پسندیدہ مزاحیہ کلام - 2

ام اقصمہ نے 'طنزیہ و مزاحیہ کلام' میں ‏دسمبر 30, 2007 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ام اقصمہ

    ام اقصمہ -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    3,892
    یہ نہ تھی ہماری قسمت کے وصول ادھار ہوتا​
    (مرزا غالب کی شاعری پسند کرنے والوں سے معذرت کے ساتھ)

    یہ نہ تھی ہماری قسمت کے وصول ادھار ہوتا
    “اگر اور جیتے رہتے یہی انتظار ہوتا“

    کہا میں نے میں‌ہوں‌ٹیچر تو نکاح‌مجھ سے کرلے
    کہا اس نے کر ہی لیتی جو تو تھانے دار ہوتا

    تیری ویزا لاٹری کو یہ سمجھ کے جھوٹ جانا
    “کہ خوشی سے مر نا جاتے اگر اعتبار ہوتا“

    یہ کہاں کا امتحاں ہے کہ سبھی ممتحن ہیں ناصح
    “کوئی چارہ ساز ہوتا کوئی غمگسار ہوتا“

    جو ہماری ڈیڈ باڈی کہیں چیل کوے کھاتے
    “نہ کبھی جنازہ اٹھتا نہ کہیں مزار ہوتا“

    غم عشق ہی بھلا ہے کہ بلا کا ہوں نکھٹو
    “:غم عشق اگر نہ ہوتا غم روزگار ہوتا“

    تیرا ناز تیرا عاصی بڑے شوق سے اٹھاتا
    جو یہ ہر مہینے جاناں فقط ایک بار ہوتا۔

    مرزا عاصی اختر
     
  2. سوری

    سوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2007
    پیغامات:
    730
    بس یہ ایک شعر اچھا ہے

    تیرا ناز تیرا عاصی بڑے شوق سے اٹھاتا
    جو یہ ہر مہینے جاناں فقط ایک بار ہوتا۔

    باقی بس ٹھیک ہی ہیں

    خیر شئرنگ کا تو شکریہ لے لیں!!!!!!!!!!
     
  3. ام اقصمہ

    ام اقصمہ -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    3,892
    مزاحیہ غزل

    معشوق جو ہے ٹھگنا تو عاشق بھی ہے ناٹا
    اس کا کوئی نقصان نہ اسکا کوئی گھاٹا

    تیری تو نوازش ہے کہ تو آگیا ہے لیکن
    اے دوست میرے گھر میں نہ چاول ہے نہ آٹا

    لڈن تو ہنی مون منانے گئے لندن
    چل ہم بھی کلفٹن پہ کریں سیر سپاٹا

    تم نے تو کہا تھا کہ چلو ڈوب مریں ہم
    اب ساحل دریا پہ کھڑے کرتے ہو ٹاٹا

    عشاق رہ عشق میں محتاط رہیں گے
    سیکھا ہے حسینوں نے بھی اب جوڈو کراٹا

    کالا نہ سہی لال سہی تل تو بنا ہے
    اچھا ہوا مچھر نے تیرے گال پہ کاٹا

    اس روز سے میں نے اس کو چھیڑا تو نہیں تھا
    جس روز سے ظالم نے جمایا ہے چماٹا

    جب اس نے بلایا تو ضیاء چل دیئے گھر سے
    بستر کو رکھا سر پہ لپیٹا نہ لپاٹا
     
  4. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,394
    تم نے تو کہا تھا کہ چلو ڈوب مریں ہم
    اب ساحل دریا پہ کھڑے کرتے ہو ٹاٹا


    واہ کیا کہنے، مکرر! مکرر!
     
  5. سوری

    سوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2007
    پیغامات:
    730
    بہت ذبر دست............. انور مسعود شنہشاہِ مزاح ہیں نا!!!!!!!!!!
     
  6. irum

    irum -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏جون 3, 2007
    پیغامات:
    31,578
    بہت خو ب
     
  7. ام اقصمہ

    ام اقصمہ -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    3,892
    :00010: میں تو اسے ضیاءالحق قاسمی کی سمجھ رہی تھی۔واللہ
     
  8. سوری

    سوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2007
    پیغامات:
    730
    او سوری واقعی شاید یہ قاسمی صاحب کی ہے............... مممممممممم کنفیوژن!!!!!!!!!!!!!!!
     
  9. ام اقصمہ

    ام اقصمہ -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    3,892
    ہے آپکے ہونٹوں پہ جو مسکان وغیرہ

    ہے آپکے ہونٹوں پہ جو مسکان وغیرہ
    قربان گئے اس پہ دل و جان وغیرہ

    بلی تو یونہی مفت میں بدنام ہوئی ہے
    تھیلے میں تو کچھ اور بھی تھا سامان وغیرہ

    بے حرص و غرض فرض ادا کیجئے اپنا
    جس طرح پولیس کرتی ہے چالان وغیرہ

    اب ہوش نہیں کوئی کہ بادام کہاں ہے؟
    اب اپنی ہتھیلی پہ ہیں دندان وغیرہ

    کس ناز سے وہ نظم کو کہہ دیتے ہیں نثری
    جب اس کے خطا ہوتے ہیں اوسان وغیرہ

    جمہوریت اک طرز حکومت ہے کہ جس میں
    گھوڑوں کی طرح بکتے ہیں انسان وغیرہ

    ہر شرٹ کی بشرٹ بنا ڈالی ہے انور
    یوں چاک کیا ہم نے گریبان وغیرہ
     
  10. سوری

    سوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 5, 2007
    پیغامات:
    730
    واہ واہ................. گریٹ!!!!!!!!!
    ہر شرٹ کی بشرٹ بنا ڈالی ہے انور
    یوں چاک کیا ہم نے گریبان وغیرہ
     
  11. ام اقصمہ

    ام اقصمہ -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    3,892
    گر تو برا نہ مانے

    بجٹ میں نے دیکھے ہیں سارے تیرے
    انوکھے انوکھے خسارے تیرے

    اللے تللے ادھارے تیرے
    بھلا کون قرضے اتارے تیرے

    گرانی کی سوغات حاصل میرا
    محاصل تیرے ، گوشوارے تیرے

    مشیروں کا جمگھٹ سلامت رہے
    بہت کام جس نے سنوارے تیرے

    میری سادہ لوحی سمجھتی نہیں
    حسابی کتابی اشارے تیرے

    کئی اصطلاحوں میں گوندھے ہوئے
    کنائے تیرے ،، استعارے تیرے

    تو اربوں کی ،کھربوں کی باتیں‌کرے
    عدد کون اتنے شمارے تیرے

    تجھے کچھ غریبوں کی پروا نہیں
    وڈیرے ہیں پیارے ،، دلارے تیرے

    ادھر سے لیا کچھ ادھر سے لیا
    یونہی چل رہے ہیں ادارے تیرے
     
  12. ام اقصمہ

    ام اقصمہ -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    3,892
    ایک جدید ترین نظم

    فرشتوں نے پرچھائیاں اوڑھ لی ہیں
    درختوں‌کی شاخوں پہ ناخن اگے ہیں
    اس آوارہ خوشبو کو زنجیر کرلو
    کہ سم سم کھلے
    وہ برگد سے لٹکی ہوئی آنکھ دیکھو
    ادھر بھی نظر ہو
    کہ چائے کی پیالی میں سگریٹ کی دو چار لاشیں پڑی ہیں
    ازل سے دما دم چلی آرہی ہے
    میرے پیچھے پیچھے

    یہی کان سے سونگھنے کی تمنا
    یہی آنکھ سے چکھنے چھونے کی خواہش
    میں ہوں سربزانو
    سر خوانِ یغما
    لبوں پر دعا ہے
    کہ کوئی تو آئے
    شرابوں کو پھر شکل انگور کر دے
    کبابوں‌کو بچھڑے میں‌تبدیل کر دے
    خدا جانے کب تک
    یہ جسموں کے ہینگر
    نئے سوٹ لٹکائے پھرتے رہیں گے
    اڑا ہے غبارہ
    تو کیسا تحیر
    یہ کیا معرکہ ہے جو سر ہو رہا ہے
    خلا سے خلا تک
    سفر ہو رہا ہے!

    (انور مسعود)
     
  13. ام ھود

    ام ھود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 17, 2007
    پیغامات:
    1,198
    واہ واہ۔۔بہت خوب نظم ہے۔۔۔۔
    خدا جانے کب تک
    یہ جسموں کے ہینگر
    نئے سوٹ لٹکائے پھرتے رہیں گے
    سبحان اللہ۔
    جزاک اللہ خیر پیاری باجی
     
  14. ام ھود

    ام ھود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 17, 2007
    پیغامات:
    1,198
    بہت پیاری نظم ہے۔واقعی معاشرے میں ایسے ہی ہوتا ہے۔
    جزاک اللہ خیر
     
  15. ام ھود

    ام ھود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 17, 2007
    پیغامات:
    1,198
    :00006: خوب مزاحیہ ہے ماشاءاللہ۔۔۔۔۔ :hehehahahaha:
     
  16. ام اقصمہ

    ام اقصمہ -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    3,892
    قیس بنی عامر اور لیلی کی ماں

    میری لیلی کو ورغلاتا ہے
    تیرا مردہ خدا خراب کرے

    سوکھ جائے تو بید کی مانند
    کبھی تیرے نصیب ہوں‌نہ ہرے

    تو گرفتار ہو شہبے میں کہیں
    کوئی تیرا نہ اعتبار کرے

    تو ڈکیتی میں دھر لیا جائے
    دوسروں کے کیے بھی تو ہی بھرے

    کسی تھانے میں ہو تیری چھترول
    تجھ پر جھپٹیں سپاہوں کے پرے

    چاہے بھرکس نکال دیں تیرا
    کوئی فریاد پر نہ کان دھرے

    تو کچہری میں‌پیشیاں بھگتے
    کوئی منصف تجھے بری نہ کرے

    نکلے گھر سے تیرے کلاشنکوف
    تو پولیس کے مقابلے میں‌ مرے


    انور مسعود
     
  17. ام اقصمہ

    ام اقصمہ -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 7, 2007
    پیغامات:
    3,892
    باز اپنی جفا سے ستم ایجاد نہ آیا

    باز اپنی جفا سے ستم ایجاد نہ آیا
    حالانکہ اسے شیوہ بیداد نہ آیا

    کالج میں‌ہیں خالی کبھی بینچیں‌کبھی کرسی
    شاگرد اگر آئے تو استاد نہ آیا

    مخلوق خدا آئی ہے کیا کیا نہ جہاں‌میں
    آدم سا کوئی صاحب اولاد نہ آیا

    لایا جو میری تشنہ لبی کے لیے سوغات
    کچھ اسکو بھی چھلنی کے سوا یاد نہ آیا

    مجنوں کو شکایت ہے کہ گجرات میں انور
    کیوں مرگ مہینوال پہ فرہاد نہ آیا
     
  18. marht

    marht -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 6, 2008
    پیغامات:
    38
    خوب است
    زبردست
     
  19. marht

    marht -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 6, 2008
    پیغامات:
    38
    بہترین ہیں آپ کے اشعار
    بن گئے آپ بھی شاعر وغیرہ
     
  20. marht

    marht -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 6, 2008
    پیغامات:
    38
    بہت اچھی مزاحیہ شاعری ہے
    قاسمی صاحب بہت اچھے مزاح نگار ہیں
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں