امیر معاویہ کا '' شام '' جل رہا ہے

عبد الرحمن یحیی نے 'خبریں' میں ‏فروری 10, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    958
    ایک انسانیت سوز ظلم کی مثال جو شامی حکومت کی طرف سے مسلمانوں پر ڈھایا جا رہا ہے

    Roznama Dunya
     
  2. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,757
    حلب جل رہا ہے
    =========
    شام کا سب سے بڑا شہر‘حلب‘ ہے. یہ شہر عالمِ اسلام کیلئے بہت اہمیت کا حامل ہے. کئی مسلم سلاطین جیسا کہ سلطان عمادالدین زنگی اور انکے فرزند سلطان نورالدین زنگی کے حکمرانی میں دارالخلافہ رہا. عالمِ اسلام کیلئے آج تک یہ شہر اہم ترین مرکزی شہروں میں سے ایک ہے. یہ شہر علوم و فنون، تجارت و سیاست کی اپنی ایک تاریخ رکھتا ہے.

    یہ وہ شہر ہے کہ جس نے شیرِ اسلام سلطان عماد الدین زنگی کو باطل کیخلاف کمربستہ ہوتے دیکھا، یہ وہ شہرہے جس نے محافظ ِحرمین سلطان نورالدین زنگی کو صدائے تکبیر بلند کرتے دشمنوں کی صفوں میں ماتم بچھاتے دیکھا، تاریخ دیکھیں تو یہ وہ شہرہے کہ جس نے سلطان صلاح الدین ایوبی کو نورالدین زنگی کی فوج میں کماندار دیکھا اور پھر ایک سلطان کی شکل میں بھی دیکھا. تاریخ جانتی ہے اس شہر کو کہ اس
    نے سلطان رکن الدین بیبرس کے ہاتھوں تاتاریوں کو شکست کھاتے اور بھاگتے ہوئے دیکھا ہے.

    اس شہر نے دُکھ بھی دیکھے اور خوشیاں بھی، حلب نے اپنے باشندوں کو جشن مناتے دیکھا اور آنسو بہاتے دیکھا، جنگیں بھی دیکھیں اور امن کا زمانہ بھی. تاریخ کے نشیب و فراز سے گزرتے ہوئے آج بھی یہ شہر شام کا تجارتی مرکز تھا، تب تک جب تک بشارالاسدی و روسی افواج نے اس شہر کی اینٹ سے اینٹ نہ بجا دی.

    آج ہسپتالوں، کلینکوں، سکولوں،کالجوں، بازاروں اور مسجدوں میں اپنے باشندوں کو، اپنے ننھے ننھے بچوں کو، اپنی انتظار کرتی ماؤں کو، اپنے کسب ِحلال کمانے والے مرد وں کو خون میں نہایا ہوا دیکھ کے
    حلب آج خود رو رہا ہے.آج حلب صدائیں لگا رہا ہے، آوازیں دے رہا ہے عمادالدین زنگی کو، نورالدین زنگی کو،سلطان صلاح الدین ایوبی کو، ملک شاہ سلجوقی کو، خیرالدین باربروسہ کو اور یوسف بن تاشفین کو، مگر یہ کیا جانے کہ وہ دور تھا جب اس امت کے فرزند جاگ رہے تھے، جب غیرت ِایمانی بیدار تھی،جب اس امت کے جوانوں کو پلٹ کرجھپٹنا اور جھپٹ کر پلٹنا آتا تھا. جب یہ غیور گھر کی چوکھٹ کے بجائے تلواروں کے سائے میں جینا پسند کرتے تھے.

    مگر صد ہائے افسوس! آج غیرت ایمانی ایسی سو رہی ہے کہ کروڑوں مسلمانوں کا خون دیکھ کر بھی جاگ نہیں رہی. آج مسلم امہ کو گاجر مولی کیطرح کاٹا جارہا ہے مگر ہم مصروف ہیں رنگ و سرور کی محفلوں میں . یہود و ہنود مسلم کا خون پی رہے ہیں اور یہاں غفلت کی شراب کے جام بھرے جارہے ہیں .
    کئی دوستوں کو دیکھ رہاہوں جو لبرلز کو چپ رہنے پر کوس رہے ہیں، مگر یہ نہیں سوچ رہے کہ لبرلز کا تو کام ہی یہی ہے، اصل مدعا یہ ہے کہ ہم نے کیا کیا، ہم لبرلز کو بعد میں کوسیں گے مگر پہلے اپنے گریبان میں کیوں نہ جھانک لیں؟
    آج امت ِمسلمہ کا انگ انگ لہولہان، مظلوم امت دھاڑیں مار رہی مگر کیا خوب کہا کسی نے‘جس پہ بیتے، وہی جانے‘. جس امت کو ایک وجود کہا گیاآج اسی کو دوسرے بھائیوں کی خبر تک نہیں .

    امید ہے کہ یہ امت کسی دن جاگے گی، مگر ڈر ہے کہیں دیر نہ ہو جائے. کیونکہ جو قوم کرکٹ کو جہاد سمجھنے لگے، شراب و کباب اور ناچ و موسیقی جس قوم کا شیوہ بن جائے. اللہ سے بڑھ کر نجومیوں پہ یقین ہو تو اس
    قوم کا مقدر صرف تباہی اور بربادی ہوتا ہے. دعا ہے اللہ اس امت کو جگا کر اس امت کو حلب جیسی تباہی سے مزید بچائے اور حلب پہ مزید رحم فرمائے. اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔
     
  3. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,757
    حلب لہو لہو: یا انساں ہی مر گیا آخر؟؟
    حافظ یوسف سراج
    تم تو کہتے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    مکرم ،درخشاں اور اوجِ انسانیت کا آسماں ہے
    یہ عالمی گاؤں!!
    اور یہ اس مقدس دیہہ کا اکیس واں روشن ہزاریہ ہے !!
    کہ جہاں 245سرحدوں میں 6ارب کروڑ انسان بستے ہیں۔
    اور جہاں مثلِ کھمبیاں بے انت اُگی اور مانندِ مینڈکاں ٹرٹراتی۔۔
    تحفظِ انساں کی بے گنت تنظیمیں ہیں۔
    آہ! مگر تمھارے اسی عہدِ فسوں ساز میں۔۔۔
    آہ! مگر تمھارے اسی عشرت کدہ ٔناز میں ۔۔۔۔
    میرے قلب میں خنجر کی طرح گڑا
    یہ حلب !یہ حلب ! یہ حلب!!
    کہ جہاں عین ا س جگہ علاج گاہوں میں ،
    آسماں بارود برساتاہے ۔
    کہ جہاں ماؤں کی کوکھوں سے
    جگنوؤں اور تتلیوں کو تخلیق ہونا تھا ۔
    ان ٹمٹماتے جگنوؤں اور ان بے اڑی تتلیوں کو۔۔۔
    آہ! مگررحمِ مادر ہی میں ۔۔
    اذنِ تخلیق سے بھی پہلے۔۔۔
    برزخ پلٹنے کا حکم ملتاہے۔۔۔
    اور۔۔جہاں پگھلے بارود کے سیسہ ملے زہرناک کھلونے۔۔
    ماں کے پیٹ کے اندر ، ننھے جسموں میں چھیدکرتے ہیں۔
    اور یوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔جو پیدا نہیں ہوا، وہ مر جاتاہے۔
    کیا انسان احساس بھی کر سکتاہے ؟؟؟
    کہ جب کسی بے چھوئے بے مولود ننھے گلابی جسم میں ،
    ماں کے جسم سے گزر کر، ایک گولی سوراخ کرتی ہے
    تو وہ بے مولود کیا احساس کرتا ہے؟؟
    ماں کیا محسوس کرتی ہے ؟ خدا کیا محسوس کرتا ہے؟
    آہ!! تہذیبِ نو کے ہاتھوں وہ ہڑپہ ہو گیا حلب !!
    کہ جہاں ہر پچیس منٹ میں ایک زندگی ہار جاتی ہے۔
    جہاں مریضوں سے پہلے ۔۔
    مسیحا انجانی موت مرتے ہیں۔
    جہاں موت جتنی ارزاں ہے، اتنی آساں نہیں ہر گز!!
    جہاں قدم دھرنے کو زمیں نہیں ہر گز،
    سر پر آسماں نہیں ہرگز!!
    گو کسے نہیں مرنا۔۔۔ یوں مگر لیکن۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟؟
    خون میں لتھڑ لتھڑ کر۔۔۔ ؟؟
    اور بارود میں بکھر بکھرکر۔۔۔۔؟؟
    لہو میں نچڑ نچڑ کر۔۔۔؟؟
    اور بارود کی بوچھاڑ سے چھلنی ہو ہو کر۔۔۔۔؟؟
    ؎ یہ تو بتاؤ آخر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔کہ
    تمھاری تہذیب کہاں حرامکاری کرتی ہے؟
    تمھارا انصاف کہاں منہ کالاکرتاہے ؟؟
    کہ گلابی بدنوں میں جب اتنی آنکھیں کھولی جاتی ہیں۔۔۔
    کہ جتناان بدنوں میں لہو نہیں ہوتا ،
    جتنے انسانیت کے پاس اشک نہیں ہوتے۔
    تم تو کہتے تھے، یہ 2016ء کی دنیاہے۔۔
    مہذب اور معراج ِانسانیت کی دلیل دنیا ۔
    وحشت ،سفاکیت اورچنگیزیت کے ڈریکولائی سیاہ دورکو برباد کرچکی دنیا!
    کہ جہاں حقوق ہوتے ہیں
    سفاک درندوں کے بھی،خونخوار حیوانوں کے بھی،
    بے آباد جنگلوں کے بھی ، آلودہ مکھیوں کے بھی ،
    نابکار مچھروں کے بھی، پلیدکتوں کے بھی،
    اور ناپاک سٔوروں کے بھی
    حقوق ہوتے ہی، جو بڑے محفوظ ہوتے ہیں!!
    کہ جن پرخراش آنا بھی ممکن نہیں ہوتا ،
    کہ دنیا کا ضمیر اس پر نگہبان ہوتا ہے۔
    کیا تمھارے لب نہیں ہلتے ؟؟
    مجھے بتاتے کیوں نہیں آخر؟؟
    کیاشامی انسان نہیں آخر؟
    یا خدا کا انسان ہی مر گیا آخر؟؟
     
  4. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    بہت بھترین کالم نگار ہیں یوسف سراج صاحب.

    Sent from my ALE-L21 using Tapatalk
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں