اسلام آباد: کورال میں مسافر بردار طیارہ گر کرتباہ

عائشہ نے 'خبریں' میں ‏اپریل 20, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,903
    اقوام متحدہ کی قرارداد اسی کی دہائی میں منظور نہیں ہوتی ۔ کیوں ۔ کیا اس لیے کہ اس وقت اسامہ بن لادن کی پشت پناہی امریکہ کر رہا تھا !
     
  2. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    اس ايشو کے حوالے سے ميں اپنے موقف کا اعادہ کروں گا کہ 80 کی دہائ ميں افغان عوام کی مدد اور حمايت کرنے کا فيصلہ بالکل درست تھا۔ اس وقت يہ مقصد اور ارادہ ہرگز نہيں تھا کہ دنيا کے نقشے پر دہشت گردوں کو روشناس کروايا جاۓ بلکہ مقصد افغانستان کے عوام کو سويت فوجوں کے تسلط سے تحفظ فراہم کرنا تھا۔

    طالبان اور امريکہ کے درميان تعلقات کے ضمن ميں ہميشہ سے سب سے رکاوٹ دہشت گردی کا ايشو رہا ہے۔ يہ ايسی ناقابل ترديد حقیقت ہے جو نوے کی دہائ سے متعلقہ بہت سی سرکاری امريکی دستاويزات سے ثابت ہے۔

    ميں يہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ طالبان کی يہ خواہش تھی کہ امريکہ ان کی حکومت کو تسليم کر لے۔ انھوں نے بہت سے انتظامی چينلز کے توسط سے يہ ايشو اٹھايا۔ ليکن اس ضمن ميں وہ دہشت گردی کے ايشو اور امريکہ کے جائز خدشات دور کرنے کے لیے تيار نہيں تھے۔

    مجموعی طور پر امريکہ اور طالبان کے درميان 33 مواقعوں پر رابطہ ہوا ہے جس ميں سے 30 رابطے صدر کلنٹن کے دور ميں ہوۓ اور 3 رابطے صدر بش کے ۔

    اس کے علاوہ طالبان کے ليڈر ملا عمر کی خواہش پر امريکی اہلکاروں کے ساتھ ان کا ايک رابطہ ٹيلی فون پر بھی ہوا۔ يہ ٹيلی فونک رابطہ 1998 ميں امريکی حکومت اور ملا عمر کے درميان ہونے والا واحد براہراست رابطہ تھا۔

    يہ تمام روابط اور وہ تمام ايشوز جن پر بات چيت ہوئ ريکارڈ پر موجود ہيں۔ ميں ان ميں سے کچھ روابط کی تفصيل يہاں پوسٹ کر رہا ہوں

    Doc%203.pdf -- May 1, 2009 11:59 am -- 326k

    اگست 23 1998 کو امريکی اسٹيٹ ڈيپارٹمنٹ کی جانب سے ملا عمر کی اس درخواست پر يہ جواب بھيجا گيا تھا جس ميں ملا عمر نے امريکی حکومت سے اسامہ بن لادن کے خلاف ثبوت مانگا تھا۔ اس دستاويز ميں امريکی حکومت نے فوجی کاروائ کی توجيہہ، اسامہ بن لادن کے خلاف امريکی کيس اور ان وجوہات کی تفصيلات پيش کيں جس کی بنياد پر طالبان سے اسامہ بن لادن کو افغانستان سے نکالنے کا مطالبہ کيا گيا تھا۔ اس دستاويز ميں اس بات کی نشاندہی بھی کی گئ کہ اسامہ بن لادن کے نيٹ ورک نے امريکی جہاز تباہ کرنے کی کوشش کی تھی۔



    Doc%206.pdf -- May 1, 2009 12:05 pm -- 315k

    Doc%207.pdf -- May 1, 2009 12:05 pm -- 374k

    Doc%208.pdf -- May 1, 2009 12:05 pm -- 297k

    Doc%2016.pdf -- May 1, 2009 12:05 pm -- 272k

    دسمبر 7 1997 کو طالبان کے کچھ افسران نے امريکہ ميں يونوکال کے توسط سے ساؤتھ ايشيا کے ليے امريکی اسسٹنٹ سيکرٹری آف اسٹيٹ کارل انٹرفوتھ سے واشنگٹن ميں ملاقات کی تھی۔ اس ملاقات کے دوران طالبان کی جانب سے امريکہ کے ساتھ بہتر تعلقات کی خواہش اور افغانستان ميں پوست کے متبادل کاشت کاری کے منصوبوں کی ضرورت پر زور ديا گيا۔ انٹرفوتھ کی جانب سے اس ضمن ميں ہر ممکن تعاون کی يقين دہانی کروائ گئ اور اس کے ساتھ ساتھ ان سے حقوق نسواں اور دہشت گردی کے حوالے سے ان کی پاليسی کے بارے ميں وضاحت بھی مانگی گئ۔ اس کے جواب ميں طالبان کا يہ موقف تھا کہ حقوق نسواں کے حوالے سے ان کی پاليسی افغان کلچر کے عين مطابق ہے اس کے علاوہ انھوں نے اس عزم کا بھی اظہار کيا کہ افغانستان کی سرزمين کو دہشت گردی کی کاروائيوں کے ليے استعمال کرنے کی اجازت نہيں دی جاۓ گی۔

    اگرچہ طالبان کا يہ موقف تھا کہ اسامہ بن لادن ان کی دعوت پر افغانستان نہيں آۓ ليکن انھوں نے دعوی کيا کہ ان کے پبلک انٹرويوز پر پابندی کے سبب ايران اور عراق ميں بے چينی پائ جاتی ہے کيونکہ وہ ان سے رابطے کی کوشش ميں ہیں۔

    آپ اس ملاقات کی مکمل تفصيل اس سرکاری دستاويز ميں پڑھ سکتے ہيں۔

    tal24.pdf -- April 30, 2009 9:41 am -- 522k

    اس دستاويز سے يہ واضح ہے کہ طالبان کی جانب سے امريکی افسران کو يہ يقين دہانی کروائ گئ تھی کہ اسامہ بن لادن طالبان کے زير حکومت افغانستان کی سرزمين کو دہشت گردی کے ليے استعمال نہيں کر سکيں گے۔ ہم سب جانتے ہيں کہ طالبان کے اس وعدے کا کيا انجام ہوا۔

    يہاں يہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ اس معاہدے کے لیے طالبان اصرار کر رہے تھے ليکن امريکی افسران نے دو مواقع پر ان پر يہ واضح کيا تھا کہ اس معاہدے کی کاميابی کا دارومدار ان کی جانب سے خطے ميں امن وامان، سيکورٹی اور انسانی حقوق کی پاسداری کی يقين دہانی سے مشروط ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
     
  3. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    بہت بہت شکریہ فواد کہ آپ نے آج سچ لکھ ہی دیا۔
    آپ میری بات سمجھ گئے ہونگے، کیونکہ جو آپ جانتے ہیں میں بھی وہ ہی جانتا ہوں، اس لیے آپس میں بحث کا کوئی فائدہ نہیں۔ :)
    والسلام علیکم
     
  4. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ



    اس ويڈيو کے ضمن ميں يہ وضاحت ضروری ہے کہ خاتون کو کمرے سے ان کے خيالات اور نظريات کی وجہ سے نہيں نکالا گيا تھا۔ سيکورٹی کو مجبوری کے عالم میں يہ قدم اس ليے اٹھانا پڑا کيونکہ خاتون دانستہ کاروائ ميں خلل ڈال رہی تھيں اور مہمان خصوصی کو اپنی تقرير مکمل نہيں کرنے دے رہی تھيں جو کہ اس تقريب کو منعقد کرنے کا اصل مقصد اور سبب تھا۔

    ميں نے بھی وڈرو ولسن سينٹر ميں بے شمار سيمينارز ميں شرکت کی ہے اور تقريريں بھی سنی ہيں جن ميں سابق صدر پرويز مشرف، مليحہ لودھی سميت کئ اہم پاکستانی عہديدار اور پرنٹ اور ميڈيا سے تعلق رکھنے والی نامور شخصيات بھی شامل ہيں۔ فورمز پر موجود حاضرين کی تو حوصلہ افزائ کی جاتی ہے کہ وہ سوالات بھی کريں اور مہمان خصوصی سے تعميری بحث اور گفتگو کريں۔ ليکن کسی بھی دوسرے فورم کی طرح کچھ اصول اور قواعد کو ملحوظ رکھنا لازمی ہے تا کہ ديگر شرکا اور مہمان خصوصی کو بھی يکساں مواقع فراہم ہو سکيں۔ ويڈيو ميں جس خاتون کو دکھايا گيا ہے، اگر وہ چاہتيں تو تقرير کے بعد سوال و جواب کے مرحلے کے دوران اپنا نقطہ نظر اور سوالات سب کے سامنے رکھ سکتی تھيں۔ ليکن انھوں نے دانستہ وہ رويہ اپنايا جو اس واقعے کا موجب بنا جو ويڈيو ميں دکھايا گيا ہے۔

    ميں آپ کو يہ يقين دلا سکتا ہوں کہ آپ محض اس بات پرامريکہ ميں سزا کے مستحق نہيں ٹھہراۓ جاتے کہ آپ نے امريکی حکومت کی پاليسيوں کی مخالفت کی ہے۔

    اگر امريکہ کے خلاف اپنی راۓ کا اظہار "جرم" ہوتا اور اس ويڈيو سے پيدا کردہ غلط تاثر درست ہوتا تو اس منطق کے اعتبار سے تو امريکہ کے اپنے سينکڑوں صحافی کبھی بھی امريکہ ميں آزادانہ کام اور نقل وحرکت نہ کر سکتے۔ حقیقت يہ ہے کہ امريکی حکومت پر صحافیوں اور تجزيہ نگاروں کی جانب سے نقطہ چينی تو روز کے معمولات کا حصہ ہے۔

    يہ ايک مسلم حقيقت ہے کہ امريکی صدر اور امريکی حکومت پر جتنی تنقيد خود امريکی ميڈيا پر ہوتی ہے اتنی دنيا ميں کہيں نہيں ہوتی۔ جب امريکہ کے اندر مسلمانوں سميت تمام مکتبہ فکر کے لوگوں کی جانب سے امريکی حکومت کی پاليسيوں پر تنقيد کی مکمل آزادی ہے تو پھر ايک آزادنہ فورم پر ايک خاتون کی جانب سے امريکی پاليسيوں کے خلاف اپنی راۓ کا اظہار امريکی حکام کو کيونکر مشتعل کر سکتا ہے۔

    جيسا کہ ميں نے پہلے واضح کيا کہ خاتون کو اپنی راۓ کے اظہار کی پاداش ميں نہيں بلکہ ايک عوامی فورم کے قواعد اور رائج اصولوں کو پامال کرنے پر کمرے سے نکالا گيا تھا۔



    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
     
  5. الطائر

    الطائر رکن اردو مجلس

    شمولیت:
    ‏جنوری 27, 2012
    پیغامات:
    273
    فواد صاحب ویسے جواب نہیں آپ کا۔:00001: کیا جواب دیا ہے آپ نے۔ کوئی اور قبول کرے یا نہ کرے، ہم آپ کی ''تاویل'' قبول کرتے ہیں۔

    آپ الفاظ کو جو بریک ڈانس کرواتے ہیں، ہم اس کے مداح ہوئے جاتے ہیں اور اگر ممکن ہو تو کیا ہم آپ کے پاس Internship (اردو دانو! اس کا مطلب زانئے تلمذ تہہ کرنا ہوتا ہے، کیا سمجھے؟) حاصل کر سکتے ہیں؟ دیکھئیے Internship کی آڑ میں کہیں ہماری Internment نہ کر دیجئے گا، گزشتہ مراسلات کا بدلہ لینےکے لیئے۔:00002:
     
  6. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    ميں نے اس حقيقت سے بالکل انکار نہيں کيا کہ يونوکال طالبان کے دور حکومت ميں تيل کی پائپ لائن کے منصوبے ميں دلچسپی رکھتی تھی۔ بلکہ ميں نے سرکاری حکومتی دستاويز کے ذريعے ان تقاط کی تفصيل بھی پوسٹ کی ہے جو اس ميٹينگ ميں زير بحث تھے۔

    جولائ 9 2002 کو يونوکال کے ترجمان بيری لين نے اپنے انٹرويو ميں واضح کیا تھا کہ پائپ لائن کا منصوبہ سال 1995 ميں تجويز کيا گيا تھا۔

    آپ بيری لين کا انٹرويو اس ويب لنک پر پڑھ سکتے ہيں۔

    EMPEROR'S CLOTHES INTERVIEWS UNOCAL OIL

    بيری لين نے يہ بھی واضح کيا کہ يہ منصوبہ افغانستان ميں سيکيورٹی کی ابتر صورت حال کی وجہ سے ہميشہ تعطل کا شکار رہا۔ يہ نقطہ بھی ان دستاويزات سے ثابت ہے جن کا حوالہ ميں نے اس تھريڈ ميں ديا ہے۔ ايک دستاويز ميں متعدد بار يہ باور کروايا گيا ہے کہ اس منصوبے کی راہ ميں سب سے بڑی رکاوٹ طالبان کی جانب سے دہشت گردی کی پشت پناہی ہے۔

    تيل کا يہ منصوبہ دسمبر 1998 میں اس وقت منسوخ کر ديا گيا جب القائدہ کی جانب سے افريقہ ميں امريکی سفارت خانوں پرحملوں کے بعد يہ واضح ہو گيا کہ طالبان اسامہ بن لادن اور ان کی تنظيم القائدہ کی حمايت ترک کرنے کا کوئ ارادہ نہيں رکھتے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    http://www.facebook.com/pages/USUrduDigitalOutreach/122365134490320?v=wall
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں