ليبيا ميں امريکی سفير کرس اسٹيفن بن غازی حملے ميں ہلاک

Fawad نے 'خبریں' میں ‏ستمبر 12, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    شاید آپ لوگ گیم کو سمجھے ہی نہیں
    گیم کیا ہے
    لیٹ می ٹیل یو
    گیم سب کچھ امریکہ نے خود کروایا ہے وہ کیسے
    اس کے بعد یہ ہی رایکشن ہونا تھا مسلم امت میں اور ان میں سے کچھ نہ کچھ لوگوں نے کچھ نہ کچھ کرنا تھا یہ سب کچھ ان کو پہلے سے معلوم تھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    اس کے بعد میرے کچھ بتانے کی ضرورت شاید نہیں رہی خود سمجھ جائیں
     
  2. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    میں عام طور پر اس قسم کی باتوں میں نہیں پڑتا مگر آپ نے منھج سلف کی بات کی تھی اس لیے آپ سے پوچھ لیا۔
     
  3. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,847
    شکریہ فاروق بھائی

    انتظامیہ کی طرف سے میری کچھ پوسٹیں اس لئے ڈیلیٹ کر دی گئیں کہ وہ موضوع کے مطابق نہیں تھیں۔

    باقی آپ خود سمجھ دار ہیں۔
     
  4. فاروق

    فاروق --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏مئی 13, 2009
    پیغامات:
    5,127
    بھائی میں تو خود درخواست کرتا ہوں کہ انتظامیہ کو کہ اگر میری کوئی بھی پوسٹ کسی بھی قسم کی خرابی یا نقص پر مشتمل ہو تو اس کو حذف کردیا جائے اور مجھ کو بتایا بھی نہ جائے (ہاں اگر میری اصلاح مقصود ہے تو ضرور بتادیں) اس کام کے لیے میں انتظامیہ کا دلی شکر گزار ہوں گا
    جزاک اللہ خیرا
     
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,903
    سفیروں کو قتل کر کے کونسا فائدہ حاصل ہوگا اگر اس پرڈیوسر کو ہی قتل کردیا جاتا توخوشی ہوتی ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ امریکہ نے خود ہی مروایا ہو۔ فواد قمی کی شیئر کردہ ویڈیو ہی دیکھ لیں ۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ الوداعی انٹرویو ہے ۔
     
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487

    WASHINGTON (CNN) — The United States is deploying warships, guided missiles and unmanned drones as it hunts for the killers of its ambassador to Libya and three other Americans in an attack which outraged Americans and Libyans alike.​
    تیل والی بات درست لگتی ہے
    امریکی تیلیوں کے جنگی جہاز، بغیر پائلٹ کے ڈرون طیارے اور گائیڈڈ میزائل لیبیا کے ساحل کی طرف روانہ !
    اپنے پادری کو بھونکنے کی کھلی چھٹی اور دوسرے ملکوں پر حملے، کیا خوب امریکی منطق ہے ۔


     
  7. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    ميں نے فورمز پر ان راۓ دہنگان کا نقطہ نظر پڑھا ہے جو ٹيری جونز کے اقدامات اور ايک متنازعہ فلم کی ريليز کا حوالہ دے کر يہ تاويل پيش کر رہے ہيں کہ امريکی حکومت ان واقعات کے تسلسل کی ذمہ دار ہے جو امريکی سفير کی دردناک موت کا سبب بنے۔

    يہ دليل خاصی حيران کن ہے کيونکہ اکثر فورمز پر ايک سوچ جس کا بارہا اظہار کيا جاتا ہے وہ يہ تاثر ہے کہ جب کوئ مسلمان يا پاکستانی کسی جرم کا ارتکاب کرتا ہے يا اشتعال انگيز رويہ اختيار کرتا ہے تو مغرب عمومی طور پر اور امريکہ خاص طور پر اس موقع سے فائدہ اٹھا کر پوری کميونٹی پر تنقيد کرتے ہيں اور سب کو ایک ہی زاويے سے ديکھتے ہیں۔

    کيا اس ايشو کے حوالے سے راۓ دہنگان دانستہ امريکہ کے اندر چند افراد کے اقدامات کو بنياد بنا کر وہی رويہ نہيں اپنا رہے اور امريکہ ميں ديگر متعدل آوازوں اور سوچ کے حامل افراد کے بيانات کو نظرانداز کر کے جذبات کو بھڑکانے کا موجب نہيں بن رہے؟

    ميں يہ سمجھنے سے قاصر ہوں کہ آپ ايک فرد کے ايسے ذاتی فعل کو جسے سينير امريکی حکومتی عہديداروں سميت امريکيوں کی اکثريت نے مذمت کے ساتھ مسترد کر ديا ہے، امريکی حکومت کی مذہب اسلام کے کو بدنام کرنے کی خواہش سے کيوں تعبير کر رہے ہيں جو ايسی آگ کو جلا دے گا جس کے نتيجے ميں خود امريکہ کے اپنے شہريوں کی زندگیوں کو خطرات لاحق ہوں گے۔

    کچھ برس قبل پاکستان ميں ايک تحريک چلائ گئ تھی جس کا عنوان تھا "يہ ہم نہيں"۔ اس تحريک کا بنيادی خيال اس دليل کی بنياد پر تھا کہ عالمی برادری محض چند افراد اور گروہوں کے طرزعمل کی بنياد پر پورے ملک کو مورد الزام قرار دے کر ناانصافی اور يکطرفہ سوچ کی مرتکب ہو رہی ہے۔ لاکھوں کی تعداد ميں پاکستانيوں نے اس تحريک کی حمايت کی اور پٹشن پر دستخط کر کے يہ باور کروايا کہ کچھ افراد کے اعمال پوری قوم کی ترجمانی نہيں کرتے۔ اسی اصول اور دليل کا اطلاق امريکہ ميں پيش آنے والے واقعے پر کيوں نہيں کيا جاتا؟

    جہاں تک پادری جونز اور ان کے نظريات کا تعلق ہے تو اس ضمن ميں امريکی حکومت کی خواہشات يا ترجيحات کو بحث کا موضوع بنانا ہی غلط ہے کيونکہ نا تو مذکورہ پادری کانگريس کے منتخب رکن ہیں اور نا ہی وہ امريکی حکومت کے کسی بھی ادارے سے وابستہ ہيں۔ بلکہ حقیقت يہ ہے کہ انھيں تو اتنی عوامی حمايت بھی حاصل نہيں کہ امريکہ کے اہم نشرياتی ادارے انھيں کوريج دے سکيں۔

    کيا آپ واقعی يہ سمجھتے ہيں کہ محض چند افراد کے اقدامات کی بدولت جسے امريکی ميڈيا نے بھی عمومی طور پر نظرانداز کيا ہے اور جسے کوئ اجتماعی عمومی حمايت بھی حاصل نہيں ہوئ، دنيا بھر ميں بے گناہ شہريوں، حکومتی عہديداروں اور تعنيات سفارت کاروں کو قتل کر دينا درست اقدام قرار ديا جا سکتا ہے؟

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    http://www.facebook.com/USDOTUrdu
     
  8. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    بالکل متفق ! لیبیا کے سنیوں کو قتل کرنے کا بہانہ ڈھونڈا ہے امریکا نے
     
  9. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    السلام علیکم آصف مغل صاحب،
    سب سے پہلے تو الزام تراشی کرنے پر آپ گناہ کے مرتکب ہوئے ہیں اور دوشرا بہتان لگا کر آپ نے اپنے گناہوں میں مزید اضافہ کردیا ہے۔
    اس لیے اللہ سے توبہ کریں اور بغیر کسی ثبوت کے کسی مسلمان بھائی پر اتنا بڑا بہتان نہیں لگاتے۔
    دوسری بات کہ اس سفیر نے کہیں بھی کسی بھی قسم کی رسول صلی اللہ علیہ وسلم یا پھر اسلامی کی توہین نہیں کی اور اگر کی ہے تو ثبوت مہیا کرنا آپ کا فرض ہے۔
    تیسری بات کہ اس سفیر نے کون سی اللہ کی شان میں گستاخی کی تھی اگر اسلام کو نہ ماننا اور دوسرے مذھب کی پیروی کرنے کا مطلب کسی کو قتل کرنا ہے تو اس قسم کا دہشت پسند مذھب آپ کو مبارک ہو۔
    اس واقعے کی جتنی مذمت کی جائے اتنی کم ہے مگر اس کا یہ مطلب قطعی نہیں ہے کہ آپ لوگ بے گناہ انسانوں کی جانوں سے کھیلیں اور نام مذہب کا استعمال کریں۔
    اس کھیل میں بھلے امریکہ ملوث ہو، یا خبیث ٹیری جونز ہو مگر یہاں بات امریکہ کی نہیں بلکہ اس بے گناہ سفیر کی ہورہی ہے جس کے قتل کی مذمت کرنا ہر مسلمان کا فرض ہے۔
    باقی میرے بارے میں سوچنا بند کردیں کہ میں کس کا پیروکار ہوں یہ آپ کے بس کی بات نہیں ہے کہ میرے بارے میں کھوج لگائيں۔
    امید کہ بات کی تہ تک پہنچ کر پھر بات کریں گے۔ ان شاءاللہ
    والسلام علیکم
     
  10. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    السلام علیکم،
    محترمہ نورالعین بہن، یہاں بات امریکہ، خبیث ٹیری جونز یا اس خیبیث تر یہودی امریکی کی نہیں ہورہی ہے ، مگر اس سفیر کے قتل کی ہورہی ہے جس کے عناون پر یہ تھریڈ لگایا گیا ہے اس لیے یہاں اس قتل کی مذمت ہونی چاہیے، باقی کسی اور تھریڈ میں امریکہ یا اس کے حواریوں پر جو غصہ نکالنا ہے نکالیے مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔
    والسلام علیکم
     
  11. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    السلام علیکم محترم اعجاز بھائی،
    جی میں آپ کی بات پر متفق ہوں مگر یہاں سفیر کے ناحق قتل کی بات ہورہی ہے اور اس کی مذمت کرنی چاہیے کہ اس کا کوئی قصور نہیں تھا اور اسلام اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ کسی سفیر کو قتل کردیا جا‏ئے۔
    والسلام علیکم
     
  12. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    ویسے سفیر کی موت میرے خیال میں دم گھوٹنے سے ہوئی اور ظاہر ہے کہ سفارت خانے کو آگ لگانے کے بعد یہ صورت حال پیش آئی میرے خیال میں سفیر کو قتل کرنا ان کا مقصد نہیں تھا بس وہ اندر تھا اور دھوے کی وجہ سے اس کی سانس بند ہوئی۔ میں خود اس چیز کے حق میں نہیں‌کیوں‌کہ سفیر کا کوئی قصور نہیں‌تھا۔
     
  13. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    وعلیکم السلام
    لگتا ہے بعض مسلمانوں کو یہ واقعہ زیادہ ہی متاثر کر گیا ہے

    اولا: اطلاعا عرض ہے : سفیر قتل نہیں ہوا، اسے کسی لیبی شہری کی گولی نہیں لگی، وہ ہلاک ہوا ہے ۔ قتل کا دعوی تو فواد نامی امریکی چمچے نے بھی نہیں کیا ، اس نے بھی جاں بحق کہا ہے ۔ یعنی سفیر اپنی موت آپ مرا ہے ۔
    ثانیا : جب قتل ہوا ہی نہیں تو مذمت کس بات کی کریں ؟ مفت مشورہ دے سکتے ہیں کہ اگر ٹیری جونز ملعون اور ہم نوا کو لگام نہیں ڈالنی تو امریکی سفیروں کے دل گردے چیک کروا لیں ، کوئی اور بزدل سفیر پھڑک کر مر گیا تو نیا جنگی محاذ کھولنا پڑے گا جس کا امریکا ابھی متحمل نہیں ہو سکتا ۔
    ثالثا : امریکی سفارتخانے پر حملہ عام حالات میں ہوتا تو قابل مذمت ہوتا ، یہاں اشتعال اور نفرت انگیزی میں پہل امریکیوں کی ہے ۔ جو فصل امریکی ملعون پادری اور فلم پروڈیوسر نے بوئی، امریکی اس کا پھل کاٹ رہے ہیں تو اتنا واویلا کیوں ؟ کیا نائن الیون کے واقعے کو بنیاد بنا کر افغانستان پر حملہ اسی ملک نے نہیں کیا تھا؟
    رابعا : اسلامی اصولوں کی بات ہو رہی ہے تو ریمنڈ ڈیوس نامی امریکی پاکستانی شہریوں کو کچل کر قتل کرنے کے بعد کوئی نام نہاد’’دیت‘‘ دے کر اڑنچھو ہو گیا تھا۔ امریکا بھی لیبیا سے امریکیوں کی ’’دیت‘‘ لے کر بات ختم کرے، سفیر کی دیت بھی نہیں بنتی ۔۔۔ جو بات دیت سے سلجھ سکتی تھی اس کے لیے جنگی جہاز لیبیا بھیجنے کی کیا ضرورت تھی ؟
    خامسا : سب کو معلوم ہے امریکی الیکشن قریب ہوتے ہیں تو القاعدہ کا ہوا تازہ کیوں ہو جاتا ہے ؟ نئی نئی وڈیوز آ جاتی ہیں ؟ اوباما دوسری ٹرم کے لیے نامزد ہو چکا ہے ۔ ڈراما جاری ہے اور الیکشن تک بہت سے ٹوسٹ آئیں گے ۔ کچھ انرجی تب تک بچا کر رکھیں ۔
    نقاط تو بہت ہیں لیکن امریکیوں جیسی گھٹیا چیزوں پر اتنا وقت ضائع کرنا اللہ کی اس نعمت کی ناقدری ہو گی ۔
    والسلام
     
  14. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    امريکی وزير خارجہ سيکرٹری کلنٹن کا متنازعہ فلم پر بيان

    واشنگٹن ڈی سی – 13 ستمبر – ميں انٹرنيٹ پر پھيلنے والی ويڈيو کے بارے ميں بات کرنا چاہوں گی جس کے باعث دنيا کے کئ ملکوں ميں احتجاج ہو رہا ہے۔

    دنيا بھر کے لوگوں پر واضح ہونا چاہیے کہ حکومت امريکہ کا اس ويڈيو سے کوئ تعلق نہيں ہے اور ہم اس ميں ديے گۓ پيغام اور اس کے مواد کو قطعی طور پر مسترد کرتے ہيں۔

    امريکہ کی مذہبی رواداری سے وابستگی ہماری قوم کے آغاز کے زمانہ سے ہے۔ ہمارے ملک ميں تمام مذاہب کے پيروکار بستے ہيں بشمول لاکھوں مسلمانوں کے اور ہم اہل مذہب کی انتہائ قدر کرتے ہيں۔ ہمارے ليے، بالخصوص ميرے ليے يہ ويڈيو نفرت انگيز اور قابل مذمت ہے۔ يہ انتہائ سنکی پن سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ جس کا مقصد اعلی وارفع مذہب کی تحقير کرنا اور اشتعال اور تشدد پر اکسانا ہے۔

    ليکن جيسا کہ ميں نے گزشتہ روز کہا کہ اس فلم پر تشدد آميز ردعمل کا کوئ جواز نہيں۔ امريکہ ميں اور دنيا بھر ميں بہت سے مسلمانوں نے اس پر اظہار خيال کيا ہے۔ اس قسم کے تشدد کی کسی بھی مذہب ميں کوئ جگہ نہيں ہے اور نہ ہی يہ کسی مذہب کے احترام کا طريقہ ہے۔ اسلام ديگر مذاہب کی مانند انسانوں کی بنيادی عظمت کا قائل ہے اور يہ اس بنيادی عظمت کی خلاف ورزی ہے کہ معصوم لوگوں پر حملے کيے جائيں۔ جب تک ايسے لوگ موجود ہيں جو خدا کے نام پر معصوم انسانوں کا خون بہاتے ہيں، اس دنيا ميں کبھی حقيقی اور پائيدار امن قائم نہيں ہو سکتا۔

    اور يہ تو خاص طور پر غلط ہے کہ تشدد کا رخ سفارتی مشننز کی جانب ہو۔ يہ وہ مقامات ہيں جن کا بنيادی مقصد ہی پرامن ہے کہ ملکوں اور ثقافتوں کے درميان بہتر افہام و تفہيم پيدا کيا جاۓ۔ ايک سفارت خانہ پر حملہ دراصل اس سوچ پر حملہ ہے کہ ہم بہتر مستقبل کے ليے مل جل کر کام کر سکتے ہيں۔

    ميں جانتی ہوں کہ دنيا ميں بعض لوگوں کے ليے يہ سمجھنا مشکل ہو گا کہ امريکہ کيوں اس ويڈيو پر مکمل طور پر پابندی نہيں لگا سکتا۔ ميں يہ کہنا چاہوں گی کہ آج کی دنيا ميں جديد ٹيکنالوجی کے ہوتے ہوۓ ايسا کرنا ناممکن ہے۔ ليکن اگر ايسا کرنا ممکن بھی ہوتا تو بھی ہمارے ملک ميں آزادی اظہار راۓ کی ايک ديرينہ روايت ہے جس کو قانونی تحفظ حاصل ہے۔ ہماری حکومت لوگوں کو انفرادی طور پر اپنی آراء کے اظہار کرنے سے نہيں روکتی اور نہ روک سکتی ہے چاہے وہ کتنی ہی قابل نفرت ہی کيوں نہ ہوں۔ ميں جانتی ہوں کہ دنيا بھر ميں تقرير اور اظہار راۓ کی آزادی کی حدود وقيود کے بارے ميں مختلف آراء پائ جاتی ہيں، ليکن اس بارے ميں کوئ دو راۓ نہيں کہ تقرير کے جواب ميں تشدد قابل قبول نہيں۔ ہم سب کو چاہے ہم سرکاری حکام ہوں، سول سوسائٹی کے رہنما ہوں يا پھر مذہبی قائدين ہوں، تشدد پر حد باندھنا ہو گی۔ اور ہر ذمہ دار رہنما کو اب تشدد کے خلاف اٹھ کھڑا ہونا ہو گا جيسا کہ وہ مذہبی رواداری کے ليے کھڑے ہوتے ہيں۔

    ميری خواہش ہے کہ ميں يہ کہہ سکوں کہ کاش يہ آخری مرتبہ ہو کہ ہم اس قسم کی صورت حال سے دوچار ہوں۔ ليکن بدقسمتی سے جہاں ہم رہتے ہيں يہ وہ دنيا نہيں۔ يہاں ہميشہ لوگوں کا ايک چھوٹا سا گروہ رہے گا جو اس قسم کے فضوليات کا پرچار کرتا رہے گا۔ اس ليے ہميں عہد کرنا چاہيے کہ ہم نہ صرف آج بلکہ آئندہ بھی مل جل کر کام کريں تا کہ تشدد کے خلاف اور مذہبی رواداری کی حمايت ميں کھڑے ہوں۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    http://www.facebook.com/USDOTUrdu
     
  15. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    السلام علیکم،
    کسی کو بھی اس واقعے نے متاثر نہیں کیا، یہ آپ کی اپنی سوچ ہے۔
    سفیر قتل ہوا ہر یا جان بحق ہوا ہو اس سے مرنے کی وجہ وہ پرتشدد احتجاج ہی تھا۔
    احتجاج کرنا ہر کسی کا حق ہے مگر پرامن، مسلمانوں کے اس طرح کے پرتشدد احتجاج کرنے سے کسی کو بھی کوئی فرق نہیں پڑے گا بلکہ ان کے جانوروں جیسے رویہ سے سب مسلمان بدنام ہوجائيں گے۔
    کسی ملک کے کسی بھی کرمنل بندے کی ذاتی حرکت کا پورے امریکہ یا وہاں کے رہنے والے پرامن شہریوں کا کوئی واسطہ نہیں ہے اس لیے بلاوجہ ان کو تنقید کا نشانہ بنانے سے گریز کیا جائے۔
    امریکی حکومت کی کسی بھی غلط کاروائی کا مطلب یہ نہیں کہ ہم لوگ وہاں کے رہنے والے پرامن شہریوں کو مارنا شروع کردیں!!!
    صبر اور تحمل سے کام لیں، اگر کسی خبیث نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں کوئی گستاخی کی ہے تو اس سے ان کی شان میں کوئی فرق نہیں پڑے گا، ہاں، ہم مسلمانوں کو بھرپور پر امن احتجاج ریکارڈ کروانا چاہیے نہ کہ جانوروں کی طرح لوگوں کو مارنا شروع کردیں، یہ اسلام کی پرچار نہیں ہے، یہ ہی اسلام دشمن چاہتے ہیں کہ کسی طرح ان کی دھکتی رگ پر ہاتھ رکھیں اور پھر خاموش بیٹھ کر تماشا دیکھیں۔
    اب ہمارا یہ ہی کام رہ گیا ہے کہ کسی نے ڈھول بجایا نہیں اور ہم نے ناچنا شروع کردیا۔
    Stop this nonsense things by God sake
    اسلام کو پرامن مذہب کے طور پر دنیا میں پھیلائيں نہ کہ پرتشدد مذہب کے طور پر۔
    اس طرح کا وحشیوں والا احتجاج سعودی عرب میں کیوں نہیں ہوا!!!!! کیا وہاں غیرتمند مسلمان نہیں رہتے؟؟؟؟
    خیر سمجھانے کے لیے اتنا ہی کافی ہے۔
    امید کہ مسلمان اسلام کی اصل تعلیمات کے طرف توجہ دیں گے۔ ان شاءاللہ
    میرے خیال صحیح عالم دین کبھی بھی اس قسم کے پرتشدد احتجاج کی حمایت نہیں کرے گا۔ ان شاءاللہ
    والسلام علیکم
     
  16. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
    لعنت ہے ایسی آزادئ راۓ پر
     
  17. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    کوئی بھی قوم گھٹیا نہیں ہوتی اور امریکی گھٹیا بالکل نہیں ہیں، یہ تعلیم آپ کو کس نے دی ہے!!!!
    ادھر کے اچھے لوگ آپ دیکھیں تو اپنے اچھے لوگ بھول جائيں، ہر جگہ اچھے اور برے لوگ موجود ہوتے ہیں، کسی قوم پر اجتماعی فتوای لگانے سے گریز کریں، ادھر بھی اللہ کے نیک بندے موجود ہیں۔
    امریکی حکومت بری ہے مگر وہاں کے لوگوں کی اکثریب بہت اچھی ہے۔
    اللہ کے لیے ہر کسی کو برا کہنا چھوڑدیں، ہم خود کتنے اچھے ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    والسلام علیکم
     
  18. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    شرم آنی چاہیے ایسی بات کرتے ہوئے بھی، آپ چاہیں تو روک سکتے ہیں، اس کو پبلک آرڈر کے تحت جرم ثابت ہونے پر سزا دے سکتے ہیں، پبلک آرڈر کے تحت بند کرسکتے ہیں مگر آپ کی حکومت نے ایسا نہیں کیا اور نہ کرے گی۔
    اگر کوئی آپ کے ملک کے قانون کے خلاف کہے گا یا دیموکریسی کے خلاف بات کرے گا ت وآپ کی ساری مشینری فوری طور پر حرکت میں آجائے گی۔
    ہماری برطانیہ کے حکومت جتنا ہیومن راٹس پر چلتی ہے اتنی دنیا کی کوئی بھی حکومت نہیں چلتی، یورپ کے ہر بندے کو یہاں آنے جانے کی اجازت ہے مگر اس کے باوجود یورپ میں گستاخانہ کارٹون بنانے والے کو برطانیہ آنے کی اجازت نہیں دی گئی، حالانکہ وہ یورپ کا باشندہ تھا اور آسکتا تھا۔
    اسی طرح اگر امریکی حکومت اس بندے کے خلاف کچھ کرے تو کرسکتی ہے۔
    وہ تو پہلے سے ہی کرمنل بندہ ہے اور اسے تو سزا بھی ہوچکی ہے۔
    خیر ہمیں پتہ ہے تم لوگ جان بوجھ کر نہیں کرو گے وجہ تم کو بھی معلوم ہے۔۔۔۔۔۔
     
  19. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    اس امریکن بڈھی والی آزادی ہمیں سمجھ نہیں آ سکتی فواد انکل ۔ اس نے پنے بڈھے کو کتنی آزادی دی ہوئی تھی :00026: کہ اس کے کارناموں کی بات اخباروں میں آ جاتی تھی ۔
    یہ بڈھی اور اس کا میاں سدومیت کے حامی ہیں ۔ یہ انہیں محبت کرنے والے جوڑے کہتی ہے ۔ ساری دنیا کے چولوں چولاٹوں کو سول رائٹس دلانے کی ٹھیکیدارنی بنی پھرتی ہے۔ ان گند کی مکھیوں کی اتنی ہمت ہے کہ یہ ہمیں بتائیں آزادئ اظہار کیا ہے؟ لعنتیو ۔۔۔ تمہاری تہذیب آپ اپنے خنجر سے خود کشی کرے گی !

     
  20. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    آمین لکھ لعنت !
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں