قربانی کے متعلق سوالات

ابو عبداللہ صغیر نے 'آپ کے سوال / ہمارے جواب' میں ‏اکتوبر، 24, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو عبداللہ صغیر

    ابو عبداللہ صغیر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مئی 25, 2008
    پیغامات:
    1,979
    السلام علیکم
    شیخ صاحب میں ادھر عشرہ ذی الحجہ کے احکام وآداب سوال وجواب پڑھ رہا تھا۔ کچھ جوابات کے اشکالات تھےمثلا
    سوال٢٥: قربانی میت کی طرف سے کرنا جائز ہے یا نہیں؟
    جواب: قربانی دراصل زندہ انسان سے مطلوب ہے کہ وہ اپنی زندگی میں اپنی طرف سے اور اپنے اہل خانہ کی طرف سے قربانی کرے، لیکن وہ اپنی قربانی کے ثواب میں زندہ اور مردہ انسانوں میں سے جس کو چاہے شریک کرسکتا ہے۔ لیکن اگر میت نے یہ وصیت کی ہو کہ اس کے مال کے تہائی حصے میں سے قربانی کی جائے تو وارثوں پر قربانی کرنا واجب ہوجائے گا کہ اس کی وصیت اور وقف کو اس کی خواہش کے مطابق عملی جامہ پہنائیں۔اور اگر وصیت ووقف کی شکل کی صورت نہ ہو اور کوئی انسان اپنے ماں باپ یا کسی اور کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو یہ ایک اچھا عمل ہے، اسے میت کی طرف سے صدقہ شمار کیا جائے گا۔ اور اہل سنت والجماعت کے قول کے مطابق میت کی طرف سے صدقہ صحیح ہے۔(شیخ ابن باز رحمہ اللہ فتاویٰ اسلامیہ/٤٢٠)

    سوال٢٦:کیا یہ جائز ہے کہ قربانی کا ثواب فوت شدہ کو ہدیہ کردیا جائے؟
    جواب: جب کوئی انسان اپنے اور اپنے اہل خانہ کی طرف سے قربانی کرے اور یہ نیت کرے کہ اس کا اجروثواب اس کے اور اس کے زندہ ومردہ اہل خانہ کے لیے ہے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ (شیخ عثیمین رحمہ اللہ فتاویٰ اسلامیہ /٤٢٢)

    سوال٢٨: اگر کوئی شخص قربانی کا جانور بغیر بسم اللہ کے ذبح کردے تو اس کا کیا حکم ہے؟
    جواب: اگر قربانی کرنے والا جانور ذبح کرتے وقت بسم اللہ پڑھنا بھول جاتا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے۔ اور اس کی قربانی ہوجائے گی۔ ان شاء اللہ۔

    سوال٣٩:اگر قصاب بے نمازی ہے تو کیا اس سے قربانی کا بکرا ذبح کرایا جاسکتا ہے یا نہیں؟
    جواب: قرآن وسنت سے یہ بات واضح طور پر ثابت ہے کہ بے نماز کافر ہے تو اگر بے نماز جانور ذبح کرے تو اس کا ذبیحہ نہ کھایا جائے، اس لیے کہ وہ حرام ہے۔ یہودی یاعیسائی کا ذبیحہ تو ہمارے لیے جائز ہے مگر بے نماز کا نہیں، اس لیے کہ بے نماز کا ذبیحہ یہودی وعیسائی کے ذبیحہ سے زیادہ شریعت میں ناپسندیدہ ہے۔ والعیاذ باللہ
     
  2. رفیق طاھر

    رفیق طاھر علمی نگران

    رکن انتظامیہ

    ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏جولائی 20, 2008
    پیغامات:
    7,939
    ۲۵‘۲۶۔ میت کی طرف قربانی کرنے کی کوئی شرعی دلیل نہیں ہے !
    ۲۸۔ اللہ تعالى کا فرمان ہے " جس جانور پر اللہ کا نام نہیں لیا گیا اسے نہ کھاؤ"
    ۳۹۔ بے نمازی کے ذبیحہ سے پرہیز ہی کرنا چاہیے ۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں