ملالہ یوسفزئی پر سوات میں قاتلانہ حملہ

’’عبدل‘‘ نے 'خبریں' میں ‏اکتوبر، 9, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487

    بنت اسماء بہنا انصارالسنہ نامی ویب سائٹ انتہائی گمراہ کن پراپیگینڈا ویب سائٹ ہے ۔ یہ لوگ جہاد کا صرف نام استعمال کر رہے ہیں ورنہ یہ تکفیری ہیں ۔ مسلمانوں کو کافر قرار دے کر ان کا قتل جائز سمجھنے والے ۔

     
  2. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,487
    پاکستان کو گالی دینا اب فیشن بن گیا ہے ۔
    ایک طرف پیسے کی خاطر دوسرے ملکوں میں جا کر غیر ملکیوں کے جوتے صاف کرنے والے، اور ان کا لنگر کھانے والے بھک منگے ہیں جو اپنا احساس کہتری چھپانے کے لیے پاکستان کے بارے میں یوں حقارت سے بات کرتے ہیں جیسے کہیں کے لینڈ لارڈ ہوں ۔۔۔
    اور دوسری طرف تکفیری ہیں امریکی سرورز پرپاکستان اور پاکستانی افواج کو گالیاں دینے والی سائٹس کھلے عام چلا رہے ہیں اور اسی سے نورا کشتی لڑ رہے ہیں ۔
    یہ دونوں ہی پاکستان دشمنوں کے زرخرید ہیں ۔
    اللہ ان سب سے نمٹے اور پاکستان میں ایسی مضبوط اسلامی حکومت آئے جو اللہ کا دین نافذ کرے اور ان زرخرید فسادیوں کو سر عام جوتے لگائے ۔
     
  3. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    وہ متشدد سوچ جو ملالہ سميت گزشتہ ايک دہائ کے دوران دہشت گردی کا شکار ہونے والے ہزاروں بے گناہ شہريوں کی اذيت کا سبب بنی، اس کی مذمت کی بجاۓ دلائل پيش کرنے والے اس حاليہ عوامی ردعمل کی حقيقت کو سمجھنے سے قاصر ہيں جس کا اظہار محض ملالہ پر حملے تک ہی محدود نہيں ہے۔

    درحقيقت حاليہ واقعہ اس زمينی حقيقت کی عکاسی کرتا ہے کہ پاکستان ميں عام عوام نے مشترکہ طور پر يہ فيصلہ کر ليا ہے کہ روايات اور مذہب کی آڑ لے کر جو عناصر کم سن بچوں پر بھی حملوں کو جائز سمجھتے ہيں، ان کی سوچ اور نظريات کو برملا مسترد کيا جانا چاہيے۔

    ايک بچی کو انتہائ بے دردی سے سر ميں صرف اس ليے گولی مار دينا کيونکہ وہ سکول جانے پر بضد تھی، دراصل پاکستان کے بچوں کی ايک پوری نسل کو درپيش خطرے کو اجاگر کر رہا ہے جو خدانخواستہ حقيقت کا روپ دھار سکتا ہے اگر معاشرے نے بحيثيت مجموعی اس معاملے کو پس پشت ڈال ديا۔

    کئ لحاظ سے ملالہ پر حملہ ايک فيصلہ کن مرحلہ ہے جہاں حقائق کا تعميری اور ايماندرانہ تجزيہ وقت کی اہم ترين ضرورت ہے تا کہ قوم کے مستقبل کا تعين اور بہتر راہ کا فيصلہ کيا جا سکے۔ ان نتائج پر غور بھی ضروری ہے جو عدم برداشت پر مبنی اس پرتشدد سوچ کو روکنے پر ناکامی کی صورت ميں سامنے آئيں گے جو سماجی اور مذہبی روايت تو درکنار بنيادی انسانی اور اخلاقی قدروں کو بھی رد کر کے ايک سکول کی بچی پر حملے کو درست قراد ديتی ہے۔

    يہ کوئ تعجب کی بات نہيں ہے کہ ايک تند وتيز مہم کے ذريعے ملالہ کے کردار اور اس کے نظريات سميت اس ڈائری کی حقيقت پر بھی سوال اٹھاۓ جارہے ہيں جس کی بدولت اس بچی نے اپنے اور اپنے جيسے دوسرے بچوں پر ہونے والے ظلم کی بپتا عوام تک پہنچائ۔ جو عناصر پاکستانی فوجيوں کے سر کاٹ کر ويڈيوز ريليز کرتے ہيں اور پھر اپنی بے مثال "کاميابی" کا راگ الاپتے ہيں، وہ بھی اسی طريقہ کار کے تحت اپنے "شکار" کی کردار کشی کر کے اپنی جرم کی توجيہہ پيش کرتے ہيں۔

    ويسے يہ امر بھی توجہ طلب ہے کہ اگر ڈائری ميں لکھا جانا والا مواد ملالہ کا نہيں تھا اور اسے صرف استعمال کيا گيا تھا تو پھر اس کی تحريروں اور نظريات کو بنياد بنا کر اس پر حملہ کرنے کی توجيہہ کيوں پيش کی جا رہی ہے؟

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

     
     
  4. abrarhussain_73

    abrarhussain_73 --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اپریل 6, 2009
    پیغامات:
    371
    میڈیا اور ملالہ

    [​IMG]
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. ابن حسیم

    ابن حسیم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 1, 2010
    پیغامات:
    891
    مسٹر فواد، آپ ذرا ان اشکالات کو دور کریں کہ یہ گولی سر کے دائیں جانب لگی یا بائیں جانب؟؟
    اگر مجلس کے قوانین اجازت دیتے تو آپکے میڈیا کی مختلف اوقات میں جاری کی جانے والی تصاویر حوالہ جات اور نشاندہی کے ساتھ آپکے سامنے کرتا لیکن خیر یہ کوئ ڈھکی چھپی نہیں۔۔ ساری دنیا نے دیکھی ہیں۔۔۔
    آپکے سب سے بڑے غلام میڈیا نے جو تصاویر شائع کیں ان میں سے ایک میں دائیں جانب زخم دکھایا گیا، اور دوسرے موقع پر بائیں جانب، اور صرف چار دن کی ٹریٹمنٹ کے بعد شائع کی جانے والی تصویر میں سارا ماتھا یوں صاٍ ف ہے جیسے کوئ خراش بھی نہ آئ ہو۔ اور پھر سر کے بال ویسے ہی مکمل، آخر دنیا کی وہ کونسی لیزر ٹریٹمنٹ ہے جو سر میں لگ کر گردن میں پھنس جانے والی ایک انچ لوہے کی گولی کو یوں نکال دے کہ آپکی بیٹی ملالہ کو خراش بھی نہ آئے؟؟ ارے بابا اپنے پالتو میڈیا کو کم از کم اتنی تو عقل دے دو کہ اس طرح کی فحش غلطیاں نہ کرے تا کہ اس سیدھی سادھی عوام کو الو بنانے میں ان مشکلات کا سامنا نہ ہو۔۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  6. مشکٰوۃ

    مشکٰوۃ -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 23, 2012
    پیغامات:
    1,916
    جزاک اللہ بنت اسماء سسٹر مزید مفید شیئرنگ کا انتظار رہے گا۔۔۔۔۔۔
     
  7. مشکٰوۃ

    مشکٰوۃ -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 23, 2012
    پیغامات:
    1,916
    جزاک اللہ خیر عبدالقہار محسن بھائی۔۔۔۔۔۔
     
  8. مشکٰوۃ

    مشکٰوۃ -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 23, 2012
    پیغامات:
    1,916
    جزاک اللہ خیرعبد القہار محسن بھائی!
     
  9. مشکٰوۃ

    مشکٰوۃ -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 23, 2012
    پیغامات:
    1,916
    شکراً سسٹر مزید مفید شیئرنگ کا انتظار رہے گا
     
  10. مشکٰوۃ

    مشکٰوۃ -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 23, 2012
    پیغامات:
    1,916
    اوہوعکاشہ بھائی! نئےمنتظم بھائی تعارف نہیں کروائیں گے تو پتا کیسے چلے گا؟
    حرت آپ کے منتظم ہونے پہ نہیں اس بات پہ ہے کہ آپ کو کہا کہ پوسٹ حذف کردیں تو آپ نے کہا منتظم اعلیٰ نے کہا ہے میں نے نہیں
    حیرت ہوئی کہ آپ منتظم اعلیٰ ہیں تو پھریہ منتظم اعلیٰ اور کون ہے۔۔۔۔؟ اور مزید حیرت یہ کہ ان پوسٹس کو غائب بھی کر دیا گیا ایک دو دن بعد دوبارہ آئی ہیں۔۔۔حیران تھی کہ اگر منتظم اعلیٰ کوئی اور ہے تو پھراتنا پردہ چہ معنی؟۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر یہ سوچ کر خاموش تھی کہ شاید بتانا نہیں چاہ رہے یا غلط کہ دیا ہے تو پوسٹ غائب ہیں۔۔۔۔۔میری دعا ہے کہ آپ کو دنیا آخرت میں منتظم اعلیٰ کے اتنے عہدے ملیں کہ آپ سنبھالتے سبھالتے تھک جائیں مگر عہدے ختم نہ ہوں۔آمین۔۔۔۔۔۔بھلا مجھے آپ کے منتظم اعلیٰ ہونے پر حیرت یا اعتراض کیوں ؟ بلکہ خوشی ہے کہ عکاشہ مجاہد بھائی مجلس کے منتظم اعلیٰ ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
     
  11. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ


    جو راۓ دہندگان يہ مضحکہ خيز تاويل پيش کر رہے ہيں کہ ملالہ کے واقعے کے درپردہ امريکہ کا ہاتھ ہے، ان کی اس تضاد پر مبنی دليل کا ايک مختصر جائزہ پيش ہے۔

    يہ بات ذہن نشين رہنی چاہيے کہ يہ واقعہ پاکستان کے اندر پيش آيا تھا اور اس خبر کی ابتدائ رپورٹنگ اور ميڈيا پر کوريج پاکستان ميں ہی کی گئ تھی۔ ملالہ کا علاج پاک فوج کے ہسپتال ميں کيا گيا اور اس حوالے سے جو بھی خبريں آئيں وہ پاک فوج اور حکومت پاکستان کے سرکاری ذريعوں سے جاری کی گئيں تھيں۔ يہی نہيں بلکہ پاک فوج کے سربراہ جرنل کيانی اور عمران خان سميت سرکردہ سياسی قائدين نے ہسپتال کا دورہ بھی کيا تھا۔ پاکستان کے تمام اہم سياسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدين، وزير اعظم اور اپوزيشن ليڈر کے بيانات بھی اس ضمن ميں ريکارڈ پر موجود ہيں۔ پاکستانی ڈاکٹروں کی زير نگرانی علاج کے بعد انھيں لندن منتقل کيا گيا جہاں دنيا کے ايک اہم اور نامور ہسپتال ميں برطانوی ڈاکٹروں کی موجودگی ميں ان کا علاج کيا جا رہا ہے۔

    اب اگر يہ تسليم کر ليا جاۓ کہ امريکی حکومت اتنی پراثر اور وسائل سے مالا مال ہے کہ دو براعظموں ميں حکومتی عہديداروں اور نمايندوں سميت تمام اہم ترين عناصر بشمول سياست دانوں، ڈاکٹروں، ميڈيا اور فوج تک کو کنٹرول کر سکتی ہے تو پھر منطقی سوال يہ اٹھتا ہے کہ پھر امريکہ کو اس واقعے کو "رونما" کرنے کی ضرورت ہی کيوں پيش آئ؟
    اس سوچ کو ماننے والے بضد ہيں کہ برطانيہ سميت پاکستانی حکومتی مشينری کے تمام تر اہم ادارے اور افراد امريکہ کی کٹھ پتلی بنے ہوۓ ہيں۔ اگر اس مضحکہ خيز بات کو تسليم کر ليا جاۓ تو پھر کيا امريکہ کے ليے يہ سہل نہيں تھا کہ وہ اپنے اس بے پناہ اثر اور تسلط کو استعمال کر کے وہ مقاصد حاصل کرتا بجاۓ اس کے کہ ايک ايسی "کہانی" کا سہارا ليا گيا جسے قابل قبول بنانے اور مسلسل سچ کی کسوٹی پر پرکھنے کے ليے امريکہ اور برطانيہ کے ہزاروں نہيں تو سينکڑوں اہم حکومتی اور نجی اداروں کے عہديداران اور عام افراد کا سہارا لينا پڑا۔ يہی نہيں بلکہ ان کے بيانات اور وقوع پذير ہونے والے واقعات کے تسلسل کو بھی ايک خاص انداز ميں پيش کرنے کے ليے مسلسل تگ ود کی جار ہی ہے۔

    اگر امريکی حکومت پہلے ہی خطے ميں اس حد تک اثر و رسوخ رکھتی ہے کہ ہر کام اپنی مرضی سے کروا سکتی ہے تو پھر اس کہانی سے مزيد کيا ممکنہ مقاصد حاصل کيے جا سکتے ہيں؟

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    http://www.facebook.com/USDOTUrdu
     
  12. ’’عبدل‘‘

    ’’عبدل‘‘ -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 2, 2012
    پیغامات:
    118
    لاالہ الااللہ۔۔۔
    اب یہ دجالی میڈیا کی خبر کس طرح مستند ہوگئ مھترمہ ؟؟؟
    :00039:
     
  13. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,850
    کبھی کبھی ایک دوسرے کو سمجھنے میں غلط فہمی پیدا ہو جاتی ھے اس لئے اسے جلد ہی اگنور کر دینا چاہئے ورنہ ذاتی نوعیت پر سوال جواب میں بات بہت آگے بڑھ جاتی ھے اس لئے بہتر ھے ہم موضوع پر رہیں ، کسی جگہ حامد میر کی رپورٹ نشر ہوئی ئسے یہاں پیش کرتا ہوں۔ پیج اوپن ہونے کے بعد چھوٹا ہو گا اس لئے اسی پیج پر ایک مرتبہ کلک کریں تو بڑا ہو جائے گا جسے آپ آسانی سے پڑھ سکتے ہیں۔

    والسلام
     
  14. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,903
    میں نے لکھا تھا کہ منتظم اعلی نے کیا ہے ،ان سے پوچھیں ۔ مجھے اس بارے میں علم میں نہیں‌۔ ویسے بھی کچھ لوگ عہدوں کے لیے یا دکھاوے کے لیے کام نہیں‌کرتے ۔ انہی میں سے منتظم اعلی بھائی بھی ہیں ۔ ان شاء اللہ ! وقت آنے پرادارہ اردو مجلس کی جانب سے ان کے عہدے اور کام کی تفصیل بتائی جائے گی ۔
    گزارش ہے کہ اراکین مجلس کا کام یہ نہیں کہ وہ انتظامیہ یا انتظامی اراکین کی کھوج میں اپنا وقت ضائع کریں بلکہ ان کے لیے بہتر ہے کہ وہ اپنے وقت کو اچھے کاموں میں صرف کریں ۔امیدہے کہ اب اس تھریڈ میں موضوع سے غیر متعلقہ گفتگونہیں ہوگی۔
     
  15. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    اسلئے ضرورت پیش آئی کہ ہر طرف بد امنی پھیلانا، خاص طور پر پاکستان میں اسلئے کہ وہ اسلام کی بنیاد پر تشکیل دیا گیا ہے، جو کہ کبھی بھی موجودہ امریکہ تو تسلیم نہیں‌کرسکتا، اسلئے کبھی اسامہ بن لادن کے نام سے کبھی طالبان کے نام سے اور کبھی ایسے واقعوں کے ذریعہ پاکستان اور اسلامک ورلڈ میں‌بدامنی مچا رکھنا۔۔۔آسان سا جواب ہے۔۔۔ظالم اور دہشت گرد امریکہ کے لئے۔۔۔اور رہی بات مقاصد کی ، ایسے ہی کچھ مزموم مقاصد ہونگے۔۔۔!!!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  16. فراز اکرم

    فراز اکرم -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 15, 2011
    پیغامات:
    193
    وانا (اے پی اے) تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود نےایک بار پھر ملالہ یوسف زئی پر طالبان کی جانب سے حملے سے انکار کرتے ہوئے صاف الفاظ میں کہا ہے کہ یہ امریکہ کی کارروائی ہے جو اس خطے میں جنگ چاہتا ہے۔ ملالہ یوسف زئی پر حملے سے ہمارا کوئی تعلق نہیں ہے۔ چھوٹے سے واقعات کو بڑھا چڑھا کر اسلامی شدت پسندوں کیخلاف زہریلا پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔ طالبان اور میڈیا کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود نے ایک آڈیو پیغام میں کہا ہے کہ ایک چھوٹے سے واقعہ کو بڑھا چڑھا کر اسلامی شدت پسندوں کیخلاف زہریلا پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مغرب کبھی اسلام مخالف کارٹونوں اور کبھی فلموں کی آڑ میں مسلمانوں کو اشتعال دلاتا ہے۔ انہوں نے پاکستان کی حکومت سے بے اطمینانی کا اظہار کیا اور اسے سیکولر کہا۔ انہوں نے پاکستان کے خفیہ ادارے آئی ایس آئی پر الزام لگایا کہ وہ عام شہریوں پر حملے کرکے انکا الزام طالبان پر لگا دیتے ہیں تاکہ انہیں بدنام کیا جاسکے لہٰذا کوئی رائے قائم کرنے سے پہلے طالبان کے موقف کا انتظار کیا جائے۔
    ربط
     
  17. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ

    امريکہ سميت کسی بھی ملک کے ليے يہ ممکن نہيں ہے کہ وہ تمام سياسی، سفارتی اور دفاعی ضروريات کو نظرانداز کر کے مذہب کی بنياد پر خارجہ پاليسی ترتيب دے اور اسی بنياد پر ملکی مفاد کے فيصلے کرے۔

    اگر مذہب کی بنياد پر خارجہ پاليسي کا مفروضہ درست ہوتا تو پاکستان کے صرف مسلم ممالک کے ساتھ اچھے سفارتی تعلقات ہونے چاہيے۔ اسی طرح امريکہ کے بھی تمام غير مسلم ممالک کے ساتھ بہترين سفارتی تعلقات ہونے چاہيے۔ ليکن ہم جانتے ہيں کہ ايسا نہيں ہے۔ حقيقت يہ ہے کہ مسلم ممالک کے مابين بھی سفارتی تعلقات کی نوعيت دو انتہائ حدوں کے درميان مسلسل تبديل ہوتی رہتی ہے۔ امريکہ کے کئ مسلم ممالک کے ساتھ باہمی تعلقات استوار ہيں۔ يہ بھی ايک حق‍یقت ہے کہ دو ممالک کے درميان تعلقات کی نوعيت زمينی حقائق کی روشنی ميں کبھی يکساں نہيں رہتی۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    http://www.facebook.com/USDOTUrdu

     
     
  18. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    فراز اکرم بھای یہ اسلامی فارم ھے کیا اس پر تصویر لگانی جائیز ھے کیا ھم دوسروں تک دین پھیلائیں گے کس طرح غلط کو روکیں گے غلط اور صیح کا پہلےھمیں خود پتہ ھونا چاھئیے پھر ھی دوسروں کو بتائیں گے غلط کیا ھے صیح کیا ھے براے مہربانی تصویر نہ لگائیں آپ کی مہربانی ھو گی
     
  19. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    ملالہ کیس میں‌امریکی مفاد کیا ہے، اللہ ہی بہتر جانے جو اس قدر امریکی پارسائی کے لئے ملالہ اشیو کو بنیاد بناکر آپ خود بھی اپنے تئیں‌جو بھی ہوسکا کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔
    وہیں عافیہ صدیقی کے حوالے سے کبھی آپ کی زبان نہیں‌کھل پاتی، جبکہ عافیہ کے حوالے کے شواہد بھی بس مفروضات پر مبنی رہے۔
    اللہ کے انصاف سے نہ آپ واقف ہیں‌اور نہ نام نہاد سوپر پاور۔۔۔۔"کن فیکون" پر سب کچھ ختم ہوسکتا ہے۔ انفارمڈ رہیں۔
     
  20. Fawad

    Fawad -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2007
    پیغامات:
    954
    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ



    آپ کے دونوں دعوے بے بنياد ہيں۔ ميں ڈاکٹر عافيہ کے معاملے پر کبھی بھی خاموش نہيں رہا۔ اس ايشو پر مختلف اردو فورمز پر ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم کی 100 سے زائد پوسٹنگز موجود ہيں جن ميں ہم نے تمام سوالات پر امريکی موقف واضح کيا ہے۔ يہ ايک خالص قانونی مقدمہ تھا جس ميں حتمی فيصلہ امريکی عدالتوں نے کرنا تھا۔ امريکی حکومت کی جانب سے اثر انداز ہونے يا مداخلت کی کوئ کوشش نہيں کی گئ۔ ڈاکٹر عافيہ کے حوالے سے امريکی حکومت کا نقطہ نظر اور سرکاری موقف متعدد بار پيش کيا جا چکا ہے۔ يہ کہنا بالکل غلط ہے کہ اس ضمن ميں سوالات کو نظرانداز کيا گيا يہ محض خاموشی اختيار کی گئ۔

    اسی طرح آپ کا يہ موقف کہ اپنے ايجنڈے کی تکميل کے ليے ہم ملالہ کے کيس کو ہوا دے رہیے ہيں، حقائق پر مبنی نہيں ہے۔ ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم کے ممبر کی حيثيت سے ميں نے تواتر کے ساتھ گزستہ چند برسوں ميں پاکستان ميں پيش آنے والے دہشت گردی کے ہر اہم واقعے کے بعد امريکی حکومت کے اہم ترين عہديداروں اور سفارت کاروں کے بيانات، پريس ريليزز، پاليسی اور موقف پر مبنی نقطہ نظر پيش کيا ہے۔ بلکہ حقي‍ت تو يہ ہے کہ بعض اوقات ميں نے دہشت گردی کے ان واقعات کی جانب بھی توجہ مبذول کروائ ہے جنھيں پاکستان میں پرنٹ اور اليکٹرانک ميڈيا پر نظرانداز کر ديا جاتا ہے۔

    اس ضمن ميں ايک مثال کے طور پر يہ ويب لنک پيش ہے جس ميں ايک دوسرے اردو فورم پر ايک سوال کے جواب ميں ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم نے سال 2012 کے پہلے چار ماہ کے دوران پاکستان ميں دہشت گردی کے حوالے سے پيش آنے والے ہر اہم واقعہ کا حوالہ ديا ہے۔

    طالبان کا آپريٹنگ سسٹم | اردو محفل فورم

    اسی طرح ہم نے تواتر کے ساتھ پاکستان کی سيکورٹی فورسز کی بے پناہ قربانيوں کا بھی تذکرہ کيا ہے۔

    امريکہ حکومت کا ہميشہ يہ موقف رہا ہے کہ پاکستانی عوام سميت تمام فريقين کی مشترکہ کاوشيں اس متشدد سوچ کے سدباب کے ليے کليدی کردار ادا کريں گی جس نے برسابرس سے ملک ميں ايک وبا کی سی حيثيت اختيار کر لی ہے۔ يہ کوئ ايسی گمنام حقيقت نہيں ہے جو ملالہ پر حملے کے بعد اچانک سب کے سامنے آشکار ہو گئ ہے۔ جيسا کہ ميں نے پہلے بھی واضح کيا تھا کہ ہمارا موقف اور دہشت گردی کی بڑھتی ہوئ لہر کے خلاف شعور کو بيدار کرنے کی کوشش اور ضرورت صرف ملالہ پر حملے والے واقعے تک محدود نہيں ہے۔امريکی حکومت کے اہم ترين عہديداروں کی جانب سے ايسے سينکڑوں بيانات ريکارڈ پر موجود ہيں جو پاکستان ميں دہشت گردی کے ہر اہم واقعے کے بعد ہماری جانب سے نا صرف يہ کہ پرزور مذمت کے جذبات کی عکاسی کرتے ہيں بلکہ اس ضرورت کو بھی اجاگر کرتے رہے ہيں کہ ان مجرموں کی جانب سے بچوں کو خودکش ببمار کے طور پر استعمال کر کے دہشت گردی کی جس مہم کو جاری کيا گيا ہے وہ کوئ آزادی کی جانب راغب مقدس جدوجہد ہرگز نہيں ہے۔ اس کے برعکس يہ اپنا اثرورسوخ بڑھانے کے ليے طاقت کے حصول کی کوشش ہے جس کی بنياد دہشت اور خوف پر رکھی گئ ہے۔ ايک ايسے غلط نظريے اور نقطہ نظر کے ذريعے دماغوں کو پراگندہ کيا جا رہا ہے جسے قريب تمام مذہبی سکالرز، اداروں اور مسلک سے تعلق رکھنے والے علماء نے يکطرفہ طور پر نہ صرف مسترد کر ديا ہے بلکہ اس کی مذمت بھی کی ہے۔

    فواد – ڈيجيٹل آؤٹ ريچ ٹيم – يو ايس اسٹيٹ ڈيپارٹمينٹ
    digitaloutreach@state.gov
    U.S. Department of State
    http://www.facebook.com/USDOTUrdu
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں