اسرائیل کے فلسطین پر تازہ حملے

عائشہ نے 'خبریں' میں ‏جولائی 6, 2014 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. توریالی

    توریالی -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2014
    پیغامات:
    434
    حالیہ صورتحال میں پاکستان کے روزنامہ امت کے حوالے سے جس تشویش کا اظہار کیا گیا ہے اس کے بارے میں چند تاثرات پیش ِ خدمت ہیں:

    روزنامہ امت یا کسی بھی بھی دیگر اخبار میں میں نے جب بھی کوئی غلطی یا حقائق کے خلاف کوئی بات پائی تو میں نے متعلقہ اخبار کے ایڈیٹر اور متعلقہ صحافی یا رپورٹر کو تحریری طور پر اصلاح یا درستگی کی نشاندہی کی ہے۔اس ضمن میں روزنامہ امت کے ادارتی صفحہ پر مورخہ یکم اگست کو محترم ڈاکٹر ضیاالدین خان صاحب کا ایک کالم شائع ہوا جس کا عنوان یہاں تحریر نہیں کیا جائے گا۔ تو اس کالم کے دو مندرجات سے مجھے شدید اختلاف ہوا اور میں نے فورا ڈاکٹر ضیا الدین خان صاحب کو ای میل کیا اور اس کی نقل ان کے ایڈیٹر کو بذریعہ فیکس روانہ کی۔ جن دو مندرجات سے مجھے عدم اتفاق تھا اور جن کو میں نے صحافتی بد دیانتی ،دانستہ تساہل ، خیانت علمی اور قارئین کو گمراہ کن معلومات فراہم کرنا قرار دیا ان کو درج ذیل میں ان پر میرے تبصرے کے ساتھ پیش کیا جاتا ہے:

    ڈاکٹر صاحب نے اپنے کالم میں ناجائز الزام تراشی اور خیانت علمی کا ارتکاب پہلی صورت میں اس طور کیا:
    نقل اقتباس:۔ ا۳ جولائی کو امریکی اخبار ہفنگٹن پوسٹ Huffington Post کے مطابق سعودی خفیہ محکمے کے وزیر ترکی بن فیصل اور اسرائیلی خفیہ ادارے کے سربراہ جنرل آموس یادن کے درمیان برسلز میں ایک خفیہ ملاقات ہوئی تھی۔ جس میں غزہ آپریشن کی تفصیلات طے ہوئیں۔ ملاقات میں یہ طے ہوا تھا کہ آپریشن کے نتیجے میں تباہ ہونے والی عمارتوں، سڑکوں اور پلوں کی تعمیر کے لیے سعودی عرب امداد دے گا۔ اقتباس ختم

    میرا جواب :محترم ڈاکٹر صاحب سعودی خفیہ کے محکمے کے وزیر ترکی بن فیصل پر آپ نے نا جائز الزام تراشی کی ہے۔ترکی بن فیصل اور اسرائیلی خفیہ ادارے کے سربراہ جنرل آموس یادن ، اصل نام آموس یادلن ہے کے درمیان برسلز میں ہوئی ملاقات خفیہ نہیں تھی۔یہ دونوں افراد اس ملاقات یا مذاکرہ کے موقع پر اپنے اپنے ممالک کے خفیہ اداروں کے سابق سربراہان جس کا ذکر آپ نے واضح طور پر نہیں کیا اور قاری کو یہ غلط تاثر ملتا ہے کہ خفیہ اداروں کے سربراہوں کی یہ ملاقات تھی۔ نیز یہ ملاقات در اصل ترکی بن فیصل اور جنرل آموس یادلن کے درمیان ایک کھلا مذاکرہ تھا جس کی کمپئرنگ ڈیوڈہرسٹ نے کی تھی۔ اس کھلے مذاکرے میں خارجہ تعلقات، سیاست، تاریخ اور صحافت کے طالب علموں کے علاوہ ، صحافی اور سفیروں نے شرکت کی تھی۔ اس کھلے مذاکرے کا مقصد مشرق وسطیٰ میں دور پا امن کے قیام کی راہیں تلاش کرنا تھیں۔ اس مذاکرے میں ترکی بن فیصل کا کام اسرائیلی قیادت پر زور دینا تھا کہ وہ مشرقِ وسطی میں امن کے قیام کے لیے فلسطینیوں کی شکایتوں کا ازالہ کرے ۔ ترکی بن فیصل سعودی عرب کی نمائیندگی کرتے ہوئے جنرل یادلن کے ساتھ مذاکرے میں شرکت کرنے کے حقدار تھے اور انہوں نے اپنا حق خوب نبھایا تھا۔ آپ کو ایک مستند اور تجربہ کار صحافی ہونے کے ناطے ہفنگٹن پوسٹ کی خبر کی بنا پر اس ملاقات کو خفیہ قرار دینا قابل قبول نہیں اور قابلَ مذمت ہے۔ اس ملاقات کی روداد تین اقساط میں یو ٹیوب پر موجود ہے اور یہ حقیقت آپ کے علم میں ہونا یا اس حقیقت کو تلاش کرنا آپ کی صحافتی ذمہ داریوں میں شمار ہوتی ہے۔اس ملاقات کی تین قسطوں کے ویڈیو لنک حسب ذیل ہیں اور ہم آپ سے اس ضمن میں تصحیح، وضاحت اور
    Retraction کا جائز مطالبہ کرتے ہیں:

    Saudi and Israeli former Intelligence Heads Part 1 - May 26 - Brussels



    Saudi and Israeli former Intelligence Heads Part 2 - May 26 - Brussels


    Saudi and Israeli former Intelligence Heads Part 3 - May 26 - Brussels


    نقل اقتباس دوم:
    ۔ نیو یارک ٹائمز نے ۶ جولائی ۲۰۱۱ء کو ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی تھی۔ جس میں انکشاف کیا گیا تھا کہ اسی سال یعنی ۲۰۱۱ء میں سعودی عرب اور جرمنی کے درمیان ۲۰۰ لیپرڈ ٹینکوں کی خریداری کا ایک معاہدہ ہوا تھا۔ جس کی مالت ڈھائی ارب ڈالر تھی۔ تاہم جرمنی نے یہ معاہدہ اسرائیل کی رضامندی سے مشروط کر دیا تھا۔ سعودی حکام نے فوری طور پر اسرائیلی حکومت سے رابطہ کیا۔ اور ان سے این او سی کی درخواست کی۔ اسرائیل نے اس شرط پر اجازت دی کہ یہ ٹینک اسرائیل کے خلاف استعمال نہیں ہوں گے نہ کسی ایسے ملک ، تنظیم یا گروہ کو دیے جائیں گے جو اسرائیل سے جنگ آزمائی کی نیت رکھتا ہو۔ سعودی عرب اس شرط پر راضی تھا۔ اقتباس ختم

    میرا جواب:ڈاکٹر صاحب یہاں بھی آپ نے ایک بار پھر لیپرڈ ٹینک کے حوالے سے سعودی عرب کے ضمن میں ڈنڈی ماری ہے۔سعودی حکام کو لیپرڈ ٹینک خریدنے میں اسرائیلی حکومت سے کسی فوری رابطے کی ضرورت نہیں تھی اور نہ ہی سعودی عرب نے بقول آپ کے اسرائیل سے این او سی کی درخواست کی تھی۔ حقیقت یہ ہے کہ اسرائیل نے جرمنی کے اعتراضات و خدشات کےحوالے سے یہ ضرور کہا تھا کہ انہیں اس خریداری معاہدے پر کوئی اعتراض نہیں اور اس کا حوالہ موجود ہے میرے پاس درکار ہے آپ کو؟ اگر آپ کو اپنے دعوے پر اصرار ہے تو حوالہ پیش کریں۔ ہمیں یہ دعویٰ ہے ایسا کوئی ثبوت تو درکنار کوئی بھی کہیں پر بھی موجود ایسا تحریری حوالہ بھی موجود نہیں۔ میں صحافت میں دیانت کا قائل ہوں اور اگر آپ کو سعودی عرب پر نکتہ چینی کرنی ہے تو جائز طریقے ، ثبوت اور حوالہ جات کے ساتھ کریں۔ جواب ختم

    میں نے ڈاکٹر صاحب کو کچھ اور باتیں بھی لکھی تھیں جو ہمارے مابین ہے۔ البتہ میں نے ڈاکٹر صاحب کو یہ بھی تحریر کیا تھا کہ ان کے مضمون کے دیگر مندرجات سے مجھے کوئی تعرض نہیں اور یہ کہ میں بزرگوں کا حد درجہ احترام کرتا ہوں لیکن خطائے بزرگاں گرفتن خطاست کا قائل نہیں کیوں کہ یہ فارسیوں کا نظریہ ہے اور حق بات کہنے میں تفاوت عمر بے معنی ہے۔

    اس زمرے میں چند تباصر نے بہت مایوس کیا اور اسی وجہ سے میں تاخیر سے شامل ہوا۔ شاید پھر کسی وقت اس پر بات ہو۔ہاں یاد آیا، عبارت کو اقتباس دینے والا آئیکون کہاں ہے؟ دقت پیش آئی اس ضمن میں مدد فرمائیں۔ شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. توریالی

    توریالی -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2014
    پیغامات:
    434
    تصحیح:میرے پہلے جواب کے عبارت کی تیسری سطر میں جہاں سہوِ کتابت کے باعث’’ کمپئرنگ ڈیوڈہرسٹ نے کی تھی‘‘ تحریر ہوا ہے دراصل یہ نام ڈیوڈ اگنیشیسDavid Ignatius پڑھا جائے جو امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے کالم نگار اور ایسو سی ایٹ ایڈیٹر ہیں۔ نیز ناظم زمرہ سے درخواست ہے کہ وہ تصحیح Editing کی سہولت واپس بہم پہنچا دیں جو مجھے معلوم نہیں کیوں نہیں ہے یا بصورت دیگرمذکورہ تصحیح از خود سر انجام فرما دیں۔شکریہ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 5
  3. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    ڈاکٹر ضیاء الدین خان صاحب نے اس پر کیا رد عمل ظاہر کیا؟
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  4. توریالی

    توریالی -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2014
    پیغامات:
    434

    ڈاکٹر ضیاءالدین خان صاحب کی طرف سے میں ابھی تک جواب کا منتظر ہوں۔واضح رہے کہ ڈاکٹر صاحب کے ساتھ میرا قلمی تعلق ان کے مداح اور شاگرد کی حیثیت سے رہا ہے اور وہ میرے نزدیک اب بھی ایک اچھے لکھاری اور قابلِ احترام بزرگ ہیں۔تاہم میں سمجھتا ہوں کہ ڈاکٹر صاحب کو میں نے جو کچھ لکھا وہ ان کے لیے غیر متوقع تھااور ممکن ہے کہ وہ میرے بارے میں سوچتے ہوں کہ:

    ائ سعدیا شیرازیا پندہِ مدہ کم ذات را

    کم ذات گر عاقل شود گردن زند استاد را

    روزنامہ امت کی جانب سے جواب میں ، مجھے ایک با خبر قاری قرار دیا گیا، شکایت کے بارے میں کہا گیا کہ وہ اس کا جائزہ لیں گے۔اور کہا گیا کہ ادارے کا مصنفین کی تحاریر و خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں اور نہ ہی وہ اس کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں اور شکریہ ادا کیا گیا۔

    میں نے محسوس کیا ہے کہ روزنامہ امت نے اپنی ادارتی حکمتِ عملی پر کسی حد نظر ثانی کی ہے کیوں کہ میں نے نشاندہی کی اور خبر دار کیا کہ اگر میری معروضات کا مخلصانہ جائزہ نہ لیا گیا تو روزنامہ امت معاشی مسائل، مقبولیت اور قارئین کی تخفیف کا شکار ہونے کے علاوہ ممکنہ قانونی چارہ جوئی(میری جانب سے نہیں) کا سامنا بھی کر سکتا ہے جب کہ میں روز نامہ امت کو کسی نقصان کا شکار ہوتے نہیں دیکھ سکتا اور روز نامہ امت کو پاکستان کی دنیائے صحافت کا ایک جرأت مند اورمعیاری اخبار گردانتا ہوں۔

    میں یہ بھی واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ میں کسی بھی ملک کا اندھا مقلد نہیں ۔ سائکس پیکو کی ریت میں کھینچی گئی لکیروں (سرحدات) کی تقدیس کا قائل نہیں ، کائم وائز مین اور لارڈ پرسی کاکس کے ساتھ کئے گئے معاہدات اور مذکورہ معاہدات کے فریقین پر تین جمع ایک حرف بھیجتا ہوں ،حق و انصاف کا داعی ،شائستگی کا ترجمان اور قلم کی حرمت کا پاسبان ہوں۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. توریالی

    توریالی -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2014
    پیغامات:
    434
    غزہ کی سرنگیں اور دُکھ بھرے راستے


    غزہ کی سرنگوں سے متعلق بنائی گئی دو دستاویزی انگریزی فلموں کا مختصر تعارف اور روابط پیشِ خدمت ہیں۔ پہلی فلم امریکا سے جاری کردہ ہے اور فلم کا نام ہے غزہ:ٹنلز ٹو نو ویئر Gaza: Tunnels to Nowhere جسے یہاں اردو میں غزہ کی سرنگیں اور دُکھ بھرےراستے کا عنوان دیا گیا ہے۔یہ فلم ناظرین کو انتہائی خفیہ سرنگوں، جن کے ذریعےروز مرہ کی اہم اشیائے ضرورت کی ترسیل غزہ اور مصر کے مابین کی جاتی ہےاور ان سرنگوں میں کام کرنے والوں کی زندگی، ان کے خاندان اور ان کے گھروں میں لے جاتی ہے اور ان کے عزیز و رشتہ داروں سے ملواتی ہے۔

    یہ فلم اپنے ناظرین کو غزہ کی سرنگوں کے دکھ بھرے راستے پر چلا کر انہیں وہ تجربہ فراہم کرتی ہے کہ تنگ و تاریک، خطرناک سرنگوں کے اندر کیسا محسوس ہوتا ہے اور بتاتی ہے کہ ان سرنگوں میں کام کرنے والے نو جوان مرد اور کم سن لڑکوں کو کیا خطرات پیش آتے ہیں جو بسا اوقات حادثات اور اور اکثر اسرائیل اور مصر کی جانب سے ان سرنگوں کی تباہی کے لیے کی گئی بمباری اور ان سرنگوں میں چھوڑی جانے والی بادِ سموم (زہریلی گیس) سےموت کا شکار بنا دیے جاتے ہیں اور ان کے پسماندگان کے اجڑے ہوئے، ٹوٹے پھوٹے مغموم دلوں پر کیا گزرتی ہے۔

    اس فلم کے فلم سازوں کا کہنا ہے کہ یہ مختصر دستاویزی فلم اس امید پر بنائی گئی ہے کہ اس کے ناظرین کو زیورِ تعلیم سے آراستہ کر کے ان کی سوچ کو ایک ایسی نئی جہت عطا کی جائے کہ وہ اس حقیقت کا ادراک و احساس کر سکیں کہ اہلِ غزہ کو روزمرہ کی بنیاد پر کن مصائب و آلام کا سامنا ہے۔



    غزہ کی سرنگوں سے متعلق دوسری فلم الجزیرہ انگلش ٹیلی ویژن کے مشہور اور معلوماتی سلسلہ وار دستاویزی فلموں پر مبنی پروگرام ، وٹنسWitnessکی تیار کردہ ہے اور اس کا نام Witness- The Gaza Tunnelsہے۔ اس فلم کی تفصیلات محتاجِ بیان نہیں ہیں اور اس فلم میں بھی غزہ کی 2007ء سے اسرائیل اور مصر کے باہمی اشتراک سے سات برس طویل اور تا حال جاری ، خلافِ انسانیت ،مسلسل اور ظالمانہ ناکہ بندی کے باعث غزہ کے نوزائیدہ ، کم سن بچوں، بوڑھوں ، مردوں اور عورتوں کو درپیش مسائل، اشیائے خوردنی، ادویات،دودھ اور گوشت کے لیے جانور، گائے، بکرے دُنبے، اورروزمرہ ضروریات و تعمیراتی سامان کے مشکل ، خطرناک اور جان لیوا حصول کو اُجاگر کیا گیا ہے۔
    http://aje.me/PlXliz

    کسی بھی علاقے یا ملک پر عائد کی جانی والی اقتصادی اور تجارتی پابندیاں، ناکہ بندی اور گھیراؤ جیسا کہ اسرائیل نے مصر کے تعاون سے غزہ کے خلاف کر رکھا ہے کم عمر بچوں کی ہلاکت کا باعث بنتا ہے اور بتدریج امواتِ اطفال، افزائشِ آبادی میں تخفیف کا باعث بنتا ہے۔ اور اگر یہ عمل جاری رہنے دیا جائے تو معدومئ نسل کا موجب بنتا ہے جو نسل کُشی جسے انگریزی میںGenocide کہتے ہیں کے زُمرے میں آتا ہے جو نہ صرف اخلاقی اور قانونی جُرم ہے بلکہ جنگی جرائم کے زُمرے میں بھی آتا ہے۔اسی طرح کا ایک اعادہ عراق کے خلاف امریکا کی جانب سے اقتصادی اور تجارتی پابندیاں عائد کرنے کے لیے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرار داد پیش کرنے کی صورت میں کیا گیا تھا۔ یہ قرارداد سیکیوریٹی کونسل ریزولیوشن 661 کے نام سے 6 اگست1990ء کو امریکا اور اس کے مغربی حلیفوں کے 13ووٹوں کی اکثریت بمقابلہ دو اجتنابات سے منظور کر لی گئی اور اس کا اطلاق عراقی صدر صدام حسین کے حکومت کے خاتمے ،مئی 2003تک جاری رہا۔

    عراق پر اقتصادی و تجارتی پابندی کے باعث پانچ سال سے کم عمر کے ہلاک ہونے والے بچوں کی تعداد برطانوی طبی مجلے لانسیٹLancet کے مطابق تخمینتاً پانچ لاکھ سڑسٹھ ہزار بتائی گئی جب کہ نیو یارک ٹائمز کی یکم دسمبر 1995ء کی اشاعت میں ایک یو این رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئےتخمینہ امواتِ اطفال 5 لاکھ 76 ہزار بیان کیا گیا۔ عراقی بچوں کی مذکورہ تعدادِ اموات پر جب نیو یارک میں قائم امریکی ٹیلی ویژن سی بی ایس نیوز کے پروگرام سکیسٹی منٹس 60 Minutes کی 5دسمبر 1996ء کے نشریے میں پروگرام کی میزبان لیزلی سٹالLesley Stahl نے امریکی سیکریٹری آف میڈلین آلبرائٹ Madeleine Albright سے عراقپر امریکی پابندیوں کے حوالے سے سوال کیا کہ ہم نے سنا ہے کہ نصف ملین بچے مر چکے ہیں اور میرے کہنا کا مطلب ہے کہ یہ تعداد ہیروشیما میں مرنے والے بچوں کی تعداد سے زیادہ ہے، تو کیا آپ کے خیال میں اتنی بھاری قیمت پر امریکا کا اقدام جائز ہے؟ اس پر امریکی سیکریٹری آف سٹیٹ میڈیلین آلبرائٹ نے جواب میں کہا کہ میں سمجھتی ہوں کہ یہ ایک مشکل فیصلہ تھا لیکن ہم سمجھتے ہیں کہ یہ قیمت قابلِ قبول ہے۔ اس جواب کو عالمی صحافت کی جانب سے سرد مہری اور سفاکی پرمحمول کرتے ہوئے میڈیلین آلبرائٹ کو تنقید کا نشانہ بنایا گیا اور مسلسل تعاقب کے نتیجے میں انہیں جو بھاری قیمت ادا کرنا پڑی وہ یہ تھی کہ انہوں نے سوری کہہ دیا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  6. توریالی

    توریالی -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2014
    پیغامات:
    434
    اسرائیل نے مطالبات نہ مانے تو طویل جنگ ہو گی، حماس

    جنگ بندی آج رات ختم ہو جائے گی،اسرائیل اپنی شرائط پر جنگ بندی چاہتا ہے،قاہرہ میں کوششیں جاری

    مقبوضہ بیت المقدس/ لندن(امت نیوز)حماس نے واضح کیا ہے کہ فلسطینیوں کے مطالبات مانے بغیر اسرائیل کے ساتھ مستقل جنگ بندی نہیں ہو گی، وہ مطالبات مانے یا طویل جنگ کا سامنے کرے، جبکہ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یا ہو نے کہا ہے کہ ہم اپنی شرائط پر مستقل جنگ بندی کریں گے۔ کوئی بھی معاہدہ اس وقت قابلِ قبول ہو گا جب وہ اسرائیل کی سیکیوریٹی ضروریات کے مطابق ہو۔

    واضح رہے کہ اسرائیل اور حماس کے درمیان 5 جنگ بندی کی مدت آج رات ختم ہو جائے گی، تاہم قاہرہ میں مستقل جنگ بندی کی کوششیوں کا سلسلہ بھی جاری رہے۔غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق گزشتہ روز اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یا ہو نے کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حماس اس غلط فہمی میں نہ رہے کہ اسرائیل جنگ جاری نہیں رکھ سکتا۔انہوں نے کہا کہ مستقل جنگ بندی صرف اس وقت ہو گی جب اسرائیلی شہریوں کی سیکیوریٹی کو لا حق خطرات کا خاتمہ کیا جائے۔ اگر حماس کے لوگوں کا خیال ہے کہ وہ راکٹ باری جاری رکھ کر ہمیں رعایتیں دینے پر مجبور کر سکتے ہیں تو یہ ان کی غلط فہمی ہے۔

    دوسری جانب صیہونی وزیر اعظم کے بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے حماس کے ترجمان سمعی ابو ظہری نے کہا کی تحفظ حاصل کرنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ اسرائیل پہلے فلسطینیوں کی سیکیوریٹی کا حق تسلیم کر لےاور غزہ کا محاصرہ ختم کرنےکے علاوہ حماس کے دیگر مطالبات مان لے۔دوسری جانب حماس کے خارجہ امور کے سربراہ اسامہ احمد نے کہا ہے کہ اسرائیل یو تو فلسطینیوں کے مطالبات تسلیم کر نا ہوں گے یا طویل جنگ کا سامن ا کرنا پڑے گا۔علاوہ ازیں اقوامِ متحدہ نے کہا ہے کہ اسرائیلی حملوں میں سوا 4 لاکھ لوگ بے گھر ہو گئے ہیں ۔


    مزید برآں برطانیا کی ایک لیگل فرم [Leigh Day.Co.uk مزید تفصیل یہاں دیکھیں ۔توریالی]نے اپنی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کو اسلحہ بر آمد کرنے کے تمام لائسنس فوری طور پر معطل کرے ورنہ قانونی کاروائی کے لیے تیار ہو جائے۔

    علاوہ ازیں ہالینڈ کے ایک شخص نے دوسری جنگِ عظیم میں ایک یہودی بچے کو بچانے پر ملنے والا اسرائیلی اعزاز واپس کر دیا ہے۔ انہوں نے یہ میڈل گزشتہ دنوں غزہ میں اسرائیلی فضائی حملے میں اپنے 6 رشتہ داروں کی ہلاکت کے بعد اسرئیل کے خلاف بطور احتجاج واپس کیا ہے۔

    روزنامہ اُمت، پاکستان



    مزید روزنامہ جسارت ، پاکستان سے:

    آخری وقت تک اسرائیل کا مقابلہ کریں گے،خالد مشعل

    پاکستانی بھائیوں اور کراچی کے عوام کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں، اللہ جزا دے

    (لاہوسٹاف رپورٹر)حماس کے سربراہ خالد مشعل نے کرچی میں غزہ ملین مارچ سے ٹیلونک خطاب کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے عزیز پاکستانی بھائیوں کو غزہ کے مسلمانوں سے یک جہتی کرنے پر خراجِ تحسین پیش کرتا ہوں۔اللہ تعالیٰ آپ سب کو جزائے خیر عطا فرمائے۔آج اسرائیل نے غزہ میں ظلم کا بازار گرم کیا ہوا ہے مگر ہم آخری وقت تک اسرائیل کا مقابلہ کرتے رہیں گے۔اسرائیل ہمارے عزم کو کمزور نہیں کر سکتا۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. توریالی

    توریالی -: مشاق :-

    شمولیت:
    ‏فروری 23, 2014
    پیغامات:
    434
    فلسطینیوں کی مدد، مسلم ممالک کا فرض

    غزہ میں وحشیانہ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں اب تک دو ہزار سولہ بے گناہ فلسطینی باشندے شہید اور دس ہزار ایک سو سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔ان میں سے دو پچاس خواتین ، پانچ سو اکتالیس بچے اور پچانوے عمر رسیدہ افراد شامل ہیں۔ دوسری طرف اسرائیل نے تصدیق کی ہے کہ اس کے جہنم رسیدہ ہونے والے چونسٹھ فوجیوں میں سے پانچ اپنے ہی سپاہیوں کی گولیوںکا نشانہ بنے۔ اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے بے گناہ انسانی ہلاکتوں پر کسی مذمت کا اظہار کیے بغیر کہا ہے کہ امن کی ضمانت کے بغیر جنگ بندی ممکن نہیں۔ دو سو زائد عالمی ممالک کی برادری میں کوئی یہ پوچھنے والا نہیں کہ امن کا اصل دشمن تو خود ان کا ملک اسرائیل ہے۔ اس صورت میں امن کی ضمانت کوئی دوسرا ملک کیسے دے ؟

    خادم الحرمین شریفین شاہ عبد اللہ بن عبد العزیز نے عالمی فوڈ پروگرام کی درخواست پر فلسطینی باشندوں کے لیے مزید دس لاکھ ڈالر کی منظوری دے دی ہے۔ یہ امدادی رقم اسی ہزار سے زائد ان فلسطینیوں کی بہبود پر خرچ کی جائے گی ، جو مغربی کنارے پر آباد ہیں۔دوسرے عرب اور مسلمان ملکوں کو بھی آگے بڑھ کر مظلوم فلسطینی باشندوں کی امداد کرنی چاہیے۔ اسرائیل کو تو دو ملک امریکا اور برطانیا ہی اتنی مالی و فوجی امداد دے دیتے ہیں کہ اسے کسی اور کے آگے ہاتھ پھیلانے کی ضرورت نہیں پڑتی اور وہ نہایت بے فکری کےساتھ فلسطینیوں کا قتل، عام کرتا رہتا ہے۔

    اداریہ، روزنامہ جسارت، پاکستان
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں