جنگلی امریکی فوجی کی فائرنگ 16 افغان قتل کر ڈالے

عائشہ نے 'خبریں' میں ‏مارچ 11, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
  2. الطائر

    الطائر رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 27, 2012
    پیغامات:
    273
    افغان پارلیمنٹ نے عوامی ٹرائل کے حق میں قرارداد منظور کر لی ۔ ۔قتل کےبعد خواتین کی لاشوں کی بے حرمتی کا انکشاف
    پینٹاگون۔ قاتل فوجیوں کے خلاف افغانستان میں مقدمے کا مطالبہ مسترد
    قندھار واقعہ انفرادی فعل ہے۔ کوئی یونٹ ملوث نہیں۔ جنگی حکمتِ عملی نہیں بدلیں گے۔ پینٹا گون کی ڈھٹائی۔ پیمانہ صبر لبریز ہو گیا۔ مقدمہ کھلی عدالت میں چلایا جائے۔ افغان ایوانِ زیریں۔ واردات غیر انسانی قرار

    طالبان نے بھی انتقام لینے کا اعلان کر دیا۔ ایک فوجی نہیں تھا۔ واردات سے قبل لڑاکا طیاروں اور ہیلی کاپٹروں کی آوازیں سنیں۔ عینی شاہدین۔ جرمن چانسلی کا ہنگامی دورہ۔ اوباما۔پینیٹا کے کرزئی کو فون​

    روزنامہ امت کراچی

    جائے واردات ویڈیو

    افغان ڈاکٹر محمد داؤد میراکی انٹرویو

    :00008:Perpetual Death From America
     
  3. Amir Nawaz Khan

    Amir Nawaz Khan -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏فروری 4, 2012
    پیغامات:
    111
    اس المناک واقعہ کے بعد پاکستان بھر میں اور اس فورم پر غم و افسوس کی اک بڑی لہر دیکھنے میں آئی ہے اور ہر درد دل رکھنے والے انسان کا اپنے جذبات کا اظہار اور اس واقہ کی مذمت کرنا ایک فطری بات ہے۔
    ہم سب اس حقیقت سے بخوبی واقف ہیں کہ حیات و ممات کا سلسلہ ازلی و ابدی ہے اور ہم سب کو ایک دن اسی جادہ فنا پر جانا ہے۔
    میں آپ کے جذبات و احساسات کی دل سے قدر کرتا ہوں اور ہم سب غم کی اس گھڑی میں اپنے غمزدہ اور دل گرفتہ افغان بھائیوں کے ساتھ ہیں۔
    ہم سب کو چاہئیے کہ غم و غصہ اور اظہار مذمت کے بعد کچھ تعمیری کام ان غمزدہ اور دل گرفتہ لوگوں کی عملی طور پر مالی اعانت و مدد کر کے کریں تاکہ وہ اس حادثہ کا اور بعد کے حالات کا بخوبی مقابلہ کر سکیں۔
    ہمیں تحقیقات کے نتائج کا انتظار کرنا چاہئیے تاکہ انصاف کا بول بالا ہو اور مزید تشدد سے اجتناب کرنا چاہئیے کیونکہ تشدد مسائل کا حل نہیں ہوتا۔ اللہ تعالی غموں اور دکھوں کا مداوا کرنے والا ہے۔
     
  4. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    ميں بے معنی ذاتی حملوں اور ايسے جملوں پر تبصرہ نہيں کروں گا جن کا زير بحث اصل ايشو سے کوئ واسطہ نہيں ہے۔ ليکن ميں اس منطق اور سوچ کو ضرور سمجھنا چاہوں گا جس کے تحت بعض تبصرہ نگاروں نے اس خبر کی بنياد پر امريکہ کو دنيا کی سب سے بڑی دہشت گرد قوم قرار ديا ہے جس ميں ايک امريکی فوجی کی جانب سے کيے گۓ غلط کام کو تسليم کيا گيا ہے اور پھر اس کے قبيح جرم کی وجہ سے اس کو زير حراست رکھ کر تحقيق کی جا رہی ہے۔

    يہ تاثر بالکل غلط ہے کہ اس طرح کے واقعات معمول کا حصہ ہيں اور اس ايشو کو صرف اس وجہ سے توجہ ملی کيونکہ ميڈيا کو اس واقعے کی بھنک پڑ گئ۔ اگر آپ ماضی کا جائزہ ليں تو ہمارے فوجی افسران نے ہميشہ ايسے اقدامات کی حقيقت کو کھلے دل سے تسليم کيا ہے جو ہماری قدروں اور مروجہ اصولوں کو پامال کرنے کرنے کا سبب بنے، چاہے اس کی ہميں کتنی ہی بڑی سياسی، فوجی يا سفارتی قيمت کيوں نہ چکانی پڑے۔ اس واقعے کے ضمن ميں بھی نا توحقا‍ئق کو پوشيدہ رکھنے کی کوشش نہيں کی گئ اور نا ہی جس فوجی پر مبينہ طور پر الزام لگا ہے، اسے بچانے کی کوئ کوشش کی گئ ہے۔

    يہ دعوی کہ اعلی امريکی افسران ايسی خبروں کا نوٹس نہیں ليتے جن ميں عام شہريوں کے خلاف جنگی جرائم جيسےمبينہ الزامات منظر عام پر آتے ہیں، بالکل غلط ہے۔

    بہت سے لوگ امريکی فوجيوں کی جانب سے انسانی حقوق کی خلاف ورزيوں کے واقعات بلکہ افواہوں کو بھی بڑھا چڑھا کر بيان کرنے ميں کوئ تامل نہيں کرتے ليکن جان بوجھ کر اس بات کو نظر انداز کرتے ہیں کہ اس طرح کے واقعات کو نظرانداز کرنے يا ان پر پردہ ڈالنے کی بجاۓ امريکی حکومت ان پر سنجيدگی سے تحقيقات کرواتی ہے۔

    ايک فرد کے ذاتی فعل اور صرف ايک واقعہ جسے اس کے اصل دائرہ کار اور اثر سے دانستہ بڑھا چڑھا کر پيش کيا جا رہا ہے، اس حقيقت کو رد نہيں کر سکتا کہ امريکی اور نيٹو افواج افغانستان ميں افغان شہريوں کی زندگيوں کو محفوظ کرنے کے علاوہ انفرااسٹکچر کی تعمير، تعميری منصوبوں کے آغاز اور افغنستان کو عوام کو خودمختار کرنے ميں مصروف ہيں تا کہ وہ خود اپنے ملک کی باگ ڈور سنبھال سکيں۔ کيا آپ اس کا موازنہ ان دہشت گرد گروہوں کے طرز عمل سے لگا سکتے ہيں جو خوف اور افراتفری کے ذريعے اپنے اثر ورسوخ ميں اضافے اور اپنے مسخ شدہ نظريات کی بنياد پر لوگوں پر اپنا تسلط قائم کرنا چاہتے ہیں۔

    اگر فورمز پر کچھ راۓ دہندگان اس بنیاد پر امريکہ کو دہشت گرد قرار دينے پر بضد ہیں کہ امريکہ نے اپنے ہی ايک فوجی کو غير قانونی رويے کی وجہ سے اس کے خلاف قانونی کاروائ کرنے کا فيصلہ کيا ہے تو پھر اس معيار اور تشريح کے تحت آپ ان پرتشدد دہشت گرہوں کو کيا کہيں گے جو نہ صرف يہ کہ بے گناہ شہريوں کو دانستہ قتل کرتے ہيں بلکہ ان کی تعداد کا حوالہ دے کر نہ صرف يہ کہ اپنی "کاميابی" کا تذکرہ کرتے ہيں بلکہ مستقبل ميں بھی ايسی ہی کاروائيوں جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہيں؟

     
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    http://www.state.gov
    http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
     
  5. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    فواد کیا مطلب؟؟؟۔۔۔ بےمعنی ذاتی حملوں اور ایسے جملوں پر تبصرہ بازی سے جان چھڑانے کی؟؟؟۔۔۔ یہ ہی تو جمہوریت ہے آزادی اظہار رائے تو آپ اس طرح کنیاں نہ کترائیں۔۔۔ اور بوکھلاہٹ میں آپ خود اپنا ذہنی توازن کھوبیٹھے کیا وجہ ہے۔۔۔ ہم کہاں یہ الزام لگارہے ہیں؟؟؟۔۔۔ کے امریکی دنیا کے سب سے بڑے دہشت گرد ہیں۔۔۔ یا امریکی قوم دنیا کی سب سے بڑی دہشتگرد قوم ہے۔۔۔ ہاں!۔ یہ الگ بات ہے کے آپ اگر خود اپنے احتساب پر اُتر آئے ہیں اور خود اقبال جرم کررہے ہیں اور حقیقت کو الزام بنا کر ہم پر تھوپ رہے ہیں تو چلیں ہم اس معاملے میں آپ کی مدد ضرور کریں گے۔۔۔

    سب سے پہلے تو شرم آنی چاہئے آپ کو اپنے مسلمان ہونے پر۔۔۔ پوچھیں کیوں؟؟؟۔۔۔ ایک کافر کی مجرمانہ حرکت کو آپ غلط کام سے تشبیح دے رہے ہیں۔۔۔ اگر ایسا ہی ہے تو پھر عامل کانسی نے جو کیا تھا وہ جرم نہیں تھا غلط کام تھا۔۔۔ تو اس کو اس غلط کام کی پاداش میں سزائے موت کیوں دی گئی؟؟؟۔۔۔ اگر سی آئی کے وہ اہلکار جن کو عامل کانسی نے قتل کیا تھا وہ بےگناہ تھے تو ان نہتے اور معصوم بچوں کا قصور بھی امریکہ بہادر بتادے۔۔۔۔

    جیسا کے آپ نے کہا!۔
    چھوریں گپیں مارنا۔۔۔ ابوغریب جیل سے لیکر ریمنڈڈیوس تک امریکی حکومت نے کیا جائزے لئے؟؟؟۔۔۔ اور پےدر پے ان مجرمانہ حرکات کی وجہ صرف امریکی حکومت کا ہر جرم پر صرف جائزہ لینا ہی تو ہے اگر اقدامات کئے جاتے تو پھر اس طرح کے واقعات کا ہونا کیا معنی رکھتا ہے؟؟؟۔۔۔ یعنی پھنس تو آپ دونوں طرف سے رہے ہیں۔۔۔ یعنی منافقت دونوں طرف سے۔۔۔

    چلیں وہ بھی بتا دوں۔۔۔پچھلی کئی دھائیوں سے امريکہ طالبان کو دہشتگرد ہی قرار ديتے رہے ليکن اب مذاکرات کر رہے ہيں۔۔۔کیوں؟؟؟۔۔ محترم اگر مذاکرات ہي کرنے تھے، تو لاکھوں بے گناہ مسلمانوں کو کيوں دہشتگردی کے خلاف جنگ میں شہید کیا؟؟؟۔۔۔ یہ سوال بھی اہمیت رکھتا ہے۔۔۔ کہیں ایسا تو نہیں عیسائی مشنری کچھ اور چاہتی ہے اور یہودی لابی کچھ اور۔۔۔ جس کی وجہ سے ایسی مجرمانہ کاروائیاں جان بوجھ کر کی جارہی ہوں۔۔۔ تاکہ مذاکرات کے عمل کو ختم کیا جاسکتے؟؟؟۔۔۔

    فواد صاحب طاقت کا دعوے دار صرف ایک ہی پاک ذات ہے اللہ رب العزت کی۔۔۔ اگر واقعی امریکہ طاقت ور ہے تو ذرا جواب دیں کے کون سی ایسی ٹیکنالوجی جو امریکہ بہادر نے افغانستان میں استعمال نہیں کی اپنی جھوٹی طاقت کا بھرم رکھنے کے لئے پھر بھی ناکام رہا کیوں؟؟؟۔۔۔ یاد رکھیں جس قوم کا سر اپنے رب کے سامنے جھکتا ہو۔۔۔ وہ ابلیس کے دشمن ہوتے ہیں۔۔۔ لہذا اپنے ضمیر کی آواز کو سُنیں۔۔۔ سوچیں کل قبر کے مراحل کیسے طے کریں گے۔۔۔ اللہ کے حضور خود کو کیسے صحیح‌ ثابت کریں گے۔۔۔ اللہ تعالٰی آپ کے حال پر رحم فرمائے۔۔۔ آمین یارب
     
  6. ابوعمر

    ابوعمر محسن

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 23, 2007
    پیغامات:
    171
    دنیا کی اکثریت گونگی ضرور ہے لیکن اندھی اور بہری نہیں ۔ افغانستان ہو یا عراق ''امن اور تعمیر'' کے جھنڈے تلے ظلم اور بربریت کی جو تاریخ رقم کی جارہی ہے اسے دنیا کی یہ گونگی اکثریت بخوبی دیکھ رہی ہے لیکن اپنی محکومی اور لاچاری کے باعث اتنی ہمت نہیں کہ اس وقت کے فرعون کے سامنے اپنی زبان کھول سکے ۔

    ظالم امریکی فوج کے بےغیرت حمایتی اور دو ٹکے کےترجمان ، اگراپنی کمزور یاداشت کو حالیہ امریکی درندگی تک محدود کرنے کے بجائے تھوڑا سا پیچھے لے کر جائیں ، تو شاید انھیں اُن ۸۰ ننھے ننھے معصوم پاکستانی مدرسے کے بچوں کے جسم کے چیتھڑے نظر آیں جنھیں یہ کہہ کر ایک ہی ڈرون حملے میں موت کی نیند سلا دیا گیا کہ اُس کچی مِٹی کی مسجد میں ، جہاں شاید چھری بھی نہ ہو وہاں اسلحہ بن رہا تھا ۔ لیکن کیا فرق پڑتا ہے پاکستانی تھے اور اس سے بھی بڑھ کر مسلمان تھے ، اِن کیڑوں مکوڑوں کی کیا حیثیت کسی امریکی انسان کے سامنے۔

    ابو غریب جیل ہو یا کیوبا کا گوانتانامو بے ، مسلمان بیٹیوں کو امریکی قید میں حاملہ کیا جا ئے یا جنگ میں ہلاک ہوئے بے بس لوگوں پر پیشاب کر کے جشن بنایا جائے ، قرآن کو آگ لگا کر اور اس کو فلش میں بہا کر مسلمانوں کے جذبات کی تذلیل کی جائے یا ہر دن معصوم عوام پر ڈرون حملے کر کے ان کے خون سے ہولی کھیلی جائے ۔۔۔ دنیا کی یہ خاموش اکثریت سب دیکھ رہی ہے ۔ امریکی حکومت اپنے اس ظلم کو چھپانے کے لیے اور دنیا کو کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے اب چاہے جتنے پروپیگنڈے کر لے اور چاہے جتنے پیسے ان دو دو ٹکوں کے دانشوروں اور تجزیہ کاروں پر خرچ کر دے ۔۔ ۔لیکن جانوروں سے بدتر اپنی جنونی اور وحشی فوج کی دہشتگردی کوچُھپا نہ سکے گی ان شاء اللہ ۔

     
  7. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    امريکی حکومت نے يہ تسليم کيا ہے کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے حوالے سے امريکی آرمی کا ريکارڈ مثالی نہيں ہے۔ ليکن يہ بھی حقيقت ہے کہ تاريخ انسانی کی ہر فوج ميں ايسے افراد موجود رہے ہيں جنھوں نے قواعد وضوابط کی خلاف ورزی کی اور قانون توڑا۔

    حاليہ واقعہ يقينی طور پر انتہائ افسوس ناک ہے ليکن ايسے اکا دکا واقعات کسی منظم سسٹم کے تحت نہيں رونما ہوۓ ہيں اور يہ امريکی افواج کی اکثريت کے رويے کی نمايندگی نہيں کرتے جو بے شمار قواعد وضوابط کے پابند ہوتے ہیں۔

    امريکی صدر سميت تمام سرکردہ عہديدران نے افغانستان ميں انسانی جان کے ضياع پر شديد رنج اور صدمے کا اظہار کيا ہے۔ جو فرد اس حملے کا ذمہ دار ہے اس نے امريکی مشن کی کسی بھی طريقے سے کوئ خدمت نہيں کی اور اسے يقینی طور پر اپنے کيے کی سزا ملے گي۔

    کچھ راۓ دہندگان نے اس خدشے کا اظہار کرتے ہوۓ اپنے جذبات بيان کيے ہيں کہ اس جرم کا ارتکاب کرنے والے کو دوبارہ امريکی معاشرے ميں بغير کسی سزا کے شامل کر ليا جاۓ گا اور اس ضمن ميں يہ تاويل دی جا رہی ہے کہ امريکی فوج کبھی بھی اپنے فوجيوں کا احتساب نہيں کرتی۔

    يہ سراسر غلط ہے۔ تاريخی اعداد وشمار اور حقائق يہ واضح کرتے ہيں کہ امريکی فوج ميں قبيح جرائم ميں ملوث افراد پر فرد جرم بھی عائد کی گئ ہے اور سزا کی صورت ميں انھيں جيل کا سامنا بھی کرنا پڑا اور بعض کيسز ميں انھيں سزاۓ موت بھی دی گئ۔

    حاليہ مثالوں ميں ايک واقعہ سال 2006 ميں عراق کا ہے جہاں کچھ فوجيوں کو قتل اور آبروريزی کے مقدمات ميں قيد کی سزا سنائ گئ۔ سال 2008 ميں امريکی صدر بش نے ايک امريکی فوجی پرائيوٹ رونالڈ گرے کی سزاۓ موت کی منظوری دی تھی جسے 1988 ميں ايک سے زائد قتل اور آبروريزی کے مقدمے ميں سزا دی گئ تھی۔ اس ضمن ميں سزاۓ موت کی تاريخ کا فيصلہ کر لیا گيا ہے۔ اس وقت يہ مقدمہ اپيل کے مرحلے ميں ہے۔ سال 2010 ميں 3 افغان شہريوں کے قتل ميں ملوث 2 امريکی فوجيوں ميں سے ايک کو عمر قيد اور دوسرے کو 24 سال قید کی سزا سنائ جا چکی ہے۔

    امريکی فوج ميں شامل فوجی کو آرٹيکل 32 کے تحت يہ حق حاصل ہوتا ہے کہ کسی سنگين جرم ميں فرد جرم عائد کرنے يا کورث مارشل کرنے سے پہلے اسے شنوائ کا موقع ديا جاۓ۔

    کسی بھی "گرينڈ جيوری" کی کاروائ کی طرح اس قسم کی شنوائ کھلی عدالت ميں کی جاتی ہے جس ميں دونوں فريقين کے وکلاء موجود ہوتے ہيں۔

    يہ ايک مسلم حقيقت ہے کہ امريکہ عام شہريوں پر حملوں کی روک تھام اور بے گناہ شہريوں کی ہلاکت کے واقعات ميں کمی کے ليے کوشاں ہے ليکن اس کے مقابلے ميں جس دشمن کا ہميں سامنا ہے اس کی تو تمام تر حکمت عملی کا محور ہی يہ ہے کہ دانستہ زيادہ سے زيادہ بے گناہ شہريوں کو ہلاک کيا جاۓ۔ وہ امريکی فوجی جو دانستہ شہريوں پر حملے کے واقعات ميں ملوث پاۓ گۓ انھيں ماضی ميں بھی جيلوں کا سامنا کرنا پڑا ہے اور اسی اصول کا اطلاق حاليہ واقعے کے ضمن ميں بھی ہو گا۔

    آپ دنيا کے کتنے ممالک کے بارے ميں يہ دعوی کر سکتے ہيں کہ جہاں حکومت کی جانب سے فوجيوں کے کردار اور ان کے اعمال کا اس طرح احتساب کيا جاتا ہے؟


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    http://www.state.gov
    http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
     
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    ايسوسى ايٹڈ پريس كى ابتدائى خبر ميں اس بيچارے قاتل كو ذہنى تناؤ كا شكار بتا كر خبر كى سنگينى كم كرنے كى كوشش كى گئی تھی اب اس خبيث جنگلى قاتل كے وكيل نے مريض ثابت كرنے كى كوششيں مزيد تيز كر دى ہيں۔
    http://www.bbc.co.uk/urdu/world/2012/03/120316_us_soldier_lawyer_sa.shtml?print=1
    امريكى ماؤں نے اتنے نرم و نازك مدھم مزاج سپوت جنگ ميں جھونک دیے۔ ان كو تو پالنے ميں ہونا چاہیے تھا ۔
     
  9. الطائر

    الطائر رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 27, 2012
    پیغامات:
    273
    قندھار قتلِ عام۔ لگ بھگ بیس امریکی فوجی ملوث

    قندھار قتلِ عام۔ لگ بھگ بیس امریکی فوجی ملوث​


    اتوار 11 مارچ کو افغانستان کے صوبہ قندھار کے ضلع پنجوائی کے دو دیہاتوں میں میں امریکی افواج کی جانب سے کیے جانے والے قتلِ عام کے فوری بعد ، راقم نے امریکی بیانات کے مطابق صرف ایک ذہنی طور پر متاثر فوجی کے ملوث ہونے سے متعلق جن شبہات، کہ اس سانحہ میں ایک سے زیادہ امریکی فوجی ملوث معلوم ہوتے ہیں ، وقت گزرنے کے ساتھ سامنے آنے والی معلومات اور ثبوت و شواہد، اٹھائے گئے شبہات کو تقویت دیتے اور سچ ثابت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ سانحہ قندھار، پنجوائی سے متعلق شبہات ، بہ عجلت امریکا دشمنی میں نہیں اٹھائے گئے تھے، بلکہ امریکی انتظامیہ، ان کی خارجہ پالیسی اور امریکی افواج کے ماضی قریب اور ماضی بعید کے جنگی جرائم کو مدِ نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ، منصہ شہود پر دستیاب ، شواہد و بیانات کی روشنی میں اٹھائے گئے تھے۔سابق امریکی وزیر دفاع ڈونالڈ رمز فیلڈ نے ایسے شواہد اور ویڈیو ضائع کرنے کا حکم دے دیا تھاجس میں امریکی افواج اور دیگر اہلکاران کو قیدیوں اور شہریوں پر تشدد یا انھیں ہلاک کرتے دکھایا گیا تھا۔ انھوں نے یہ حکم اس موقف کی بنا پر جاری کیا تھا کہ ایسی اطلاعات کے اجرا سے امریکی افواج اور اہلکاروں کی جانوں کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔ حالیہ سانحہ قندھار سے متعلق دو سے تین گھنٹے کی ویڈیو فوٹیج امریکی تحویل میں بتائی جا رہی ہے جس کا اجراء نہیں کیا جائے گا کیونکہ یہ سراسر امریکی افواج کو ملوث ثابت کر دے گی۔
    حوالہ جات :

    آر ٹی نیوز

    لائیو لِیک

    پریس ٹی وی
     
    Last edited by a moderator: ‏مارچ 17, 2012
  10. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    دو دیہاتوں میں کی جانے والی واردات لازمی طور پر کسی ایک فوجی کی کاروائی نہیں سمجھی جائے گی۔۔۔ بلکہ پورا ایک یونٹ اس کاروائی میں ملوث ہوگا۔۔۔ یہ باتیں یا یہ جاننا قطعاََ مشکل نہیں ہوتا کے مجرمانہ طرز کی کسی بھی کاروائی میں ایک سے زیادہ افراد کا شامل ہونا غیر یقینی بات ہے۔۔۔ جبکہ کاروائی اتنے بڑے انداز سے کی گئی ہو۔۔۔ امریکہ بہادر کے عزائم مسلمانوں کے ساتھ کیا ہیں وہ پچھلی تین دھائیوں سے ہمارے سامنے ہیں۔۔۔ افسوس کس بات کا ہے؟؟؟۔۔۔ اس بات کو سمجھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔۔۔ امریکہ یا اتحادی افواج ایک ایک کرکے مسلمان ریاستوں کو کھکلا کر رہی ہیں۔۔۔ اندرونی سازشوں کے ذریعے سے لیکن جہاں پر اندرونی سازشیں کامیاب نہیں ہوتیں وہاں پر امریکہ اتحادیوں کے ساتھ مل کر حملہ کردیتا ہے۔۔۔ جیسے افغانستان، عراق، لیبیا، اور جہاں پر اندرونی سازشیں کامیاب ہوجاتی ہیں جیسے، مصر، تیونس، یمن، تو وہاں پر امریکی میڈیا دو نام بڑے وثوق سے لیتا ہے۔۔۔ یا تو اسلامی تنظیمیں یا پھر القائدہ۔۔۔

    لیکن یہ نام کس بنیاد یا کس وجہ سے میڈیا کے ذریعے منظر پر لائے جاتے ہیں؟؟؟۔۔۔ وہ کون لوگ ہیں جن کی راتوں کی نیندیں اڑانے کے لئے یہ ساری سازش رچی جارہی ہے؟؟؟۔۔۔ قتل عام تو گیارہ نومبر کے بعد سے جاری ہے۔۔۔ اور شیطان کے چیلے کمال مہارت سے یہ کام کرجاتے ہیں۔۔۔ جیسے کے یہ سانحہ پیش آیا۔۔۔

    یقین نہیں ہوگا۔۔۔ کل خطبہ جمعہ کے بعد مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں جب جماعت کے لئے پہلی رکعت میں سورہ فاتحہ تلاوت ہوئی تو تین بار امام صاحب نے اُسے پڑھا۔۔۔ کیونکہ کے شام اور فلسطین مصر، لیبیا، تیونس، پاکستان کے حالات پر دُعا کی تو امام صاحب رو رہے تھے۔۔۔ اسی وجہ سے پہلی تلاوت الحمداللہ رب العالمین۔۔۔ پر وہ جذبات پر قابو نہیں رکھ پائے چپ ہوگئے۔۔۔ پھر الحمداللہ رب العالمیں الرحمٰن۔۔۔ پر وہ جذبات پر قابو نہیں رکھ پائے چپ ہوگئے کیونکہ وہ اس وقت رو رہے تھے۔۔۔ پھر تیسری بار جب امام صاحب نے تلاوت شروع کی تو الرحمٰن پر رکے پھر بھاری آواز میں کے وہ اپنے جذبات کو قابو کرنا چاہ رہے ہیں تلاوت جاری رکھی۔۔۔ واللہ دل چاہ رہا تھا کے نماز ختم ہو اور بندہ نکلے گھر بار چھوڑ کر۔۔۔

    لیکن نماز ختم ہوتے ہی لوگ ایک دوسرے پر سے پھلانگتے ہوئے گھروں کی طرف روانہ ہونے کے لئے راستے بنانے شروع ہوگئے۔۔۔ میں جب صحن سے گذرتا ہوا دورازے سے باہر آیا تو دنیا مست تھی اپنی مستی میں لوگوں نے بستے لگائے ہوئے تھے آوازیں لگا رہے تھے سامان بیچنے کے لئے اور سامنے پانچ ستارے والے ہوٹلوں کے نیچے سونے کے بیوپاری تھوڑی دیر کو ہنسی آئی اس لئے نہیں جو سامنے دکھ رہا ہے اس پر بلکہ اس پر جو کیفیت پہلی رکعت میں پیدا ہوگئی تھی۔۔۔

    وہ حالات یا ماحول دیکھ کر یقین کیجئے۔۔۔ صرف یہ ہی بیان دیا جاسکتا ہے کے مسلمان قوم بےحس ہوچکی ہے۔۔۔اور [you] اس خبر کو بھی مسلمانوں نے خوب کیش کروایا ہے مارکیٹوں کے چڑھنے اور گرنے میں آپ کی نظر رپورٹ پر ہے اور ہمارے ہی مسلمان بھائیوں کی نظریں اسٹاک مارکیٹ کے چڑھنے اور گرنے پر ہونگی۔۔۔ بریکنگ نیوز آج کے دور میں پتہ کیا ہے۔۔۔ سونا کی مارکیٹ گررہی ہے امریکہ میں نوکریوں کی کٹوتی شروع ہورہی ہے لہذا اکاونٹس بند کردو ورنہ پوائنٹ نکل گئے تو شئرز ختم۔۔۔ یہ سب باتیں میں اس لئے بتارہا ہوں کے میرا حلقہ احباب ماشاء اللہ ان کاموں میں بڑا ایکسپرٹ ہے۔۔۔ اسی طرح کی بےحسی کا واقعہ مزید شیئر کروں بڑا دلچسپ ہے۔۔۔

    ہمارے ایک دوست نے پاکستان میں ایک گھر خریدا جس کے لئے انہیں چار لاکھ روپے کی ضرورت تھی تو انہوں نے ہمارے ایک اور دوست سے قرضے کا تقاضہ کیا وہ بیچارہ سیدھا بندہ اس کی یہ سوچ کے مدینہ میں ایک نیکی کا اجر دنیا کے کسی بھی شہر میں کی جانی والی نیکوں سے کہیں زیادہ ہوتی ہے۔۔۔ انہوں نے اپنے زوجہ کا زیور بیچ دیا اور جو رقم ہمارے دوست کو درکار تھی وہ اُن کے حوالے کردی۔۔۔ اچھا اب اس بندے کی خوش قسمتی جس نے گولڈ بیچا اور پیسے دیئے کے اس نے مجھے گواہ کے طور پر اپنے ساتھ ملا لیا۔۔۔ سونا بیچا گیا میں موجود تھا۔۔۔ پھر گیارہ ماہ گزر جانے کے بعد واپسی کا سلسلہ شروع ہوا۔۔۔ تو یقین کیجئے جن صاحب نے ادھار لیا تھا انہوں نے فروری کی دس تاریخ کو کہا کے ساتھ چلیں گے سونا لینے جتنا آپ کا سونا تھا میں اُتنا ہی آپ کو دلوا دوں گا۔۔۔ میں خود کو خوش نصیب اس لئے کہہ رہا ہوں کے مجھے یہ بڑا زبردست تجربہ ہوا۔۔۔

    یقین کیجئے۔۔۔ جس دن کا ہمارے دوست نے وقت دیا تھا اس دن سونے کے ریٹس گرے ہوئے تھے۔۔۔ عشاء تک کا وقت اس نے ہمیں دیا تھا مگر ہم الحمداللہ عشاء سے پہلے پہنچ گئے اور ساتھ جاکر متبادل سونا لیا اور عشاء کے بعد ١٩٢ سے ٢٠٤ پر سونا پہنچ گیا تھا۔۔۔ اور یہ صاحب انٹر پاس ہیں۔۔۔ جنہوں نے اتنی گہری نظر رکھی ہوئی ہے۔۔۔ تو بھائی افغانستان، عراق، لیبیا، سوڈان، مصر، مراکش، یمن، شیشان، چیچنیا، لوگ مرتے ہی رہیں گے۔۔۔ کیونکہ ہماری خود کی قوم بےحس ہوچکی ہے۔۔۔ مدینے میں سگریٹ پینا منع ہے مگر بیچنے والے بھی مسلمان ہیں اور خریدنے والے بھی مسلمان۔۔۔۔ ابتسامہ۔۔۔

    مسواک جو جگہ جگہ ملتی ہے وہ اتنی نظر نہیں آئیں گی آپ کو لوگوں کے ہاتھوں میں جتنی سگریٹ۔۔۔ حدود حرم میں نہیں مگر آس پاس کی بات کررہا ہوں۔۔۔ تو بھائی اقبال کہہ گئے ہیں یہ ہیں مسلمان جنھیں دیکھ کر شرمائیں یہود۔۔۔

    تو بھائی مسلمانوں کے لئے اتنا سوفٹ کارنر کہیں ایسا نہ ہو کوئی روگ بن جائے اور آپ کے گھر والے آپ کی صحت کو لیکر پریشانی میں مبتلا ہوجائیں۔۔۔ امام مسجد کی ہچکیاں جاری ہیں۔۔۔ غم میں بےگناہ مسلمانوں کے قتل عام پر یہود ونصارٰی کے لئے ہاتھ اٹھا اٹھا کر بدعائیں نکالیں جارہی ہیں۔۔۔ اور مسلمان حکمران پیڑول ڈالروں میں بیچ رہے ہیں۔۔۔قہقہہہہ۔۔۔۔

    بھائی کچھ نہیں ہوسکتا امریکہ اور نہ اسرائیل کا۔۔۔ اللہ شاہ فیصل کی قبر پر رحمت نازل فرمائیں اور جنت میں اعلٰی مقام بھی عطاء فرمائیں۔۔۔ کے جس بندے نے کہا تھا امریکہ کا پیٹرول بند کرنے بعد تاریخی الفاظ ہیں۔۔۔ میں بس مسجد اقصٰی میں دو رکعت نماز ادا کرنا چاہتا ہوں۔۔۔

    سارے سلفی بیت العتیق اور مسجد نبوی ہی کی نیت کرتے ہیں سفر کی عبادت کی غرض سے۔۔۔ مگر مسجد اقصٰی کی حرمت کا پاس کسی کی غیرت کو نہیں جھنجوڑتا۔۔۔ بات کڑوی ہے مگر حقیقت یہ ہی ہے۔۔۔بابری مسجد پر ملوکیت نے جمہوری طرز اختیار کیا اور ویزوں کا اجراء بند کردیا۔۔۔ اور پچھلی کئی دھائیوں سے ایسی مسجد جس پر قرآن کہتا ہے۔۔۔

    سُبْحَانَ الَّذِي أَسْرَىٰ بِعَبْدِهِ لَيْلًا مِّنَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ إِلَى الْمَسْجِدِ الْأَقْصَى الَّذِي بَارَكْنَا حَوْلَهُ لِنُرِيَهُ مِنْ آيَاتِنَا ۚ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ ﴿١﴾
    پاک ہے وہ اللہ تعالیٰ جو اپنے بندے کو رات ہی رات میں مسجد حرام سے مسجد اقصیٰ تک لے گیا جس کے آس پاس ہم نے برکت دے رکھی ہے، اس لئے کہ ہم اسے اپنی قدرت کے بعض نمونے دکھائیں، یقیناً اللہ تعالیٰ ہی خوب سننے دیکھنے واﻻ ہے (ربط)

    یہودی شب خون مار رہا ہے۔۔۔ کوئی ردعمل سامنے نہیں آتا۔۔۔ یہ ہے افسوس کا مقام۔۔۔ برکتیں رکھنے کی بات میری نہیں ہے اللہ کی ہے۔۔۔ مدینہ المنورہ بعد میں آباد ہوا اللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو پہلے مسجد اقصٰی میں انبیاء کی امامت کا شرف بخشا۔۔۔ جہاں سے معراج کا عظیم الشان واقعہ پیش آیا۔۔۔ تو بھائی فتنوں کا دور ہے حدیث ڈھونڈیں کے کیسے خود کو بچائیں۔۔۔ اور باقی اللہ پر چھوڑ دیں۔۔۔ کیونکہ جب تک کنویں خشک نہیں ہونگے اس وقت تک اگنیشین بند نہیں ہوگا۔۔۔اس بھٹی کا جس کا ایندھن اُمت محمدیہ صلی اللہ علیہ وسلم ہے۔۔۔

    والسلام علیکم!۔
     
  11. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    فواد۔
    آپ سے ہم سبکو ایک بات تو سیکھنا چاہئے کہ اپنی بات بس کہے جانا چاہے ظلم کس بھی انتہا کو پہنچے، اور دلائل کتنا بھی آپ کے اکسپلنیشنز کے خلاف چلی جائیں، آپ بس ڈٹے ہوئے ہیں، جھوٹ کے پلندوں‌کو سہارتے ہوئے، ویسے یہی تو کر رہا ہے، امریکہ ہر جگہ، کیمکل ہتھیار نہیں‌ملے عراق میں اور وہاں‌لاکھوں‌لوگوں‌کا قتل عام کرکےملک کو تہس نہس کردیا، افغانستان میں پتہ نہیں‌، طالبان جیسی شئے پیدا ہوئی جس پر اکثر باشعور افراد کو شبہ ہے کہ یہ بھی کوئی امریکی سازش ہی تھی، اور جسکے نتیجہ میں سارے افغان کو جلاکر راکھ کردیا گیا، اور دونوں اولذکرمیں آپ یعنی امریکہ، تو گویا زخموں‌پر مرہم رکھ کر، مسیحا بننے کی کوشش کررہا ہے، تیسری جانب، پاکستان کو بلاوجہ نام نہاد دہشت گردی میں ملوث کرکے آج ڈرون کے نام پر خود ہی دہشت گرد بنا بیٹھا ہے، لیکن انداز وہی ہے " ناصحانہ"،

    بقول شاعر،

    وہ تسلی دیتے ہیں‌زخم پر نمک رکھ کر۔خوب ہے مسیحائی ، خوب ہے مسیحائی
     
  12. الطائر

    الطائر رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 27, 2012
    پیغامات:
    273
    قندھار قتلِ عام۔ لگ بھگ بیس امریکی فوجی ملوث

    قندھار قتلِ عام۔ لگ بھگ بیس امریکی فوجی ملوث

    اتوار 11 مارچ کو افغانستان کے صوبہ قندھار کے ضلع پنجوائی کے دو دیہاتوں میں میں امریکی افواج کی جانب سے کیے جانے والے قتلِ عام کے فوری بعد ، راقم نے امریکی بیانات کے مطابق صرف ایک ذہنی طور پر متاثر فوجی کے ملوث ہونے سے متعلق جن شبہات، کہ اس سانحہ میں ایک سے زیادہ امریکی فوجی ملوث معلوم ہوتے ہیں ، وقت گزرنے کے ساتھ سامنے آنے والی معلومات، ثبوت و شواہد کے ساتھ تقویت پکڑتے نظر آ رہے ہیں۔ سانحہ قندھار، پنجوائی سے متعلق شبہات ، بہ عجلت امریکا دشمنی میں نہیں اٹھائے گئے تھے، بلکہ امریکی انتظامیہ، ان کی خارجہ پالیسی اور امریکی افواج کے ماضی قریب اور ماضی بعید کے جنگی جرائم کو مدِ نظر رکھنے کے ساتھ ساتھ، منصہ شہود پر دستیاب ، شواہد و بیانات کی روشنی میں اٹھائے گئے تھے۔

    * * *

    تازہ ترین ذرائع ابلاغ کی نشر کی گئی اطلاعات کے مطابق، آر ٹی (روسی ٹیلیویژن) کی ایک اطلاع کے مطابق، افغان پارلیمانی تحقیقاتی ٹیم نے 11 مارچ 2011 کوعلی الصبح اتوار کے قتلِ عام میں بتائے جا رہے سولہ افراد میں، بیس سے زائد امریکی فوجیوں کو ملوث قرار دیا ہے۔ افغان پارلیمانی تحقیقاتی ٹیم کی تفتیش پر مبنی اعلامیہ، نیٹو کے اس بیان کو جھٹلاتا ہے کہ سانحہ پہنجوائی کے بہیمانہ قتلِ عام میں صرف ایک امریکی فوجی ملوث تھا۔

    افغان وکلاء پر مشتمل ایک تحقیقاتی جماعت نے عینی شاہدین کے بیانات ، زندہ بچ جانے والے افراد اور علاقے کے مکینوں کے دلخراش قاتلانہ واردات سے متعلق بیانات اور تفصیلات اکٹھی اور مرتب کرنے کے لیے دو دن صرف کیے ہیں۔

    افغان تفیش کار ، حامی زئی لالی نے افغان نیوز کو بتاتے ہوئے کہا، ''ہم اس امرِ حقیقت کے قائل ہیں کہ ایک فرد ایک ہی گھنٹے میں دو مختلف دیہاتوںمیں بہت سے افراد کا یکہ و تنہا قتلِ عام نیں کر سکتا اور یہ کہ ان قتل کیے جانے والےسولہ افراد جن میں واضح اکثریت عورتوں اور بچوں کی ہے کے قتل عام میں میں دو گروپ شامل تھے''۔

    لالی نے یہ بھی بتایا کہ وہ اپنی تفیش کی روشنی میں یہ یقین رکھتے ہیں کہ اس قتلِ عام میں پندرہ سے بیس کے قریب امریکی فوجی ملوث ہیں۔ انھوں نے عالمی برادری سے قتلِ عام میں ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لا کھڑا کرنے کی درخواست کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ افغان پارلیمنٹ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھے گی جب تک قتلِ عام میں ملوث قاتلوں کو قرار واقعی سزا نہیں دے دی جاتی۔

    انھوں نے کہا کہ ، '' اگر عالمی برادری قتلِ عام کے مرتبت افراد کو سزا وار نہیں ٹہراتی ، تو ' وُلسی جرگہ' یعنی افغان پارلیمنٹ غیر ملکی افواج کو غاصب فوج قرار دے دے گی''۔ (بہت دیر کی مہرباں! کہتے کہتے۔ اضافہ راقم)

    افغانی پارلیمان کی تحقیقاتی جماعت کے سربراہ، سید اسحاق گیلانی نے بی بی سی کو بتاتے ہوئے کہا کہ عینی شاہدین کے بیانات کے مطابق ہیلی کاپٹروں سے قاتلانہ حملے کے دوران ایسے شعلے برسائے جا رہے تھے جن کے باعث زمین پر موجود افراد کی اصل ہدف سے توجہ ہٹائی جا سکے۔

    گیلانی نے مزید کہا کہ مقامی افراد یہ سمجھتے ہیں کہ حالیہ قتلِ عام، گزشتہ ہفتوں میں امریکی افواج پر کیے جانے والے حملوں جس میں بہت سے امریکی فوجی شدید زخمی ہوئے ہیں کے نتیجے میں ایک انتقامی کاروائی ہے۔

    حالیہ قتلِ عام کے تناظر میں، افغان سربراہ حامد کرزئی کا کہنا ہے کہ ، امریکی افواج ، افغان دیہاتی علاقوں سے نکل کر خود کو افغانستان کے طول و عرض میں قائم کردہ فوجی اڈوں تک محدود رکھیں۔ مزید برآں، طالبان قیادت نے حالیہ واقعات کے تناظر میں ، مذاکرات کو معطل قرار دے دیا ہے۔

    دریں اثنا، امریکی قیادت نے ایک امریکی فوجی کو حالیہ پنجوائی کے دیہات میں قتلِ عام کے حوالے سے اس کے خلاف افغانستان میں مقدمہ چلانے کے بجائے حفاظتی حراست میں لیےج اور اسے کویت منتقل کرتے ہوئے ، افغان عوام میں احتجاج کی ایک نئی لہر دوڑا دی ہے۔ فرانس کے خبر رساں ادار ے ، اے، ایف پی کے مطابق اس امریکی فوجی کو امریکہ کی ریاست کنساس کے فوج اڈے کی جانب فضائی پرواز کے تحت منتقل کیا جا رہا ہے۔

    فی الوقت، امریکی قیادت، سانحہ سے متعلق محرکات کی تفشیش کرتے ہوئے اس بات پر مُصر ہے کہ ملوث فوجی کے خلاف کوئی بھی کاروائی امریکی قوانینِ کے تحت ہی کی جا سکتی ہے۔

    * * *
    حوالہ جات :
    آر ٹی وی نیوز

    لایئو لِیک

    پریس ٹی وی
     
    Last edited by a moderator: ‏مارچ 17, 2012
  13. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    ارے طلحہ بھائی چاکری میں یہ سب کرنا پڑتا ہے۔۔۔ ہمیں تو اِن کے لئے دُعا کرنی چاہئے کے اللہ ان کے حال پر رحم کرے۔۔۔پاکستان، افغانستان، عراق، اور فلسطین میں جتنے بھی بےگناہ لوگ شہید ہوئے ہیں۔۔۔ اُن سب کے ناحق خون کا حساب ان کو ہی دینا ہے۔۔۔ کیونکہ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ سے تعلق ہے بھائی کا۔۔۔ کتنی عمر پائیں گے سو سال۔۔۔ زیادہ سے زیادہ اس کے بعد جانا تو لوٹ کروہیں ہے نا جس کے حکم سے نطفہ اپنے مراحل طے کرتا ہوا دنیا میں آیا۔۔۔ اللہ تعالٰی نے اچھائی اور برائی دونوں راستوں کے تعلق سے گائیڈ لائن دے دیں ہیں اب سوال یہ ہے کے انسان کون سی لائن کو اپنے لئے پسند کرتا ہے۔۔۔

    کتنی عجیب بات ہوئی ہے ڈورن حملہ کس بنیاد پر کیا جاتا ہے۔۔۔ سسپیکٹڈ (مطلوب) مگر جو لوگ حملے میں مرتے ہیں کیا وہ مطلوب ہوتے ہیں؟؟؟۔۔۔ ڈرون ٹیکنالوجی کو امریکہ پاکستان میں ٹیسٹ کررہا ہے۔۔۔ جس کو کہیں بھی استعمال کیا جاسکے۔۔۔ ورنہ ڈرون کے تعلق سے اگر کوائف جمع کئے جائیں تو زیادہ تعداد بےقصور افراد کی ہے جو حملوں میں شہید ہوتے ہیں۔۔۔ مگر افسوس ہماری اسٹیبلشمنٹ اور حکمران سامنے سے تو ایکدوسرے کے دشمن ہیں مگر پردے کے پیچھے سے ایک ہی ہیں۔۔۔ زرداری نے صحیح ناکوں چنے چبوائے ہوئے ہیں۔۔۔ جس کا اندازہ شجاع پاشا کا خود ایکسٹینشن نہ لینے کا فیصلہ ہے۔۔۔ قہقہہہہہہ۔۔۔
     
  14. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    ویسے کچھ بھی ہو، جس طرح‌سے رشیا کا شیرازہ بکھر چکا، اسی طرح‌سے امریکہ بھی تکڑوں‌میں‌بٹ جائے گا، اور بالادستی بھی ختم ہوجائیگی، اب مسلمان اس حوالے سے کیا کرینگے، یا اللہ تعالی کی کوئی اور مشیت کارفرما ہوگی یہ اللہ بہتر جانے ، لیکن زمین پر خدائی کا حق اللہ نے انسا ن کو دیا ہی نہیں‌تھا، اور نہ کوئی کرسکتا ہے، لیکن جس کسی نے بھی یہ غلطی کرنے کی کوشش کی، اللہ نے ڈھیل دے کر پھر لگام کھینچ لی۔۔۔۔!! ظلم بہرحال ایک دن مات کھاکر رہے گا۔۔۔
     
  15. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    السلام علیکم!۔
    میں تو کہوں گا کے اب یہ دُعا کریں کے اللہ پیڑول کے کنوؤں کو خشک کردے۔۔۔ شرک اور مشرکیں کی ذلت خود ہی شروع ہوجائے گی۔۔۔
    والسلام۔۔۔
     
    Last edited by a moderator: ‏مارچ 18, 2012
  16. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    طلحہ بھائی بڑی معذرت کے ساتھ اس وقت تو لگام اللہ رب العزت نے مسلمانوں کی کھنیچی ہوئی ہے۔۔۔ اور لگام کیوں کھنیچی جاسکتی ہے اس سلسلے میں اعمال کا گنوانا بیکار ہے۔۔۔ اور دوسروں کو ڈھیل اس لئے دیئے ہوئی ہے جب تک ہم خود اپنا محاسبہ نہیں کریں گے۔۔۔ سود، چور بازاری، ملاوٹ، نقلی دواؤں کا کاروبار، جھوٹ، شراب نوشی، نماز کا ترک کرنا، سے خود کو نہیں روکیں گے اس وقت تک چاروں طرف سے مشکلات کے گھیرے میں رہیں گے۔۔۔ کتنی عجیب بات ہے ایک وقت تھا کے لوگ پیسے کو ہاتھ کا میل سمجھتے تھے۔۔۔ اور آج وہی ہاتھ میل میں پیسہ تلاش کرتے ہیں۔۔۔

    تو جب سوچوں کا رجحان بدلتا ہے تو قدرت بھی اپنا نظام بدل دیتی ہے۔۔۔ افسوس اسی بات کا ہے کے ہم سب جانتے ہیں مگر سمجھنے سے غافل ہیں۔۔۔ اور یہ معصیت کہلاتی ہے۔۔۔ اللہ تعالٰی ہمارے حالوں پر رحم کرگے آمین۔۔۔
     
  17. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
  18. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    جو راۓ دہندگان اس کيس ميں پيش رفت کے حوالے سے تحفظات اور اس بنياد پر غلط دعوی کر رہے ہيں کہ چونکہ مرنے والے امريکی نہيں بلکہ افغانی تھے اس ليے انصاف ملنے کا کوئ امکان نہيں ہے، وہ يہ بھول رہے ہيں کہ قانونی طريقہ کار اور انصاف کے مروجہ رائج اصول جرم کی نوعيت اور ممکنہ شواہد کی صحت اور شدت سے قطع نظر، تبديل نہيں کيے جا سکتے۔ اس کيس کے حوالے سے شديد غم وغصے کے جذبات اور تند وتيز جملوں سے مزين آراء کو ميں سمجھ سکتا ہوں ليکن حقيقت يہی ہے کہ ملزم کو اپنی صفائ پيش کرنے اور اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن قانونی موقع فراہم کيا جاۓ گا۔ قصور وار کو سزا دينے کے طريقہ کار اور اس ضمن ميں جو قانونی عمل درجہ بہ درجہ موجود ہے اس کا مقتولين کی قوميت سے کوئ تعلق نہيں ہے۔

    اپنی بات کی وضاحت کے ليے ميں آپ کو سال 2009 ميں امريکہ ميں پيش آنے والے ايک ايسے ہی واقعے کا حوالہ دوں گا جس ميں ايک امريکی فوجی ندال ملک حسن پر پہلے سے طے شدہ منصوبے کے تحت اپنے ہی فوجی ساتھيوں کے خلاف 13 قتل اور 32 اقدام قتل کے مقدمے قائم کيے گۓ۔ آرٹيکل 32 کے تحت جو کاروائ عمل ميں لائ گئ اس ميں اس بات کا تعين کيا گيا کہ حسن پر لگاۓ جانے والے الزامات جرنل کورٹ مارشل کے سامنے لاۓ جائيں جس کا باقاعدہ آغاز اکتوبر 12 2010 کو ہوا۔ تمام قانونی کاروائ اور ضابطوں کے بعد مارچ 2012 ميں باقاعدہ ٹرائل کا آغاز ہونا طے پايا ۔

    اس کے بعد فروری 2 2012 کو ملزم کے وکلاء کی درخواست پر فوجی جج نے مقدمے کی کاروائ جون 12 2012 تک موخر کر دی ہے۔
    ہم اس کيس کے حوالے سے تمام واقعاتی حقائق اور شواہد سے بخوبی واقف ہيں۔

    امريکی فوجی ندال حسن فورٹ ہڈ ميں ہونے والے فائرنگ کے حوالے سے واحد ملزم ہے۔ افغانستان ميں پيش آنے والے حاليہ واقعے کی طرح اس واقعے ميں بھی سزاۓ موت کی استدعا کی گئ ہے۔ ليکن قانونی چارہ جوئ اور ضروری مراحل طے کيے جانا لازم ہے۔ يہی امريکی نظام قانون کی بنيادی اساس ہے۔

    فورٹ ہڈ ميں پيش آنے والے واقعے کے نتيجے ميں ہلاک ہونے والے تمام افراد امريکی شہری تھے ليکن فورمز پر موجود راۓ دہندگان کی جانب سے ديے جانے والے غلط تاثر کے برعکس اس بات کا مقدمے کی کاروائ اور اس ضمن ميں ملزم کے قانونی حقوق اور عدالت ميں اپنے دفاع کے حوالے سے موجود اختيارات پرکوئ اثر نہيں پڑا۔


    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    Incompatible Browser | Facebook
     
  19. الطائر

    الطائر رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 27, 2012
    پیغامات:
    273
    امریکی قاتل اکیلا نہیں تھا۔ افغان بچوں کا بیان

    امریکی قاتل اکیلا نہیں تھا۔ افغان بچوں کا بیان

    11 مارچ کی رات کو پیش آنے والے حقائق، جس میں 17 افغان گولیاں مار کر ہلاک کر دیئے گئے تھے کے متعلق دو مختلف بیانیے پائے جا رہیں ہیں۔

    امریکی فوجی موقف پر مبنی پہلے بیانیے میں وضاحت پیش کی گئی ہے کہ سٹاف سارجنٹ رابرٹ بیلز، ازدواجی مشکلات کے دباؤ کے باعث، شراب کے نشے میں قندھار سے 12 میل پر واقع کیمپ بیلامبائی سے ایک پستول اور خودکار بندوق لیکر نکلا اور سوئے ہوئے چھ افراد کو قتل کر دیا۔ اس کے بعد بیلز اپنے فوجی اڈے پر واپس لوٹنے کے بعد ایک بار پھر ایک دوسرے دیہات میں گیا اور اس بار مزید گیارہ افراد کو قتل کر ڈالا۔ امریکی فوج کے مطابق اس نے تمام کاروائی اکیلے کی اور قتلِ عام کا اعتراف کیا۔

    اس کے علاوہ واقعہ کے عینی شاہد افغان بچوں کی جانب سے آسٹریلیا کی ایس بی ایس، ڈیٹ لائن کی صحافیہ، یلدہ حکیم، جو افغانستان میں پیدا ہوئیں اور بچپن میں آسٹریلیا نقل مکان ہوئیں کو دیا گیا بیانیہ ہے۔ یلدہ حکیم زندہ بچ جانے والے عینی شاہدین کا انٹرویو کرنے والی پہلی بین الاقوامی صحافیہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ امریکی تفیش کاروں نے انھیں بچوں کا انٹرویو لینے سے یہ کہتے ہوئے کہ، بچوں کا انٹرویو ان پر منفی اثرات ڈال سکتا ہے منع کرنے کی کوشش کی۔ انھوں نے بتایا کہ ان کی درخواست پر دیہات کے عمائدین نے بچوں کا انٹرویو لینے کے ضمن میں ان کے لیے انتظامات کیے۔

    ویڈیو فلم میں، بچوں نے حکیم کو بتایا کہ قتلِ عام کے دوران بہت سے امریکی فوجی احاطوں میں فلیش لائٹس لیے موجود تھے۔ آٹھ سالہ نور بینک نے حکیم کو بتایا کہ امریکی فوجیوں نے پہلے میرے باپ کے کتے کو گولی ماری۔ پھر نور بینک نے ویڈیو میں کہا کہ ایک فوجی نے میرے باپ کے پاؤں میں گولی ماری اور میری ماں کو بالوں سے پکڑ کر گھسیٹا۔ بچی نے بتایا کہ جب اس کا باپ درد سے چیخنے لگا تو فوجی نے اس کو گولی مار کر ہلاک کر دیا اور بندوق کا رخ نوربینک کی جانب کرتے ہوئے اس کی ٹانگ میں گولی مار دی۔

    نور بینک نے ویڈیو میں بتایا کہ، '' ایک آدمی کمرے میں داخل ہوا جب کہ دوسرے ہاتھ میں روشنیاں لیے احاطے میں کھڑے تھے''۔ واقعہ سے متاثرہ افراد کے ایک بھائی نے حکیم کو بتایا کہ اس کے بھائی کے بچوں کا کہنا ہے کہ ایک سے زیادہ فوجی سروں پر پہنی جانے والی مشعل پہنے ہوئے تھے اور ان کی بندوقوں کے نال پر بھی روشنی کرنے والے آلات منسلک تھے۔ اس نے ویڈیو انٹرویو میں بتایا کہ اسے صحیح طور پر معلوم نہیں لیکن بہر طور پندرہ سے بیس افراد واقعہ میں ملوث تھے۔


    نیوز رپورٹ

    ویڈیو

    انتباہ!
    مسلم بہن بھائی قارئین سے التماس ہے کہ یلدہ حکیم سے متاثر و مرعوب نہ ہوں۔ اس عورت کا تعلق شمالی اتحاد کی فارسی بان نسل سے ہے اور لبرل خیالات کی حامی ہے۔ یہ عورت درحقیقت افغان پشتون قوم سے کوئی ہمدردی نہیں رکھتی اور نہ ہی پشتو زبان بولنا پسند کرتی ہے۔ یلدہ حکیم کی یہ رپورٹ اس کی آسٹریلین خبر ایجنسی سے ملازمت کی شرائط کی مجبوری کی بنا پر تھی جبکہ خبر رساں ادارے کے مقاصد اس رپورٹ کے ذریعے جرنلسٹک سکُوپ (صحافتی سبقت) حاصل کرنا ہیں۔ اس رپورٹ کے حوالے سے یلدہ حکیم کو میسر اور حاصل مواقع سے اس نے خاطر خواہ فائدہ نہیں اٹھایا۔ ویڈیو سے واضح ہو کہ سانحہ سے متاثرہ تمام افراد کا تعلق پشتون قوم سے ہے جو صحیح العقیدہ سُنی مسلمان ہیں، جبکہ رپورٹر اور کٹھ پتلی افغان حکومت کے بیشتر فوجی اہلکار دری فارسی بولتے ہوئے نظر آتے ہیں۔


    تاہم اب تک حاصل عینی شاہدین کے بیانات و شواہد یہ ناقابلِ تردید حقیقت ثابت کرنے کے لیئے کافی ہیں کہ سانحہ پنجوائی میں ایک سے زائد امریکی فوجی ملوث ہیں۔ جائے وقوع سے دیگر شواہد کے علاوہ شراب کی خالی بوتلیں اور ڈبے بھی افغان عوام کی تحویل میں ہیں۔ نیز یہ کہ مزید عینی شاہدین کے بیانات و شواہد، امریکیوں کی جانب سے سے عائد کردہ پابندیوں کے باوجود سامنے آنے کا قوی امکان ہے۔

    یہ قتلِ عام اسلام اور پشتون قوم سے نفرت اور امریکی افواج کی افغانستان میں شرمناک شکست کا غصہ نکالنے کی ایک انتقامی کاروائی تھی جس سے افغانستان میں متعین امریکی کمانڈر جان ایلن نہ صرف پیشگی آگاہ تھا بلکہ اس نے اپنے فوجیوں کو انتقامی قتلِ عام سے باز رکھنے کی کوشش محض اس بنا پر کی تھی کہ انتقامی کاروائی کے لیے حالات سازگار نہیں اور دوسرے یہ کہ اس طرح کی کاراوائی افغانستان میں امریکی مہم جوئی اور بین الاقوامی سطح پر امریکی ساکھ کو متاثر کر سکتی ہے۔اس ضمن میں امریکی جنرل کا بیان ریکارڈ پر موجود ہے۔ جبکہ سانحہ سے متعلق سیاہ فام امریکی صدر جو جنگی جرائم اور غیر قانونی قتلِ عام کا ذمہ دار ہے کی معذرت، چنداں کوئی معنی نہیں رکھتی۔

    قانون کا بنیادی نکتہ اور تقاضہ یہ ہے کہ ایک ناقابلِ معافی سنگین جرم کا ارتکاب، افغانستان کی سرزمین پر افغانستان کے عوام کے خلاف کیا گیا ہے۔ لہٰذا قانون کی روح کا احترام اور تقاضوں پر عمل درآمد کرتے ہوئے مرتکب افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کرنا اور قانونی کاروائی صرف افغانستان کی قانونی حدود میں ہی رو بہ عمل لائی جانا چاہیئے۔ اس کے بر خلاف عمل، نہ صرف افغان عوام کو قابلِ قبول نہ ہو گا بلکہ یہ امریکا کی قانونی ضابطوں اور انسانی و اخلاقی اقدار سے پہلو تہی کا دانستہ مظہر ہو گا جو امریکا کے قیام سے اس کا وتیرہ رہا ہے اور جس کے باعث وہ ناکام، بدنام اور عالمی سطح پر تذلیل کا جائز حقدار ہے۔
     
  20. الطائر

    الطائر رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 27, 2012
    پیغامات:
    273
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں