ليبيا ميں امريکی سفير کرس اسٹيفن بن غازی حملے ميں ہلاک

Fawad نے 'خبریں' میں ‏ستمبر 12, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔
  1. followsalaf

    followsalaf -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 28, 2011
    پیغامات:
    236
    السلام علیکم،

    ہم کتنی اسانی سے دشمنان اسلام کے شکار ہو جاتے ہیں۔

    1۔ سفیر کی ہلاکت اب بہانہ بنیگی اور کتنے ہی بے گناہ شکار ہونگے اللہ حفاظت فرماے آمین۔
    2۔ اتنے احتجاجات سے الٹا وہ ملعون کو مزید سیکیوریٹی فراہم ہو جائگی۔ بہتر تھا کہ حکمت علی اختیار کی جاتی اور اس ملعون سے انتقام لیا جاتا جو دوسروں کیلیے عبرت بن جاتا

    اللہ مسلمانوں کو صحیح جگہ اور سمت اپنے جزبات استعمال کر نے کی توفیق دے آمین
     
  2. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    میرا خیال ہے کہ اب اس تمام قصے پر مٹی ڈال دیں۔ دیکھیں نا فواد صاحب نے امریکیوں کا وفادار ہونے کے ناطے سفیر کی موت کی خبر آپ تک پہنچا دی مگر ایک مسلمان ہونے کے ناطے مسلمانوں کے لیے اس دل آزار وڈیو کی مذمت نہ کرسکے۔ اس بے وفا امریکہ کی وفاداری اور اپنی تنخواہ داری کا جو سوال تھا۔ ان کی باجی ہلیری نے درست فرمایا کہ ہر کو اظہار راۓ کی آزادی ہے۔ اگر ایسا ہے تو ذرا کوئ ان کے ملک میں ان کے مذہب کے خلاف کچھ کہہ کر کچھ لکھ کر تو دکھاۓ تو پھر آپ ان کا ردعمل دیکھیۓ گا۔کس طرح یہ اپنے کپڑے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ کر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہیں۔ اگر وہ اس وڈیو کو اظہار راۓ کی آزادی کہتے ہیں تو بھائ ہم بھی اس اظہار راۓ کی آزادی کے مقابلے میں اپنے ردعمل کے اظہار کرنے میں آزاد ہیں۔ چھوڑیں مٹی ڈالیں اس ساری بات پر۔ امریکی سفیر کی موت آئ تھی سو وہ واصل بہ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ہوگیا۔ ہمیں کیا۔ ہمارے کرنے کو اور بہت سے کام پڑے ہیں۔ دیکھیں نا ابھی محمد تیمور کی بکس لینے بھی جانا ہے۔ صبح ناشتے کے لیۓ دودھ ڈبل روٹی کا انتظام بھی کرنا ہے۔ اور پھر سونے کی تیاری بھی کرنی ہے۔ اب کون اس سفیر کی موت پر اپنا قیمتی وقت ضائع کرتا پھرے۔
     
  3. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,903
    اور یہ بھی دیکھیں نا کچھ لوگوں نے سفیر کے مرنے پر تو زبردستی مذمت کروالی لیکن :-
    گستاخان رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو آزادی اور اس پر امریکہ کی پشت پناہی ،
    فرانس اور برطانیہ اور یورپی ممالک میں حجاب پر مسلمان عورتوں کی بے حرمتی
    برطانیہ سے ہزاروں مسلمان طلباء کی یونیورسٹیوں سے بے دخلی ،
    ڈرون اٹیکس پر مسلمانوں کا قتل،
    میانمارمیں مسکین مسلمانوں کا قتل عام،
    اور
    اور
    ۔۔۔۔۔
    ان تمام موضوعات پربے شمار تھریڈز حالات حاضرہ میں موجود ہیں لیکن مجال ہے کہ فواد صاحب کا کہیں ایک مذمتی لفظ یا جملہ بھی بھی نظر آجائے ۔ ان تمام موضوعات پرموصوف صفائیاں لے کر پہنچ جاتے ہیں ۔ اگر امریکہ یورپ میں آزادئ رائے پردوغلی پالیسی ہے کم ازکم مجلس پر نہیں‌۔ لیکن ہم کسی کو یہ نہیں کہ سکتے کہ وہ یہاں امریکہ کے سفیر مرنے پر زبردستی مذمت کریں ۔ ہر کسی کو رائے دینے کا حق حاصل ہونا چاہے ۔ ویسے بھی مذمت کی بات صرف وہ شخص کرے جو دونوں طرف ہی مذمت کرتا ہو، لیکن یہ ضرور ہے کہ ہم صبر کا مشورہ دیں گئے ۔ اس لیے کہ یہ تعلیم بھی تو محمد عربی کی ہے ۔ طائف میں جنہوں نے پتھر مارے وہ بھی کافر ہی تھے ۔ لیکن آپ نے صبر کیا ۔ اور نتیجہ سب کے سامنے ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  4. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    بہت کم ہے ۔
     
  5. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    گستاخانہ فلم کے جواب میں اسلام سوسائٹی لندن نے ایک لاکھ سے زائد قرآن اور سیرت نبوی صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں میں تقسیم کی۔
    اس کو کہتے ہیں مہذب طریقے سے کافروں کو جواب دینا۔ الحمدللہ
    والسلام علیکم
     
  6. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    السلام علیکم،
    آج کل جو احتجاج اتنا زور پکڑ رہا ہے اس کی میرے خیال میں دو وجوہات ہوسکتی ہیں۔ میں میں غلط بھی ہوسکتا ہوں مگر جو مجھے سمجھ میں آیا ہے وہ میں پیش کررہا ہوں۔
    1۔ ایک وجہ یہ ہے اسلام دشمن جو چاہتے تھے وہ ہورہا ہے اور مسلمان ان کے ہاتھوں میں کھلونا بن کر وہ ہی کررہے ہیں جو یہ چاہیے ہیں۔
    2- دوسری اور اصل وجہ یہ ہے کہ پوری دنیا میں مسلمان متنفکر ہیں، عجیب ڈپریشن اور روزمرہ کے داخلی اور خارجی مسائل کا شکار ہیں اس لیے جب بھی ایسا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو لوگ جو پہلے ہی اپنے مسائل میں الجھے ہوئے ہیں اور کشمکش کا شکار ہیں ان کو ایک موقع مل جاتا ہے اپنی بھڑاس نکالنے کے لیے اور ظاہر ہے توہین رسالت جیسے نازک موضوع پر تو لوگ ویسے ہی اٹھ کھڑے ہوجاتے ہیں اور پھر یہ نہیں دیکھتے کہ اپنے ملک کو تباہ کررہے ہیں یا بے گناہ لوگوں کو مار کر اپنی بھڑاس نکالتے ہیں جو کئی سالوں سے ان کے اندر مختلف مسائل کے شکار میں پلتی رہتی ہے اور پھر وہ لوگ وہ کرگذرتے ہیں جن کی توقع ایک مسلمان سے کھبی نہیں ہوتی۔
    ایسی بہت سی وجوہات ہوتی ہیں جو اصل میں ہمارے حکمرانوں کی پیدا کی ہوتی ہیں جن کے پیچھے اسلام دشمنوں کا ہاتھ ہوتا ہے اور پھر جب لاوا پک جاتا ہے تو صرف ایک چنگاڑی جلانے کی دیر ہوتی ہے اور لوگ اس آگ سے سب کچھ تباہ و برباد کردیتے ہیں اور خود بھی اس میں جل مرتے ہیں اور اسلام دشمنوں کے غلیظ مقاصد پایہ تکمیل کو پہنچ جاتے ہیں۔
    یہ ہی اصل وجہ سے ان سارے ہنگاموں کے پیچھے۔
    اللہ امت مسلمان کو ان سارے مسائل سے چھٹکارا نصیب فرمائے۔ آمین
    والسلام علیکم
     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    وعلیکم السلام
    یہی امریکا کے پراپیگنڈے سے متاثر ہونا ہے
    لوگ کہتے ہیں : سفیر کے موت کا سبب پر تشدد مظاہرہ ہے۔
    ہم کہتے ہیں سفیر کی ہلاکت کا سبب خود امریکی فلم ہے ۔ نہ فلم بنتی نہ مطاہرہ ہوتا ، نہ بزدل سفیر دم گھٹنے سے مرتا۔
    واہ ! نائن الیون کے واقعے میں کوئی ایک افغانی بھی ملوث نہ تھا پھر بھی افغانستان پر ڈیزی کٹر اور ہیل فائر بموں کی بارش کر دی گئی ؟ کیوں؟ وہاں کی حکومت نے ایک اسامہ بن لادن ان کی ڈیمانڈ پر ان کو نہیں دیا تھا۔ اسلامی اصول ایک طرف رکھ دیں ۔ امریکا کے ساتھ امریکی اصولوں میں بات ہونی چاہیے ۔ اب اسی اصول پر سب مسلمان یہ ڈیمانڈ کر رہے ہیں کہ فلم بنانے ولے کو ملعون پادری سمیت سزا دیں ۔ کیوں سزا نہیں دیتا امریکا ؟ اور اگر صرف اسامہ کے لیے افغانستان پر حملہ جائز تھا تو اس فلم میکر اور پادری کے لیے امریکا سے احتجاج کیوں جائز نہیں ؟
    ان کے جذباتی نے قرآن جلایا ، نفرت انگیز کارٹون بنائے ، نفرت کی مبلغ فلم بنائی ، ابھی ہمارے جذباتیوں نے صرف سفارتخانوں پر احتجاج کیا اور ہم وحشی ہو گئے ؟ جتنا ان کے جذباتیوں کو نظرانداز کر رہے ہیں اتنا ہمارے جذباتیوں کو بھی کریں تو انصاف ہو ۔
    میں نے کسی پر تشدد مظاہرے کی حمایت کی نہ اس میں شرکت کی ۔ ہاں امریکی بزدل سفیر کے دم گھٹ کر مرنے پر الحمدللہ کہا۔ الحمد للہ ثم الحمدللہ ۔ اللہ ہمارے حکمرانوں کو توفیق دے کہ ہمارا نام سن کر ہی ان کے دم نکل جایا کریں ۔

    صحیح عالم دین اس طرح کی بے ہودہ فلم کی حمایت بھی نہیں کرے گا ۔ مذمت کرنی ہو تو دونوں کی کریں کمزور پر سارا غصہ نکالنے کی کیا ضرورت ہے ۔
    اسلام کی تاریخ میں ہیروشیما،ناگا ساکی ، ویت نام ، افغانستان ، عراق ، کسی ملک پر حملے کا گناہ درج نہیں، ایک مظاہرے سے اسلام کے وحشی کہلائے جانے کا خطرہ پیدا ہو گیا ؟ اور وہ وحشی جس نے ابو غریب ، گوانتاناموبے ایکسرے کیمپ ؛ جیسے جیل خانے چلائے ، ڈیزی کٹر ، ہیل فائر، کیمیائی ہتھیار اور ڈرونز جیسے آلات قتل بنائے اور مخلوق خدا پر بار بار آزمائے ، اس کو گھٹیا اور وحشی کہنا منع ہے؟؟؟ کیا انصاف ہے ؟ گھٹیا بہت چھوٹا لفظ ہے امریکا کے لیے ۔ تاریخ نے اتنی گھٹیا قوم کبھی نہیں دیکھی اس لیے قدیم لغات میں اس کے لیے کوئی لفظ نہیں ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. ام ھود

    ام ھود -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 17, 2007
    پیغامات:
    1,198
    اللہ کرے وہ دن آئے جب احتجاج کرنے والوں کے ہاتھوں میں جوتے جھاڑو کی بجائے تلواریں ہوں ۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  9. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,847
    اور اللہ تعالی سے یہ بھی دعا ہے کہ مسلمان اس بات کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے والے بھی بن جائیں
     
  10. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
  11. ابو یاسر

    ابو یاسر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 13, 2009
    پیغامات:
    2,413
    صد فی صد متفق!
    :00001:
     
  12. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
  13. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    جو راۓ دہندگان اس بات پر بضد ہيں کہ مسلم ممالک ميں بے چينی اور تشدد کی فضا امريکہ کے ليے کسی بھی طرح سودمند ہے وہ يہ نظرانداز کر رہے ہيں کہ تمام تر دھمکيوں اور حملوں کا محور امريکی سفارت خانے، قونصل خانے اور مختلف ممالک ميں تعنيات امريکی سفارتی عملہ ہے۔

    جو تبصرہ نگار اس صورت حال کو امريکہ کی دانستہ سازش قرار دے رہے ہيں ان کے ليے عرض ہے کہ يہ شايد انسانی تاريخ کی سب سے عجيب وغريب سازش ہے جس ميں سازش کرنے والا مسلسل اور دانستہ اپنا ہی نقصان کرتا چلا جا رہا ہے جو کہ سنير سفارتی عملے سميت امريکی شہريوں کی موت اور دنيا بھر ميں ہمارے سفارت خانوں اور املاک کے نقصان کی صورت ميں سامنے آ رہا ہے۔ صرف يہی نہيں سازش کرنے والے مسلسل اپنے خلاف پروپيگنڈہ کر کے تشدد کی ايک ايسی لہر کو جلا دے رہے ہيں جس کی زد ميں خود ان کے اپنے ہی شہری نشانہ بن رہے ہيں۔

    امريکی حکومت کی جانب سے ان آئينی حدود کی وضاحت اور آزادی راۓ کے اظہار کا ذکر جو امريکہ ميں رہنے والے شہريوں کا حاصل ہے اس بات کی غمازی نہيں کرتا کہ ہم کسی بھی زاويے سے اس مواد کی حمايت، تائيد يا پشت پناہی کر رہے ہيں جو موجودہ صورت حال کا سبب بنا ہے۔ بلکہ حقيقت يہ ہے کہ وزير خارجہ ہيلری کلنٹن نے اپنے بيان ميں اس فلم کو "نفرت انگيز" اور "قابل مذمت" قرار ديا ہے۔

    صرف يہی نہيں بلکہ انھوں نے تو يہ تک کہا کہ " يہ انتہائ سنکی پن سوچ کی عکاسی کرتی ہے۔ جس کا مقصد اعلی وارفع مذہب کی تحقير کرنا اور اشتعال اور تشدد پر اکسانا ہے"۔
    امريکی حکومت کے تمام اعلی عہديداروں کی جانب سے اس ايشو کے حوالے سے واضح بيانات امريکی شہريوں، سول سوسائٹی کے نمانيدگان اور تعليمی ميدان ميں سرکردہ قائدين کی اکثريت کے خيالات کی غمازی کرتے ہيں، جو اس بات پرتو پختہ يقين رکھتے ہيں کہ افراد کواپنی راۓ کے اظہار کا حق حاصل ہے ليکن اس بات کو بھی مانتے ہيں کہ امريکہ ميں بسنے والے مسلمانوں سميت دنيا بھر ميں کئ بلين مسلمانوں کے جذبات اور مذہبی احساسات کو زک پہنچانے کے ليے کيا جانے والا کوئ بھی اقدام قابل نفرت ہے اور اس کی مذمت کی جانی چاہيے۔

    ليکن اس کا يہ مطلب ہرگز نہيں ہے کہ طيش ميں آۓ ہوۓ افراد اور احتجاج کے نام پر مظاہرين کو اس بات کا حق حاصل ہو گيا ہے کہ وہ بے گناہ شہريوں کو ہلاک کر ديں جن ميں بيرون ممالک کے تعنيات سفير بھی شامل ہيں۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    http://www.facebook.com/USDOTUrdu
     
  14. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
    جب تک امریکہ اس ملعون انتہائی قابل نفرت شخص کو سزا نہی دیتا، اس کا مذمت کرنے کا ہر اقدام بیکار ہے. اک طرف تو آزادئ راۓ قرار دے کر اس کی پشت پناہی کی جا رہی ہے تو دوسری طرف اک فضول سی مذمت......
     اب انشااللہ ذمہ داروں کو اس کا خمیازھ بھگتنا ہو گا.
     
  15. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,847
    یہ سفیر تھا یا جاسوسوں کا سرغنہ؟

    جو لوگ اسے سفیر لکھتے اور کہتے ہیں وہ اس بات کو سمجھیں کہ اسلام میں سفارت کاری کیسے بتائی گئی ہے؟۔

    ہر وقت دوسرے ممالک میں رہنا۔ اور اپنے ملکوں کی خفیہ ایجنسیوں کے ایجنٹوں اور جاسوسوں وغیرہ کا مکمل ریکارڈ رکھنا اور انہیں ''استثنا'' کا درجہ دلانا کیا اسلام نے ایسے ہی سفارتکاری کی تھی۔ یا اسی کو رواج دیا تھا؟ یا اسی چیز کو اسلام کی نظر میں اچھا سمجھا گیا ہے؟

    کیا اسلام نے آنے والے کسی بھی جاسوس کو واجب القتل قرار دے کر قتل نہیں کروایا۔ کیا صحیح بخاری و مسلم میں‌ یہ احادیث موجود نہیں ہیں۔

    کیا اسلام نے جاسوسوں کے لٰئے سزا موت نہیں رکھی؟

    کیا اسلام نے کبھی کسی کو ڈبل ایجنٹ بنایا ہے؟

    میرے خیال میں‌ اتنے سوالات ہی کافی ہیں۔ جو صاحب جواب دیں وہ ساری چیزوں کو منبع اسلام یعنی قرآن و حدیث سے اخذ کر کے بتائیں۔ بہت بہت شکریہ
     
  16. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    وہ راۓ دہندگان جو يہ سمجھتے ہيں کہ امريکی حکومت غير منصفانہ طرزعمل اختيار کرتے ہوۓ آزادی راۓ کے اظہار کے آئينی قوانين کا سہارا لے رہی ہے اور اس آڑ ميں ان لوگوں کی پشت پناہی کر رہی ہے جو اس فلم کے پيچھے ہيں، انھيں يہ امر بھی مدنظر رکھنا چاہيے کہ وہی آئينی حقوق اور قواعد وضوابط جن کی بنياد پر ہمارے معاشرے کا تانا بانا قائم ہے وہ معاشرے کے کسی ايک مکتبہ فکر يا ايک مخصوص گروہ کے ليے نہيں ہيں۔ امريکہ ميں مقيم پاکستانيوں سميت لاکھوں مسلمان بھی اسی آزادی اور آئينی حقوق کے اتنے ہی مستحق ہيں جو ديگر امريکی شہريوں کو حاصل ہيں۔ آپ کے خيال ميں اگر امريکی حکومت کسی مخصوص گروہ يا شخص کے احتجاج يا ايما پر امريکہ ميں بسنے والے مسلمانوں پر مذہبی تعليمات کی ترويج کے ضمن ميں پابندياں عائد کر دے تو اس صورت ميں ردعمل کيا ہو گا؟ اگر امريکی حکومت دنيا بھر سے آۓ ہوۓ تبليغی جماعتوں کو امريکہ بھر ميں سفر کرنے اور اسلامی تعليمات کی تبليغ سے نہيں روکتی تو پھر اسی مروجہ اصول اور آئينی فريم ورک کے تحت امريکی معاشرے ميں بسنے والے ہر فرد کو اپنی راۓ کے اظہار کا حق حاصل ہے، باوجود اس کے کہ يہ راۓ معاشرے کے ديگر طبقوں کے ليے کتنی ہی قابل نفرت يا قابل مذمت کيوں نہ ہو۔

    اس ميں کوئ شک نہیں کہ جن افراد نے يہ اشعال انگيز فلم بنائ ہے ان کی اس حرکت کے نتيجے ميں مقامی مسلم کميونٹی اور دنيا بھر ميں اضطراب اور بے چينی پيدا ہونے کا امکان موجود ہے۔ يہی وجہ ہے کہ امريکيوں کی ايک کثير تعداد نے اس حرکت کی شديد مذمت کی ہے اور واضح الفاظ میں اسے غلط قرار ديا ہے۔ ليکن محض ايک فرد يا مختصر سے گروہ کی وجہ سے ان ہمہ گير اصولوں کو پس پشت نہيں ڈال دينا چاہيے جو آزادی راۓ کے قوانين کی بنيادی اساس ہيں۔ يہ ياد رکھنا چاہیے کہ امريکہ ميں مسلمانوں سميت آبادی کے ايک بڑے حصے کے لیے انھی اصولوں اور قوانين کی بدولت خير اور اچھائ کا پہلو بھی نکلتا ہے جس ميں مسلمانوں کے لیے بغیر کسی خوف وخطر کے اسلام کی تبليغ کرنا بھی شامل ہے۔

    امريکہ کا مذہبی آزادی اور راۓ کی آزادی کے حوالے سے مصمم ارادہ قوم کے بانيوں کے دور سے ہی انتہائ مضبوط رہا ہے اور يہ سوچ اب آئين کا حصہ بن چکی ہے۔ ہم قطعی طور پر مذہبی عدم برداشت کو مضبوطی سے رد کرتے ہیں۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    http://www.facebook.com/USDOTUrdu
     
  17. وردۃ الاسلام

    وردۃ الاسلام -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 3, 2009
    پیغامات:
    522
    افسوووووووووووووووووووووووووووووووووووووس بالکل توقع نہیں ہوتی کہ ہماارے عظیم سلفیوں کا اس واقعہ پر یہ رد عمل ہو گا۔۔۔۔۔اردو مجلس والوں کو چاہیے کہ برائے مہربانی منہج سلف کے نام کے ساتھی کا نام بدل دیں زبردستی۔۔۔۔
    کابھی امریکہ کو گھٹیا کہنے کی مذمت۔۔۔
    کبھی بریطانیہ کی اآزادی کی تعریفیں۔۔۔
    کبھی احتجاج کو پر تشدد احتجاج۔۔
    کبھی کافروں کو مارنے کو جانوروں کی طرح مارنا۔۔۔
    کبھی سعودیہ میں احتجاج نہ ہونے کو کہنما کہ وحشی احتجاج وہاں کیوں نہیں ہو رہا۔۔۔۔۔

    اللہ پوچھے اس میڈیا کو جس نے ہماری ذہن سازیاں کی۔۔۔
    اللہ پوچھے اس مال کو جس کی وجہ سے ہم بک گئے اور اپنے نبی کے لیے کچھ نہ کر سکے۔۔۔

    اللہ جزائے خیر دے ان علماء کو جو نبی پاک کے زمانے میں ہونے والے گستاخان رسول کے واقعات کو سنا کر دلوں کو گرماتے ہیں ۔۔۔
    اللہ جزائے خیر دے حملہ کرنے والووں کو۔۔۔
    ابھی خبر آئی تھی پڑھ کر اپنے اوپر شرمندگی ہوئی مجھے کہ ایک خاترون نے امریکیوں معصوم امریکیوں پر خود کش حملہ کر کے کئی مار دیے اس فلم کے جواب میں۔۔۔۔شرمندگی ہوئی کہ اس نے جان دے دی اور میں وقت بھی نہ دے سکی ۔۔۔

    اللہ جزائے خیر دے ام نور العین باجی اور محمد اآصف مغل بھائی کو۔۔۔۔


    منہج سلف آپ کہتے ہیں کہ اس سفیر نے کبھی گستاخی نہیں کی اگر کی تو ثبوت دیں۔۔۔کیا اللہ کے ساتھ غیروں کو پکارنا گستاخی نہیں؟؟؟کیا اللہ کا مکمل نظام ہونے کے باوجود کفر کا نظام نافذ کرنا گستاخی نہیں؟؟؟؟کیا عیسیٰ علیہ السلام کو اللہ کا بیٹا کہنا گستاخی نہیں برائے مہربانی اآپ ایک دفعہ قراآن پڑھیں سورۃ مائدہ پڑھیں جس میں اللہ ان کم بختوں کی گستاخیاں گنواتا ہے پھر بتائیں وہ قتل کا حق دار تھا یا نہیں۔۔۔۔۔
     
  18. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
    تھوڑا سا اختلاف مجھے بھی ھے۔
    کیا فتح مکہ پر سب کفار کو مار دیا گیا تھا؟ کیا مدینہ کے تمام یہودیوں کو قتل کر دیا گیا تھا؟ کیا حضت عمر فاروق( رض نے یروشلم کے تمام عیسائیوں کو مروا دیا تھا؟ کیا ھمارے قرون اولے میں ایسی مثالیں ملتی ھیں؟
    کیا اس وقت قران پڑھنے والے نہی تھے؟
     
  19. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
    آمین
     
  20. محمد آصف مغل

    محمد آصف مغل -: منتظر :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 18, 2011
    پیغامات:
    3,847
    مسلمانو!‌ سن لو!! یہ کام ایک سازش کے تحت آہستہ آہستہ پھیلایا جا رہا ہے۔ تاکہ مسلمانوں احتجاج کروا کروا کر تھکا دیا جائے۔ پھر آہستہ آہستہ ان مسلمانوں کے ذہنوں کو اس سطح پر لایا جائے کہ جو اس طرح کی حرکت کرے وہ واجب القتل نہیں، اور بعض ’’مسلمان‘‘ اس گستاخی کو آہستہ آہستہ روٹین کا حصہ سمجھنا شروع کر لیں۔ اور بالآخر توہین رسالت کا پہلو بعض مسلمانوں بلکہ اکثر مسلمانوں کے ذہنوں سے محو کر دیا جائے۔ اور جو تھوڑے بہت ’’شدت پسند‘‘ بچیں گے اُن سے آہنی ہاتھوں سے نمٹ لیا جائے گا جیسا کہ لال مسجد والا واقعہ ’’ٹرائل‘‘ کے طور پر دکھایا جا چکا ہے۔
    تاریخ گواہ ہے کہ موجودہ دَور میں جب پہلی مرتبہ اس طرح کی گستاخی کی گئی تھی تو اتنا بڑا احتجاج ہوا تھا کہ چشم فلک نے کم ہی دیکھا ہو گا۔ لیکن پھر آہستہ آہستہ یہ کام مسلسل وقفوں سے ہونا شروع ہوا ہے۔ اور آہستہ آہستہ گستاخی کرنے کا دورانیہ کم سے کم ہوتا چلا جائے گا۔ تاکہ مسلمانوں کو ’’روٹی کپڑا ور مکان‘‘ کے گورکھ دہندے میں الجھا کر ان کے سینوں سے بچا کھچا ایمان و توحید کو نکال دیا جائے۔

    گورنمنٹ نے ’’مذمت‘‘ فرما کر ’’عام تعطیل‘‘ کا اعلان کر کے ’’شہیدوں‘‘ میں نام لکھوا لیا ہے۔ کیا اُس کے پاس ’’ایٹم بم‘‘ نہیں؟ کیا اس کے پاس لڑاکا طیارے نہیں۔ کیا اس کے پاس آرمی نیوی اور ائیرفورس کے ’’شیردل‘‘ کمانڈوز نہیں؟ کیا وہ ’’اسلامی قلعے‘‘ کی نگہبان نہیں؟ تو پھر کیا وجہ ہے کہ ’’گورنمنٹ‘‘ صرف اور صرف ’’مذمت فرماتے ہوئے تعطیل‘‘ پر ہی اکتفا کر رہی ہے؟

    اس سے اگلی بات کروں گا تو بہت سے لوگوں کے ذہنوں میں ’’متشدد‘‘ اور ’’تکفیر‘‘ کے لفظ گونجا شروع ہو جائیں گے۔
     
Loading...
موضوع کی کیفیت:
مزید جوابات کے لیے کھلا نہیں۔

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں