قضاء و قدر

محمد آصف مغل نے 'امام ابنِ تیمیہ' میں ‏اگست 9, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,847
    قضاء و قدر​
    حضرت شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمہ اللہ سے سوال
    سوال: سوال ہوا کہ بعض لوگ جو 1 تقدیر کو دلیل بناتے ہیں۔کہتے ہیں (ابتدائے) آفرینش سے ہر امر کا فیصلہ ہو چکا ہے۔ لہٰذا نیک بخت پیدائشی نیک بخت،اور بد بخت پیدائش سے ہی بد بخت ہوتا ہے اور
    2 ارشاد باری تعالیٰ{اِنَّ الَّذِيْنَ سَبَقَتْ لَہُمْ مِّنَّا الْحُسْنٰٓى اُولٰىِٕكَ عَنْہَا مُبْعَدُوْنَ
    } (بلا شبہ جن کے مقدور میں ہماری طرف سے پہلے سے ہی بھلائی لکھی جا چکی ) ہے ، وہ اس سے دور ہی دور رکھے جائیں گے کو بطور حجت پیش کرتے ہیں۔
    3 نیز کہتے ہیں ،جملہ افعال میں ، ہم بالکل بے بس اور مجبور محض ہیں، ہمارا کوئی زور نہیں ۔ تمام قسم کی طاقتیں محض اللہ تعالیٰ کے قبضہ قدرت میں ہیں۔
    4 اللہ تعالیٰ نے خیر و شر کو مقدر فرمایا اور دونوں کو ہم پر لازم کر دیا
    5 نیز کہتے ہیں ۔جس نے لا الہ الا اللہ پڑھ لیا وہ بہشت میں داخل ہو کر رہے گا۔ خواہ و صدہا قسم کی بدکاریوں میں ہمیشہ مبتلا رہتا ہے اور دلیل میں اس حدیث کو پیش کرتے ہیں۔ جس میں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا{وَاِنْ زَنَا وَاِنْ سَرَقَ} (خواہ و ہ زنا چوری کرتا پھرے) اس (استفتاء) سے مقصد دلائل قاطعہ سے ان لوگو ں کی غلطی واضح کرنا ہے (کہ راہ راست پر آجائیں) لہٰذا ان استفسارات کا جواب عنایت فرما کر شکریہ کا موقع بخشئے۔ تو حضرت امام نے (نَفَّعَنَا اللہُ بعُلُوْمِہٖ) اللہ ان کے علوم سے ہمیں فائدہ بخشے)

    جواب: {لْحَمْدُ لِلہِ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ} (تمام حمدوثنا کا سزاوار اللہ رب العلمین ہے) یہ لوگ اسی اعتقاد پر جمے رہے تو یہود و نصاریٰ سے بڑھ کر کافر ہوں گے۔ کیونکہ یہود و نصاریٰ تو امر و نہی، وعد و وعید، ثواب عذاب پر ایمان رکھتے ہیں لیکن انہوں نے تحریف و تبدیل کر کے بعض کو تو مان لیا اور بعض کا انکار کر دیا۔ چنانچہ ارشاد الٰہی ہے۔
    اِنَّ الَّذِيْنَ يَكْفُرُوْنَ بِاللہِ وَرُسُلِہٖ وَيُرِيْدُوْنَ اَنْ يُّفَرِّقُوْا بَيْنَ اللہِ وَرُسُلِہٖ وَيَقُوْلُوْنَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَّنَكْفُرُ بِبَعْضٍ۝۰ۙ وَّيُرِيْدُوْنَ اَنْ يَّتَّخِذُوْا بَيْنَ ذٰلِكَ سَبِيْلًا۝۱۵۰ۙ اُولٰۗىِٕكَ ہُمُ الْكٰفِرُوْنَ حَقًّا۝۰ۚ وَاَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابًا مُّہِيْنًا۝۱۵۱ وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا بِاللہِ وَرُسُلِہٖ وَلَمْ يُفَرِّقُوْا بَيْنَ اَحَدٍ مِّنْہُمْ اُولٰۗىِٕكَ سَوْفَ يُؤْتِيْہِمْ اُجُوْرَہُمْ۝۰ۭ وَكَانَ اللہُ غَفُوْرًا رَّحِيْمًا۝۱۵۲ۧ [النساء: ۱۵۰۔ تا۔ ۱۵۲]
    بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں کے منکر ہیں اور اللہ اور اس کے رسولوں میں جدائی ڈالنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور کہتے ہیں ہم بعض کو مانتے ہیں اور بعض کو نہیں مان سکتے او ر ان کا ارادہ ہے کہ (رسولوں) میں فرق کر کے اس کے درمیان اور راستہ اختیار کر لیں وہ پکے کافر ہیں اور ہم نے کافروں کے لیے رسوا کرنے والا عذاب تیار کر رکھا ہے (مگر) جو اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے اور رسولوں میں باہمی فرق (بھی) نہ کیا۔ ایسے لوگوں کواللہ عنقریب (آخرت میں) اجر دے گا اور اللہ بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔

    جب بعض کو ماننے والا اور بعض سے کفر کرنے والا پکا کافر ہے، تو وہ شخص کیسے (مومن ہو سکتا) ہے جو سب کا انکار کر دے اور جو شخص اللہ کے امر و نہی اور وعد و و عید کا اقرار نہ کرے۔ بلکہ تقدیر کی آڑ بنا کر ان کا تارک ہو رہے تو اس سے کہیں بڑھ کر کافر ہے جو بعض پر ایمان لا کر بعض سے انکار کر دے۔ پھر لوگوں کے قول کا بطلان، ایک نہیں کئی وجوہ سے بالکل عیاں ہو جاتا ہے۔

    از افادات شیخ الاسلام امام ابن تیمیہ رحمہ اللہ
     
  2. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,921
    جزاک اللہ خیرا.
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں