حافظ عبد الرشید اظہر کو قتل کر دیا گیا :

رفیق طاھر نے 'خبریں' میں ‏مارچ 17, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. محمد ثاقب صدیقی

    محمد ثاقب صدیقی -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جون 12, 2009
    پیغامات:
    90
    اس افسوسناک واقعہ پر جس قدر افسوس کیا جائے کم ہے ۔ یہ معاملہ نظر انداز کئے جانے کے قابل نہیں ۔ دینی حلقوں کو اس مسئلے پر سنجیدگی سے سوچنا چاہیئے ۔ اللہ موصوف کی مغفرت فرمائے ۔ آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,939
    اسلام آباد حافظ صاحب کا جنازہ دس بجے مولانا عبد الحمید ازہر حفظہ اللہ نے پڑھایا
    فیصل آباد میں بعد نماز ظہر مولانا مسعود عالم حفظہ اللہ نے پڑھایا
    اور خانیوال میں بعد نماز عشاء مولانا یونس بٹ حفظہ اللہ نے پڑھایا۔
    ان تمام تر مقامات پر جنازہ ادا کرنے والوں کے ایک کثیر تعداد موجود تھی ۔
    حافظ مسعود عالم صاحب نے جنازہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا :
    " یہ سال اہل اسلام کے لیے رنج والم کا سال بن گیا ہے ۔ بہت سے اہل علم اس سال ہمیں داغ مفارقت دے گئے اور اسی ماہ میں ہمارے لیے یہ دوسرا سانحہ فاجعہ ہے ۔ اس ماہ کے آغاز میں آیۃ من آیات اللہ , حجۃ اللہ على الخلق , حجۃ الاسلام حافظ عبد المنان نورپوری رحمہ اللہ کی وفات سے مجتہدین امت یتیم ہوگئے اور اب حافظ عبد الرشید اظہر رحمہ اللہ کی جدائی سے دعاۃ الاسلام اپنے محسن سے محروم ہوگئے ۔ ......................"
     
  3. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,922
    انا للہ وانا اليہ راجعون
     
  4. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,580
    انا للہ وانا اليہ راجعون
     
  5. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    اسلام آباد میں مرکزی جمعیت اہلحدیث کے رہنما ڈاکٹر عبدالرشید کو قتل کر دیا گیا۔دو افراد گھر داخل ہوئے، ہاتھ پاﺅں باندھے اور پھندا دیکر شہید کردیا ۔
    موت العالمِ موت العالم، عالم کی موت سارے جہاں کی موت ہے،​
    شاید پاکستان سارے جہاں سے باہر ہے جہاں اہلِ علم و فکر بھی اب نشانہ بننے لگے،ڈاکٹر عبدالرشید عربی زبان و ادب کے نابغہ روزگار تھے جب تک ملک سے باہر رہے محفوظ رہے ملک میں آئے تو ملک ہی کیا دنیا چھوڑ گئے،
    انا للہ و انا الیہ راجعون،​
    ہمارے ہاں علماءکرام کی کمی نہیں مگر عربی زبان پردسترس رکھنے والے علماءکی بہت کمی ہے۔ درس نظامی پڑھ کر بھی کوئی طالب علم روانی سے عربی بول پاتا ہے نہ لکھ سکتا ہے ،مرحوم شہید ہوئے اُن کے درجات بلند ہوئے اور ہم پست ہوئے کہ اُن کی حفاظت ہی نہ کرسکے البتہ لٹیروں کو پوری سے بھی اوپر سیکورٹی حاصل ہوتی ہے تاکہ وہ اطمینانِ قلب کے ساتھ اپنے جوہر دکھا سکیں۔
    مدینہ یونیورسٹی سے تعلیم پائی اور یہاں ایک عرصے سے اسلام آباد میں ایک دینی مدرسہ چلا رہے تھے جہاں وہ عربی زبان اور دین متین کے فاضل تیار کرتے تھے حکومت سے کیا کہنا کہ وہ اپنی حفاظت و صیانت سے فارغ نہیں، ہم لوگوں سے عرض کرینگے کہ وہ اپنے اہلِ علم و دانش کو بچا کر رکھیں کیونکہ کسی قوم کیلئے سب سے بڑا عذاب خداوندی یہی ہے کہ وہ اُس میں سے صاحبان علم کو اُٹھا لے،قحط الرجال کے اس دور میں مرحوم و مغفور کی المناک موت ایک بڑا قومی سانحہ ہے، حکومت کو سوگ مناناچاہئے اور مکمل تحقیقات بھی کرنی چاہئے....
    بنا کردند خوش رسمے بخاک و خون غلطیدن
    خدا رحمت کندایں عاشقانِ پاک طینت را​

    نوائےوقت ،پیر ‘ 25 ربیع الثانی 1433ھ‘ 19 مارچ 2012
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. ابن عمر

    ابن عمر رحمہ اللہ بانی اردو مجلس فورم

    شمولیت:
    ‏نومبر 16, 2006
    پیغامات:
    13,358
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    بجا فرمايا حافظ صاحب حفظہ اللہ نے۔ يہ دونوں نقصان واقعتا بہت بڑا خلا پيدا كر گئے ہيں۔ اللہ تعالى اہل علم كى حفاظت فرمائے اور علمى حلقوں كو بہترين بديل عطا فرمائے۔ انا للہ وا نا اليه راجعون ۔ اللھم اجرنا في مصيبتنا و اخلف لنا خيرا منها ۔
    ايك كوليگ بتا رہی تھيں حافظ عبدالرشيد رحمه اللہ كا آج ان كے علاقے كى مسجد ميں درس كا وقت ديا ہوا تھا ۔ اہل علاقہ ان كو ياد كر كے بہت غمزدہ تھے۔ اللہ سبحانہ وتعالى ان كے حق ميں اہل ارض كى يہ نيك شہادتيں قبول فرمائے ان كى مظلومانہ وفات كو بطور شہادت قبول فرمائے اور ان كى قبر كو جنت كے باغوں ميں سے ايك باغ بنا دے۔ اللہ تعالى ان كے بزدل قاتلوں پر اپنا قہر نازل فرمائے اور ان كو نشان عبرت بنا دے۔
     
  8. ابو ابراهيم

    ابو ابراهيم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مئی 11, 2009
    پیغامات:
    3,871
    آمین
     
  9. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,939
    آج صبح حافظ صاحب رحمہ اللہ کی گأڑی برآمد ہوگئی ہے ۔ لیکن پولیس والے کہتے ہیں گاڑی لے جاؤ اور آگے ہم کچھ نہیں بتا سکتے !!!!!!!!!!!!!
     
  10. انجینئر عبدالواجد

    انجینئر عبدالواجد -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اگست 3, 2010
    پیغامات:
    220
    کیا اس کو ہم اس کیس میں ایک پیش رفت سمجھیں کہ پولیس والے بتا نہیں سکتے کہ ابھی معاملہ زیر تفتیش ہے؟
    ؛
    یا کہ پولیس والوں کو گاڑی لاورث پڑی ملی ہے اور ان کو قاتلوں کے بارے میں کچھ معلوم نہیں ۔ بس ٹائم پاس کر رہے ہیں
    ؛
    ہم قاتلوں کو جلد از جلد گرفتار دیکھنا چاہتے ہیں اور انہیں کیفر کردار تک پہنچتا دیکھنا چاہتے ہیں
    ہم ڈاکٹر صاحب رحمۃ اللہ علیہ کا قتل بھول نہیں سکتے اور قاتلوں کی گرفتاری بہت ضروری ہے تاکہ آئیندہ کسی عالم دین کو نقصان نہ پہنچا سکیں
    ؛
    مجھے امید ہے کہ تمام اہلحدیث جماعتیں اپنے اپنے پلیٹ فارم سے اس معاملے کے متعلق حکومت وقت پر دباؤ ڈال رہی ہونگی
     
  11. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
  12. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,939
    فی الحال تو یہی سمجھ آرہی ہے کہ قاتل انہیں معلوم ہیں لیکن وہ کوئی خاص لوگ ہیں جن کے بارہ میں زبان کھولنے کی انہیں اجازت نہیں ۔ واللہ اعلم
     
  13. m aslam oad

    m aslam oad نوآموز.

    شمولیت:
    ‏نومبر 14, 2008
    پیغامات:
    2,443
    علامہ ڈاکٹر عبدالرشید اظہر شہید.... قاتل کون؟

    عزیز عبدالماجد کی کال بار بار آ رہی تھی میں کسی کام میں مصروف تھا، موبائل کا بٹن آن کیا تو سسکیوں کی آواز آنے لگی۔ عبدالماجد خیریت تو ہے؟ ڈاکٹر عبدالرشید اظہر صاحب انتقال کر گئے ہیں۔ بات سن کر سکتے کی کیفیت طاری ہو گئی، آنکھوں کے آگے اندھیرا چھا گیا اور دماغ چکرانے لگا۔ طبیعت پر قابو پا کر کچھ دیر کے بعد میں نے کال کی اور پوچھا کیا واقعی ڈاکٹر صاحب انتقال کر گئے ہیں؟ جی ہاں وہ دنیا فانی کو خیر باد کہہ کر شہر خموشاں کو آباد کر چکے ہیں، انا للہ و انا الیہ راجعون۔
    واقعہ کہاں پیش آیا؟ قاتل کون ہیں؟ قتل کی وجہ کیا ہے؟ کچھ علم نہیں، ابھی تک اس کا کچھ پتہ نہیں چل سکا، میں نے کنفرم کرنے کے بعد علمائے کرام اور عمائدین کو اطلاع کی، مزید مولانا رمضان منظور کو اطلاعات دینے کے حوالے سے فعال کر دیا۔ خبر پورے ملک میں بہت تیزی سے پھیل گئی، ہر طرف سے کالیں اور ایس ایم ایس آنے لگے۔ ڈاکٹر صاحب کے بڑے بھائی ابو صخر شہیدؒ کے والد گرامی حافظ عبدالستار صاحب اپنے بیٹے اور ڈاکٹر صاحب کے بڑے داماد الشیخ عبداللطیف کے ہمراہ عمرہ ادا کرنے گئے تھے، ان کو اطلاع ملی تو انہوں نے واپسی سفر کا ارادہ کر لیا۔ اس کی خبر مجھے جناب عبدالوکیل فہیم نے دی جو ان دنوں مدینہ یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہیں، وہ بھی ڈاکٹر صاحب کے داماد اور ابو صخر شہید کے چھوٹے بھائی ہیں۔
    قارئین کرام! جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے تو یہ سب لوگ پاکستان آ چکے ہوں گے، ان کے علاوہ ملک بھر سے علمائ، طلبائ، تاجر اور مختلف شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ نماز جنازہ کی ادائیگی کیلئے حاضر ہوئے۔
    ڈاکٹر صاحب کی اچانک موت بہت بڑا سانحہ ہے، افسوس اس بات پر ہے کہ ابھی تک قاتلوں کا علم نہیں ہو سکا۔ واقعہ کی اطلاع کچھ اس طرح ہے کہ کسی صاحب نے ڈاکٹر صاحب سے ملاقات کا وقت مانگا تو انہوں نے ٹائم دے دیا اور گھر میں کھانا تیار کرنے کا کہہ دیا۔ کھانا تیار ہونے لگا، ڈاکٹر صاحب بھی گھر تشریف لے آئے اور کچھ دیر کے بعد مہمان بھی، کھانا پیش کیا گیا۔ عزت و تکریم ہونے لگی، مہمان نوازی جزو ایمان ہے۔ یہ رسول اللہﷺ کا فرمان ہے، جو شخص اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتا ہے پس وہ اپنے مہمان کی مہمان نوازی کرے۔ ڈاکٹر صاحب، پرتکلف میزبان تھے، اپنے ہاتھ سے خدمت ان کی روایت تھی۔ اسی روایت کو برقرار رکھتے ہوئے انہوں نے مہمانوں کی خدمت کی، بعد میں برتن بھی اپنے ہاتھوں سے سمیٹے اور اندر لے گئے اور واپس مہمانوں کے پاس آ گئے۔ کچھ دیر کے بعد گیراج میں کھڑی گاڑی کے اسٹارٹ ہونے کی آواز آئی تو ان کی اہلیہ محترمہ یہی سمجھی کہ ڈاکٹر صاحب مہمانوں کو الوداع کرنے جا رہے ہیں۔ کافی وقت بیت گیا نہ ڈاکٹر صاحب آئے اور نہ ہی کوئی ٹیلی فون کال، یہاں تک کہ ڈرائنگ روم کا وہ دروازہ جو گھر کے اندر کھلتا ہے وہ بھی بند پڑا ہے۔ اس کو اندر سے لاک کر دیا گیا ہے، جستجو میں اضافہ ہو گیا، پریشانی اور زیادہ پیدا ہو گئی۔ بیٹا سعد جو گھر سے باہر تھا وہ بھی واپس آ گیا، مہمان خانے میں جا کے دیکھا گیا تو ڈاکٹر صاحب اپنے مہمانوں کے ہاتھوں شہید ہوئے پڑے تھے۔ یہ لوگ مہمان نہیں مہمان کے روپ میں قاتل ڈاکو، راہزن اور لٹیرے تھے، جنہوں نے چراغ علم کو گل کردیا۔ حلقہ تعلیم و تعلم کو غمزدہ، ان کی اہلیہ محترمہ کو بیوہ اور بچوں کو یتیم کر گئے۔ جاتے جاتے گاڑی اور دیگر ضروری کاغذات اور دستاویزات بھی ہمراہ لے گئے۔ ڈاکٹر صاحب کا پہلا جنازہ جامعہ سلفیہ اسلام آباد میں محقق عالم دین مولانا عبدالحمید ازہر صاحب نے پڑھایا جس میں راولپنڈی، اسلام آباد کے باسیوں کے علاوہ دیگر شہروں کے لوگوں نے بھرپور انداز میں شرکت کی۔ امیر جماعة الدعوة پروفیسرحافظ محمد سعید صاحب یہاں جنازہ میں شریک ہوئے۔ دوسرا جنازہ جامعہ سلفیہ فیصل آباد میں فضیلة الشیخ حافظ مسعود عالم صاحب نے پڑھایا جس میں علماءو طلباءکے ساتھ ساتھ احباب جماعت کی کثیر تعداد شریک ہوئی۔ مولانا امیر حمزہ صاحب کنونیئر تحریک حرمت رسول اسی جگہ شرکت کیلئے گئے، تیسرا جنازہ خانیوال میں مولانا الشیخ محمد یونس بٹ صاحب نے پڑھایا جہاں جنوبی پنجاب کے تمام اضلاع سے لوگوں نے شرکت کی، جماعة الدعوة کے مرکزی رہنما حافظ سیف اللہ منصور یہاں شریک ہوئے۔
    مدینہ منورہ سے عبدالوکیل فہیم سے اطلاع مل گئی تھی کہ ان کے والد صاحب جدہ ایئر پورٹ پہنچ گئے ہیں وہ پاکستان کے لئے 12-30 پر روانہ ہوں گے اور رات جنازہ میں شرکت کریں گے۔ میں ان کے انتظار میں لاہور رک گیا کیونکہ انہوں نے طے شدہ پروگرام کے مطابق میرے ہمراہ
    جانا تھا۔ گاہے گاہے ایک دوسرے سے رابطہ ہوتا رہا۔ اطلاع یہ ملی کہ جہاز تین گھنٹے لیٹ ہے، پھر تین کے کئی تین ہو گئے، ورثا کوشش کے باوجود جنازہ میں شریک ہوئے نہ ہی چہرہ دیکھ سکے۔ یہ حال ہے کہ ہماری ایئر لائنز کا اور ایسی ہی صورت حال ہے ریلوے کی، بائی ٹریک سفر بھی بدحالی کا شکار ہے۔ ہر طرف دشواریاں، پریشانیاں اور رکاوٹیں ہیں۔ میں خانیوال جنازہ کیلئے روانہ ہوا تو راستہ میں ڈاکٹر صاحب کے بڑے بیٹے حافظ مسعود اظہر سے وقت معلوم کیا، نو بجے رات کا وقت طے تھا، میرے لئے ٹائم پر پہنچنا بظاہر کوئی مشکل نہ تھا جب ہم اوکاڑہ کراس کر چکے تو جی ٹی روڈ دونوں اطراف سے بالکل بند تھا۔ برادر عمر فاروق اور رمضان منظور دور تک جائزہ لینے گئے۔ معلوم ہوا کہ واپڈا کے خلاف احتجاج ہو رہا تھا، انہوں نے بجلی لے لی ہے، بھائی ملک میں بجلی ہے بھی نہیں اگر آتی ہے تو وہ بھی قاتل مہمانوں کی طرح۔ پھر اس بجلی کا آنا جانا تو روزانہ کا معمول ہے۔ آج احتجاج وہ بھی جی ٹی روڈ پر کیوں؟ آج 18 مارچ ہے، پاکستان انڈیا کا کرکٹ میچ ہو رہا ہے، لوگ دیکھنے کے لئے بے تاب ہیں۔ کرکٹ کے شائقین لوگوں نے شاید اس میچ کا اختتام بلکہ انجام ضرور دیکھ لیا ہو گا مگر ان کے احتجاج اور روڈ بلاک کی وجہ سے متعدد لوگ (مرحوم) کا چہرہ نہ دیکھ سکے اور نہ ہی جنازہ میں شریک ہو سکے۔ اس قسم کا کام کرنے سے قبل یہ ضرور سوچ لینا چاہئے کہ اس سے نفرتیں جنم لیتی ہیں غصہ پروان چڑھتا ہے، کئی لوگ اپنے پیاروں کو کندھا نہیں دے سکتے، جنازوں میں شرکت سے محروم ہو جاتے ہیں۔
    ڈاکٹر صاحب کے جنازہ میں شریک لوگوں کی آنکھیں اشکبار تھیں، ان کی موت بہت بڑا علمی نقصان ہے۔ ان سے چند ہفتے قبل عالم باعمل شیخ الحدیث و التفسیر حافظ عبدالمنان نور پوری صاحب کا انتقال ہوا۔ جو ہر فن میں سند کا درجہ رکھے تھے۔ ایک کے بعد دوسرے عالم دین کا چلے جانا بہت بڑا خلاءہے جو بظاہر پر ہونے والا نہیں۔
    ڈاکٹر عبدالرشید اظہر صاحب برسہا برس سے مکتب الدعوة السعودیہ، اسلام آباد سے وابستہ تھے، پاکستان میں مبعوثین (وہ پاکستانی علماءجو سعودی عرب سے یہاں مختلف تعلیمی اداروں میں متعین ہیں) کے نگران (مشرف) تھے۔
    ترجمة القرآن کے علاوہ کئی ایک کتابوں کے مو ¿لف و مصنف اور مترجم تھے، متعدد ممالک میں دعوت و تبلیغ اور مختلف قسم کے علمی کورسز کروا چکے ہیں، اس بار موسم حج میں حکومت سعودی عرب نے ان سے خوب علمی خدمات لی ہیں۔
    پاکستان میں ہونے والی تقاریب بخاری شریف میں آخری حدیث پر درس کیلئے بطور خاص ان کو بلایا جاتا تھا، کئی ایک اداروں میں مجھے ان کے ہمراہ تقریر کا موقع ملا لوگ ان کے درس کو انتہائی عقیدت و احترام سے سنتے اور علمی نکات سے فیض یاب ہوتے۔ میرا ان کے ساتھ کافی قرب تھا میں جب جامعة الدراسات، کراچی کا مدیر تھا تو دوبار درس بخاری کیلئے میری دعوت پر تشریف لائے۔ آبائی شہر احمد پور شرقیہ ضلع بہاولپور متعدد بار خطابات اور خطبہ جمعة المبارک کیلئے تشریف لائے۔ بے شمار سفر ان کے ہمراہ کئے، علم سے فیض یاب ہوا، ڈاکٹر صاحب کی دینی، ملی اور رفاہی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ ان کی کچھ نیکیاں ایسی ہیں جن کو میں ناچیز جانتا ہوں، اللھم اغفرلہ و رحمة اللہ تعالیٰ ان کو جنت الفردوس میں جگہ عطا فرمائے اور جملہ لواحقین کو صبر جمیل دے۔ (آمین)

    بشکریہ ہفت روزہ جرار
    والسلام۔۔۔علی اوڈراجپوت
    alioad rajput
     
  14. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,757
    شیئرنگ کا شکریہ
     
  15. انجینئر عبدالواجد

    انجینئر عبدالواجد -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اگست 3, 2010
    پیغامات:
    220
    اللہ تعٰالٰی قاتلوں کے مکروہ چہروں سے جلد پردہ اٹھائے۔ آمین
    واقعی ایک ایسے جید عالم کا ہم سے بچھڑ جانا بہت ہی غم اور صدمے کی بات ہے
    علماء تو اندھیروں میں چراغ کی مانند ہوتے ہیں کہ جن کے باعث عام لوگ ٹھوکریں کھانے سے بچ جاتے ہیں
    اللہ تعٰالٰی سب علماء کو اپنی حفظ و امان میں رکھے ۔ آمین
     
  16. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,847
    تو کہ انجان ہے اس شہر کے آداب سمجھ
    مطلب یہ ہے کہ آپ ایسے واقعات کی روک تھام کیسے کر سکتے ہیں؟ کیا آج آپ نے غور کیا ہے؟ آخر حل کیا ہے؟ اگر کوئی حل بتا دے تو کیا اس کی طرف چلنے کے لئے تیار ہیں؟
     
  17. زیشان اکرم رانا

    زیشان اکرم رانا -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 12, 2011
    پیغامات:
    22
    اللهم فرج عنا وعن المؤمنين والمؤمنات الكرب ياالله
     
  18. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,939
    قاتل!


    کبھی بوئے چمن قاتل ‘ کبھی باد صبا قاتل
    بہت سے آچکے ہیں تجربے میں آشنا قاتل

    خود اپنا ہی لہو منت پذیر دست قاتل ہے
    کہاں لے آئے ہیں ہم رہرؤوں کو رہنما قاتل

    بہر عنوان اب جام وسبو کی خیر ہو یارب
    اٹھے ہیں میکدے کی خاک سے خونیں قبا قاتل


    فقیہان سیاست کو یقینا کچھ خبر ہوگی
    ہمارے شہر میں کس خاک سے آخر اٹھا قاتل
     
  19. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,939
    یہ عجب بدمعاشی ہے کہ حافظ صاحب کی گاڑی برآمد ہوچکی قاتل معلوم ہوچکے لیکن قاتلوں کا نعرہ لن ترانی نہ ختم ہوسکا !
    اور "سلفیوں" کو یہ کہہ کر انکی "اوقات" بتا دی گئی کہ گاڑی لے جانی ہے تو لے جاؤ , قاتل ہم نہیں بتا سکتے !
     
  20. طالب علم

    طالب علم -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2007
    پیغامات:
    958
    جمعہ 23 مارچ کے خطبہ کے بعد ڈاکٹر طالب الرحمٰن حفظہ اللہ نے بتایا کہ گاڑی برآمد ہو چکی ہے اور پولیس قاتلوں کے بہت قریب پہنچ چکی ہے نیز یہ کہ حکومت ہم سے تعاون کر رہی ہے ورنہ احتجاج کا پروگرام تھا۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ ہمارے جزبات کا خیال رکھتے ہوئے جلد از جلد قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے ۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں