ایک خواب (ایک خوبصورت اور پیاری کہانی )

عبد الرحمن یحیی نے 'ادبی مجلس' میں ‏جون 1, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,312
    ایک دفعہ ایک آدمی نے خواب دیکھا کہ ایک شیر اُس کا پیچھا کر رہا ہے آدمی درخت کی طرف بھاگا اور اُس پر چڑھ گیا اور ایک شاخ پر بیٹھ گیا، اُس نے نیچے کی طرف دیکھا تو شیر ابھی تک وہیں بیٹھ کر اُس کا انتظار کررہا تھااُس نے اپنے آس پاس دیکھا ، اُس نے دیکھا کہ درخت کی جس شاخ پر وہ بیٹھا ہے وہاں دو چوہے چکر لگا رہے ہیں اور اُس شاخ کو کھا رہے ہیں ایک چوہے کالے رنگ کا ہے جبکہ دوسرے کا رنگ سفید تھا ،
    شاخ بہت جلد زمین پر گر جائے گی ، پھر اُس نے خوف سے نیچے دیکھا تو اُس پر انکشاف ہو ا کہ ایک بہت بڑا کالے منہ والا سانپ آچکا ہے اور اور بلکل اُس کے نیچے آکے بیٹھ جاتا ہے،سانپ بلکل آدمی کے نیچے اپنا منہ کھول کر بیٹھ جاتا ہے، کہ آدمی جب گرے تو سیدھا اُس کے منہ میں جائے گا، آدمی اوپر کی طرف دیکھتا ہے کہ کوئی چیز ہو جسے وہ پکڑ سکے، وہ دیکھتا ہے کہ ساتھ والی شاخ پر شہد کی مکھیوں کا چھتہ ہے اور شہد کے قطرے اس میں سے گر رہے ہیں ،آدمی ان قطروں کا ذائقہ چکھنا چاہتا ہے،وہ شہد کے قطروں کو چکھنے کے لیے اپنی زبان باہر نکالتا ہے شہد بہت لذیز اور مزیدار تھا پھر وہ ایک کے بعد دوسرے قطرے کو چاٹنا شروع کر دیتا ہے اور نتیجے کے طور پر وہ شہد کی شیرینی کے نشے میں کھو جاتا ہے، وہ بھول جاتا ہے کہ چوہے اس کی شاخ کہ جس پر وہ بیٹھا ہے کھا رہے ہیں اور زمین پر شیر اور اُس کے بلکل نیچے سانپ اُس کاانتظار کرہے ہیں ، اچانک جب شاخ ٹوٹتی ہے اُسے سب خطرات یاد آجاتے ہیں اور وہ بیدار ہوجاتا ہے
    یہ ایک منفرد خواب تھا جو اس نے دیکھا ،
    وہ اس کی تعبیر معلوم کرنے کے لیے ایک دیندار متقی اسلامی سکالر کے پاس جاتا ہے
    سکالر تعبیر بیان کرتا ہے :
    '' وہ سانپ جو تم نے دیکھا تمہاری موت تھی جو ہر وقت تمہارا پیچھا کرتی ہے اور جہاں تم جاؤ تمہارے پیچھے جاتی ہے
    وہ دو چوہے دن اور رات ہیں
    کالا چوہا رات اور سفید چوہا دن ہیں
    یہ چکر لگا رہے ہیں ایک کے بعد دوسرا آجاتا ہے
    یہ تمہارا وقت کھا رہے ہیں یہ تمہیں موت کو قریب کر رہے ہیں

    وہ کالے منہ والا بڑا سانپ تمہاری قبر ہے یہ تمہارا انتظار کر رہی ہے کب تم اس میں آتے ہو

    شہد کا چھتہ دنیاہے اور اس سے ٹپکتے قطرے اس کی رنگینیاں ہیں

    ہم دنیا کی ایک چھوٹی سی رنگینی کا مزہ لیتے ہیں وہ ہمیں بھلی لگتی ہے

    پھر ہم دنیا کی رنگینیوں کو مزہ لینے کے عادی ہو جاتے ہیں اور بعض اوقات ہم اس میں کھو جاتے ہیں اور اپنا قیمتی وقت بھول جاتے ہیں
    ہم اپنی موت اور قبر کو بھول جاتے ہیں
    اللہ ہمیں غفلت کی نیند سے جگائے
    اور ہمیں محفوظ فرمائے
    اس سے پہلے کہ
    موت آجائے

    آمین ثمہ آمین

    ( فیس بک سے لیا گیا ایک بہترین قصہ )
     
    Last edited by a moderator: ‏جون 1, 2012
  2. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,848
    بارک اللہ لکم
    بہت اچھی نصیحت ہے۔ بہت عمدگی سے تحریر کیا۔
     
  3. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    یقینا ایک عمدہ شیئرنگ ہے
    جسے اگر ہم چاہیں تو بہت بڑا سبق حاصل کر سکتے ہیں
    اللہ تعالی ہمیں‌ہدایت دے اور ہمیں‌سیدھے راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے
     
  4. وحیداحمدریاض

    وحیداحمدریاض -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏فروری 25, 2011
    پیغامات:
    1,104
    جزاک اللہ

    بہت پیاری تحریر ہے​
     
  5. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    بہت اچھی شئیرنگ
     
  6. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    جزاک اللہ خیرا۔
    اچھی شئیرنگ ہے۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں