حافظ سعید پرایک کروڑ ڈالر انعام

m aslam oad نے 'خبریں' میں ‏اپریل 3, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    الیکشن کب ہیں ؟ کیا کسی کو اس بارے میں کچھ معلومات ہیں
    مجھ کو لگتا ہے کہ اس خبر کا الیکشن سے کوئی تعلق ضرور ہے اللہ اعلم
     
  2. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    اللہ تعالٰی ان امریکیوں کی چالوں سے سب مسلمانوں کی حفاظت فرمائے، اور ان کی چالیں انہی پر پلٹ دے آمین ۔
     
  3. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    حافظ سعید نے امریکی فیصلے پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ نیٹو سپلائی لائنز کی ممکنہ بحالی کے خلاف اُن کی ملک گیر مہم کی پاداش میں امریکا نے اُن کے خلاف یہ کارروائی کی ہے۔ذرائع ابلاغ سے گفتگو میں انھوں نے کہا ہے کہ اگر ان کے خلاف دہشت گردی میں ملوث ہونے کے ثبوت ہیں تو امریکی حکام اُنھیں منظر عام پر لائیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ روز امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی چینبر لین نے بھارت کے دورہ کے موقع پر اچانک یہ اعلان کیا تھا کہ امریکا نے حافظ سعید کی تلاش میں مدد دینے والے کے لیے ایک کروڑ ڈالر کا اعلان کیا ہے۔
     
  4. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    میرا خیال ہے۔۔۔ امریکی نائب وزیر خارجہ وینڈی چینبرلین کی زبان سے ایسے ہی پھسل گیا حافظ صاحب کا نام۔۔۔ کیونکہ حافظ صاحب پر ہاٹھ ڈالا تو زلزلے کے جھٹکے نجد تک محسوس کئے جائیں گے۔۔۔ مطمئن رہیں۔۔۔ کچھ نہیں ہونے والا۔۔۔ کیونکہ اگر حافظ صاحب کو کچھ ہوتا ہے تو سول اور اسٹیبلشمنٹ دونوں ادارے ناکام ہوجائیں گے پاکستان میں اور وہ خود ایسا کبھی نہیں چاہیں گے۔۔۔ لہذا اس بیان کا مقصد صرف یہ ہی ہے نیٹو سپلائی لائن جب بحال ہو تو حافظ صاحب کو جلسوں اور جلوسوں سے دور رکھا جائے اور دباؤ دونوں قوتیں ہی ڈالیں گی سول بھی اور اسٹیبلشمنٹ بھی مگر جو لوگ اللہ سے ڈرتے ہیں وہ ان کے بہکاوے میں نہیں آئیں گے تو تیسری قوت اُس نے کام دکھانا ہے۔۔۔ مگر یہ کھیل مل کر کھیلا جائے گا۔۔۔ دیکھتے رہیں اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے۔۔۔ چدمپرم صاحب اس لئے خوش ہیں کیونکہ جن دریاؤں پر وہ ڈیم بنانا چاہتے ہیں جس سے بجلی بنا کر وہ پاکستان کو فروخت حافظ صاحب اس کی بھی مخالفت اپنے جلسوں‌ میں کھل کر کررہے ہیں۔۔۔
     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,903
  6. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    ویسے مشرف کے دور سے جس کو کہ میں‌ پہلے دہے کا دور کہونگا، دوسرا دہا بالکل ہ مختلف جارہا ہے ، پہلے دہے میں‌، امریکہ نواز پالیسیوں‌کو جم کر امپلیمنٹ کیا گیا، جبکہ دوسرے دہے میں، انہی پالیسیوں‌کے خلاف حکومت عوامی آواز کے تلے دبی ہے، حالانکہ ڈکٹیشنز ابھی بھی جاری ہیں، لیکن کبھار حکومت کی آواز بھی سننے کو تو ملتی ہے، حالانکہ وہ بھی "ہم مارتے جائینگے، تم روتے جاو، لیکن سب دکھاوا" کی طرح، میری نظر میں‌یہ دوسرا دہے جب اختتام کو پہنچے گا، یعنی 2020، صورتحال بہت ہی مختلف ہوگی، پتہ نہیں‌ان 9 سالوں‌میں‌کیا کچھ ہوگا، آغاز تو اسامہ کی ہلاکت، ڈیوس کیس، حافظ سعید پر انعام، ملٹری پیوپلز کلنگ واقعی، اور بہت سے واقعات نے جو سگنل دیا ہے وہ کچھ اچھا نہیں، لیکن مشیت الہی اور گذرنے والا وقت امریکہ کو ایسے ہی بے لگام نہیں‌چھوڑے گا، ہندوستان میں حالات اب پہلے دہے جیسے نہیں‌رہے، جہاں‌فرقہ پرستی عروج پر تھی، اب وہاں‌زیادہ رجحان مٹیریلزم پر ہے، البتہ ہندوستان اور امریکہ کی پالیسیز ، پاک کے لئے قریب قریب سیم سیم ہی نظر آتی ہے، بلکہ دوسرے معنوں‌میں‌" پاکستان اور عالم اسلام کے لئے، امریکہ، ہند کی پالیسیوں‌کو ہم یہودی پالیسیز " کا نام دے سکتے ہیں، اور مزید کھل کر بات کریں، تب یہ اسلام اور مخالف اسلام دشمنوں‌کی جنگ کا ایک حصہ ہیں۔
     
  7. ام حمزہ

    ام حمزہ رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 31, 2011
    پیغامات:
    207
    امیر جماعت الدعوة حافظ سعید نے کہا کہ ہم نہ غاروں میں ہیں نہ جنگلوں میں، ہم پاکستان میں ہیں اور لاکھوں لوگوں سے مخاطب ہیں۔ امریکا کی جانب سے میرے سر کی قیمت پر مجھے حیرانگی ہے، اسے میرے بارے میں اتنی بھی معلومات نہیں۔ ہم نے قربانیوں سے پاکستان حاصل کیا ہے، میرے گھر کے بھی 36 لوگوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دیا ہے، اس ملک کو کوئی نقصان نہیں ہوگا۔ امریکا کبھی اسرائیل اور اب انڈیا کی خواہشات پر فیصلے کررہا ہے۔ ہم امریکا کے سفارتی کردار کے مخالف نہیں، اگر امریکا نے مجھے اسامہ کی طرح نشانہ بنانے کی کوشش کی تو ہمارے ملک میں صرف احتجاج ہوتے ہیں۔جب تک زندگی باقی ہے، امریکا میرا کچھ بھی نہیں بگاڑسکتا، میری زندگی امریکیوں کے ہاتھوں میں نہیں ہے۔دوسری جانب وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک نے کہا ہے کہ مجھے بھی میڈیا کے ذریعے پتہ چلا ہے کہ حافظ سعید کے سر کی قیمت لگائی گئی ہے، امریکی حکومت کی جانب سے ہمیں سرکاری طور پر اس حوالے سے کوئی دستاویز نہیں ملی۔ جب تک ہمیں سرکاری سطح پر ایسی کوئی چیز نہیں ملتی، اس معاملے پر بات کرنا ٹھیک نہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ پروگرام میں پیپلزپارٹی پارلیمنٹیرین کے رہنما ندیم افضل چن اور تجزیہ کار لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) طلعت مسعود بھی شریک ہوئے۔طلعت مسعود نے کہا کہ حافظ سعید روپوش نہیں ہیں بلکہ کھلے عام جلسے کرتے پھر رہے ہیں۔ امریکا کی جانب سے حافظ سعید کے لئے انعامی رقم کا اعلان حکومت پاکستان پر مزید دباؤ ڈالنے کی کوشش ہے۔ یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ دفاع پاکستان کونسل نے کس طرح ملک کا دفاع اپنے ہاتھوں میں لیا ہے، کیا یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ہم جمہوریت سے بھی فارغ ہوجائیں۔ ندیم افضل چن نے کہا کہ ایک جانب دفاع پاکستان کونسل کی جانب سے حکومت کو دھمکیاں دلوائی جارہی ہیں۔ دفاع پاکستان کونسل والے اب بتائیں کہ پاکستان کو کس کس سے جنگ لڑنی ہے۔ حافظ سعید کو اعجاز الحق، شیخ رشید جیسے لوگوں سے خود کو محفوظ کرنا ہوگا، حافظ صاحب کو چاہئے کہ سیاسی سسٹم میں آکر اپنا کردار ادا کریں، پارلیمنٹ، ملک یا حکومت کے لئے مشکلات کھڑی نہ کریں۔ ایک موقع پر ندیم افضل چن نے حافظ سعید کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آپ شیخ رشید، اعجاز الحق اور حمید گل کو لے کر فاٹا جائیں اور وہاں جلسہ کریں، ڈرون حملے تو فاٹا میں ہورہے ہیں۔ اس پر حافظ سعید نے کہا کہ ہم اپنے سب ساتھیوں کے علاوہ آپ کو بھی لے کر فاٹا جائیں گے۔ انڈیا ہمارے خلاف اس لئے ہے کیونکہ ہم کشمیر کی آزادی کی بات کرتے ہیں۔ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ ممبئی حملوں کی ہم مذمت کرتے رہے ہیں۔

    احوال
     
  8. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,050
    علی اوڈ بھائی زندہ باد۔
    کیا خبر شئیر کی ہے۔ مزہ آ گیا!!!!!
    ویسے ایک زیادتی کر گئے آپ خبر بتلاتے ہوئے کہ عبدالرحمن مکی صاحب پر بھی 20 لاکھ ڈالر انعام رکھا گیا ہے۔
    شیروں میں‌سے ایک شیر کو اگنور کر دینا!!!!
    کیا یہ کھلا تضاد نہیں !!!!!:00003:
    ویسے اچھا ہو کہ احباب یہاں مکی صاحب کی کوئی اچھی تقاریر شئیر کر دیں تاکہ لوگوں کو بھی ان کا تعارف ہو جائے
     
  9. الطائر

    الطائر رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 27, 2012
    پیغامات:
    273
    جو اس حقیقت سے واقف ہیں کہ حافظ سعید ISI کی Essential Tool Kit کا ایک حصہ ہیں، تو وہ یہ کہنے میں حق بجانب ہیں کہ حافظ صاحب پرکوئی آنچ نہیں آنے دی جائے گی۔ اسٹیبلشمنٹ نے حافظ صاحب کو کھل کھیلنے کی اس لیے اجازت دی کہ نیٹو سپلائی کی ممکنہ بحالی میں پاکستان کی جانب سے مقرر کردہ نرخ پر امریکا اور اتحادیوں کو مجبور کیا جا سکے جس میں 'سب' کا حصہ ہے۔ اسی لیے امریکا نے نہلے پر دہلا مارتے ہوئے حافظ صاحب کی قیمت طے کر دی جس کا مطلب پاکستان کو ایسے دباؤ میں لانا ہے جس سے وہ، نرخ بالا کن کہ ارزانی ہنوز، کا منترہ بھول جائے۔

    سارا مسلہ نیٹو رسد کی زمینی بحالی سے مربوط ہے کیونکہ فضائی رستے سے رسد بڑی مہنگی پڑ رہی ہے۔لہٰذا آنے والے دنوں میں پاکستانی عوام کو جلد ہی نیٹو رسد کی بحالی کی خبرِ بد سننے کو ملے گی۔ پاکستانی عوام جز بز تو ہوں گے، اور بس۔ جیسا کہ پہلے بھی ہو چکے ہیں اور غالباً امثال پیش کرنا غیر ضروری ہے۔

    تاہم چند سنجیدہ حلقے ضرور برا فروختہ ہوں گے، جیسا کہ طالبان۔ نیٹو رسد کی بحالی کر کے حافظ سعید کو ایک بار پھر محفوظ کر لیا جائے گا۔ لیکن یہ سب کچھ حقیقی اسلام پسندوں کے حق میں جائے گا، طالبان کے موقف کو مضبوطی فراہم کرے گا۔ یہ بظاہر سب کو سستی نظر آنے والی سودے بازی ایک بار پھر امریکا اور اس کے گماشتوں کو مہنگی پڑے گی اور اللہ کا یہ ارشاد ایک بار پھر سچا ثابت ہو گا کہ، کفار و مشرکین اپنی چالیں چلتے ہیں لیکن اللہ سب سے زبردست حکمت کار ہے۔
     
  10. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    امريکہ کی جانب سے لشکر طيبہ کے رہنما کی گرفتاری کے ليے انعامی رقم کا اعلان کوئ فوری ردعمل يا ايسا عمل نہيں ہے جس کا منطقی تاريخی تناظر موجود نہ ہو۔ يہ نہيں بھولنا چاہيے کہ امريکہ نے لشکر طيبہ کو ايک دہائ قبل ہی دہشت گرد تنظيم قرار دے ديا تھا۔ اس کے بعد اپريل 2008 ميں يہی فيصلہ جماعت الدعوہ کے ضمن ميں بھی کيا گيا تھا جس کے روح رواں حافظ سعيد ہی تھے۔

    اقوام متحدہ کی جانب سے دسمبر 2008 ميں حافظ سعيد کو عالمی دہشت گرد قرار ديا جا چکا ہے۔

    اسی طرح نومبر 24 2010 کو ايگزيکٹو آرڈر 13224 کے تحت امريکی اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ نے فلاح انسانيت فاؤنڈيشن کو بھی دہشت گردی ميں ملوث قرار ديا اور امريکی ٹريزری ڈيپارٹمنٹ نے اس ادارے کے ليڈر حافظ عبدالروف اور مياں عبد اللہ کے علاوہ محمد نوشاد خان کو بھی عالمی دہشت گرد قرار ديا تھا۔ ان فيصلوں کی بدولت امريکہ کے ليے يہ ممکن ہو سکا تھا کہ ان سينير قائدين کے اثاثے منجمد کر کے انھيں ان اداروں کے ذريعے مالی اعانت کے ذرائع بند کيے جا سکيں اور انھيں دہشت گردی کی کاروائيوں کے ليے قانون کے دائرے ميں لايا جا سکے۔

    حق‍یقت يہی ہے کہ امريکی حکومت کی جانب سے حافظ سعيد کے حوالے سے تازہ فيصلے سے بہت پہلے ہی ان کی تنظيم کو حکومت پاکستان، بھارت، امريکہ، برطانيہ، يورپين يونين، رشيا اور آسٹريليا کی جانب سے دہشت گرد قرار ديا جا چکا تھا۔

    اگر امريکہ کا مقصد مسلم رہنماؤں کے گرد گھيرا تنگ کر کے سياسی مقاصد حاصل کرنا ہوتا، جيسا کہ کچھ راۓ دہندگان کی جانب سے غلط تاثر ديا جا رہا ہے تو پھر آپ اس حقيقت کو کيسے رد کريں گے کہ پاکستان کی اپنی حکومت برسوں پہلے اسی تنظيم کو دہشت گرد کاروائيوں کے سبب کالعدم قرار دے چکی ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    Incompatible Browser | Facebook
     
  11. m aslam oad

    m aslam oad نوآموز.

    شمولیت:
    ‏نومبر 14, 2008
    پیغامات:
    2,443
    ‭BBC Urdu‬ - ‮ملٹی میڈیا‬ - ‮ہم جنگلوں غاروں کے لوگ نہیں: مکی‬
    .
    .
    .
    .
    ‭BBC Urdu‬ - ‮پاکستان‬ - ‮حافظ سعید پر انعام، ملک گیر احتجاج کا اعلان‬
     
  12. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    فواد صاحب وہ اسلیے دہشت گرد قرار دے چکی ہے کہ امریکہ نے دباؤ ڈالا تھا بالکل اسی طرح جسطرح اب ڈالا ہے۔ اب بتائیے کہ جس کو امریکہ دہشت گرد قرار دے اسی کو ساری دنیا دہشت گرد قرار دے دیتی ہے۔ آپ سے سوال ہے کہ جب پاکستان کی عدلیہ نے عدم ثبوت کی بنا پر اس کو رہائی دی تو پھر امریکہ آزاد عدلیہ کا کیوں مذاق اڑا رہا ہے؟
    پھر انڈیا میں جاکر آخر کیوں یہ اعلان کیا جارہا ہے ظاہر ہے بھارت نوازی!
    جب گجرات میں مسلمانوں کا خون بہایا جارہا تھا اور زندہ جلایا گیا تو پھر بال ٹھاکرے کیوں دہشت گرد نہیں؟ ظاہر ہے وہ مسلمان نہیں!
    بھائی ٍحافظ سعید کی فلاحی کاموں کی وجہ سے وہ ملک میں پسند کیے جاتے ہیں باقی وہ خودکش حملوں کے بھی خلاف ہیں۔
    انڈیا سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ ثبوت فراہم کریں۔
    باقی دلچسپ بات یہ ہے کہ Rewards for Justice-main - english پر ان کو صرف شبہ کی بنیاد پر دہشت گرد قرار دیا گیا ہے اور پھر دس کروڑ جیسی خطیر رقم مختص کی ہے۔

    بتائیے suspected کا مطلب اور کیا نکلتا ہے کیا ہم ایسے لوگوں سے انصاف کی توقع رکھ سکتے ہیں۔
    اب ذرا بال ٹھاکرے کا ویکی پیڈیا سے کارنامہ ملاحظہ ہو:
    اور بات یہی پر ختم نہیں وہ ہٹلر کی طرح قتل عام کا خواہش مند ہے:
    ]
    Bal Thackeray - Wikipedia, the free encyclopedia
    بال ٹھاکرے کس کھیت کی مولی ہے۔ شرم کا مقام ہے۔
     
  13. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,050
    جسٹس ڈیپارٹمنٹ کی ویب پر جتنے بھی "دہشت گرد" نظر آئے ہیں وہ سب کے سب مسلمان ہیں۔
    اس بات سے امریکی عزائم واضح نظر آتے ہیں
     
  14. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    جزاك الله خيرا ، اسے كہتے ہيں اپنى آنكھ كا شہتير نظر نہيں آتا اور دوسروں كا تنكا كھٹكتا ہے۔
     
  15. الطائر

    الطائر رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 27, 2012
    پیغامات:
    273
    حافظ سعید۔ امیریکی پریس بریفینگز، جھوٹ کے پلندے اور قلابازیاں

    حافظ سعید سے چند اختلافات سے قطعِ نظر، وہ اور پاکستان، ہر گز ممبئی حملوں میں شریک یا اس کے ذمہ دار نہیں۔ ان حملوں کی اصل ذمہ داری، انڈیا، اسرائیل اور براہِ راست امریکا کی ہے۔ ممبئی کا یہ اس خود کردہ منصوبہ بھی نو دو گیارہ کی طرح اپنے پیچھے کئی جھول اور نشانات چھوڑ گیا۔ بحر حال، حافظ سعید سے متعلق امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کی پریس بریفیگنز کافی مضحکہ خیز ہیں اور دیکھنے سننے سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان کا جھوٹ، اور دلیل سی عاری تاویل، قابلِ دید ہے۔ براہ کرم حافظ سعید سے متعلق 3 اپریل کو وکٹوریا نیولینڈ، اور 4 اپریل کو مارک ٹونر کی جانب سے دی گئی پریس بریفنگز کی ویڈیوز ضرور ملاحظہ کیجئیے۔ ان کو دیکھنے کے لیے
    video.state.gov/en/video گوگل کر لیں۔ ان کا ڈائریکٹ رابطہ گڑ بڑ کر رہا ہے۔
    ان کی بریفنگز کا ٹرانسکرپٹ حسبِ ذیل ہے۔ جھوٹے کہیں کے
    اور یہ بھی دیکھیں
    http://topics.nytimes.com/top/reference/timestopics/people/h/david_c_headley/index.html


    Apr. 03, 2012: U.S. Department of State Daily Press Briefing by Spokesperson Victoria Nuland in Washington, DC
    Starting @14.00
    QUESTION: Lashkar e-Tayyiba. The U.S. has put out a $10 million reward for the arrest and prosecution of Hafiz Saeed, who is the head of the affiliated charitable organization. He’s suspected of being the mastermind behind the Mumbai killings. Why now? That happened more than three years ago, and his organization, as well as Lashkar e-Tayyiba, have already been on this – the U.S.’s terrorist list.
    MS. NULAND: Well, this effort to arrange a Rewards for Justice bounty, if you will, for Hafiz Mohammad Saeed and also for Abdul Rahman Makki has been in the works for quite a number of months. These things are somewhat complicated to work through all of the details. So the announcements were only able to be posted when the process was complete. But there was – we’ve been working on this for some time.
    QUESTION: More than a few months? More, less than a year? Can you characterize?
    MS. NULAND: I think less than a year but more than three or four months.
    QUESTION: Can you explain exactly what it is about – what’s so complicated about offering money for some of – what – printing the posters? What is it that’s so complicated?
    MS. NULAND: Well, there is a review process to determine, in the first instance, whether offering a bounty of this kind – in this case, it’s $10 million for Hafiz Mohammad Saeed, it’s $2 million for Abdul Rahman Makki – is likely to lead to any results in the case. So there has to be an intelligence evaluation, there has to be a policy evaluation, there has to be a discussion with Congress. This is a lot of money for the U.S. taxpayer to put up. And so that process takes some time. Things have to be correlated. There is an entire review process. There’s an interagency rewards committee that has to look through this. And then the Secretary has to approve it.
    QUESTION: Right. But if it’s only started a couple months ago – Mumbai was quite a – when did the process begin?
    MS. NULAND: I can’t speak to whether, right after the bombing, we looked at this at that time. But I think sometimes what happens is intelligence and other information comes later with regards to whereabouts of individuals, which leads one to think that offering a reward might cause citizens who know where they are to come forward. And sometimes that isn’t evident right at the time of the crimes. So sometimes it comes up later. As you may know, one of these individuals has been appearing on television and has been quite brazen. So I think the sense has been over the last few months that this kind of a reward might hasten the judicial process, if you will.
    QUESTION: So you’re saying --
    QUESTION: (Inaudible) you know his television appearances, he did speak to Al Jazeera today about this bounty being placed on him. And he suggested that this is being done because he has been putting pressure on the government in Islamabad to not reopen the southern transport routes for supplies to NATO ISAF forces. Is there anything to that, or is this specifically because of his suspected involvement in the Mumbai attacks?
    MS. NULAND: No, it has everything to do with Mumbai and his brazen flouting of the justice system.
    QUESTION: Just to --
    QUESTION: As he lives more or less openly in Pakistan, has there been communication with the Pakistani Government, the Pakistani authorities, seeking for his arrest?
    MS. NULAND: Absolutely. We have been in communication with Pakistan on this issue.
    QUESTION: And he is wanted --
    QUESTION: Have they acceded to his placement on this list? Because there’s been some analysis suggesting that doing so could put even more strain on the U.S.-Pakistani relationship. And to follow up on that, is that something that Deputy Secretary Nides would be dealing with in his meetings in Islamabad on Wednesday?
    MS. NULAND: Well, on the latter question, the full range of issues related to international terrorism, terrorist threats in Pakistan internationally, is obviously one of the subjects that Deputy Secretary Nides will be talking about. We have continued to impress on the Government of Pakistan that we believe it has a special responsibility to fully investigate and bring those to – those responsible to justice, to the extent that it can. The Government of Pakistan has regularly, in our conversations with them, pledged its cooperation in the investigations. We fully expect that it will follow through on those commitments. I would guess that this case probably will come up.
    QUESTION: Is this reward has been – in the consultation of the Indian Government?
    MS. NULAND: My understanding is that the primary work that is done before we offer these rewards is internal, that we do advise affected governments that we intend to do this, but it’s not a consultative process, per se.
    QUESTION: Thank you, ma’am. Can we change topics?
    MS. NULAND: Yeah.
    QUESTION: No. It’s – the reward is for information that leads to the conviction of – conviction where?
    MS. NULAND: Wherever he can be found. It’s not specific in the way that it goes --
    QUESTION: You’re trying to charge – has he been charged with the murder of the six Americans in Mumbai?
    MS. NULAND: I don’t have any back --
    QUESTION: I guess I’m just trying to find out, why is it for the United States to offer a reward for this guy? Is that the reason?
    MS. NULAND: Well, it’s because we want to see him brought to justice. I believe that he has been charged, but I don’t have the – I’ll get you some more on that.
    QUESTION: But do you – I mean, you want him brought to justice here? In India? In Pakistan? Where is it that – I mean, what – if I gave you information that he was on such street corner and he gets picked up and arrested, how do I –
    MS. NULAND: My understanding --
    QUESTION: -- where does he have to be convicted so I can get the money?
    MS. NULAND: Okay. Let us get you some more information. But my understanding of this – and I may have it wrong – is that he’s actually been charged in India --
    QUESTION: Yeah.
    MS. NULAND: -- in connection with this case, that he has been at large --
    QUESTION: Right.
    MS. NULAND: -- and has not been able to be either arrested --
    QUESTION: Right.
    MS. NULAND: -- or brought to trial.
    QUESTION: Right.
    MS. NULAND: So the precise formulation in the Rewards for Justice announcement is $10 million for information leading to the arrest or the conviction of either – of this individual, $2 million for the other individual.
    QUESTION: How much are the Indians offering for this?
    MS. NULAND: I don’t know the answer to that.
    QUESTION: Are they offering anything, do you know?
    MS. NULAND: I do not.
    QUESTION: I’m just curious as to why it’s the U.S. job to offer a reward for this guy when --
    MS. NULAND: Well, we have Americans killed and it’s only cooperate --
    QUESTION: I understand. Six Americans were killed.
    MS. NULAND: Correct.
    QUESTION: But you also have Americans killed in other places where you’re not offering any rewards or --
    MS. NULAND: Well this program, as you know, we have --
    QUESTION: Well, it seems to be that the vast amount of damage that this guy and his group has done is to India, and I’m not aware that they’re offering any rewards. So I want to know why the U.S. taxpayer is offering a reward. That’s --
    MS. NULAND: Well, I can’t speak to whether India has its own Rewards for Justice-type program. I’m going to refer you to the Indians with regard to that. This is a program that we’ve had for a long --
    QUESTION: I understand that, but --
    MS. NULAND: Can I finish my point? We’ve had for a long time, when we are concerned that people who have killed Americans overseas are not being able to be brought to justice. So again, this is a case that’s been going on for a long time. This is with regard to justice being served on people who have killed Americans --
    QUESTION: Right. Can you --
    MS. NULAND: -- so that there is no impunity for them anywhere in the world.
    QUESTION: Can we – can you find out, though, where it is that this guy has to be convicted for the reward to be --
    MS. NULAND: We will get you a little bit more information on that, Matt.
    QUESTION: Thank you.
    MS. NULAND: Okay.
    QUESTION: One more about the overall program?
    MS. NULAND: Yeah.
    QUESTION: It’s been noted that upwards of $100 million have been paid. Is there a breakdown by amounts, since I understand that there’s no revelation of the people who get the rewards? Is there a breakdown per case, how much was paid out, and when they were paid out?
    MS. NULAND: I’m going to take that, Ros. As you know, to protect those who come forward, we don’t generally advertise these things. How much – whether we do an accounting of how much has been authorized under the program and for what cases, I’m not sure. So let me take it.
    QUESTION: Okay.
    MS. NULAND: Okay?
    Said.
    QUESTION: Can we go to the Palestinian issue?
    MS. NULAND: Yeah.

    Apr. 04, 2012: U.S. Department of State Daily Press Briefing by Deputy Spokesperson Mark Toner in Washington, DC
    08.14 onwards
    QUESTION: A different topic?
    MR. TONER: Yeah, sure.
    QUESTION: Pakistan?
    MR. TONER: Yeah.
    QUESTION: Just a couple days after the United States announced this reward money for Hafiz Saeed, he very openly called a press conference in Rawalpindi. What’s the U.S. reaction to that? Do you think that the Pakistani authorities should have allowed that, or should they have arrested him?
    MR. TONER: Look, just a couple of clarifications about the Rewards for Justice against Hafiz Saeed. I’m aware that he did give a press conference yesterday, made some public statements. Let’s be very clear because I’ve been getting questions all morning, “Hey, if you know where he is, why issue this reward?” Just to clarify, the $10 million is for information that – not about his ********, but information that leads to an arrest or conviction. And this is information that could withstand judicial scrutiny, so I think what’s important here is we’re not seeking this guy’s ********. We all know where he is. Every journalist in Pakistan and in the region knows how to find him. But we’re looking for information that can be usable to convict him in a court of law.
    QUESTION: I thought that information was already out there. The Indians certainly seem to say that they have it.
    MR. TONER: Well, the Indians do, and I’d refer you to the Indians and the Pakistanis to talk about their counterterrorism cooperation, but we’re --
    QUESTION: Were you ever able to find out how much money the Indians have ponied up for a reward?
    MR. TONER: I don’t – Matt, did you ask that yesterday? I’m sorry if you didn’t.
    QUESTION: Yes, I did.
    MR. TONER: I didn’t – I thought you – I thought we had only gotten the question about --
    QUESTION: I’m just curious as to why the U.S. taxpayer should pay for this.
    MR. TONER: Well, I think we talked about – a little bit about this yesterday. One is that --
    QUESTION: I understand. I mean, if you want to join with the Indians in offering some kind of a joint reward, but I don’t understand why the conference down --
    MR. TONER: Well, you know how our Rewards for Justice works. It’s a very effective program and it’s not a joint program; it’s something that we do on behalf of the United States.
    QUESTION: No, no. I mean, I’m not talking about – I mean, if you wanted to add this to whatever the Indians might be offering, I thought that would make – that would – I suppose that would make sense. I just don’t understand.
    MR. TONER: I don’t – I just know that (inaudible) --
    QUESTION: And if he’s already been indicted – as Toria said yesterday, if he’s already been indicted, presumably the prosecutors have information; otherwise he wouldn’t have been indicted.
    MR. TONER: You’re talking about he’s indicted within the U.S. or indicted --
    QUESTION: Anywhere.
    MR. TONER: Anywhere. Well, again, I think – look, I think what they’re trying to – we’re trying to get information that can be used to put this gentleman behind bars.
    QUESTION: Are you saying that there is no information right now that could – that you could prosecute him for?
    MR. TONER: There is information, there is intelligence that is not necessarily usable in a court of law.
    QUESTION: So, there – really? There is not – there isn’t information out there that could be used to prosecute?
    MR. TONER: I think that the Rewards for Justice announcement speaks for itself, insofar as saying that they’re looking for evidence that can be used against him that implicates him --
    QUESTION: Mark --
    MR. TONER: -- in a court of law.
    QUESTION: There’s something I don’t understand, which is --
    MR. TONER: Yeah, sure.
    QUESTION: I mean, I went back and I read the Rewards for Justice posting on it, and the reasons given are fairly old reasons, including that he is suspected of masterminding the Mumbai attacks. That was three and a half years ago, right? Why now? I mean, why would it take years to decide to put him on the Rewards for Justice Program?
    MR. TONER: Sure. I mean, I – first of all, as you saw with the 9/11 attacks, we don’t ever necessarily – there’s no statute of limitations on these terrorist attacks --
    QUESTION: (Sneezes.)
    MR. TONER: -- God bless you – statute of limitations on these kinds of terrorist attacks. I do know that there are – when we nominate someone for the Rewards for Justice, there is a legal process that needs to take place, or an internal process that needs to take place in order to designate him. I’m not sure how long that process is and how – when it began, but it does take some amount of time. But I also --
    QUESTION: (Inaudible) years?
    MR. TONER: Not years, undoubtedly.
    QUESTION: (Inaudible) forgive me, but it was months, right? So, I mean --
    MR. TONER: Yeah.
    QUESTION: I’m sorry.
    MR. TONER: Yeah, Cami.
    QUESTION: I thought Toria had said yesterday or the day before as well that the Pakistanis were aware of this, and yet we’ve got a statement today from the foreign minister saying that the U.S. must provide concrete evidence if it wants Islamabad to act against it. So it would seem like there’s some confusion on the part of the Pakistani Government as well.
    MR. TONER: On the contrary. I think it speaks to the fact of what we’re looking for, which is people to step forward that can provide that kind of evidence that the Pakistanis can then arrest this individual and try him.
    QUESTION: But Pakistan’s saying they want the U.S. to provide that concrete evidence.
    MR. TONER: I don’t – I’m not aware that they said the U.S. I think that they are looking for usable evidence against him.
    QUESTION: All right. To clarify, so --
    MR. TONER: Yeah.
    QUESTION: -- the U.S. doesn’t have any concrete evidence at the moment that can implicate him?
    MR. TONER: Well, again, I think the announcement speaks very clearly to the fact that we’re looking for evidence that can withstand judicial scrutiny against this individual, information that can be used against him to convict him in a court of law.
    QUESTION: And how does the timing of this announcement – does it in any way impact on U.S.-Pakistan relations when the parliament is debating the way forward? Is it –
    MR. TONER: No. It has nothing to do with the ongoing parliamentary review. I think Toria spoke to that and de-conflicted it all and said that yesterday. It’s – this is about a process in and of itself, separate and apart from our ongoing bilateral relations with Pakistan. It does, however, speak to the fact that we are in a shared struggle here and that individuals like this gentleman, Hafiz Saeed, are a threat to the region. It wasn’t just six Americans killed. It was scores killed in 2008 attacks in Mumbai. And he’s also – he’s been – his group has been responsible for many attacks in the region.
    QUESTION: Is it your kind of no confidence in Pakistani Government?
    MR. TONER: Sorry?
    QUESTION: It’s a kind of no-confidence vote in --
    MR. TONER: Not at all. I think we’re trying to work in concert with the Pakistani Government in order to bring this guy to justice.
    QUESTION: If there is – I’m confused. If there is not any evidence, why is this guy a wanted terrorist? If you – I mean, you could put anyone’s face and name up there and say I’ll give you 10 million if you can give me some information that connects them to some attack someplace.
    MR. TONER: Right.
    QUESTION: Why – there’s – there has to be something out there.
    MR. TONER: Well, there is information out there. I just can’t speak to --
    QUESTION: But it’s – but it can’t be used in court?
    MR. TONER: Correct.
    QUESTION: Well, that means that there is not any – that means that there’s – I don’t get it. What kind of information are you talking about that’s --
    MR. TONER: Well, it’s based on intelligence, and it’s not --
    QUESTION: And that can’t be used in court?
    MR. TONER: Not to my understanding, but I can’t talk about it in detail.
    QUESTION: But just getting back to the initial question, it’s okay for him to be openly giving press conferences and to be goading in the U.S.? I mean, is that --
    MR. TONER: He’s free to do that, unfortunately, up to this moment, but we hope to put him behind bars.
    QUESTION: Did you do this to try to put pressure on the Pakistanis?
    MR. TONER: I just think we are trying to – we have very close cooperation with India. We have very close cooperation – counterterrorism cooperation with Pakistan, apart from our recent difficulties in the broader relationship. We’re – the major attack in Mumbai in 2008. There were subsequent terrorist actions undertaken by this group. And we are dogged in our pursuit of these individuals. I don’t know that – this is not to put pressure on any one government, but we wanted to be able to provide Pakistan with the tools that they need to prosecute this individual.
    QUESTION: Pakistani president?
    MR. TONER: Yeah.
    QUESTION: He’s traveling to New Delhi, to India. Basically, it’s a spiritual journey to a shrine.
    MR. TONER: That’s right.
    QUESTION: So the – do you think this announcement at this time will move the initiative – the narrative back to the anti-militant fight and cooperation?
    MR. TONER: Well, difficult for me to say. And certainly, we would refer you to the governments of India and Pakistan as to what he’s going to discuss with the government there when he’s on his trip. But we want to see, obviously, ever closer counterterrorism cooperation. It’s to everyone’s interests.
    QUESTION: Just getting back to the –
    MR. TONER: Yeah.
    QUESTION: -- that this is to help the Pakistani prosecutors. Is that – so that’s what this is aimed at, getting him prosecuted in Pakistan, not in India or not --
    MR. TONER: Not necessarily. Not necessarily in Pakistan. I think we spoke to that in our Taken Question yesterday.
    QUESTION: Exactly. Which is why --
    MR. TONER: But he currently resides in Pakistan, obviously.
    QUESTION: So you want the – you are offering this reward for information not so that the Pakistani police will go arrest him or can find him, which they presumably can do now, but so that then they can prosecute him or ship him off to India to be prosecuted or ship him off here?
    MR. TONER: I mean, we’re – I think we said yesterday we’re looking for information to lead to his conviction in any U.S. or foreign court of law.
    QUESTION: Different topic?
    MR. TONER: Please.
    QUESTION: Sudan.
    QUESTION: Can we stay on (inaudible)?
    MR. TONER: Oh, I’m sorry. Sure. I didn’t mean to ignore you. Go ahead. Are you Pakistan, too?
    QUESTION: Yeah. In 2000 --
    MR. TONER: Okay, we’ll go to you and then --
    QUESTION: Okay. In 2009, you – David Headley was arrested and he testified in court in a plea bargain deal on the Mumbai attacks. Is the evidence – if the evidence isn’t sufficient, then what about the testimony he gave, testifying that he was trained by Lashkar-e-Tayyiba to carry out the Mumbai attacks? Is that evidence and not usable? Because it was then used to convict someone else.
    MR. TONER: You know what? I’m not conversant on the evidence that he gave in that case, so I’d have to refer you to the relevant law enforcement agencies as well as to the lawyers. I just don’t know if that – if any of the evidence that he gave would be usable.
    Yeah. Go ahead.
    QUESTION: Do you expect the Pakistani Government to move against him? I mean, this guy clearly thinks that he can operate with immunity inside Pakistan.
    MR. TONER: I think what we’re looking to do is, as I just said to Arshad, I think we’re trying to, through this Reward for Justice offer, is to, first of all, put this case back and this individual back in the limelight but also to seek out information that we feel would give Pakistani authorities the tools or the wherewithal to prosecute him.
    Ends 18.54​
     
  16. الطائر

    الطائر رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 27, 2012
    پیغامات:
    273
  17. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    حافظ سعید لشکر طیبہ کے رہنما اور امریکی انعام

    جيسا کہ انعام کی پیشکش واضح کرتی ہے کہ ہم حافظ سعيد کی جگہ کی تعين میں دلچسپی نہیں رکھتے، لیکن ہم قابل اعتماد معلومات کے ليۓ کوشاں ہيں جس کے نتيجے ميں اسکی گرفتاری يا سزا عمل ميں آۓ اور اسے انصاف کے کٹہرے ميں لايا جاۓ۔ 

    امریکی انتظامیہ تسلیم کرتی ہے کہ امریکہ کی طرح پاکستان میں بھی ایک آزاد عدالتی نظام موجود ہے۔ جيسا کہ آج خاص طور پر پاکستانی وزارت خارجہ نے کہا،" اضافی ثبوت حاصل کرنے سے قانونی طور پر حافظ سعيد کے خلاف نومبر 2008 کو ممبئی کے حملوں میں ملوث ہونے پر جس میں چھ امریکیوں شہریوں سميت کل 160 سے زائد افراد ہلاک ہوۓ مقدمہ آگے بڑھانے میں مدد ملی گی"۔

    امریکی حکومت اپنے شہریوں کے قتل کے ذمہ دار کے خلاف مقدمہ چلانے میں واضح طور پر دلچسپی رکھتی ہے۔ ہم ان حقائق کی تحقیقات کے لئے انتظار کر رہے ہیں جو ہم اميد رکھتے ہيں کہ اس اعلان سے آشکار ہوسکتے ہيں۔ امریکی حکومت يقين رکھتی ہے کہ اس عمل کے نتيجے ميں جمع کی ہوئی معلومات کے ذريعے حافظ سعید کی گرفتاری یا سزا کی طرف پاکستان کی حکومت کے ساتھ ہم مل کر بہتر کام کر سکتے ہیں.

    يہ نوٹ کرنا نہايت ضروری ہے کہ لشکرطيبہ اور جماعت الدعوۃ دونوں تنظیموں پر پاکستان ميں پابندی عائد ہے۔ اس کے علاوہ، حافظ سعید اور ان کی تنظیموں (لشکر طیبہ / جماعت الدعوة) پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 1267 کے تحت اور ايسے کئی اور قراردادوں کے مطابق پابندياں عائد ہیں۔ جو اقوام متحدہ کی تمام رکن ریاستوں سے ان تنظیموں اور افراد پر پابندی عائد کرنے، ان کے اثاثے منجمد کرنے، ہتھیاروں کی منتقلی کو روکنے، اور ان کی آزادانہ نقل و حرکت کو روکنے کے لئے تقاضہ کرتی ہے۔

    پر تشدد انتہا پسندی کے خلاف جنگ کرنے پر ہم سب ممالک متفق ہيں. یہ افغانستان کے استحکام سمیت خطے کے لیے نہایت اہم ہے۔ امریکی حکومت لشکر طیبہ اور اس کی قیادت کو بین الاقوامی امن اور سلامتی کے لئے ایک خطرے کے طور پرتصورکرتی ہے ،اور اسی طرح يہ جنوبی ایشیا کے خطے اور امریکہ کے ليے بھی ايک خطرہ ہے۔

    اوپر کے حقائق کومدنظر رکھتے ہوۓ، ميں واضح کرنا چاہتا ہوں کہ يہ الزام کہ حاليہ اعلان امريکی حکومت کی جانب سے خطے ميں سياسی مقاصد کے حصول کا ايک حصہ ہے، مکمل طورپر مضحکہ خیز، بے بنیاد اور زمینی حقائق سے بہت دور ہے ۔ 
     
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    Incompatible Browser | Facebook
     
  18. حرب

    حرب -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2009
    پیغامات:
    1,082
    السلام علیکم!۔
    امریکہ بہادر کی نظر میں تو ڈاکٹر قدیر خان بھی دہشتگرد ہیں۔۔۔ کیونکہ اُنہوں نے ایٹمی ٹیکنالوجی لیبیا کو خفیہ طور پردی یہ الزام لگایا گیا تھا۔۔۔ لیکن امریکہ لال بہادر خود طے کر کے وہ خود کیا ہے جس نے ایٹمی ٹیکنالوجی کو تل ابیب منتقل کیا؟؟؟۔۔۔ باقی ٹائم پاس اگر کرنا ہے تو ٹھیک ہے کرتے رہیں۔۔۔ چھ امریکی ہندوستان میں مارے جاتے ہیں تو واویلا مچا دیا جاتا ہے وہ جو فلسطین میں نہتے مسلمان یہودیوں کے ہاتھوں پچھلی کئی دہائیوں سے شہید ہو رہے ہیں وہاں پر آپ کی قلم کی سیاہی سوکھ جاتی ہے۔۔۔ بلکہ یہ کہنا درست ہوگا کے حلق سوکھ جاتا ہے۔۔۔
    والسلام علیکم!۔
     
  19. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,850
    السلام علیکم

    10منٹ 50سیکنڈ بعد اس ویڈیو کلپس کو دیکھیں اور سنیں، حافظ صاحب نے کیا خوبصورت جوابات پیش کئے ہیں۔

    والسلام
     
  20. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    فیس بک پر حافظ سعید کے بارے میں بڑی خوبصورت پوسٹ تھی
    اس پر لکھا تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تلاش کرنے پھر بھی "100" اونٹوں کا انعام مقرر گیا تھا اور اب اسی طرح حافظ سعید پر بھی 100 ملین ڈالر انعام۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں