اسامہ نے اولاد کو جہاد سے دور رہنے۔ مغربی تعلیم کی وصیت کی

Innocent Panther نے 'حالاتِ حاضرہ' میں ‏فروری 13, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. Innocent Panther

    Innocent Panther محسن

    شمولیت:
    ‏نومبر 12, 2011
    پیغامات:
    600
    اسامہ نے اولاد کو جہاد سے دور رہنے۔ مغربی تعلیم کی وصیت کی۔ برطانوی اخبار

    سعودی ٹی وی کا جاری کردہ اسامہ بن لادن کے بچوں کا گروپ فوٹو

    [​IMG]



    برطانوی اخبار کے دعوے کے مطابق شدت پسند تنظیم القاعدہ کے بانی مقتول رہ نما اسامہ بن لادن کے سسرالی عزیز اور ان کی پانچویں بیوہ کے بھائی زکریا السادہ نے کہا ہے کہ بن لادن نے اپنی کم سن اولاد کو وصیت کی تھی کہ وہ مغربی تعلیمی اداروں میں اپنی تعلیم مکمل کریں اور پُرامن زندگی گذاریں، ان کا جہاد سے کوئی تعلق نہیں ہونا چاہیے۔برطانوی اخبار"سنڈے ٹائمز" کو ایک انٹرویو میں زکریا السادہ کا کہنا تھا کہ اسامہ بن لادن نے گیارہ ستمبر 2001ء کو امریکا میں کیے گئے دھماکوں پر بھی افسوس کا اظہار کیا تھا۔ القاعدہ کے مقتول لیڈر نے اپنی اولاد کو وصیت کی تھی کہ وہ مغربی تعلیمی اداروں اور جامعات میں اپنی تعلیم مکمل کریں، پرامن زندگی بسر کریں اور جو کچھ میں کرتا رہا ہوں اس سے گریز کریں۔السادہ کا کہنا تھا کہ اس نے حال ہی میں پاکستان میں گذشتہ برس اسامہ بن لادن کےخلاف امریکا کے ایک خفیہ آپریشن میں زخمی اپنی ہمیشرہ اور بن لادن کی بیوہ امل السادہ سے ملاقات کی۔ اس ملاقات کے دوران اسامہ کی بیوہ نے بتایا کہ ان کے شوہر نے اپنے بچوں کے لیے کہا تھا کہ ان کی زندگی اولاد کے لیے نمونہ نہیں۔ وہ جہاں چاہیں مغربی تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کریں اور پرامن زندگی گذاریں۔

    زکریا السادہ نے بتایا کہ اسامہ بن لادن کی تین بیوگان اور نو بچوں کو اس کمپاؤنڈ سے حراست میں لیا گیاتھا جس میں مبینہ طور پر امریکی کمانڈوز نے دو مئی 2011ء کو پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں آپریشن کے دوران اسامہ کو قتل کیا تھا۔ زکریا نے بتایا کہ حراست میں لیے جانے کے بعد اسامہ کی بیوگان اور ان کے بچوں کو ایک تین کمروں پر مشتمل چھوٹے سے فلیٹ میں اسلام آباد میں رکھا گیا اور پاکستانی خفیہ ادارے اس فلیٹ کی چوبیس گھنٹے نگرانی کرتے ہیں۔القاعدہ لیڈر کے برادر نسبتی کا کہنا ہے کہ اس کی ہمیشرہ نے ملاقات کے دوران ایبٹ آباد آپریشن کے وقوعے کی تفصیلات بتائیں اور کہا کہ جب امریکی کمانڈوز نے ان کے کمپاؤنڈ پر یلغار کی تو ان کے بچے سخت خوف زدہ ہوگئے تھے۔ ان میں سب سے زیادہ دہشت کا شکار بارہ سالہ صفیہ ہوئی جو اس وقت اپنی ماں کی گود میں تھی جب امریکی کمانڈوز کی فائر کردہ ایک گولی اس کی ماں کی کمر میں پیوست ہو گئی تھی۔ ایک سوال کے جواب میں مسٹر السادہ نے کہا کہ وہ گذشتہ برس نومبر میں پاکستان آئے تھے تاکہ اپنی ہمشیرہ اور اس کے پانچ بچوں کی رہائی کا انتظام کرا سکیں لیکن پاکستانی حکام نے ان کی رہائی سے انکار کر دیا۔انہوں نے بتایا کہ اسامہ بن لادن کی دو دیگر بیوگان خیریہ اور سہام نے اپنی گرفتاری کےخلاف بھوک ہڑتال کر رکھی ہے۔

    احوال - اسامہ نے اولاد کو جہاد سے دور رہنے۔ مغربی تعلیم کی وصیت کی۔ برطانوی اخبار
     
  2. msshad001

    msshad001 -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏فروری 7, 2012
    پیغامات:
    38
    اس خبر کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ھے یہ صرف یہود اور عیسائیوں کی چال ہے۔مسلمانوں کو جہاد سے دور رکھنے کی۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  3. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    سب سے پہلے تو ميں يہ وضاحت کر دوں کہ جس اخباری خبر کا تذکرہ کيا گيا ہے، اس کی بنیاد اسامہ بن لادن کی بيوی کے بھائ کی جانب سے ديا جانے والا ايک اخباری انٹرويو تھا۔ اس ليے يہ دعوی کرنا کہ يہ غير مسلموں کی جہاد کو بدنام کرنے کی کوئ سازش ہے بالکل غلط اور بے بنياد تاثرات پر مبنی ہے۔

    اس اخباری رپورٹ کی صداقت اور اس پر آپ کی راۓ کو ايک طرف رکھتے ہوۓ يہ تو ايک ناقابل ترديد حقيقت ہے کہ دنيا بھر سے کئ جيد علماء اسلام نے اسامہ بن لادن اور القائدہ کی جانب سے کی گئ جہاد کی تشريح کو يکسرمسترد کر ديا ہے اور اسے تمام انسانيت کے خلاف کھلم کھلا دہشت گردی قرار ديا ہے جس کی کوئ مذہبی اور اخلاقی توجيہہ پيش نہيں کی جا سکتی ہے۔

    گزشتہ برس 18 ممالک کے 250 سے زائد مذہبی سکالرز نے اسلام آباد ميں منعقدہ سيرت کانفرنس کے دوران دہشت گردی کی سوچ کی سخت مذمت کی تھی۔

    http://www.seeratconference.com
    /
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    http://www.state.gov
    http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
     
  4. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    اچھا بہت اچھے۔۔۔ تو ایک ناقابل تردید حقیقت ہم سے بھی سُن لو کے دنیا بھر کے کئی جید علماء اسلام نہیں علماء کرام نے فلسطینیوں پر اسرائیل کی جانب سے ڈھائے جانے والے انسانیت سوز مظالم کے خلاف کھلم کھلا پھیلائی جانے والی دہشتگردی کی پچھلی کئی دھائیوں سے شدید مذمت کی ہے اور آج تک کررہے ہیں‌۔۔۔ وہ امریکہ بہادر یا اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ کو دکھائی نہیں دیتی کیوں؟؟؟۔۔۔

    اب فواد صاحب ذرا یہ بھی بتاتے جائیے۔۔۔ کے ان ہی اٹھارہ ممالک کے ٢٥٠ سے زائد مذہبی سکالر کو علماء نہیں سکالز کو اسلام آباد میں فلسطینیوں پراسرائیل کی ظالمانہ کاروائیوں کے خلاف اگر جمع کیا جائے اور فتوٰی مانگا جائے تو کیا بتانا لازمی ہے کے وہ فتوٰی کیا ہوگا؟؟؟۔۔۔ بھیاء عقلمند کو اشارہ کافی ہے۔۔۔ لیکن تمہاری ایک بات سے بہت خوشی ہوئی کے جن لوگوں نے اسامہ کے خلاف فتوٰی دیا تھا اُنکو پاکستان میں عالم سمجھا جاتا ہے مگر یہ بات آن دی ریکارڈ آگئی کے بقول آپ کے، کے وہ لوگ اسکالز ہیں۔۔۔ جس کے لئے شکریہ۔۔۔

    اسی طرح ان ہی دوسو پچاس سکالروں سے علماء کرام نہیں ان اسکالروں سے اگر یہ فتوٰی لیا جائے اس واقعے پر جو توہین قرآن کے تعلق سے افغانستان میں پیش آیا ہے تو کیا آپ اس فتوٰی پر عمل کے متحمل قرار پائیں گے یا۔۔۔ شخصی آزادی کا نعرہ لگا کر ادھر بھی کنیاں کترائیں گے۔۔۔ تو پھر جن لوگوں کے جذبات مجروح ہوئے کیا اُنہیں حق نہیں کے وہ بھی اسی آزادی کا اظہار کریں؟؟؟۔۔۔

    المہمم۔۔۔ فضول کی اٹکل پچو تاویلات سے بچوں کو لالی پاپ دے کر تو بہلایا جاسکتا ہے۔۔۔ ہم کو نہیں۔۔۔

     
    Last edited by a moderator: ‏فروری 24, 2012
  5. allah ke bande

    allah ke bande -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 15, 2011
    پیغامات:
    25
    خدا کم ازکم اسامہ کی اولاد کو دینی شدت پسندی سے دور رکھے اور انہیں اسلام کی صحیح تعلیمات کی بناہ پر دنیا میں زندگی گزارنا سکھائے۔ تاکہ مسلمان قتل و غارت کرنے کے بجائے، تعلیم کے زور سے اپنی بات کو منوائیں۔
     
  6. ایک دم ریڈی

    ایک دم ریڈی -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    4
    اگر اسامہ بن لادن واقعی سمجھتا کہ جہاد کرنا آخرت کا معاملہ ہے تو وہ ہرگز اپنی اولاد کو ایسا مشورہ نہیں دیتا۔ مجھے لگتا ہے کہ کوئی ایسا وقت ضرور آیا ہوگا جب اسے خود ہی احساس ہوا کہ اس کی زندگی کا مقصد بیکار ہے۔
     
  7. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    اسلامی سکالرز، علماء اور سياست دان جو کئ دہائيوں پر محيط مسلہ فلسطين کے حوالے سے مختلف آراء اور نقطہ نظر رکھتے ہيں، ان ميں اور اسامہ بن لادن ميں فرق يہ ہے کہ اسامہ بن لادن نے دنيا بھر ميں بغير کسی تفريق کے بے گناہ شہريوں کو قتل کيا اور پھر اپنی متشدد کاروائيوں کی ہيبت پر پردہ ڈالنے کے ليے خود کو مسلمانوں کا مسيحا بنا کر پيش کرنے کی ناکام کوشش کی۔

    حاليہ شواہد سے يہ بات واضح ہو گئ ہے کہ اسامہ بن لادن کے نظريات اور ان کے طريقہ کار ميں واضح تضاد، دوغلا پن اور دھوکہ موجود تھا جس کے ذريعے وہ نوجوان مسلمانوں کے ذہنوں کو پراگندہ کر کے اندھا دھند اپنے تئيں ايک مکروہ سوچ کی تسکين کی کوشش کرتے رہے۔

    اس امر کی کيا تاويل پيش کی جا سکتی ہے کہ ايک جانب تو ان کی تنظيم اور اس کے حواری کم سن بچوں کو مغرب کے خلاف جنگ کے ليے خود کش حملہ آور بننے کی ترغيب ديتے رہے ليکن خود اسامہ بن لادن اپنے بچوں کو امريکہ ميں بہتر تعليم کے حصول کی تلقين کرتے رہے؟

    آپ ان کی اہليہ کے حاليہ بيان پڑھ سکتے ہيں جس سے ايک ايسے انسانی کی فکری سوچ کو پرکھا جا سکتا ہے جو بے شمار کم سن مسلمان بچوں کی زندگيوں کو برباد کر کے محض اپنے ذاتی مفادات کو تحفظ دينے کی کاوش کرتا رہا۔

     امن سے رہو اور مغرب کی طرف جاو، اسامہ کا اپنے بچوں پر زور - khabarsouthasia.com

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    Improve Your Experience | Facebook
     
  8. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    ايک لحاظ سے آپ ميری ہی بات کی تائيد کر رہے ہيں۔ اگر وہ اسلامی سکالرز جو فلسطين کے مسلۓ کے حل کے ليے وہی نظريات رکھتے ہيں جو اسامہ بن لادن کے تھے، وہ بھی اسامہ بن لادن کے "جہاد" کو يکسر نظرانداز کر کے اسے انسانيت کے خلاف کھلم کھلا دہشت گردی قرار دے رہے ہيں تو کيا اس سے يہ ثابت نہيں ہو جاتا کہ اسامہ بن لادن فلسطين کے ايشو کو محض اپنی مکروہ سوچ اور نظريات کو پروان چڑھانے کے ليے استعمال کر رہا تھا اور تشدد، بربريت اور بربادی کے ذريعے اپنے سياسی قد کاٹھ اور اثر کو بڑھانے کی کوشش کر رہا تھا۔

    اس تناظر ميں کيا کوئ بھی ايمانداری کے ساتھ يہ دعوی کر سکتا ہے کہ اسامہ بن لادن اور اس کے حواريوں کی جانب سے کی جانے والی کاروائياں اور ان کے نتيجے ميں دنيا بھر ميں بے شمار مسلمانوں اور غير مسلموں کا جو خون بہايا جا چکا ہے، فلسطين کا مسلہ اپنے حل کے قريب آ چکا ہے؟

    اس ميں کوئ شک نہيں کہ کشمير اور فلسطين سميت دنيا کے دیگر عالمی تنازعات کے نتيجے ميں بے شمار انسانی جانوں کا زياں ہو چکا ہے۔۔ ليکن کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ اگر امريکہ تمام فريقین پر ان کی مرضی اور اتفاق راۓ کے بغير کوئ حل مسلط کرنے کی کوشش کرے تو اس صورت میں پائيدار اور طويل المدت امن کا خواب پورا ہو سکتا ہے؟

    کيا آپ يہ دليل دينا چاہ رہے ہيں کہ چونکہ کئ دہائيوں پرانے فلسطين کے تنازعہ ميں بے گناہ افراد ہلاک ہوۓ ہيں اس لیے ان دہشت گردوں اور خود ساختہ آزادی کے متوالوں کی کاروائياں اس بنياد پر جائز ہيں کہ ان ميں اس حوالے سے شديد غم وغصہ پايا جاتا ہے؟

    اس میں کوئ شک نہیں کہ فلسطين کے مسلۓ اور اس کے نتيجے میں بے گناہ انسانی جانوں کے ہلاکت امريکہ سميت تمام عالمی برادری کے ليے ايک لمحہ فکريہ ہے۔ ليکن اس مسلۓ کے حوالے سے بھی امريکی حکومت تشدد کی محرک يا وجہ نہيں بلکہ تنازعے کو حل کرانے کی کوششوں کا حصہ ہے۔ ہم تمام متعلقہ فريقين کے مابين کدورتيں ختم کرا کر خطے ميں پائيدار امن کے ليے ہر ممکن کوشش کر رہے ہيں۔ اس حوالے سے ہماری پوزيشن اور نقطہ نظر کو بے شمار عرب ممالک کی حمايت بھی حاصل ہے۔

    ميں يہ بھی واضح کر دوں کہ امريکی حکومت اسرائيل سميت دنيا کی کسی بھی ملک کی فوج يا اس کی جانب سے کسی قسم کی عسکری کاروائ کی ذمہ دار نہيں ہے۔ 

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    Improve Your Experience | Facebook
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں