نیٹو حملے میں 26 اہلکار شہید

جاسم منیر نے 'خبریں' میں ‏نومبر 26, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    وفاقى كابينہ نے دفاعى كميٹی کے تمام فيصلوں كى توثيق كر دى
    نيٹو سپلائى بند رہے گی
    امريكا كو 15 دن ميں شمسى ائير بيس خالى كرنے كا نوٹس بھجوا ديا گيا( وہ كر دے گا نا ؟ )
    پارليمنٹ كا مشتركہ اجلاس بلايا جائے گا ( پچھلے مشتركہ اجلاس ميں كون سا تير مارا تھا؟ )
    پاكستان بون كانفرنس ميں احتجاجا شركت نہيں کرے گا ( گزشتہ سال سے اس كى تيارى پر اٹھنے والے اخراجات كا حساب كون دے گا )
    "آئندہ" جارحيت كا منہ توڑ جواب ديا جائے گا ( يعنى يہ والى ہضم كر لى جائے گی)
    امريكہ نے سٹیفن كلارك كو حملوں كا تحقيقاتى افسر مقرر كرديا رپورٹ 23 دسمبر تك ملے گی ۔
    يعنى ان طفل تسليوں سے قوم كے جذبات كے سرد ہونے كا نتظار كيا جائے گا اور پھر اسى تنخواہ پر كام جارى رہے گا .....

    بحيثيت پاكستانى .... كسى كو ان حالات ميں اميد كى كوئى كرن نظر آتى ہے؟
     
  2. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    ڈرون حملے ہوں، یا موجودہ حملہ، جب تک امریکہ امداد پاکستان کو چلتی رہیگی، یہ سب چیزیں ہوتی رہینگی، مزید کسی بھی مسلم ملک کو کسی بھی مسلم ملک کے لئے کبھی بھی "بیس" فراہم کرنے کی غلطی نہیں‌کرنی چاہئیے (میرا اشارہ افغانستان پر مسلط کردہ جنگ کی جانب ہے)، جہاں پاکستان کو بیس بناکر، امریکہ اور اسکے شیطانی حلیف افغانستان کو نشانہ بنائے ہوئے ہیں ، جو کہ کچھ بھی ہو، ایک مسلم ملک ہے، وہاں‌ہونے والی بد امنی کے ذمہ دار یہی نام نہاد امن پسند ہی ہیںِ۔، مزید یہ بات کہ، آج ملٹری پر حملہ ہوا، لیکن ڈرون حملو ں‌میں‌پسنے والی معصوم عوام بھی ، اور شہدا بھی، ہمیشہ سراپا سوال رہینگے، انکی آہ عرش تک ضرور جائیگی۔۔۔!!!
     
  3. sfahad10

    sfahad10 -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 27, 2010
    پیغامات:
    265

    جی نہیں‌
    ابتدا میں تو لگتا تھا کہ کوئی ایسا قدم اٹھائیں گے کہ دشمن کو یہ پتہ لگ جائے کہ ہم بھی عزت دار لوگ ہیں
    لیکن
    اب کہہ رہے ہیں‌کہ جب تک نیٹو معافی نہ مانگے ہماری طرف سے کُٹی ہے۔
     
  4. خادم خلق

    خادم خلق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 27, 2007
    پیغامات:
    4,946
  5. اداس ساحل

    اداس ساحل -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جون 28, 2010
    پیغامات:
    183
    نیٹو کے اس واقعے میں جو اللہ مرحومین کی مغفرت فرمائے۔ آمین
     
  6. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    ہاں ، اور امریکہ اور اس کے حواری دہشت گردوں کو کھلی چھٹی دیں کہ وہ اپنی ایسی دہشت گردی کی کاروایاں جاری رکھیں، کبھی ڈرون حملے کریں اور معصوم لوگوں کو ماریں، کبھی سیکیورٹی فورسز کو، اور کوئی بھی کچھ کہنے والا نہ ہو۔ یہی فواد صاحب کی بات کا خلاصہ ہے۔
     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    پاکستان نے شمسی ایئربیس کا کنٹرول سنبھال لیا

    امریکا اور نیٹو افواج نے بلوچستان میں واقع شمسی ایئر بیس خالی کر دیا۔ ایئربیس پر موجود تئیس فوجی آلات اور دیگر سامان کے ساتھ سی سترہ طیاروں کے ذریعے افغانستان دفع ہوگئے
    AAJ News - Breaking News, Pakistan News, National, Business, Opinion, Editorials, Fashion
    نیٹو کو رسد بند ہوئے سولہ روز ہوگئے
    نیٹو کو رسد بند ہوئے سولہ روز ہوگئے - AAJ News URDU
     
  8. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    حقيقت يہی ہے کہ پاکستانی فوج کسی بھی موقع پر ہدف نہيں تھی اور جانوں کا ضياع يقينی طور پر المناک اور افسوس ناک ہے اور يہی وجہ ہے کہ صدر اور امريکی سفارت کار سميت تمام سينير امريکی حکومتی عہديداروں نے اس واقعے کے حوالے سے اپنے جذبات کا اظہار کيا ہے۔


    جو راۓ دہندگان يہ سوچ رکھتے ہيں کہ اس قسم کا واقعہ کسی دانستہ کوشش کے بغير پيش آ ہی نہيں سکتا انھيں چاہيے کہ "فرينڈلی فائر" کے واقعات کے حوالے سے اعداد وشمار کا جائزہ ليں۔

    يہ امر کہ دنيا بھر ميں اس قسم کے واقعات اتنے تواتر کے ساتھ پيش آ چکے ہيں کہ اس حوالے سے ايک تکنيکی اصطلاح بھی موجود ہے، حقائق کو واضح کرنے کے ليے کافی ہے۔ تاريخ کے اوراق ميں ايسے سينکڑوں واقعات موجود ہيں جن ميں دشمن کی جانب کيا جانے والا حملہ غلطی سے اپنے ہی نقصان کا پيش خيمہ ثابت ہوا۔ تاريخی طور پر ايسے واقعات کا اکثر محرک دشمن کا قريب ہونا رہا ہے۔ پہلی اور دوسری جنگ عظيم ميں ايسے واقعات عام تھے جب افواج ايک دوسرے کے قريب ہوا کرتی تھيں اور خطرناک ہتھياروں کا استعمال کيا جاتا تھا۔


    حاليہ جنگوں بشمول افغانستان ميں جاری لڑائ ميں بھی ايسے کئ واقعات رپورٹ ہوۓ ہيں جہاں دوست اور اتحادی افواج پر غلطی سے حملے ہوۓ، اس مغالطے ميں کہ وہ دشمن کی افواج ہيں۔ ايسے معرکے جن ميں بہت زيادہ نقل وحرکت اور کئ اقوام کی افواج شامل ہوں ايسے واقعات کا سبب بن سکتے ہيں جيسا کہ پہلی گلف وار کے دوران پيش آنے والے واقعات سے ظاہر ہے۔ يا پھر عراق کی جنگ کے دوران ايک برطانوی جہاز کی امريکی پيٹرياٹ کے ذريعے تباہی کی مثال اس ضمن ميں دی جا سکتی ہے۔


    فرينڈلی فائر کے واقعات کے نتيجے ميں اموات کے واقعات کوئ نئ بات نہيں ہے۔ بدقستمی سے يہ جنگوں کا حصہ رہا ہے۔

    ماضی قريب سے اس ضمن ميں کچھ مثاليں

    دسمبر 5 2003 کو ايک امريکی بی – 52 طيارہ اپنے ہدف سے چوک گيا اور غلطی سے ان زمينی فوجيوں پر بم گر گيا جو طالبان کے ٹھکانوں کی جانب رہنمائ کر رہے تھے۔ اس واقعے ميں 3 امريکی فوجی اور 5 افغان فوجی ہلاک ہو گۓ۔ اس کے علاوہ 40 افراد زخمی بھی ہوۓ۔ افسران کا يا ماننا تھا کہ بی – 52 طيارے کو ہدف کے حوالے سے جو معلومات فراہم کی گئ ان کی ترسيل ميں خرابی سے يہ واقعہ پيش آيا۔



     

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    Incompatible Browser | Facebook


     
     
  9. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    فورمز پر بارہا يہ دليل دی جاتی ہے کہ پاکستان کو زبردستی امريکہ کی جنگ ميں دھکيل ديا گيا، باوجود اس کے کہ ايسے بے شمار شواہد موجود ہيں جن سے اس نظريے کی نفی ہو جاتی ہے۔ جو جذباتی راۓ دہنگان انتہائ شد و مد کے ساتھ گزشتہ چند برسوں کے دوران پاکستان ميں ہونے والی ہلاکتوں کا حوالہ ديتے ہيں وہ اس حقيقت کو فراموش کر ديتے ہيں کہ يہ دہشت گرد گروہ اور ان کے پيروکار ہيں جو اس خون خرابے اور بربادی کے ذمہ دار ہيں۔

    يہ دعوی کرنا بالکل غلط ہے کہ دہشت گرد صرف امريکی فوجيوں کو ہی اپنا نشانہ بنا رہے ہیں۔ پاکستان کی سرحدوں کے اندر افواج پاکستان کی کاروائيوں کا مقصد امريکہ"امريکی آقاؤں" کو خوش کرنا ہرگز نہيں ہے۔ دنيا کی کوئ بھی فوج اپنے وسائل اور اپنے فوجيوں کی جان کی قربانی صرف اپنے عوام کے بہترين مفاد میں ہی صرف کرتی ہے۔

    پاکستان کی سرحدوں کے اندر پاکستانی فوج کے خلاف کاروائ ميں مصروف ازبک جنگجوؤں کی جانب سے ريليز کردہ اس ويڈيو پر ايک نظر ڈاليں۔ جس ہيلی کاپٹر کو نشانہ بنايا گيا اس ميں پاکستای فوجی سوار تھے اور اس پر پاکستان کی فوج کا لوگو آويزاں تھا۔ اس واقعے ميں کسی امريکی فوجی کی ہلاکت نہيں ہوئ تھی۔

    اسی طرح حاليہ دنوں ميں کابل کی مسجد ميں نمازيوں کو نشانہ بنايا گيا اور پھر اسی نوعيت کی کاروائ پاکستان ميں بھی کی گئ۔

    ميرا آپ سے يہ سوال ہے کہ پاکستان کی فوج کا ان دہشت گرد گروہوں کے خلاف کيا ردعمل ہونا چاہيے جو نا صرف يہ کہ پاکستان کی سرحدوں کے اندر غير قانونی کاروائيوں ميں ملوث ہيں بلکہ پاکستان کے فوجيوں اور شہريوں کو نشانہ بنا رہے ہيں؟

    کيا آپ واقعی سمجھتے ہيں کہ ان عناصر کو اپنے حملے جاری رکھنے کی کھلی چھٹی دينا درست حکمت عملی قرار دی جا سکتی ہے؟

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    Incompatible Browser | Facebook
     
     
     
    Last edited by a moderator: ‏دسمبر 15, 2011
  10. جاسم منیر

    جاسم منیر Web Master

    شمولیت:
    ‏ستمبر 17, 2009
    پیغامات:
    4,636
    فواد یہ بے ہودہ اور فضول لنک یہاں مت شئر کیا کرو۔ ایسے لنک اپنے پاس ہی رکھو تو بہتر ہے۔ بعید نہیں کہ یہ بھی امریکی فوجیوں نے ہی کیا ہو۔ اور اس ویڈیو سے یہ تو یہ بھی پتہ نہیں چلتا کہ واقعی ازبک لوگوں نے پاکستانی ہیلی کاپٹر گرایا ہے یا کوئی اور۔ خود ساختہ ویڈیو لگتی ہے۔
    باقی رہی دہشت گردی کی بات تو بات پھر وہیں آ کر ختم ہوتی ہے کہ دہشت گردی کی اصل وجہ امریکی پالیسیاں ہیں، اور کچھ نہیں۔ ۔ آپ نے تو یہاں ایک "رٹی رٹائی" بات کرنی ہوتی ہے، لیکن بات وہی ہے کہ امریکہ وقتا فوقتا جو پاکستان پر حملہ کرتا ہے یا کرواتا ہے، اس کے ارادے کھل کر سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔ آپ کو بھی پتہ چل جائے گا ان شاءاللہ ، انتظار کرو کچھ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  11. وردۃ الاسلام

    وردۃ الاسلام -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 3, 2009
    پیغامات:
    522
    وطن پرستی میں قوم کس قدر مبتلا ہو گئی ہے۔۔۔۔۔جب پاکستانی فورسز والے مرے ،کفر کا نظام نافذ کرنے میں معاون افراد مرے تو وہ مجاہد،شہید کہلائے اور امت کے سردار ،مجاہدین سے سرتاج اور امت کی حفاظت کرنے والے شہید کیے جائیں تو انہیں برے برے القاب نوازے گئے۔۔۔
     
  12. خادم خلق

    خادم خلق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 27, 2007
    پیغامات:
    4,946
    لا حول ولا قوۃ الا باللہ
    لوگوں کو وطن پرستی سے منع کرتی ہیں اور خود شخصیت پرستی کرتی ہیں ۔
    اتامرون الناس بالبر وتنسون انفسکم
    آپ کے سو کالڈ مجاہد میدان جہاد میں ہونے کے بجائے ایبٹ آباد کے صحت افزا مقام پر چھٹی گذار رہے ۔ نعوذ باللہ عن ذلک

    اور اس سے پہلے بھی یہاں عرض‌ کر چکا ہوں کہ شہید کون ہے فیصلہ اللہ تعالٰی نے کرنا ہے ۔ جو بھی کسی کو شہید لکھے ساتھ " ان شاء اللہ " کا اضافہ کرے ۔ کسی کے کہنے سے کوئی مردار یا شہید نہیں ہوگا ۔
     
  13. فرقان خان

    فرقان خان -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 4, 2010
    پیغامات:
    208
    شہید وہ لوگ ہیں جو امت کو امریکہ سے بچاتے ہوئے مارے گئے، نہ کہ وہ جو امریکہ کو امت سے بچاتے ہوئے مارے جائیں.

    یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے عرب و عجم کے مجاھدین کو طاغوت اکبر سے بچانے کے لیے اپنی ہر ممکن کوشش کی اور دن رات ایک کر دیے، اب یاد آرہا ہے کہ وہ تو کسی کا بھی نہیں ہے.

    ہور چوپو
     
  14. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    اگر ميں آپ کی دليل کی منطق سمجھ سکا ہوں تو اس کے معنی يہ ہوۓ کہ وہ دہشت گرد جو سکولوں کو بموں سے تباہ کر رہے ہيں اور جنازوں، مسجدوں، ہسپتالوں اور بازاروں پر خودکش بمباروں سے حملے کر رہے ہيں وہ اس ليے درست ہيں کيونکہ وہ تو محض امريکی پاليسيوں سے اختلاف کر کے اپنے غم وغصے کا اظہار کر رہے ہيں۔ آپ کيسے امریکہ کو مورد الزام قرار دے کر ان قاتلوں کو بری الذمہ سمجھ رہے ہيں جو روزانہ پاکستانيوں اور مسلمانوں کا قتل عام کر رہے ہيں؟

    يہ امريکی حکومت نہيں بلکہ القائدہ اور اس کے چيلے ہيں جو کم سن بچوں کا برين واش کر کے انھيں ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے مسلمانوں کے خلاف بطور ہتھيار استعمال کر رہے ہيں۔ آپ کی دليل اس ليے بھی درست نہيں ہے کہ اسامہ بن لادن اور اس کے حمايتيوں نے دہشت گردی کی جس مہم کا آغاز کيا تھا اس ميں ہزاروں کی تعداد ميں امريکی فوجی اور شہری بھی ہلاک ہو چکے ہيں۔

    دانستہ اور بلا کسی تفريق کے شہريوں کا بے دريخ قتل کبھی بھی ہماری پاليسی کا حصہ نہيں رہا لیکن دوسری جانب دہشت گرد تنظيموں نے بارہا مسلمانوں سميت عام شہريوں کے قتل کی توجيہات پيش کی ہيں۔ انھوں نے متعدد بار پاکستانی فوجيوں اور شہريوں کو ہلاک کيا ہے اور مسجدوں پر حملے کيے ہيں۔ کيا ان حملوں کے ليے امريکہ کو قصوروار قرار دينا درست ہے؟

    اس میں کوئ شک نہيں کہ امريکی شہريوں کی حفاظت اور ان کی فلاح و بہبہود امريکی حکومت کی اہم ذمہ داريوں اور فرائض میں شامل ہے۔ ہماری خارجہ پاليسيوں سے متعلق اہم فيصلے ہماری شہريوں کی حفاظت کے بنيادی اسلوب کو مدنظر رکھتے ہوۓ ہی کيے جاتے ہیں۔ مگر کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ اس بنيادی مقصد کے حصول کے لیے دنيا میں زيادہ سے زيادہ دشمنوں کی تعداد ميں اضافہ سود مند ہے يا ديگر ممالک کے ساتھ عالمی سطح پر طويل المدت بنيادوں پر ايسے تعلقات استوار کرنا زيادہ فائدہ مند ہے جس سے تمام فريقین کے ليے باہم مفادات پر مبنی يکساں مواقعوں کا حصول ممکن ہو سکے؟

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    Incompatible Browser | Facebook


     
     
  15. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    انہيں سكول نظر آ جاتے ہيں ملك كے ملك جلتے نظر نہيں آتے ؟ عقل كے اندھے ۔
     
  16. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

     غلط دعوؤں کی بجاۓ اس واقعے کے حوالے سے آپ امریکی وزارتِ دفاع کے بيان کو پڑھیں، يہ المناک واقعہ دانستہ طور پر نہیں ہوا۔ اس بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سرحد پر قائم پاکستانی اور امریکی رابطہ مراکز کے درمیان رابطے اطمینان بخش نہ ہونے کی وجہ سے قیمتی جانوں کا نقصان ہوا ہے اور ہمیں اس پر بہت افسوس ہے۔ ہم پاکستان کے لوگوں، حکومت پاکستان ، ہلاک اور زخمی ہونے والے فوجيوں اور ان کے خاندانوں سے مخلصانہ تعزيت کا اظہارکرتے ہيں۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    Incompatible Browser | Facebook
     
  17. خادم خلق

    خادم خلق -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 27, 2007
    پیغامات:
    4,946
    فؤاد صاحب پہلے اپنا نام ٹھیک سے لکھنا سیکھ لیں پھر ہی کوئی دلائل دیجیئے گا اپنے آقا کے دفاع میں ۔
     
  18. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    امريکی حکومت پاکستانی فوجيوں کی ہلاکت پر دکھ اور تکليف کے جذبات اور ان کے اظہار کو تسليم بھی کرتی ہے اور ان کو سمجھتی بھی ہے۔ ميں نے فورمز پر بارہا يہ کہا ہے کہ پاکستانی فوجی کسی بھی وقت مطلوبہ ہدف نہيں تھے۔ يہ دونوں جانب سے غلطيوں، روابط ميں کمزوری اور ہم آہنگی ميں فقدان کے باعث يکے بعد ديگرے واقعات کے تسلسل کا نتيجہ تھا جو اس اندوہناک حادثے کا سبب بنا۔

    امريکی محکمہ دفاع کی جانب سے اس واقعے کی تفتيش کے حوالے سے جو رپورٹ شائع کی گئ ہے، وہ راۓ عامہ، ميڈيا تبصروں يا کسی تاثر کی بنياد پر نہيں تيار کی گئ ہے۔

    اس رپورٹ کا مقصد ان حقائق اور حالات کی حقيقت جاننا تھا جو اس واقعے کا سبب بنے تا کہ مستقبل ميں ايسے واقعات کو روکا جا سکے۔

    رپورٹ سے يہ واضح ہو گيا ہے کہ امريکی فوجيوں کو جو معلومات ميسر تھيں، ان کی بنياد پر اپنے دفاع ميں اس وقت کاروائ کی جب ان پر فائر کيا گيا۔ اس ضمن ميں ايسی کوئ دانستہ اور جان بوجھ کر کوشش نہيں کی گئ کہ ايسے علاقے يا افراد کو ٹارگٹ کيا جاۓ جو پاکستانی فوج سے منسلک تھے۔ ميں يہ بھی واضح کر دوں کہ جب اس حقيقت کا ادراک ہوا کہ پاکستانی فوجی علاقے ميں موجود ہيں تو زمين پر فوجی قيادت نے فوری طور پر فوجی کاروائ روک کر پيچھے ہٹ جانے کا حکم جاری کيا۔

    امريکی فوجی قيادت اور نيٹو کمانڈرز نے قيمتی جانوں کے ضياع اور پاکستانی اور امريکی فوجوں کے درميان مناسب روابط کی کمی پر گہرے افسوس کا اظہار کیا جو اس عظيم نقصان کا سبب بنا۔ اور اس حوالے سے ہم اپنی جانب سے کی جانے والی غلطيوں کی ذمہ داری قبول کرتے ہيں۔ رپورٹ ميں موجود تفصيلات سے يہ واضح ہے کہ واقعے کے دوران پاکستان اور امريکہ کے مابين رابطے کا شديد فقدان تھا۔

    حتمی بات يہی ہے کہ اس حادثے کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور ہم نے يہ واشگاف الفاظ ميں کہہ ديا ہے کہ جہاں تک ہماری جانب سے کی جانے والی غلطيوں کا تعلق ہے تو ہم اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہيں۔ دونوں جانب سے معلومات کی ترسيل کے نظام ميں کوتائ رہی۔ اور يہی معلومات کی کمی اس روز پيش آنے والے واقعے کا حتمی سبب بنی۔

    کسی بھی مخصوص واقعے کے حوالے سے دو الگ نقطہ نظر اور زاويے ہوتے ہيں۔ ليکن سب سے اہم بات يہ ہے کہ قابل تحقيق شواہد کو بنياد بنايا جانا چاہيے، نا کہ راۓ زنی کی بنياد پر فيصلے صادر کيے جائيں۔

    آپ اس رپورٹ کا تفصيلی مطالعہ اس لنک پر کر سکتے ہيں۔

    Defense.gov News Transcript: DOD News Briefing with Brig. Gen. Clark via Teleconference from Hurlburt Field, Fla.

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    Incompatible Browser | Facebook
     
  19. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    يہ نقطہ نظر يا سوچ کہ پاکستان ميں دہشت گردی اور خود کش حملوں کی لہر امريکی حکومت کی مرہون منت ہے محض ايک حيران کن دليل اور زمينی حالات اور حقائق سے دانستہ انکار ہی قرار ديا جا سکتا ہے۔ ملا عمر کے حاليہ بيانات جن ميں طالبان کے حملوں کے نتيجے ميں معصوم پاکستانی شہريوں کی ہلاکت کا اعتراف موجود ہے ان لوگوں کی آنکھيں کھولنے کے ليے کافی ہے جو بدستور بے سروپا سازشوں پر يقين کيے ہوۓ ہيں۔

    کوئ بھی دانش مند شخص ان درجنوں آڈيو ويڈيو پيغامات، ٹی وی انٹرويوز اور پريس کانفرنسوں کو کيسے نظرانداز کر سکتا ہے جس ميں دہشت گرد تنظيموں کے ليڈران نے برملا پاکستانی شہريوں کو نشانہ بنانے کی دھمکياں دی تھيں؟ کيا ان انٹرويوز ميں کسی امريکی يا بليک واٹر کے کسی ملازم کی موجودگی کی تصديق کی جا سکتی ہے؟

    الفاظ سے زيادہ عملی اقدامات کی اہميت ہوتی ہے۔ جہاں تک امريکہ کا تعلق ہے تو ميں اسلام آباد ميں امريکی سفارت خانے کی جانب سے جاری اس پريس ريليز کا ذکر کرنا چاہوں گا جس ميں امريکی حکومت کی جانب سے صوبہ سرحد کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ليے دی جانے والی حاليہ امدادی سامان کی تفصيل موجود ہے۔

    امريکی حکومت نے پشاور ميں منعقدہ ايک تقريب کے دوران پختونخواہ پوليس کے ليے چار بم ڈسپوزل وينز اور 100 سے زائد موٹر سائيکل فراہم کيں۔ يہ سامان امريکی سفارت خانے کے نارکوٹکس افيرز سيکشن کے تحت پوليس کی امداد سے متعلق پروگرام کے ضمن ميں مہيا کيا گيا۔ امريکہ کی جانب سے پاکستان کی سيکورٹی فورسز کے ليے ايسی امداد کی بے شمار مثاليں موجود ہيں۔

    امريکی کونسل جرنل ميری رچرڈز نے اس موقع پر پاکستان کی سيکورٹی فورسز کو خراج تحسين پيش کيا اور کہا کہ "ميں صوبہ خيبر پختونخواہ کی پوليس کی جرات اور عزم کی قدر کرتی ہوں۔ يہ ان کی اپنے فرائض سے گہری وابستگی ہی ہے جس کی بدولت پشاور اور صوبہ خيبر پختون خواہ کی لوگوں کی حفاظت مجرموں اور پرتشدد عسکريت پسندوں سے ممکن ہو سکی ہے۔ مجھے اميد ہے کہ جو سامان آج ہم مہيا کر رہے ہيں، اس کی بدولت مستقبل ميں يہ اپنے فرائض کی ادائيگی بحفاظت اور احسن طريقے سے کر سکيں گے"۔

    اب تک امريکہ کی جانب سے خيبر پختون خواہ کی پوليس کی صلاحيتوں ميں اضافے اور صوبے ميں سيکورٹی کی صورت حال بہتر بنانے کے ضمن ميں 75 ملين ڈالرز کی امداد فراہم کی جا چکی ہے۔ اس سے پہلے جو سازوسامان فراہم کيا جا چکا ہے اس ميں پوليس کی گاڑياں، آرمڈ کيرئير، جينريٹرز، سولر پينلز، ريڈيو، دوربين، فرسڈ ايڈ اور ديگر اشياء شامل ہيں۔

    Donations to the KPK Police - a set on Flickr

    کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ امريکی حکومت پاکستان ميں حکام بالا تک وسائل کی دستيابی کی يہ کاوشيں کر رہی ہوتی اگر ہمارے ارادوں اور نيت ميں فتور ہوتا؟ اس کے علاوہ يہ سوال بھی توجہ طلب ہے کہ اگر ہماری حکومت پر بے سروپا سازشوں کے حوالے سے جو الزامات لگاۓ جاتے ہيں ان ميں ذرا بھی صداقت ہوتی تو کيا پاکستان کے افسران بالا، قانون نافذ کرنے والی ايجينسياں اور مسلح افواج ہماری امداد اور فراہم کيے جانے والے سازوسامان کو قبول کر ليتے؟

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    http://www.state.gov
    Incompatible Browser | Facebook
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں