اِس ماہ کی خبروں کے روابط : (نومبر -دسمبر)-2011) ‏ ‏

ابوعکاشہ نے 'خبریں' میں ‏اکتوبر، 2, 2011 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    پاکستان کے نیوکلیئر ہتھیار چوری ہونے کا خطرہ، محفوظ مقامات پر منتقلی

    پاکستان نے اپنے جوہری ہتھیاروں کو امریکی خفیہ اداروں کی نظروں سے چھپانے کے لیے انہیں غیر محفوظ گاڑیوں میں رکھ کر گنجان آباد علاقوں میں واقع سڑکوں کے راستے محفوظ مقامات پر منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔

    یہ بات امریکا کے دو جریدوں میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں بتائی گئی ہے۔ دی اٹلانٹک اور دی نیشنل جرنل نامی جریدوں نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے ایک مشترکہ رپورٹ میں لکھا ہے کہ رواں برس مئی میں پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کو ہلاک کرنے والی امریکی کارروائی نے اسلام آباد میں طویل عرصے سے پائے جانے والے ان خدشات کو تقویت دی ہے کہ واشنگٹن ملک کے جوہری ہتھیاروں کے ذخیرے کو ختم کرنے کی بھی کوشش کر سکتا ہے۔

    اس کے نتیجے میں پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے تحفظ کے ذمہ دار محکمے اسٹریٹیجک پلاننگ ڈویژن کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ جوہری ہتھیاروں اور ان کے اجزاء کو امریکا کی نظروں سے بچا کر رکھے۔ ایس پی ڈی کے سربراہ ریٹائرڈ جنرل خالد قدوائی نے جوہری حصوں اور حساس مواد کو مختلف سہولیات پر پہنچانے کے کام کو تیز کر دیا ہے۔

    تاہم جوہری ہتھیاروں کو بکتر بند اور بہتر حفاظتی اقدامات والے قافلوں میں منتقل کرنے کی بجائے انہیں باربرداری والے ٹرکوں میں رکھ کر گنجان آباد اور خطرناک سڑکوں سے لے جایا جا رہا ہے حالانکہ یہ ہتھیار پورے شہروں کو تباہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق ہتھیاروں کو مختلف مقامات پر منتقل کرنے کی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے، جس سے پینٹاگون میں تشویش بڑھ رہی ہے۔

    پاکستان کا طویل عرصے سے یہ مؤقف رہا ہےکہ اس کے جوہری ہتھیار محفوظ ہیں۔ جریدے نے پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کے ایک نام ظاہر نہ کرنے والے اہلکار کے حوالے سے لکھا، ’دنیا میں جن تمام چیزوں پر تشویش ہو سکتی ہے، ان میں سے سب سے کم ہمارے جوہری پروگرام کی حفاظت پر ہونی چاہیے‘۔

    پینٹاگون نے اس رپورٹ پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا ہے مگر امریکی فوجی کے ایک اعلٰی عہدیدار نے جمعہ کو واشنگٹن میں صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امریکا پاکستان کے جوہری ہتھیار محفوظ ہونے کے حوالے سے پراعتماد ہے۔

    کئی افراد کے انٹرویو پر مشتمل اس رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکا نے کافی عرصے سے یہ ہنگامی منصوبہ بنا رکھا ہے کہ پاکستان میں کسی انقلاب یا کسی اور ناخوشگوار صورت حال کے دوران ان جوہری ہتھیاروں کو کیسے ناکارہ بنانا ہے۔ امریکا کی جوائنٹ اسپیشل آپریشنز کمانڈ کئی سالوں سے ان ہتھیاروں کو ناکارہ بنانے کی تربیت کی مشق کر رہی ہے، جس کے تحت اس کی فورسز پاکستان کی ایک درجن سے زائد جوہری تنصیبات میں داخل ہو کر جوہری ہتھیاروں کو قبضے میں لے سکتی ہیں یا پھر انہیں ناکارہ بنا سکتی ہیں۔

    رپورٹ کے مطابق اس آپریشن میں تابکار مواد کا سراغ لگانے والے حساس آلات استعمال کیے جا سکتے ہیں اور امریکا نے ایسٹ کوسٹ میں ایک مقام پر فرضی پشتون دیہات تعمیر کیے ہیں، جہاں جوہری ہتھیاروں کو ذخیرہ کرنے کے فرضی ڈپو قائم کیے گئے ہیں۔ امریکی فوج کے ایلیٹ نیوی سیل اور ڈیلٹا فورس کمانڈوز کو یہاں تربیت دی جاتی ہے۔

    اگرچہ پاکستان نے کچھ ایسے اشارے دیے ہیں کہ وہ واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات کو ختم کرتے ہوئے چین کے مزید نزدیک جا سکتا ہے مگر بیجنگ میں امریکی حکام کے ساتھ خفیہ مذاکرات میں چینی حکام نے اس بات پر مفاہمت ظاہر کی ہے کہ انہیں امریکا کی طرف سے پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو محفوظ بنانے کے اقدامات پر کوئی اعتراض نہیں ہو گا۔
     
  2. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    مریض کی الٹرا ساؤنڈ رپورٹ میں "انسانی چہرے" سے مشابہ ٹیومر

    کینیڈا میں ان دِنوں ایک انوکھی خبر شہ سرخیوں کا موضوع بنی ہوئی ہے، جس میں عام لوگوں سے زیادہ ڈاکٹر اور ماہرین صحت دلچسپی لے رہے ہیں۔
    العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لبنانی نژاد کینیڈین یورالوجسٹ ڈاکٹر ناجی ٹوما کے پاس ایک مریض آیا، جس کے خُصیوں میں بظاہر سوجن اور درد کی شکایت تھی۔ ڈاکٹر ٹوما نے درد کا سبب جاننے کے لئے مریض کے متاثرہ حصے کا الٹرا ساؤنڈ کیا۔ الٹرا ساؤنڈ [ریڈیو گرافی] کی رپورٹ دیکھ کر ڈاکٹر ٹوما ششدر رہ گئے کیونکہ اس میں مریض کے خصیوں میں انسانی چہرے سے مشابہ سرطان نمایاں طور پر دیکھا جا سکتا تھا۔
    ڈاکٹر ناجی ٹوما کے مطابق ریڈیو گرافک رپورٹ میں نظر آنے والے سرطان کے خیلے انسانی چہرے کی حیران کُن تصویر کی صورت میں نمایاں تھے۔ اس میں صاف طور پر چہرے کے خدوخال، ہونٹ، ناک اور آنکھیں نظر آ رہی تھیں۔ انسانی چہرے سے مشابہ سرطان کو بغور دیکھا جائے تو لگتا ہے کہ شبیہ میں موجود چہرہ اُوپر کی جانب دیکھ رہا ہے۔
    ڈاکٹر یہ دیکھ کر اور بھی حیرت زدہ ہو گئے کہ ریڈیو گرافی رپورٹ میں نظر آنے والی انسانی شبیہ فراعنہ مصر کے دور میں"مین" کے نام سے موسوم ایک دیوتا کی مورتی سے ملتی جلتی ہے۔"مین" دیوتا فراعنہ مصر کے ہاں مردوں اور عورتوں میں بانجھ پن، جنسی کمزوری اور لاغر پن کے امراض کی شفاء کا "خدا" سمجھا جاتا تھا۔
    یہ عجیب و غریب ریڈیو گرافک رپورٹ مقامی میڈیا کے ذریعے تیزی سے سفر کرتی ہوئی العربیہ ڈاٹ نیٹ تک پہنچی۔ ریڈیو گرافک رپورٹ دیکھنے کے بعد العربیہ کے نامہ نگار نے کینیڈا میں لبنانی نژاد ڈاکٹر ناجی ٹوما سے رابطہ کیا۔ العربیہ سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر ناجی کا کہنا تھا کہ کسی مریض کے الٹرا ساؤنڈ میں ایسی تصویر کا سامنے آنا میرے لیے حیران کن ہے۔ بار بار یہ تصویر دیکھنے کے باوجود یقین نہیں کر پا رہا کہ ایسا کیوں کر ہو سکتا ہے۔
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 6, 2011
  3. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    اسرائیلی بحریہ نے

    اسرائیلی بحریہ نے غزہ کی پٹی میں محصور فلسطینیوں کے لیے امدادی سامان اور ادویہ لے کر جانے والی دو کشتیوں پر قبضہ کر لیا ہے اور انھیں ایک اسرائیلی بندرگاہ کی جانب لے گئی ہے جبکہ ایک فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ کشتیوں پر قبضے کی کارروائی میں کوئی شخص زخمی نہیں ہوا۔

    اسرائیلی ترجمان کے بیان کے مطابق ''بحریہ کے فوجیوں نے غزہ کی پٹی کا محاصرہ توڑنے کی کوشش کرنے والی کشتیوں کو اپنے قبضے میں لے لیا ہے''۔ قبل ازیں جمعہ کو صہیونی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل بینی گانٹز نے بحریہ کو غزہ آنے والی کشتیوں کو روکنے کا حکم دیا تھا۔کینیڈا اور آئرلینڈ سے تعلق رکھنے والی ان دونوں کشتیوں پر فلسطینی نواز کارکنان ادویہ اور امدادی سامان لے کر آرہے تھے۔

    کینیڈین کشتی ''آزادی''(تحریر) اور آئرش کشتی سوئرس کو اسرائیلی بحریہ نے بین الاقوامی پانیوں میں روکا ہےاور ان پر کینیڈا ،آسٹریلیا،آئرلینڈ اور امریکا سے تعلق رکھنے ستائیس کارکنان سوار ہیں۔ان میں اسرائیلی شہری ایک عرب بھی شامل ہے۔ دونوں کشتیاں بدھ کو ترکی سے غزہ کے لیے روانہ ہوئی تھیں۔

    اسرائیلی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ ان دونوں کشتیوں نے واپسی یا امدادی سامان اسرائیل اور پڑوسی ملک مصر کے حوالے کرنے کے لیے ہدایات کو نظرانداز کیا اور اپنا سفر جاری رکھااس لیے انھیں روکا گیا ہے۔امدادی کشتیوں کو روکنے کے بعد صہیونی فوج کا کہنا ہے کہ ان پر لدے سامان کو اشدود کی بندرگاہ پر اتارا جائے گا اور پھر اسے زمینی راستے سے غزہ منتقل کیا جائے گا۔

    فلسطینی نواز بین الاقوامی کارکنان نے اسرائیلی فوج کی جانب سے گذشتہ پانچ سال سے غزہ کی پٹی کے بری اور بحری محاصرے کی مذمت کی ہے جس کے نتیجے میں پندرہ لاکھ سے زیادہ فلسطینی جیل نما علاقے میں بند ہوکررہ گئے ہیں اور وہ کئی ایک مسائل سے دوچار ہیں۔

    ایک کشتی پر سوار یورپی پارلیمان کے سوشلسٹ رکن پال مرفی نے بحری سفر پر روانہ ہونے سے قبل انٹرنیٹ پر پوسٹ کیے گئے ایک بلاگ میں لکھا کہ وہ محصور فلسطینیوں کی اپیل پر اسرائیلی محاصرے کو توڑنے کے لیے جارہے ہیں۔ فلسطینی نواز کارکنان نے اپنے مشن کو ''آزادی کی لہریں'' کا نام دیا ہے۔ان میں سے بعض کارکنان نے جون میں بھی یونان سے غزہ کی جانب امدادی کشتیاں لے کرآنے کی کوشش کی تھی لیکن انھیں روک لیا گیا تھا۔

    یادرہے کہ 31 مئی 2010ء کو اسرائیلی بحریہ کے کمانڈوز نے غزہ میں محصور فلسطینیوں کے لیے آنے والے چھے امدادی جہازوں پر مشتمل قافلے پر حملہ کردیا تھا اوران میں شامل ایک جہاز ماوی مارمرا پر حملے میں نوترک شہری شہید ہوگئے تھے۔اسرائیلی بحریہ نے امدادی سامان لوٹنے کے علاوہ رضاکاروں کو بھی یرغمال بنا لیا تھا۔اسرائیل کی اس جارحانہ کارروائی کے خلاف دنیا بھرمیں شدید احتجاج کیا گیا تھا۔

    اقوام متحدہ نے اس حملے کے بارے میں ایک تحقیقاتی رپورٹ میں اسرائیل کی بحری ناکہ بندی کو بین الاقوامی قانون کے مطابق قراردیا تھا لیکن اسرائیلی حملے کی مذمت کی تھی۔ ترکی نے اسرائیل سے بحری جہاز پر حملے اور اپنے شہریوں کی ہلاکتوں پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن اس نے ایسا کرنے سے انکار کردیا تھا۔چنانچہ تب سے ترکی اور اسرائیل کے درمیان تعلقات کشیدہ چلے آرہے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان سفارتی اور تجارتی تعلقات منقطع ہیں۔
     
  4. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    ایتھنز : یونان میں عیدالاضحٰی چھ نومبر بروز اتوار کومنائی جائے گی

    ایتھنز(سکندر ریاض چوہان)یونان میں عیدالاضحی چھ نومبر بروز اتوار کومنائی جائے گی۔سعودی عربیہ میں چاند نظرآنے اورچھ ستمبر بروز اتوار کو عیدالاضحی کے اعلان کے بعد یونان کی مقامی مذہبی تنظیمات کی جانب سے چاند کے بارے میں جمعہ کی شام تک کوئی فیصلہ سامنے نہ آسکا تاہم تمام افراد نے اتوا ر چھ نومبر کوعیدالاضحی منانے کااعلان کیاہے۔عیدالاضحی کے حتمی اعلان کے متعلق اجالانیوز نے دعوت اسلامی امونیامیں مظہربھائی ،عزاخانہ گلزار زینب علیہ السلام تحریک منہاج القرآن اوردیگر سے رابطہ کیاتاہم کوئی ٹھوس معلومات دستیاب نہ سکی کہ پاکستانی برادری اتوار کوعید منائے گی اوراس کے لیے ہرسال کی طرح ایتھنز کے مختلف علاقہ جات اورمساجد میں نماز عید الاضحی کے اجتماعات منعقد ہونگے۔

    فالیرو،نیایونیا،آسپروپیرگوس،میگارہ،کورنتھوس،نیکیا،پیریا،کلونوز،ماراتھونا،کروپی،اینوفیتا،تھیوا،خلقیدہ سمیت تمام شہروں میں حسب سابق نمازعید الاضحی منائی جائے گی اورسنت ابراہیمی علیہ السلام اداکی جائے گی اس موقع پرملک وقوم اوریونان میں مقیم پاکستانیوں کے لیے خصوصی دعائیں کی جائیں گی۔
     
  5. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
  6. انجینئر عبدالواجد

    انجینئر عبدالواجد -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اگست 3, 2010
    پیغامات:
    220
    منحرف فوجیوں کے ہاتھوں حرستا میں ائرفورس کا انٹلیجنس یونٹ تباہ: شامی انقلاب کمیٹی

    دبئی ۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ
    بدھ 20 ذی الحجہ 1432هـ - 16 نومبر 2011م
    جنرل اتھارٹی برائے شامی انقلاب نے دعوی کیا ہے کہ منحرف فوجیوں کے ایک گروپ نے حرستا کے علاقے میں فضائیہ کا انٹلیجنس دفتر تباہ کر دیا ہے۔ اسد نواز فوج اور مخالفین کے درمیان جھڑپیں دمشق کے مضافاتی علاقے تک پھیل گئی ہیں۔ ادھر درعا میں فوجی بغاوت کے بعد حکومت کے حامی اور مخالف فوجیوں کے درمیان جھڑپوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

    درایں اثنا انسانی حقوق کی ایک انجمن نے شامی فوج کے ہاتھوں تین منحرف فوجیوں اور ایک عام شہری کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔ یہ ہلاکتیں حماہ شہر کے مضافاتی علاقے بلدیہ کفر زیتا میں عین اس وقت ہوئیں کہ جب شام کی رکنیت معطلی کی تصدیق کے لئے رباط میں عرب لیگ کے وزرائے خارجہ کا اجلاس شروع ہونے والا تھا۔

    انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ بدھ کو علی الصباح دمشق کے نواح میں شامی فضائیہ کی انٹلیجس یونٹ پر منحرف فوجیوں کے ایک گروپ نے حملہ کیا۔ صدر بشار الاسد کی حکومت کے خلاف شروع ہونے والی عوامی انتفاضہ کے بعد کسی بڑی سیکیورٹی تنصیب پر یہ پہلا علانیہ حملہ ہے۔

    حکومت مخالف ذرائع کا کہنا ہے دارلحکومت کے شمال میں شاہراہ دمشق پر واقع ائر فورس کی ایک بڑی یونٹ پر شام کی آزاد فوج نے آر پی جی راکٹوں اور مشین گنوں سے حملہ کیا۔ یہ حملہ گرینچ کے معیاری وقت 00:30 بجے کیا گیا۔

    حملے کے بعد شروع ہونے والی لڑائی میں دونوں جانب آتشیں اسلحے کا آزادانہ استعمال کیا گیا۔ علاقے میں ہیلی کاپٹروں نے پرواز شروع کر دیں۔ ذرائع کے مطابق فوری طور اس حملے میں نقصان کا اندازہ نہیں لگایا جا سکا کیونکہ لڑائی کے مقام تک رسائی آسان نہیں ہے۔

    شامی حکومت کی جانب غیر ملکی میڈیا پر عائد پابندیوں کی وجہ سے ایسے واقعات کے بارے میں اصل زمینی حقائق جاننے میں مشکل پیش آتی ہے۔

    بری اور فضائی فوج کے انٹلیجنس یونٹس فوج میں بغاوت کی کوششوں پر نظر رکھتی ہیں۔ ان دونوں گروپوں کا صدر اسد کے خلاف جاری انتفاضہ کو ناکام بنانے میں اہم کردار ہے، جس میں یو این کے اعداد و شمار کی روشنی میں ابتک 3500 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

    نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک عرب عہدیدار نے بتایا کہ صدر بشار الاسد کی حامی فوج پر باغی فوجیوں کے حملوں میں گذشتہ دس دنوں میں خاطر خواہ تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ تاہم اس کے باوجود سرکاری فوج انتہائی مربوط دکھائی دیتی ہے۔ شامی حکومت مسلح دہشت گرد تنظیموں کو 1100 پولیس اور فوجی اہلکاروں کے قتل کا ذمہ دار ٹہراتی ہے۔
     
  7. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    پاکستان کی اہم شخصیات کا قتل

    دہشتگردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن اسٹیٹ کا کردار ادا کرنے والے براعظم ایشیا کےاہم ترین ملک پاکستان کی 64 سالہ تاریخ میں اب تک ملک کے پہلے وزیراعظم سمیت حکومتی شخصیات، اہم سیاستدانوں اور نامور علماء کو قتل کیا گیا ہے۔

    پاکستان کی آزادی کے 4 سال بعد 16 اکتوبر 1951 میں پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کو ایک جلسے کے دوران گولی مار کر ہلاک کردیا گیا، دہشتگردی کا نشانہ بننے والے ملک کے پہلے وزیر اعظم کے قاتلوں کا آج تک پتہ نہیں چلا اور نہ ہی ان کے قتل کی وجہ معلوم ہو سکی ہے۔

    دی نیوز ٹرائب کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں دوسرا بڑا سیاسی قتل سابق وزیر اعظم محترمہ بینظیر بھٹو کا تھا جنہیں 27 دسمبر 2007 کی شام کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں ایک جلسے کے بعد خودکش حملے کے دوران فائرنگ کرکے قتل کیا گیا تھا۔

    پاکستان کی 2 بار وزیراعظم رہنے والی بینظر بھٹو کو اسی ہی شہر میں قتل کیا گیا تھا جہاں ملک کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان کوماراگیا تھا، بینظیر بھٹو قتل کے حوالے سے ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہوسکی ہے کہ ان کی موت فائرنگ سے ہوئی یا گاڑی کے لیور سے دماغ ٹکرانے سے ان کی زندگی کا خاتمہ ہوا۔

    بینظیر بھٹو قتل کیس کی تفتیش اقوام متحدہ سے ہونے کے باوجود ان کے قاتلوں کا پتہ نہیں چل سکا جب کہ پاکستان کے سابق صدر اور آرمی چیف پرویز مشرف کو ان کے قتل کا ذمہ دار ٹھرایا جاتا ہے، بینظیر بھٹو قتل کیس رالپنڈی کی احتساب عدالت میں زیر سماعت ہے۔

    سابق صدر پرویز مشرف کی جانب سے2005ءمیں ملک کے صحرائی صوبے بلوچستان میں فوجی آپریشن کے دوران بلوچ قومپرست رہنما اکبر بگٹی کی ہلاکت بھی سیاسی قتل ہے جس کے بعد صوبہ بلوچستان کے حالات بگڑنے لگے، اکبر بگٹی قتل کیس کی سماعت بھی بلوچستان کی عدالت میں زیر سماعت ہے۔

    د ی نیوز ٹرائب کی رپورٹ کے مطابق ملک کے پہلےمنتخب وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کی سزا کو بھی قتل تصور کیا جاتا ہے، ملک کے نامور قانوندانوں کا ماننا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کا عدالتی قتل کیا گیا جب کہ ملک کی سیاسی قیادت بھی ان کی پھانسی کو قتل تصور کرتی ہے۔

    اگست 1988ءمیں فضائی حادثے میں ہلاک ہونے والے ملک کے صدر اور آرمی چیف جنرل ضیاء الحق کو بھی قتل ہونے والے سیاستدانوں اور حکومتی نمائندوں میں شمار کیا جاتا ہے تا حال ان کے فضائی حادثے کے اسباب بھی معلوم نہیں ہو سکے ہیں۔ ضیاء الحق کے ساتھ حادثے میں حاضر سروس جنرل اور اہم لوگ بھی مارے گئے تھے۔

    رواں برس کے چوتھے دن ملک کے دارالحکومت میں پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو ان کے گارڈ ممتاز قادری نے فائرنگ کرکے ہلاک کردیا تھا ، ممتاز قادری کو عدالت نے 2 بار پھانسی کی سزا سنائی ہے جب کہ عدالتی فیصلے پرملک کی بیشتر مذہبی تنظیمیں ناخوش نظر آتی ہیں۔

    سال 2010ءمیں ایم کیو ایم رکن صوبائی اسمبلی رضا حیدر کو نامعلوم افراد نے کراچی میں قتل کردیا، وفاقی وزیر برائے اقلیتی امورشہباز بھٹی کو بھی رواں برس راولپنڈی میں نا معلوم نے افراد قتل کردیا تھا ،2009ءمیں بلوچستان کے صوبائی وزیر برائے تعلیم شفیق احمد خان کو کوئٹہ میں قتل کیا گیا جب کہ 2010 میں بلوچ قومپرست رہنما حبیب جالب کو بھی صوبائی دارالحکومت کوئٹہ میں قتل کردیا گیا تھا۔

    دستیاب معلومات کے مطابق 2009 میں مذہبی عالم سرفراز احمد نعیمی، ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین حسین علی یوسفی کو قتل کردیا گیا جب کہ سال 2010 کو پشاور میں ایف سی کے کمانڈنٹ صفوت علی خودکش حملے میں مارے گئے ، پاکستان کی 64 سالہ تاریخ میں متعدد سیاستدان، حکومتی شخصیات اور مذہبی علماء مارے گئے ہیں۔


    دی نیوز ٹرائب
     
  8. Sunny

    Sunny -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 15, 2011
    پیغامات:
    57
    اچھی شیئرنگ شکریہ
     
  9. marhaba

    marhaba ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏فروری 5, 2010
    پیغامات:
    1,667
    سورج گرہن جمعہ 25 نومبر کو

    [​IMG]

    اسلام آباد : رواں سال کا آخری سورج گرہن جمعہ 25 نومبر کو ہوگا تاہم پاکستان سے اس کا مشاہدہ نہیں کیا جا سکے گا۔ محکمہ موسمیات کے مطابق 25 نومبرکو جزوی سورج گرہن ہوگا۔ پاکستانی وقت کے مطابق سورج گرہن صبح 9 بج کر 23 منٹ پر شروع ہو کر دوپہر ایک بج کر 17 منٹ پر ختم ہوگا۔ سورج گرہن جنوبی افریقہ، نیوزی لینڈ، آسٹریلوی ریاست تسمانیہ اور انٹارکٹکا سمیت کرہ ارض کے انتہائی جنوبی حصے میں واقع ممالک میں نظر آئے گا تاہم پاکستان میں سال کے آخری سورج گرہن کا مشاہدہ نہیں کیا جا سکے گا۔


    اردوٹائمز
     
  10. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,757
    انفارمیشن دینے کا شکریہ
     
  11. محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    3,702
    شکریہ فار انفارمیشن
     
  12. Innocent Panther

    Innocent Panther محسن

    شمولیت:
    ‏نومبر 12, 2011
    پیغامات:
    600
    قرآن موبائيل کی ہندوستان میں عنقريب پیشکشی

    22/11/2011
    قرآن موبائيل کی ہندوستان میں عنقريب پیشکشی
    نيو دهلى : 21 نومبر( آئى اے اين ايس) ملائشیا کی اين ميك انجینئرنگ کے ساتھ مشترکہ وینچر رکھنے والی تول مول ڈاٹ کام ( Online Shopping, Price Comparison, Low Prices, Shopping Mall, Reviews, Shopping News, Social Shopping - Compare and Buy at Low Prices | TolMol) کمپنی نے آج ایک جي ايس ايم موبائيل ہینڈ سیٹ MQ3500 منظر عام پہ لایا ہے جسے قرآن موبائيل سے موسوم کیا گیا ہے تاکہ ہندستانی مارکیٹ میں مسلمانوں کی ضروریات کی تکمیل کی جا سکے - دوہرے سم کارڈ والا یہ موبائيل فون جسکی قیمت انڈین کرنسی 3950 روپے مقرر کی گئی ہے مختلف خصوصيات کا حامل ہے - اس میں دنیا کی سات سرکردہ قراء کی آواز میں قرأت سنی جا سکتی ہے - اوقات نماز کے دوران فون خود بخود سائلنٹ (خاموش) موڈ پر ہو جاتا ہے علاوہ ازیں 29 زبانوں میں قرآن ، دعاؤں، تفسير اور حديث کے تراجم بھی اس میں محفوظ کے گۓ ہیں - یہ فون جی پی آر ايس اور ایف ایم ریڈیو جیسی بنیادی سہولتوں کا بھی حامل ہے - تول مول ڈاٹ کام کے شریک بانی انوج کانش نے بتایا کہ ہندوستان میں پیش کیا جانے والا یہ اپنی نوعيت کا پہلا پراڈکٹ ہے - ہندوستان میں اسلامی اشياء كى كافى مانگ ہے - دنیا کے ہر ملک میں بلا لحاظ عمر ہر ایک کے ہاتھ میں اب موبائيل فون موجود ہے - ہمارا یہ پراڈکٹ مسلمانوں کی مخصوص ضروریات جیسے اہم تواریخ اور نمازوں کے اوقات کے بارے میں بروقت معلومات فراہم کریگا -

    home
     
    Last edited by a moderator: ‏نومبر 22, 2011
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  13. محمد زاہد بن فیض

    محمد زاہد بن فیض نوآموز.

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2010
    پیغامات:
    3,702
    مفید انفارمیشن
    شکریہ فار شیئرنگ
     
  14. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,903
  15. Innocent Panther

    Innocent Panther محسن

    شمولیت:
    ‏نومبر 12, 2011
    پیغامات:
    600
    اجمل قصاب پر سولہ (16) کروڑ روپے کا سرکاری خرچ

    منگل 22 نومبر 2011

    اجمل قصاب پر سولہ (16) کروڑ روپے کا سرکاری خرچ ​



    بھارتی شہر ممبئی میں سنہ دو ہزار آٹھ کے حملوں کے دوران گرفتار کیے جانے والے واحد شدت پسند اجمل امیر قصاب پر مہاراشٹر کی حکومت اب تک تقریباً سولہ کروڑ روپے خرچ کر چکی ہے۔
    ممبئی سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق اس میں سے زیادہ تر رقم قصاب کے لیے خصوصی حفاظتی انتظامات پر خرچ کی گئی ہے جبکہ ان کے کھانے پینے پر روزانہ صرف ستائیس روپے خرچ کیے جاتے ہیں۔
    ان حملوں کے سلسلے میں قصاب کو موت کی سزا سنائی جا چکی ہے اور اس فیصلے کے خلاف انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ اس رقم میں قصاب کے خلاف قانونی کارروائی کے اخراجات شامل نہیں ہیں۔
    مہاراشٹر حکومت نے ممبئی حملوں کی تیسری برسی سے پہلے یہ اعداد و شمار عام کیے ہیں۔
    اس مقدمے کے سپریم کورٹ تک پہنچنے سے پہلے تک قانونی کارروائی پر بارہ لاکھ روپے خرچ ہوئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ سپریم کورٹ میں سماعت کے دوران سرکاری وکیل اجول نکم کو پچاس ہزار روپے یومیہ دیے جائیں گے۔
    وہ دلی سے ممبئی کا ہوائی سفر بزنس کلاس میں کریں گے اور ان کے قیام کا انتظام ریاست کے گیسٹ ہاؤس کے وی آئی پی کمرے میں کیا جائےگا۔
    اخباری اطلاعات کے مطابق وزارتِ داخلہ میں پرنسپل سیکرٹری میدھا گاڈگل نے کہا ’جیل میں قصاب کے لیے ایک خصوصی سیل تیار کرنے کے لیے ہمیں بڑی رقم خرچ کرنا پڑی کیونکہ وہ ایک ’ہائی رسک‘ قیدی ہیں۔ اور ان کی سکیورٹی کے علاوہ اور کسی کام پر زیادہ پیسہ خرچ نہیں ہوا ہے۔‘
    قصاب کی حفاظت کے لیے انڈو تبتی بارڈر پولیس کے بیس کمانڈوز تعینات رہتے ہیں اور جولائی سنہ دو ہزار گیارہ تک ان کی خدمات کے لیے ریاستی حکومت نے پونے گیارہ کروڑ روپے خرچ کیے تھے۔
    ایک رپورٹ کے مطابق قصاب کے علاج پر اب تک ستائیس ہزار روپے خرچ کیے گئے ہیں لیکن فی الحال ان کے لیے جو انتظامات کیے گیے ہیں ان میں کسی تبدیلی کا پروگرام نہیں ہے۔
    جب جب اس طرح کی خبریں آتی ہیں تو بھارتیہ جنتا پارٹی اور بعض حلقوں کی طرف سے یہ مطالبات بھی تیز ہوجاتے ہیں کہ قصاب کو فوراً پھانسی دی جانی چاہیے۔
    پاکستان کے وزیرِداخلہ رحمان ملک نے بھی حال ہی میں کہا تھا کہ قصاب ایک ’دہشت گرد ہیں اور انہیں پھانسی دیدی جانی چاہیے۔‘
    نومبر سنہ دو ہزار آٹھ میں دس شدت پسندوں نے ممبئی پر حملہ کیا تھا اور تقریباً تین دن جاری رہنے والی اس کارروائی میں ڈیڑھ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوئے تھے۔
    بھارتی حکومت کا الزام ہے کہ حملہ آوروں کا تعلق لشکر طیبہ سے تھا اور یہ کہ پاکستان نے حملے کی سازش تیار کرنے والوں کے خلاف خاطر خواہ کارروائی نہیں کی ہے۔

    ‭BBC Urdu‬ - ‮نڈیا‬ - ‮اجمل قصاب پر کروڑوں کا سرکاری خرچ‬
     
  16. مخلص1

    مخلص1 -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 25, 2010
    پیغامات:
    1,038
    پاکستان میں بھی تقریبا 8 سال سے مل رہا ہے۔۔۔۔۔قیمت آج سے 1 سال قبل 6000 تھا۔۔۔۔۔اسر اس کا آفس پنڈی عمر فاروق پلازہ چاندنی چوک میں ہے
     
  17. اداس ساحل

    اداس ساحل -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جون 28, 2010
    پیغامات:
    183
    سسٹم

    سسٹم

    کافی عرصے سے محسوس کر رہا تھا کہ آخر کیوں ہر آتا ہوا دن موجودہ اور گزرے ہوئے کل سے کٹھن در کٹھن محسوس ہوتا ہے۔ حالانکہ کل کا تو صرف قدرت کو ہی پتا ہے کہ آنے والا پل کیا پیغام لیکر آئے۔ لیکن آنے والا پر پل یا تو جیب پر بھاری ہوتا ہے یا معشیت پر برچھیاں چلاتا ہے۔ پیٹرول سے لیکر نمک تک کے دام اسقدر ہیں کہ اب زندگی کے ہر پل کو خریدنا پڑتا ہے۔ ایک عام انسان ان مسائل سے سر باہر ہی نہیں نکال سکتا اور اوپر سے روز بروز کے جلسے اور جلوس روزمرّہ کی اس کاوش پر ایسی کلہاڑی مارتے ہیں کہ اس کا اثر اپنے ہی گھر پر پڑتا ہے۔ شمالی علاقہ جات میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی اور مسائل اس قدر ہیں کہ حیرانگی ہوتی ہے کہ کس طرح سے لوگ اپنی ہر پل کی کوشش کو نظر انداز کر کے، خون کا بازار گرم کیے ہوئے ہیں۔

    ٹی وی کا کوئی بھی چینل ہو، صرف اموات اور ایسی خبریں ملتی ہیں کہ ایک عام سا انسان بھی "بلڈ پریشر" کا مریض بن جاتا ہے۔ آخر، کس چیزی کمی ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔بازاروں، گلیوں، چوراہوں اور خاص طور پر ٹریفک کو دیکھیں تو لگتا ہے کہ گہما گہمی کے اس عالم میں نقصان صرف اپنی صحت اور جان ہی کا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ان حالات میں سب سے ذیادہ فقدان "سسٹم" کا ہے۔

    "سسٹم" کو کون بنائے گا؟ اس کو بناء کو تشکیل کون دے گا؟ اس کو تشکیل دیکر اس کو "ایمپلیمینٹ" کون کرے گا؟ اور پھر اس سسٹم کا احترام کون کرے گا؟ کیا ان کے لیے ہر کیا ایک کو "ایجوکیٹ" کرنا پڑے گا؟ شاید اس ہی سسٹم سے کچھ دور رس ایسے فوائد حاصل ہو سکیں ، جس سے مہنگائی، دہشت گردی، شدت پسندی، سینہ زوری کو کم سے کم کیا جائے۔

    چلیے، آج آپ سے رائے لیتے ہیں کہ کوئی ایسا سسٹم "تجویز" کیجیے ، انفرادی طور سے جس سے سب سے پہلے مہنگائی پر قابو پایا جا سکے۔ اس کے بعد معاشرے کے دوسرے مسائل پر سسٹم کے بارے میں بات کریں گے۔

    آپ کی تجویز کے لیے انتظار کر رہا ہوں۔
     
  18. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    تہران : ایرانی طلبہ کا برطانوی سفارت خانے پر حملہ

    تہران میں ایرانی طلبہ کے ہجوم نے برطانوی سفارت خانے پر حملہ کر کے توڑ پھوڑ کی ، عمارت سے برطانوى پرچم اتار كر ايرانى پرچم لہرايا ، عمارت ميں موجود افراد كو يرغمال بنا ليا اور سفیر کو ملک بدر کرنے کا مطالبہ کیا۔ يہ طلبہ برطانيہ كى ايران دشمن پاليسيوں پر احتجاج كر رہے تھے۔بعد ميں پوليس كى مداخلت پر طلبہ پولیس جھڑپوں ميں کئی طلبہ زخمى ہوئے۔
    برطانيہ نے حملے پر احتجاج كيا ہے اور ذمہ داروں کے خلاف كارروائى كا مطالبہ كيا ہے۔
    برطانوى پريس اس حملے پر سیخ پا ہے اور واقعے كو ماضى میں 70 كى دہائى كے امريكى سفارتخانے پر حملے سے مماثل قرار دے رہا ہے جس كے بعد ايران امريكہ تعلقات منقطع ہو گئے تھے ۔
    [​IMG]

    Iran: British embassy attack brings to mind US siege - Telegraph
    British embassy attack in Iran: live - Telegraph
    UK condemns embassy incursion in Iran - CNN.com
     
  19. خان

    خان ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جنوری 27, 2011
    پیغامات:
    391
    بظاہر نظر تو ایسا آتا ہے کہ ایران امریکہ کا دشمن ہے اور سخت مخالف ہے ، مگر امریکہ ایران کو اپنا اتنا بڑا دشمن نہیں سمجھتا ۔
    بے چارہ برطانیہ امریکہ کے چکر میں آکر ہر جگہ پھنس جاتا ہے ، چاہے وہ عراق ہو یا افغانستان ۔
    خیر برطانیہ کو بے چارہ کیا کہیں ، ہیں تو وہ بھی اسلام کے دشمن اور یہود کے دوست۔
    دیکھتے ہیں یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔
     
  20. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    پاکستان مخالف پراپیگنڈا کیبل آپریٹرز كا غیر ملکی چینلز کى بندش کا اعلان

    کیبل آپریٹرز ایسوسی ایشن پاکستان کے چیئرمین خالد آرائیں نے کہا ہے کہ غیر ملکی ٹی وی چینل پاکستان اور پاک فوج کےخلاف منفی پراپےگنڈہ بند کر دیں ورنہ پورے ملک میں غیر ملکی چینلز بند کر دینگے۔ہم نیٹواور امریکی فوج کے پاکستانی چوکی پر حملے کےخلاف احتجاج میں پوری قوم کےساتھ ہیں۔پیمرا ایسے تمام غیر ملکی چینلز کے لینڈنگ رائٹس منسوخ کر دے جو پاکستان کےخلاف پراپیگنڈا اور پروگرام نشر کرتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گزشتہ روز دیگر عہدےداروں کے ہمراہ لاہور میں ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔خالد آرائیں نے مزید کہا کہ ابتدائی طور پر ہم آج 30نومبر سے ایک برطانوی چینل بند کر رہے ہےں۔اگر دوسرے چینلز باز نہ آئے تو انہےں بھی بند کردینگے۔
    بشکریہ نوائے وقت
    خبر ميں مذكور برطانوى چينل سے مراد بی بی سی ہے ۔جس نے اس خبر كى کوریج ميں خود كو اور اپنے موقف کو نماياں جگہ دی ہے۔
    ‭BBC Urdu‬ - ‮پاکستان‬ - ‮پاکستان:بی بی سی ورلڈ کی نشریات نہ دکھانےکا اعلان‬
    ‭BBC Urdu‬ - ‮پاکستان‬
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں