مصر : صدارتی انتخاب

عائشہ نے 'خبریں' میں ‏مئی 28, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    يہ تو پرانى بحث ہے ۔ جس طرح كسى بھی جماعت پر جماعت كے اندر سے تنقيد ہوتى ہے۔
    ان انتخابات ميں اس اخوان كى اس بيعت پر بہت لے دے ہوئى تھی ۔ مخالفين كا خيال تھا كہ مرسى اگر مرشد سے بيعت ہيں تو اس كا مطلب ہے كہ كاميابى كى صورت ميں درپردہ مرشد عام كى حكومت ہو گی اور وہ صدر كے گاڈ فادر كا رول پلے كريں گے ۔
    ابھی اخوان نے حسب وعدہ اعلان كيا ہے كہ محمد مرسى كى اخوان اور فريڈم اينڈ جسٹس پارٹی كى ركنيت ختم كر دى گئی ہے اور وہ صدر كى حيثيت سے اس بيعت سے آزاد ہوں گے۔
     
  3. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,847
    مصر کے ہمسایہ ممالک اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ نئے صدر کے آنے سے مصری خارجہ پالیسی میں کیا تبدیلی متوقع ہے۔ تاہم ان کو فی الحال اس بات کی فکر نہیں کرنی چاہیے کیونکہ خارجہ پالیسی کا کنٹرول مصر کی ملٹری کونسل کے پاس ہے۔

    مصر کے نئے سیاسی نظام کی شکل اس سال کے آخر تک واضح ہو گی۔ لیکن اس کے باوجود حکومت سیاسی نظام کو بہتر کرنے میں ہی مصروف رہے گی۔
    اخوان المسلمون نہایت محتاط جماعت ہے اور اس کو معلوم ہے کہ مصر کے اندرونی مسائل بہت ہیں۔ اس لیے مستقبل قریب میں خارجہ پالیسی میں کسی خاص تبدیلی کی توقع نہیں ہے بشرطیکہ کوئی علاقائی تصادم کھڑا ہو جائے۔

    سابق صدر حسنی مبارک کا اقتدار ختم ہونے سے لے کر اب تک ہمسایہ ممالک اخوان المسلمون کے آگے آنے کو بغور دیکھ رہے ہیں۔ خاص طور پر اسرائیل کے لیے مذہبی جماعت کا اقتدار میں آنا نہایت فکر مند ہے۔

    دیگر اسلامی جماعتوں کی طرح اخوان المسلمون نے اسرائیل سے نفرت کو کبھی چھپانے کی کوشش نہیں کی۔ اخوان المسلمون اور دیگر سیکولر قوم پرست جماعتیں اسرائیل اور مصر کے درمیان امن معاہدے کی خلاف ہیں۔ لیکن ان جماعتوں کو محتاط انداز میں ان معاہدوں کو قبول کرنا ہی پڑا ہے۔ اس کے بغیر یہ بات ناممکن تھی کہ مصری فوجی کونسل اخوان المسلمون کو اقتدار میں آنے دیتی۔

    یہ بات بھی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ اخوان المسلمون نے امریکہ کو اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ وہ کیمپ ڈیوڈ معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔

    لیکن کیا صدر مرسی یا ان کی جماعت جسٹس اینڈ فریڈم پارٹی کا کوئی ممبر اسرائیلی کے ساتھ ہاتھ ملائیں گے؟
    اخوان المسلمون کے قاہرہ میں ترجمان سے جب یہ سوال پوچھا گیا تو انہوں نے عندیہ دیا کہ جماعت کو وزیر خارجہ اس کو بنانا ہو گا جو ان کی جماعت سے نہ ہو۔

    دوسری جانب صدر مرسی کے اقتدار میں آنے پر اسرائیل کا سرکاری مؤقف نہایت محتاط ہے۔ لیکن اسرائیل کی نظر مصر کے نئے وزیرِ خارجہ پر ہے۔

    فلسطینی تنظیم حماس جو غزہ میں کنٹرول میں ہے کو مصر کی نئی حکومت سے بڑی امیدیں وابسطہ ہیں۔ لیکن ان کو انقریب ہی ناامیدی کا سامنا کرنا پڑے گا جب صدر مرسی اندرونی معاملات پر زیادہ توجہ دیں گے۔

    لے کے خالی دامن یوسف کا ٹکڑا ہاتھ میں
    بتا اے کرب زلیخائی کسے آواز دوں
     
  4. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,847
    صدر ڈاکٹر محمد مرسی نے قوم کے نام اپنے پیغام میں کہا ہے کہ وہ کسی خاص جماعت، فرقے یا طبقے کے نمائندہ نہیں بلکہ بلا امتیاز پوری قوم کے صدر ہیں۔ انہوں نے شہداء انقلاب کی قربانیوں کی تعریف کی اور انقلاب کے دوران عدلیہ، انتظامیہ اور فوج کے کردار کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

    ڈاکٹر محمد مرسی نے اتوار کو بطور صدر اپنی کامیابی کے اعلان کے بعد قوم کے نام اپنے پہلے پیغام میں کہا کہ ‘‘آج میں کسی فرقے یا طبقے کا نمائندہ نہیں بلکہ پوری قوم کا بلا امتیاز صدر ہوں’’۔ انہوں نے کہا کہ شہداء انقلاب کا پاکیزہ خون رائیگاں نہیں جائے گا۔ یہ شہداء کی قربانیوں کا نتیجہ ہے کہ آج مصر ایک نئی تاریخ رقم کر رہا ہے۔ میں انقلاب کے دوران مسلح افواج کے جوانوں اور افسران کی جمہوریت نواز پالیسی کو بھی خراج تحسین پیش کرتا ہوں کہ انہوں نے ملک میں عوامی تحریک کی راہ میں حائل ہونے کے بجائے خود کو عوامی انقلاب کی تحریک کا حصہ قرار دیا۔

    نو منتخب صدر نے قوم کے تمام طبقات سے مطالبہ کیا کہ وہ ملک کو درپیش چیلنجز کا اداراک کرتے ہوئے قومی وحدت کا ثبوت دیں۔ ڈاکٹر محمد مرسی کا کہنا تھا کہ ہماری قوت، ترقی اور استحکام ہماری قومی وحدت میں مضمر ہے۔ ہم ایک قوم ہیں اور ہمیں دنیا کے سامنے ایک متحدہ قوم ثابت کرنا ہو گا۔

    ڈاکٹر محمد مرسی نے مصر کے سابق ادوار میں عالمی برادری کے ساتھ کیے تمام معاہدوں کی پاسداری کا بھی یقین دلایا۔ انہوں نے کہا کہ میں تمام عالمی معاہدوں اور سمجھوتوں کا احترام کروں گا جو اس سے پہلے مصر اور دنیا کے ساتھ طے پا چکے ہیں۔ ہم دنیا کے لیےامن کا پیغام لےکرا ٓئے ہیں۔ مصر کے تمام ممالک سے طے پائے معاہدوں کا احترام کیا جائے گا۔

    العریبیۃ ڈاٹ نیٹ
     
  5. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    السلام علیکم

    مصر میں‌اخوان السملمین کا سیاسی طورپر غالب ہونا ایک نئے دور کا آغاز سمجھا جاسکتا ہے، جہاں‌تک سوال خارجہ پالیسی اور پھر بعض ان معاہدوں‌کی بات ہے جس کے تحت خود مرسی بھی بندھے ہونگے یہ تو ایک ضمنا بات بھی ہے اور اسکا کچھ نہ کچھ اثر اخوان کی پالیسی کے خلاف ہی ظاہر ہوگا، لیکن یہ بات بہت ہی اہم ہے کہ وہ مصر جہاں‌، جمال عبدالناصر جیسا شیطان صفت انسان جرنیل رہکر ، مسلمانوں‌کے خلاف نہ صرف اپنے اندر زہر رکھتا تھا، بلکہ اسکے دور میں ، اس نے مسلمانوں اور خاص طور پر اخوان کے خلاف جو مظالم ڈھائے ہیں، وہ نہ سنے جاسکتے ہیں اور نہ پڑھے، کوئی جگر رکھنے والا ہی یہ پڑھ اور سنکر یقین کرسکتا ہے، انسانیت سوز جرائم پر مبنی جمال عبدالناصر اور پھر امریکن پٹھو حسنی، کے بعد ، اس ذہن کے لوگ جو کہ ایک زمانے میں‌، سالہا سال تک پابند سلاسل رہے، بلکہ ان پر جو ظلم ڈھایا گیا، وہ حیوانیت کو بھی شرمانے کے لئے کافی تھی۔۔۔کبھی ہمیں‌موقعہ ہو تو "زینب الغزالی" کی کتاب، "زنداں کے شب و روز" پڑھنے پر بہت سے حقائق آشکار ہوسکتے ہیں، جسطرح سے آج عافیہ صدیقی پابند سلاسل رہکر، دشمنان اسلام کے نرغہ میں‌حیوانیت کا شکار ہے، زینب الغزالی ، تو وہ دشمنان اسلام کی حیوانیت کی شکار ہوئی، جو کہ نام کہ تو مسلم تھے۔۔۔۔!!! بہرحال یہی سوچ کے حامل لوگ۔۔۔۔آج مصر میں‌غالب ہیں۔۔۔!!! اللہ سے ہمیں‌دعا کرنی چاہئے کہ اسکی زمین پر اعلائے کلمۃ اللہ کو بلند کرنے والوں‌پر اللہ رحم فرمائے، اور پھر انہیں‌کامیابی و کامرانی سے اپنی نصرت و رحمت سے ہمکنار بھی کرے۔۔آمین ثم آمین
     
  6. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
    مصر کے جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والے پہلے عوامی صدر محمد مرسی نے سنیچر کو قاہرہ میں ایک تاریخی تقریب میں اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔

    حلف برداری کے بعد قاہرہ کے نواح میں فوجی علاقے میں مصر کی حکمران فوجی کونسل کے سربراہ فیلڈ مارشل محمد طنطاوی نے باضابطہ طور پر اقتدار صدر مرسی کو سونپ دیا

    اس سے قبل قاہرہ یونیورسٹی میں تقریر کرتے ہوئے محمد مرسی نے وعدہ کیا کہ وہ اس پارلیمان کو بحال کریں گے جسے رواں ماہ ہی فوج نے تحلیل کر دیا تھا۔

    محمد مرسی نے کہا کہ فوج کو لازماً عوامی رائے کا احترام کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ فوج اب اپنا اصل کام سنبھالے گی جو کہ اس ملک کے عوام اور اس کی سرحدوں کی نگہبانی کرنا ہے۔
    بی بی سی
     
  7. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,847
    صہیونی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو نے مصر کے نئے صدر ڈاکٹر محمد مرسی کو مبارک باد کا خط بھیجا ہے جس میں ان پر زور دیا گیا ہے کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان امن معاہدے کو برقرار رکھیں۔

    ایک اسرائیلی ذریعے نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ ''نیتن یاہو نے اس خط میں ڈاکٹر مرسی کو مصر کا نیا صدر منتخب ہونے پر مبارکباد دی ہے اور اسرائیل کی جانب سے تعاون کو جاری رکھنے اور امن کو مستحکم بنانے پر زور دیا ہے''۔

    اسرائیلی روزنامے ہارٹز نے اتوار کی صبح سب سے پہلے اس خط کی اطلاع دی تھی اور اس نے بتایا ہے کہ یہ خط قاہرہ میں اسرائیلی سفارت خانے کے ذریعے مصر کے نئے صدر ڈاکٹر محمد مرسی تک پہنچایا گیا ہے۔اس خط میں نیتن یاہو نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ دونوں فریق مصر اور اسرائیل کے درمیان طے پائے امن معاہدے کا احترام کریں گے کیونکہ یہ دونوں ممالک کے مفاد میں ہے۔

    اسرائیلی وزیر اعظم نے مصر کے نئے صدر کے نام مبارک باد کے خط میں کم وبیش وہی الفاظ دُہرائے ہیں جو انھوں نے صدارتی انتخابات کے حتمی نتائج کے اعلان کے وقت کہے تھے۔ انھوں نے تب ایک بیان میں کہا تھا کہ ''اسرائیل مصر میں جمہوری عمل کو قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے اور صدارتی انتخابات کے نتائج کو تسلیم کرتا ہے''۔

    انھوں نے کہا کہ اسرائیل دونوں ممالک کے درمیان سن 1979ء میں طے پائے امن معاہدے کے مطابق مصری حکومت کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔یادرہے کہ مصر پہلا اسلامی اور عرب ملک تھا جس نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدے کیا تھا اور اس سے سفارتی اور اقتصادی تعلقات بحال کیے تھے۔

    العربیہ ڈاٹ کام
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں