اِس ماہ کی خبروں کے روابط : (نومبر -دسمبر)-2011) ‏ ‏

ابوعکاشہ نے 'خبریں' میں ‏اکتوبر، 2, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,903
    بسم اللہ الرحمن الرحیم


    اس تھریڈ میں اکتوبر، 2011 کی خبروں کے روابط شیئر کیے جائیں گئے ۔ برائے مہربانی حالات حاضرہ کے قواعد و ضوابط کی پابندی کریں اور خبروں پر الگ تھریڈ شروع کرنے کی بجائے اس تھریڈ میں روابط پیش کرتے جائیں ۔۔ اس تھریڈ کو مثبت کردیا گیا ہے ۔ شکریہ ۔ ​
     
  2. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    "شخصی آزادی کے احترام میں"النہضہ" مُجھ پر حِجاب مسلط نہیں کر سکتی"

    تیونس میں حالیہ پارلیمانی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرنے والی اسلامی جماعت "النہضۃ الاسلامی" نے تیونس کے حلقہ نمبر 2 میں خواتین ونگ کے اہم عہدے کی ذمہ داری ایک غیر محجب خاتون رہ نما سعاد بن عبدالرحیم کو سونپی ہے۔

    دوسری جانب غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق جماعت نے مسز سعاد کو پارلیمنٹ کے اسپیکر کے عہدے کے لیے بھی نامزد کیا ہے۔ تاہم ان اطلاعات کی غیر جانبدار ذرائع یا جماعت کی جانب سے تصدیق نہیں کی جا سکی۔

    خیال رہے کہ سعاد بن عبدالرحیم جماعت "النہضۃ" کی ان غیر محجب حامی خواتین میں شامل ہیں جنہوں نے ملک میں جمہوریت کی خاطر حالیہ پارلیمانی انتخابات میں جماعت کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

    مبصرین کا خیال ہے کہ تیونس کی اعتدال پسند مذہبی جماعت کی جانب سے کسی غیر مُحجب خاتون کو اعلیٰ عہدے کے لیے نامزد کرنا جماعت کی ایک حکمت عملی قرار دی جا سکتی ہے۔ اس اقدام سے "النہضہ" نے معاشرے کے اُن طبقات کو مطمئن کرنے کی کوشش کی ہے جو نسبتا زیادہ آزاد خیال اور خواتین حقوق کے علم بردار سمجھے جاتے ہیں۔

    ادھر خود مسز سعاد کا بھی کہنا ہے کہ اسلامی جماعت النہضہ نے تیونس کے حلقہ دو میں انہیں اہم عہدے کے لیے اس لیے نامزد نہیں کیا ہے کہ اس کے ذریعے جماعت سیکولر طبقات کو اطمینان دلانا چاہتی ہے۔

    سعاد کا کہنا تھا کہ "النہضہ" نے انتخابی مہم کے دوران شخصی آزادیوں اور انسانی حقوق کی مکمل پاسداری کا اعلان کیا تھا۔ لہٰذا جماعت مُجھے جبرا حجاب کے اہتمام پر مجبور نہیں کر سکتی۔ ان کا کہنا تھا کہ جماعت لباس، نسل، قوم ، طبقے اور حسب ونصب میں کسی قسم کی تفریق نہیں کرتی اور وہ خواتین کے حقوق کی حامی ہے۔

    پارلیمنٹ میں اکثریتی جماعت بننے سے متعلق سوال پر سعاد عبد بن عبدا الرحیم کا کہنا تھا کہ جماعت انتخابات میں کامیابی کی مستحق بھی تھی کیونکہ اس کے ارکان نے خود کو ایک عملی جمہوری جماعت کے ارکان کے طور پر عوام کے سامنے پیش کیا ہے۔ انتخابی عمل کے دوران جماعت کے حوالے سے کوئی ایک بھی تشدد کا واقعہ سامنے نہیں آیا جو جماعت کی شفافیت کا واضح ثبوت ہے۔

    خیال رہے کہ سابق معزول صدر زین العابدین بن علی کے اڑھائی عشروں پر پھیلے دور حکومت میں تیونس مکمل طور پر مغربی تہذیب کے زیر اثر رہا ہے۔ سابق صدر کے خلاف برپا ہونے والے انقلاب کے بعد پہلی مرتبہ عام انتخابات ہوئے ہیں۔

    انتخابات میں کسی اسلامی نظریات کی حامل" النہضہ الاسلامی" جیسی تنظیم کا اکثریت کے سامنے آنے پر ملک میں ایک نئی بحث شروع ہو گئی ہے۔ جماعت کی جانب کثیر الجماعتی سیکولر نظام حکومت کے اعلان کے باوجود لبرل اور سیکولر طبقات جماعت کےخلاف منفی پروپیگنڈہ کر رہے ہیں۔ انتخابات کے بعد مختلف شہروں میں تشدد کے واقعات بھی رونما ہوئے ہیں۔ مشتعل افراد نے النہضہ کے دفاتر پر بھی حملے کیے ہیں۔
    نوٹ:پیش کارکااس سے متفق ہونالازم نہیں ہے۔
     
  3. منصف

    منصف -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 10, 2008
    پیغامات:
    1,920
    عمران خان ، مولوی یا چودھری ؟

    عمران خان کے جلسہ کو دیکھ کر ایک (حکایت)واقعہ یاد آگیا جو کہ کسی کتاب میں پڑھا تھا

    ایک علاقے کے ایک نہایت متقی پرہیزگار امام صاحب رہتے تھے جو لوگوں کو اچھائی برائی کا بتاتے تھے آخرت سے ڈراتے تھے ، لوگ ان کی بہت عزت کرتے تھے بہت عقیدت رکھتے تھے بلکہ انکی شہرت دور دراز تک جا پہنچی ، انکے عقیدتمندوں کی تعداد روز بروز بڑھتی گئی۔۔
    تو کسی منچلے نے انکو مشورہ دیا ، مولوی صاحب کیوں نہ آپ اگلے انتخابات میں حصہ لے تاکہ عوام کی خدمت پند و نصائح مؤثر انداز میں کی جاسکے ۔۔
    مولوی صاحب نے پہلوتہی کی تاہم مان گئے ، چونکہ علاقہ میں ان سے زیادہ کوئی مشہور نہ تھا اس لیے انتخاب میں جیت کی امید تقریبا سو فیصد تھی ،
    بہرکیف انتخابات ہوئے ، لوگوں نے ووٹ ڈالے تاہم جب نتیجہ آیا تو سادہ دل مولوی صاحب کو اس وقت سخت دھچکہ لگا جب انکی امید کے برعکس نتیجہ آیا ، یعنی مشکل سے چند ووٹ وہ حاصل کرپائے جبکہ اسی علاقہ کا بدمعاش ، بدکردار چودھری (جس سے علاقہ کے لوگ بھی اس سے نالاں تھے ) بھاری ووٹ سے کامیابی حاصل کی ۔کیونکہ اسکو “بڑوں بڑوں“ کا “آشیرواد“ حاصل تھا ، جبکہ سادہ دل مولوی صاحب سمجھ رہے تھے کہ عوام تہہ دل سے انکے ساتھ ہے لہٰذا انتخاب وہی جیتنگے
    فقط جمہوریت ہی کافی ہے


    یہ ہے جمہوریت ۔۔۔۔یہ ہے سیاست
    سو ، “جمہوریت“ جیسے فرسودہ اور غیر اسلامی نظام کا راگ الاپنے والے عمران خان کو بھی اگر اقتدار چاہیے تو اسکو مولوی صاحب کی بجائے چوہدری بننا ہوگا جس کے لیے اسے امریکہ کا “آشیرواد“ نہایت ہی ضروری ہے ۔۔۔



    یہ حقیقت ہے ہمارے نظام سیات کی

    ووٹ ایسے حاصل نہیں کیے جاتے ،۔ میٹھے میٹھے ، جزباتی بول ، میں یہ کردونگا وہ کردونگا ۔۔۔
    ووٹ کے لیے خصلت بدلنا پڑتی ہے صرف زبان میٹھی ، زیادہ بولنے والی رکھنی ہے ، ورنہ کردار کے لیے آپ کو نہایت ہی خبیث قسم کا بنانا ہوگا ۔۔۔۔بھڑییے نما جیسے "زرداری" ہے
    تب کامیابی قدم چومے گی ۔ تب "ناممکن" بھی ممکن ہوجائے گا ۔۔۔
     
    Last edited by a moderator: ‏اکتوبر، 31, 2011
  4. خان

    خان ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جنوری 27, 2011
    پیغامات:
    391
    صحیح کہا بلکل بھائی ، امریکہ کے بغیر پاکستان میں سیاست نہیں ہو سکتی ، جبھی تو اسے سیاست کہتے ہیں۔۔۔۔ آہ
     
  5. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    بھائ یہی ہمارا المیہ ہے۔ کہ ہم برسوں سے ایک ہی دائرہ میں گھوم رہے ہیں۔ ایک گیا تو دوسرا آگیا۔ سیاست تو وڈیروں اور چوہدریوں کا کھیل ہے۔ جو جتنا بڑا (؟) وہ اتنا بڑا سیاستدان۔ جہاں تک میں سمجھتا ہوں عمران نہ تو چوہدری بن سکے گا نہ ہی وڈیرا۔ اور نہ ہی وہ وہ آشیرواد حاصل کر سکے گا جس کے بغیر ہمارے ہاں نہ تو کوئ حکومت آتی ہے اور نہ ہی جاتی ہے۔ ہم پھر کل اسی کو جتانے پر مجبور ہوں گے جو کہ ہمارے گاؤں کا وڈیرا اور چوہدری ہے۔ کیونکہ اگر ہم نے ایسا نہ کیا تو ہمارا اس گاؤں میں رہنا مشکل ہو جاۓ گا۔ "جمہوریت زندہ باد"
     
  6. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    بہرحال۔
    اچھے نظام۔
    اچھے افراد جو کہ شریعت کے نفاذ کے لئے معاون ثابت ہوں‌، کے لئے ہمیں‌ہمیشہ امید رکھنا اور دعا کرنا چاہئے۔
    دنیا فانی ہے، اور ہر نظام باطل اور اسکو سپورٹ کرنے والی چیزیں‌ بھی بس وقتی ہیں، کیونکہ یہ ایک امتحان گاہ ہے۔
    امید کا دامن ساتھ میں‌رہے ان شااللہ
     
  7. منصف

    منصف -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 10, 2008
    پیغامات:
    1,920
    عمران خان کا جلسہ دیکھ کر لگتا تو ایسا ہی ہے کہ عوام کی بھاری تعداد اسکے ساتھ ہے تاہم تعداد کو دیکھ کر دھوکہ میں رہنا نہیں چاہیے کیونکہ اس قبل بے نظیر بھٹو نے بھی اس سے بڑا جلسہ کیا تھا تاہم وہ کامیاب نہیں ہوسکی تھی ۔۔۔

    مسئلہ تعداد کا نہیں کردار کا ہے ، جو حکمران جتنا زلیل جتنا کرپٹ جتنا بدمعاش ہوگا ، عوام اسی کو ووٹ دے گی کیونکہ یہ پاکستانی عوام ہے جسکی سوچ اور زائقہ بدل چکا ہے
    یہ وہ پاکستان ہے جہاں عالم اور نیک لوگوں کو زلیل کیا جاتا ہے ، اور جاہل ،چوروں ،لٹیروں اور بدکرداروں کی عزت کی جاتی ہے
     
  8. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    یا پھر عوام کو مجبور کیا جاتا ہےچند پرسنٹ کی جانب سے کہ یہ اور یہ کرو، اور یہ ایسے ہی کرو، اور ہم جیسا کہہ رہے ہیں‌ویسا ہی کرو، اور ہمیں‌ہی منتخب کرو، اور تو اور ہم ہی آپکے مسیحا ہیں یہ تسلیم بھی کرلو۔۔۔۔ ورنہ مارو جاوگے۔۔۔! کوئی پردیس میں بیٹھ کر حکم چلا رہے ہیں تو کوئی گھر میں، لیکن ہیں‌تو ایک ہی چٹے بٹے کہ نا۔۔۔!!!!
     
  9. خان

    خان ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جنوری 27, 2011
    پیغامات:
    391
    مردہ خواتین کی بے حرمتی کرنے والا ملزم گرفتار

    کراچی میں پاپوش نگر پولیس نے مردہ خواتین کی بےحرمتی کرنے والے ملزم کو گرفتار کر لیا، ملزم نے 48 خواتین کی لاشوں کی بے حرمتی کرنے کا اعتراف کرلیا۔

    ڈی ایس پی عبدالرشید نے نیوز کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم محمد ریاض آٹھ سال سے پاپوش نگر قبرستان میں پانی ڈالنے کا کام کرتا تھا۔ قبرستان کے گورکن اور علاقہ مکینوں نے قبرستان میں خواتین کی قبریں کھلی ہونے کی شکایت کی جس پر پولیس نے قبرستان کی نگرانی شروع کر دی تھی۔ ہفتے کی شام ملزم ریاض نے ایک خاتون کی قبر کھود کر بے حرمتی کی کوشش کی۔ اس دوران گورگن کے شور مچانے پر ملزم نے فرار ہونے کی کوشش کی لیکن اہل علاقہ نے اسے پکڑ کر پولیس کے حوالے کر دیا۔

    حوالہ
     
  10. خان

    خان ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جنوری 27, 2011
    پیغامات:
    391
    ایسے نا جانے کتنے لوگ کتنے شہروں کے قبرستان میں ہونگے جو مُردوں سے زنا جیسے گھناؤنے جرم میں مبتلا ہونگے ، یہ ہندوؤں میں تو پڑھا تھا کہ ان کے پنڈت مردہ لڑکیوں اور عورتوں کی لاش کے ساتھ ایسا کرتے ہیں ، مگر آج شدید دکھ اور افسوس کا مقام ہے ،
     
  11. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    ویسے ایسی ہی صیم نیوز میں‌ نے دبئی کے حوالے سے سنی تھی، خیر جرم ہے، کہیں پر سنگدلی نظر آجائے ، اور کہیں‌پر شیطنت، لیکن لیکن انسانیت سوز جرائم پیشہ جو بھی لوگ ہیں وہ سخت سے سخت سزا کے مستحق ہے، اور انہیں ایسی عبرتنا ک سزا برسر عام دینا چاہئے کہ دیکھنے والی ہر آنکھ کانپ اٹھے، اور چھوٹے مجرمین اپنے گناہوں سے اور جرائم پیشہ حس سے باز آجائیں۔

    گناہ تو گناہ ہی ہے، اور جرم بھی جرم، لیکن بعض جرائم اور گناہ، اتنے ہوش اڑادینے والے ہوتے ہیں‌کہ اللہ کی پناہ۔۔۔!!!!!
     
  12. محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    3,702
    یہ شیطان نما انسان گرفتار تو ہوگیا مزہ تو تب ہوگاکہ اس شیطان کو ایسی سزا دی جائے کہ یہ دوسرے لوگ اس کی کہانی سن کر مردہ تو درکنار زندہ عورتوں کو بھی شیطانی نگاہ سے دیکھنا چھوڑ دیں۔
    شیئرنگ کاشکریہ بھائی
     
  13. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    عمران سے انقلاب کی توقع نہ رکھیں: ندیم سعید کا تبصرہ

    عمران خان نے لاہور کے منٹو پارک میں ایک کامیاب جلسہ کر کے پہلی دفعہ پاکستان (یا پنجاب کہا جائے تو زیادہ بہتر ہوگا) کی سیاست میں اپنے وجود کا ٹی وی ٹاک شوز سے نکل کر عوامی سطح پر احساس دلایا ہے۔ لیکن عوامی حمایت کے اس اظہار یہ کے بعد ان کی سوجھ بوجھ کا امتحان شروع ہوگا کہ بہت سے سیاسی یتیم اب ان کی کشتی میں سوار ہونے کی کوشش کرینگے جس کے پتوار پہلے ہی کہا جا رہا ہے کہ راولپنڈی والوں کے پاس ہیں۔ یعنی عمران خان اب دو آتشہ ہیں، جنہیں عوام میں بھی پذیرائی مل رہی ہے اور وہاں بھی جہاں سے طاقت کے چشمے بہتے ہیں۔

    ایسے میں وہ سیاستدان جو اب کسی ایسی پارٹی کا حصہ نہیں جو پارلیمنٹ میں وجود رکھتی ہے عمران خان کی تحریک انصاف کا حصہ بننا چاہینگے۔ ان میں سے اکثریت ان کی ہے جو یا تو اقتدار سے چمٹا رہنا چاہتے ہیں یا عسکری اشاروں پر پارٹیاں تبدیل کرتے ہیں۔ ان میں سے کچھ تو شامل ہو چکے ہیں اور کئی اب پر تول رہے ہیں، یا انہیں حکم پرواز مل چکا ہے۔ عمران نے اپنی اڑتالیس منٹ کی تقریر میں سیاستدانوں کے تو خوب لتے لیے اور یہ کہہ کر کہ وہ ایک آزاد عدلیہ متعارف کروائیں گے کسی حد تک موجودہ عدلیہ کے آزاد ہونے پربھی شک کا اظہار بھی کر دیا، لیکن اگر انہوں نے تنقید نہیں کی تو وہ ملکی سیاست میں فوج کے کردار پر۔

    حالانکہ پاکستانی سیاست یا امور ریاست میں جو سب سے مضبوط پارٹی چلی آ رہی ہے وہ ہے جی ایچ کیو۔ تمام اہم معاملات چاہے وہ کسی بھی نوعیت کے ہوں اسی کے منشور کے تحت طے ہوتے ہیں۔ابتدائی ناتجربہ کاری کے باوجود عمران خان اس راز کو پا گئے تھے اور اس پارٹی سے کبھی پنگا نہیں لیا، بلکہ جنرل مشرف جو سیاسی رومان چلانے کے ماہر تھے کے ساتھ ان کے دور اقتدار میں پینگیں بھی بڑھائیں۔ بات کہاں جا کر اٹکی اس پر دونوں کی مختلف آراء ہے۔

    جی ایچ کیو نے قیام پاکستان کے کچھ عرصہ بعدسے ہی امور ریاست اپنے ہاتھ میں لے رکھے ہیں اور نااہل سیاستدان محض کٹھ پتلیاں ہیں۔ ان میں سے اگر کسی نے جوہر دکھانے کی کوشش کی تو یا عدالت کے ذریعے قتل کرا دیا گیا یا پھر ہائی جیکر قرار دے کر ملک بدرہوا۔ذوالفقار علی بھٹو آخر تک کہتے رہے کہ ان کے خلاف بین الاقوامی سازش کی گئی ہے، اشارہ ان کا امریکہ کی طرف ہوتا تھا۔ لیکن کیا ہنری کسنجر نے بھٹو کو پھانسی لگایا؟جی نہیں، یہ فریضہ اس وقت کے چیف آف آرمی سٹاف جنرل ضیاء نے سرا نجام دیا۔کارگل فوجی ذہن کا نتیجہ تھا لیکن سزا نواز شریف کا بھگتنی پڑی۔

    مشرقی پاکستان کے المیہ سے لیکر جنگ افغانستان اور کارگل سب میں مضبوط لیکن غیر منتخب اور مواخذے سے بالاتر جی ایچ کیو پارٹی کاکردار زیادہ ہے۔ امریکہ سے دوستی یا عمران خان کی زبان میں غلامی بھی فوجی ادوار میں زیادہ مضبوط ہوئی۔ اب بھی امریکہ کے ساتھ معاملات فوج ہی طے کرتی ہے۔ اس حوالے سے جی ایچ کیو اپنی سہولت دیکھتا ہے۔ مزاکرات کی میز پر پوزیشن بہتر کرنی ہو تو ریمنڈ ڈیوس قوم کی غیرت کا مسئلہ بن جاتا ہے اور مطلوبہ نتائج حاصل ہونے پر یہی غیرت پلک جھپکنے میں بگرام ائیربیس پہنچا دی جاتی ہے۔

    جب ماضی کا تجزیہ کیا جاتا ہے تو اگر تھوڑی بہت تنقید کی بھی جاتی ہے تو وہ ایوب، ضیاء اور مشرف نامی افراد پر ناکہ ان کے پیچھے کارفرما اس طاقتور ادارے پر جس نے آئینی طور پر برطرف کے گئے جنرل کو آٹھ سال تک اپنا سربراہ بنائے رکھا۔

    سکیورٹی ضروریات سے ہٹ کر فوج اور عوام کے مفادات میں وہی فرق ہے جو کینٹ ، ڈیفنس اور عام علاقوں میں نظر آتا ہے۔کیا عمران خان ملک کے اصل حکمرانوں کو قائل کر پائیں گے کہ وہ عام لوگوں کو ’bloody civilian ‘ سمجھنا چھوڑ دیں؟ لیکن کیا یہ عمران خان کے ایجنڈا پر ہے بھی کہ نہیں؟

    عمران خان کوئی انقلابی رہنماء نہیں ہیں۔ وہ ایمپائر کی good books میں رہتے ہوئے مخالف کھلاڑیوں کو sledging کا نشانہ بناتے رہیں گے۔ انہوں نے اپنی تقریر میں کوئی ایسا عندیہ بھی نہیں دیا جس پر یہ کہا جا سکے کہ وہ اس نظام کو، جس کا سب سے زیادہ فائدہ وردی والوں کو ہے، تبدیل کر دینگے یا کم از کم ہلا دینگے۔ایک اچھے سپورٹس مین کی طرح ’رولز آف بزنس‘ میں رہتے ہوئے انہیں تو بس اپنی باری چاہیے، جس کا اظہار انہوں نے برملا یہ کہہ کر کر بھی دیا کہ ’میاں جی ہن رہن دو، ساڈی واری آن دو‘۔
     
  14. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    ’بائیولوجیکل ہتھیاروں کی تیاری پر سزائے موت ‘

    عالمی برادری کے دباؤ پر پاکستان میں بائیولوجیکل (حیاتیاتی) ہتھیاروں کی غیرقانونی تیاری اور استعمال کے بڑھتے ہوئے خطرے سے نبٹنے کے لیے ایک ایسا بل بدھ کو کاببینہ کی میٹنگ میں پیش کیا جارہا ہے جس کی منظوری کے بعد ملک میں کسی بھی پاکستانی یا غیرملکی کو بائیولوجیکل ہتھیاورں کا ڈیزائن ، ٹیکنالوجی رکھنے ، بنانے، ٹرانسپورٹ یا استعمال کرنے پر موت اور عمرقید کی سزا کے علاوہ ایک کروڑ روپے تک جرمانہ کی سزا دی جا سکے گی اور ان کی جائیداد بھی بحق سرکار ضبط کر لی جائے گی۔
    ’بائیولوجیکل ہتھیاروں کی تیاری پر سزائے موت ‘ | Top Story Online
     
  15. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    "خمینی مخالفین کو پھانسی پر لٹکاتےتھے، مَیں صرف جیل بھیجتا ہوں" خامنہ ای

    ایران میں اصلاح پسندوں کے زیر اہتمام ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ سنہ2009ء کے متنازعہ صدارتی انتخابات کے بعد ملک کے سپریم لیڈر اور روحانی پیشوا آیت اللہ علی خامنہ ای اور سابق چیف جسٹس آیت اللہ موسوی اردبیلی کے درمیان ایک طویل مُکالمہ ہوا تھا۔ دونوں رہ نماؤں کے درمیان ہونے والی اس بات چیت میں اپوزیشن اور اصلاح پسندوں کی جانب سے صدارتی انتخابات مسترد کیے جانےاور اس کے جواب میں حکومت کی طرف سے انہیں بزور دبانے پر تبادلہ خیال کیا گیا تھا۔
    خامنہ ای
     
  16. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کے مُرتکب فرانسیسی اخبار کے دفتر میں ہولناک آتشزدگی

    تیونس پولیس حکام نے اطلاع دی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں گستاخانہ خاکے شائع کرنے کے مذموم عزائم رکھنے والے اخبار "چارلی ایئڈو" کے دفتر میں ہولناک آتش زدگی کے باعث بڑے پیمانے پر سامان جل کر خاکستر ہو گیا ہے۔

    "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق پولیس کا کہنا ہے کہ اخبار کے دفتر میں آتش زدگی کا یہ واقعہ منگل اور بدھ کی درمیانی شب ایک بجے پیش آیا۔ ذرائع کے مطابق آگ نامعلوم افراد کی جانب سے پٹرول بم پھینکنے سے لگی، جس نے اخبار کے کئی شعبوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا، تاہم جلد ہی آگ پرقابو پا لیا گیا۔

    رپورٹ کے مطابق اخبار نے بدھ کی اشاعت کے لیے ایک خصوصی سپلیمنٹ تیار کیا تھا، جس میں نبی آخر الزمان علیہ السلام میں گستاخانہ خاکے شائع کیے جانے تھے۔ اخبار کے ٹائٹل پر"ہنسی نہ آئے تو سزا سو کوڑے" جیسی ہتک آمیز سُرخی جمائی گئی تھی۔

    اخبار کے اس اقدام سے فرانس میں مقیم مسلمانوں میں سخت غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔ اخبار نے گستاخانہ خاکوں کی اشاعت کی جسارت کے لیے ایک ایسے وقت کا انتخاب کیا ہے جب پڑوسی ملک تیونس میں اسلام پسند جماعت "النہضۃ الاسلامی" حالیہ عام انتخابات میں اپنی کامیابی کا جشن منا رہی ہے۔

    پولیس حکام کےمطابق آتش زدگی کا واقعہ رات ایک بجے پیش آیا تاہم ابھی تک آگ لگنے کی اصل وجہ معلوم نہیں ہو سکی ہے۔ البتہ کچھ ذرائع یہ بتاتے ہیں کہ آتش زدگی کایہ واقعہ نامعلوم افراد کی جانب سے پٹرول بم پھیکنے کے باعث پیش آیا۔ ابھی تک کسی شخص کو حراست میں نہیں لیا گیا تاہم پولیس مشتبہ افراد کی تلاش کے لیے تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔

    پیرس میں ہنگامی طبی سروسز کے ایک ڈاکٹر پٹریک پیلو نے ٹیلیفون پر"اے ایف پی" کو بتایا کہ نامعلوم افراد نے دفتر کے سامنے سے اس پر پتھر بھی پھینکے جس سے عمارت کے شیشے بھی ٹوٹے ہیں۔ پٹرول بموں کے باعث لگنے والی آگ سے اخبار کے انفارمیشن ڈیپارٹمنٹ کا تمام ریکارڈ مکمل طور جل کر خاکستر ہو گیا۔

    اخبار کے ایڈیٹر رسام چارب نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ آتشزدگی کے باعث تمام دفاترمیں دھواں پھیل گیا۔ بجلی کا نظام درہم برہم ہو گیا اور اخبار کے سرکولیشن کا دفتر مکمل طور پر تباہ پو گیا۔

    مسٹر چارب کا کہنا تھا کہ جب ہم نے خاکے شائع کرنے کا اعلان کیا تو ہمیں سماجی رابطےکی ویب سائٹس فیس بک اور ٹیوٹر وغیرہ پر دھمکی آمیز پیغامات اور گالم گلوچ سننے کو ملی۔ انہوں نے کہا کہ وہ نامعلوم افراد کی جانب سےموصول ہونے والے تمام دھمکی آمیز پیغامات کو پولیس کو فراہم کریں گے تاکہ وہ اس کی تحقیقات کر سکیں۔
     
  17. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    چیچنیا:اشتہارات میں ننگے سر خواتین کو ڈھانپنے کے لیے مہم

    روس کی مسلم اکثریتی جمہوریہ چیچنیا میں کاروباری اداروں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے اشتہارات میں خواتین کو ننگے سروں کے ساتھ نہ دکھائیں بلکہ ان کے سر ڈھانپ کررکھیں۔

    جمہوریہ چیچنیاکے صوفی منش صدر رمضان قادریوف نے خواتین کو سرپوش اوڑھنے کا حکم دے رکھا ہے اور انھوں نے اس ضمن میں اسلامی تعلیمات کی پاسداری کرنے کی ہدایت کی ہے لیکن انسانی حقوق کی نام نہاد تنظیمیں اور ان کے آلہ کار مغربی میڈیا ادارے ان کے خلاف مہم چلا رہے اور ان کے اقدامات کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے تعبیر کررہے ہیں۔

    چیچنیا کے سرکاری سکیورٹی اہلکار اب مختلف کاروباری اداروں کے اشتہارات میں بے پردہ نظر آنے والی خواتین کو بھی سرپوش اوڑھانے کی کوشش میں ہیں اور وہ اس سلسلہ میں دارالحکومت گروزنی میں چھاپہ مار کارروائیاں کررہے ہیں۔ برطانوی خبررساں ادارے رائیٹرز کی اطلاع کے مطابق سکیورٹی فورسز کے اہلکار شہر میں واقع ایک سیلون مرکز پر گئے اور اس کے ذمے داروں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اشتہارات میں نظر آنے والے دوخواتین کے سر ڈھانپیں۔

    ایک اٹھائیس سالہ خاتون ہئیرڈریسر نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ''حکام علاقے میں گشت کررہے ہیں اور وہ ننگے سر خواتین کی تصاویر والے اشتہارات کو ہٹا رہے ہیں اور انھوں نے ہمیں بتایا ہے کہ اشتہارات میں سرپوش کے بغیر خواتین کو دکھانے پر پابندی ہے''۔

    چیچنیا میں گذشتہ سال سرپوش یا برقع نہ اوڑھنے والی خواتین پر حملے کیے گئے تھے جس کے بعد انھیں سرپوش اوڑھنے کا حکم دیا گیا تھا۔اس پر بعض خواتین نے اعتراضات کیے تھے کہ ان کی حقوق کی خلاف ورزی کرتے ہوئے انھیں مخصوص لباس پہننے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

    یادرہے کہ چیچن صدر رمضان قادریوف نے چار سال قبل 2007ء میں برسراقتدار آنے کے بعد ایک حکم نامہ جاری کیا تھا جس کے تحت خواتین کو اس بات کا پابند بنایا گیا تھا کہ وہ سرپوش اوڑھ کر سرکاری دفاتر میں داخل ہوں۔انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس حکم نامے کو روسی قانون کی خلاف ورزی قراردیا تھا لیکن چیچنیا میں اس پر سختی سے عمل درآمد کرایا جارہا ہے۔

    انسانی حقوق کے گروپوں نے اس مزعومہ خدشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ اگر ولادی میر پوتن دوبارہ صدر کے عہدے پر فائز ہو جاتے ہیں تو رمضان قادریوف کی چیچنیا پر گرفت اور بھی مضبوط ہوجائے گی۔بعض تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ رمضان قادریوف کی مزاحمت کاروں کے خلاف کارروائیوں کی وجہ سے روس ان کے اسلامی قوانین کے نفاذ کے لیے اقدامات سے صرف نظر کررہا ہے۔

    علاقائی حکومت کے ایک ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ اشتہارات کو نشانہ بنانے کا حکم مقامی حکام نے دیا ہے لیکن ایک حکومتی ترجمان نے اس بات کی تردید کی ہے کہ صدر قادریوف نے اشتہارات کو کو ہٹانے یا ان کو مسخ کرنے کا کوئی حکم دیا ہے۔

    اس ترجمان نے کہا کہ ''گروزنی میں تمام اشتہارات اپنی اپنی جگہ پر موجود ہیں۔ہ م نے کسی ایک اشتہار کو بھی نہیں گرایا اور نہ کسی کو ایسا کرنے کا حکم دیا ہے لیکن بزدل لوگ ہمارے بارے میں جھوٹ پھیلا رہے ہیں''۔

    چیچن حکومت کے فنڈز سے چلنے والے اسلامی ثقافتی مرکز نے بھی ننگے سروں والی خواتین کے اشتہارات اتروانے سے انکار کیا ہے حالانکہ یہ ادارہ بے پردہ خواتین پر کھلے عام تنقید کرتا رہتا ہے لیکن بعض کاروباری اداروں کا کہنا ہے کہ ان کے اشتہارات میں جہاں جہاں خواتین کی تصاویر موجود تھیں ،وہاں سے ان کو خراب کردیا گیا ہے۔
     
  18. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    حاجیوں کے تحفظ و سلامتی کی خاطر ہر ممکن وسائل بروئے کار لائیں گے: سعودی ولی عہد

    سعودی عرب کے نئے ولی عہد شہزادہ نایف بن عبدالعزیز نے واشنگٹن میں سعودی سفیر کو قتل کرنے کی سازش میں ایران کے ملوث ہونے کے بعد اس کے ساتھ کسی قسم کی مفاہمت کے امکان کو مسترد کر دیا ہے۔
    حاجیوں کے تحفظ و سلامتی کی خاطر ہر ممکن وسائل بروئے کار لائیں گے: سعودی ولی عہد
     
  19. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    کیاخداکی قسم کھالیں کہ پاکستان غریب ملک ہے؟

    بے نظیر بھٹو انکم سپورٹ کے اسلام آباد میں واقع دفتر کی ارآئش و مرمت اور کرائے کے نام پر جہاں ساڑھے چھ کڑور روپے کا خرچ کیا گیا ہے وہاں اس پروگرام کی ایک سرکاری دفتر سے دوسرے سرکاری دفتر کی منقتلی، جہاں اب چیئرپرسن فرزانہ راجہ بیٹھتی ہیں، کو “مناسب ” بنانے کے نام پر ساڑھے تین کڑور کی خطیر رقم خرچ کی گئی ہے۔ اسلام آباد میں صرف اس ایک سرکاری دفتر کو مناسب بنانے اور اس کی آرائش پر کڑورں روپے کی رقم خرچ کرنے کے علاوہ پورے ملک میں بے نظیر بھٹو انکم سپورٹ پروگرام کے صوبائی دفتروں کے کراؤں پر کل 13.2 کڑور خرچ کیے گئے ہیں۔ یوں تقریبا نصف سے زیادہ خرچہ اس سرکاری دفتر کا دکھایا گیا ہے جہاں اس پروگرام کی چیرپرسن فرزانہ راجہ خود بیٹھتی ہیں۔
    http://www.topstoryonline.com/huge-sums-spent-on-raja-office-renovation
     
  20. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    شہزادہ مقرن کو جنازے میں دھکا غلطی سے لگا: شیخ حمد بن آل ثانی

    خلیجی ریاست قطر کے وزیر مملکت اور امیر قطر کی مقرب ترین شخصیت سمجھے جانے والے الشیخ حمد بن سعود آل عبدالرحمان آل ثانی نے کہا کہ سعودی عرب کے سابق ولی عہد کی نماز جنازہ میں ھجوم کے باعث ان کے ہاتھوں سعودی عرب کے جنرل انٹیلی جنس چیف شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز کو دھکا لگا تھا، تاہم یہ فعل دانستہ سرزد نہیں ہوا۔

    خیال رہے کہ سابق ولی عہد شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز کی نماز جنازہ میں ھجوم اور اس دوران شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز کو لگنے والے دھکے کی ویڈیو سماجی رابطے کی ویب سائٹ "یو ٹیوب" پر تیزی سے مقبول ہو رہی ہے۔ اس ویڈیو کلپ کو اب تک کم سے کم ایک ملین افراد دیکھ چکے ہیں۔

    شیخ حمد بن عبدالرحمان آل ثانی کا کہنا ہے کہ نماز جنازہ کے دوران لوگوں کے ھجوم کی وجہ سے راستہ تنگ تھا اور وہ ھجوم سے باہر نکلنے کے لیے لوگوں کے درمیان سے ایک تنگ راستے کے ذریعے جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہیں معلوم نہیں تھاکہ ان کے آگے شہزادہ مقرن بھی جا رہے ہیں۔ قطری وزیر کا کہنا ہے کہ وہ شہزادہ مقرن کو شکل سے نہیں پہچانتےتھے، البتہ انہوں نے شہزادہ مقرن کا نام سن رکھا تھا۔

    العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے شیخ حمد بن عبدالرحمان نے کہا کہ وہ"mbc" ایف ایم ریڈیو کو انٹرویو میں بھی یہ وضاحت کر چکے ہیں کہ انٹرنیٹ پر دکھائی جانے والی ویڈیو تو صحیح ہے لیکن اس میں میری وجہ سے شہزادہ مقرن کو لگنے والا دھکا دانستہ نہیں۔ یہ میری ان سے پہلی ملاقات تھی کیونکہ اس سے قبل میں نے انہیں دیکھا نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب اور قطرکا حکمران خاندان ایک ہی خاندان ہے، ہمیں ایک دوسرےکے حوالے کسی قسم کی چشمک نہیں بلکہ ہم ایک ہی وقت میں ایک دوسرے بہی خواہ دوست بھی ہیں اور غمگسار بھائی بھی ہیں۔

    انٹرنیٹ پر ویڈیو کی تشہیر

    "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کے مطابق گذشتہ ہفتے سابق ولی عہد شہزادہ سلطان بن عبدالعزیز کی وفات کے بعد ان کی ریاض میں نماز جنازہ کے دوران لی گئی ویڈیو کی بڑی تعداد انٹرنیٹ پر موجود ہے تاہم ان میں دو ویڈیو کلپ سب سے زیادہ مشہور ہوئے ہیں۔ دونوں میں قطری وزیر مُملکت کی وجہ سے سعودی انٹیلی جنس چیف شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز کو دھکا لگتے دکھایا گیا ہے۔ ان میں سے ایک ویڈیو کلپ کو یو ٹیوپ پر کم سے کم دس لاکھ لوگوں نے دیکھا ہے۔

    اس کے علاوہ بڑی تعداد میں یہ ویڈیو کلپ سماجی رابطے کی دیگر ویب سائٹ "ٹیوٹر" اور"فیس بک" پر بھی شیئر کیا جا رہا ہے۔ سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر اس ویڈیو پر عرب شہریوں نے بڑے پیمانے پر تبصرے بھی کیے ہیں۔

    اسی طرح کے ایک دوسرے ویڈیو کلپ کو کوئی چار لاکھ افراد نے دیکھا ہے۔ قبل ازیں خود شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز نے العربیہ ٹی وی کے پروگرام"فیس دی پریس" میں صحافی داؤدالشریان سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ مُمکن ہے جس شخص کے باعث انہیں دھکا لگا وہ انہیں نہ جانتا ہو اور لاعلمی کی وجہ سے ایسا ہوا ہو۔ میں نہیں سمجھتا کہ وہ شخص مجھے کوئی تکلیف پہنچانا چاہتا تھا۔ وہاں پر لوگوں کی بھیڑ تھی اور اتنی زیادہ بھیڑ میں اس طرح کے واقعات معمول کا حصہ ہوتے ہیں۔

    میڈیا پر تنقید

    "العربیہ ڈاٹ نیٹ" سے بات کرتے ہوئے شیخ حمد بن عبدالرحمان آل ثانی نے یو ٹیوب اور دیگر ویب سائٹس پر موجود اس ویڈیو کلپ پر کیے گئے تبصروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ویڈیو کلپ کو اس طرح پھیلایا اور اس کی تشہیر سے ایسے لگ رہا کہ گویا میں نے ایسا دانستہ طور پر کیا ہے حالانکہ میں پوری دیانتداری کے ساتھ کہہ رہا ہوں کہ وہ میری غیر دانستہ غلطی تھی۔

    اس ویڈیو پر کیے گئے تبصروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ سعوی عرب اور قطر کے حکمران خاندان میں غلط فہمیاں پیدا کرنا چاہتے ہیں۔ میں یہ واضح کرنا چاہتا ہوں کہ میڈیا یا انٹرنیٹ کی ویب سائٹس پر لوگوں کے تبصروں سے ہمارے تعلقات پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ سعودی خاندان بھی قطر کے حکمران خاندان سے اپنے دیرینہ تعلقات کی اہمیت سے آگاہ ہے۔ لہٰذا کوئی بھی میڈیا اور شرپ سند عناصر کے بہکاوے میں نہیں آئے گا۔

    ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز جو ان کی وجہ سے متاثر ہوئے انہوں نے کوئی ایک بات نہیں کہی اور جن لوگوں کا اس واقعے سے کوئی دور کا بھی تعلق نہیں وہ اسے بڑھا چڑھا کر پیش کر رہے ہیں۔

    شہزادہ مقرن سے معذرت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک تو انٹرنٹ پر لوگوں کی جانب سے معذرت کرنے کے مطالبے آ رہے ہیں۔ وہ بتا چکے ہیں کہ شہزادہ مقرن کو دھکا ھجوم کی وجہ سے لگا، جس میں ان کی دانستہ غلطی نہیں تھی، اسکے باوجود اگر شہزادہ مقرن بن عبدالعزیز ان سے معذرت کا کہیں گے تو وہ اس کے لیے تیار ہیں۔
    وڈیودرج ذیل لنک پرملاحظہ کریں
    شہزادہ مقرن کو جنازے میں دھکا غلطی سے لگا: شیخ حمد بن آل ثانی
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں