرامہ ہے۔وہ خود دہشت گردی کرتے ہیں اور بدنام مسلمانوں کو کرتے ہیں۔ اگر آپ لوگ کبھی انکے ریسرچ پیپرز پڑھیں تو آپ دیکھیں گے کہ انکے نزدیک دہشت گرد، جہادی، شدت پسند، کالعدم تنظیم، سلفی وغیرہ ایک ہی کریکٹر کے مختلف نام ہیں۔رہی بات ابامہ کو دعوت اسلام دینےکی تو بھائ آپ ابھی بہت بھولے ہیں اس ضمن میں آج جو حویلی کا راز شئر کیا ہے اسے پڑھیں۔ آپ شائید یہ کہیں کہ یہ کہانی منگھڑت ہے تو پھر آپ کبھی رینڈ سائیٹ کو وزٹ کریں۔انہیں اسلام کی دعوت دینی ہے جو خود اسلام کا مطالعہ مسلمانوں سے زیادہ کرتے ہیں۔۔رہی بات مسلمانوں کے قائیدین کی تو اس بات سے بالکل میں بھی اتفاق کرتا ہوں کہ واقعی ہر کسی کو اپنی امارت اور چوہدراہٹ کی لالچ ہے۔ کبھی کبھار تو واقعی بڑا دکھ ہوتا ہے انکی ایک دوسرے پر نکتہ چینی دیکھ کر۔۔۔ لیکن وہ وقت دور نہیں جب دنیا کے کونے کونے میں اسلام اور توحید کا جھنڈا لہرائے گا انشاءاللہ۔
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 29, 2011
  12. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    عالمی پروپگنڈہ ازم کے سوپر پاور بھی تو یہی امریکہ یا اسکے حلیف ہیں‌تب یہی لوگ اعداد و شمار بھی پیش کرتے ہیں، کہ دہشت گردی کے منجملہ واقعات میں‌ مسلمان ہی پیش پیش رہے ہیں۔۔۔!!! یہ ڈکٹیشنز آپ لوگوں‌کو بھی ملتے ہیں‌کہ ، جو کہ فریضہ کے طور پر انجام دیا جاتا ہے۔۔۔!

    امن پسندی صرف ان جھوٹے پروپگنڈہ کی حد تک ہی ہے، بس جناب اعلی ورنہ ، واقعی حقیقت پسندانہ تجزیہ کیا جائے ، تب وہ مسلم افراد جو اس سو کالڈ دہشت گردی میں ملوث ہیں، اس میں‌وہ لوگ، زبردستی مبتلا کردئے گئے ہیں‌، ایک معصوم بچے کے سامنے اسکے گھروالوں‌کی عزت و عفت، اور پھر جان سے کھیلا گیا، تب اسکے ذہن پر جو منفی اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، اس حد تک، مسلمز اس سوکالڈ دہشگ گردی میں‌مبتلا کئے گئے ہونگے، جو کہ ہم خود مانتے ہیں‌کہ، مسلمان اگر کہیں‌کسی بھی قسم کی دہشت گردی میں‌ملوث ہیں‌، انہیں‌ان سے تائب ہونا چاہئے۔۔۔!!، لیکن وہ دہشت گرد جو کہ ساری دنیا میں خود کو شرفا کے طورپر ظاہر کرتے ہیں، ہر معاملے میں‌دہشت پھیلا رکھی ہے، امن کے نام پر، ویلوز کا خاتمہ، جہاں‌ماں اور باپ، اپنے بچوں‌پر سخت نگاہ بھی رکھیں تو جیلوں‌کی سلاخوں‌کے پیچھے نظرآئیں، جہاں ریپ، اور کسی بھی قسم کی بدکار ی ہو اور فریقین راضی بہ رضا ہوں تب یہ بھی امن پسند ٹھولہ کے لئے راضی بہ رضا کام ہے یہ بھی تو ویلوز کا ختم کرنے کی دہشت گردی وہ اپنے ملکوں‌میں‌بھی کھیل رہے ہیں اور عالمی لیول پر بھی یہ ننگے کام غیر قانونی نہیں‌ہیں، امن پسندی ہے، لیونگ ٹو گیدر ایک ماڈرن نیم ہے ایسی چیزوں‌کی پیداوار کا۔۔۔! اب یہ لوگوں‌کے پروپگنڈہ ہی ہیں‌کہ مسلم بیلٹ دہشت گری میں آگے آگے ہے، جب کہ سازش کے طور پر جو داوو چلے جارہے ہیں اس پر کون نگاہ کرے۔۔۔! ممالک کے ممالک ، صرف نام نہاد آقا امریکہ کو خدا نہ ماننے پر صفحہ ہستی سے مٹ جاتے ہیں، بائی دا وے اسکا مطلب اپنی کامیابی نہ سمجھیں، اللہ کی رسی بس دراز ہے، کبھی بھی کن فیکون کی محتاج ہے، چنانچہ، جس امن کا یہ ٹھولے دعوی‌کرتے ہیں‌بنیادی طور پر وہ امن ، امن نہیں‌شر اور غلاظت ہے، جہاں‌شخصی زندگیوں‌کی آزادی کو امن پسندی اور، نام نہاد خدائی سے انکار کو دہشت گردی سے تعبیر کرکے، مسلمانوں‌کے بدنام کرنے ،اور پھر مسلمانوں‌ہی کو اسکا ذمہ دار ٹہرانے کی جو شیطانی سازشیں‌چلتی ہیں، ہمارا ایمان ہے یہ صرف مسلمانون‌کے لے ایک آزمائش ہے، ورنہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ہم مسلمانوں‌کے لئے جتنا جینا اہم اور خوشیوں‌کا ضامن ہے، اس سے اچھا، ایمان کی موت مرنا، اہم ترین اور مستقل خوشیوں‌کی ضمانت ہے۔۔۔یہ رب العالمیں کا وعدہ ہے ہے۔ باری تعالی فرماتے ہیں، جسکا مفہوم ہے " ہم نے تمہاری جانوں‌اور مالوں‌کو جنت کے بدلے خرید لیا ہے" ہمیں‌تو الحمدللہ ، یقین ہیں‌کہ ہم کامیاب ہے، اور سارے عالم میں‌پیش آنیوالے مظالم بس مسلمانوں‌کے لئے امتحان اور ہماری آزمائشوں‌کے حصے ہیں۔
     
  13. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    یہی ہمارا ایمان ہے، اور یہی ایمان ہی ہمیں‌ہر قسم کے حالات پیش آنے کے باوجود ، کسی بھی قسم کی مایوسی سے دور رکھتا ہے، ورنہ انسان ہے، پریشان ہونا ایک فطری عمل ہے، لیکن جب یہ یقین کامل ہو کہ، یہ آزمایشیں‌ہمارے لئے ایک طرف تو امتحان ہے، ہم میں اکاونٹیبلٹی بھی پیدا ہوگی، جنرل حالات میں‌مایوسی کی کوئی بات نہیں۔۔۔۔!!! بس دعا اور ہماری طرف کی جو کششیں‌ہونی چاہئے، اس سے ہمیں غافل نہیں‌رہنا چاہئے۔۔۔۔!
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں