دوست معدنیات کی مانند ہوتے ہیں

ابو عبداللہ صغیر نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏اکتوبر، 31, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو عبداللہ صغیر

    ابو عبداللہ صغیر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مئی 25, 2008
    پیغامات:
    1,979
    [​IMG]
    عربی زبان کی کہاوت ہے کہ دوست معدنیات (دھاتوں) کی مانند ہوتے ہیں، کئی بہت سستے تو کچھ بہت ہی مہنگے
    (الأصدقاء كالمعادن منهم الرخيص ومنهم النفيس)
    میں نے جب سے یہ کہاوت پڑھی ہے ذہن میں یادوں کا رش لگ گیا ہے،
    دوستوں کے ساتھ گزرے وقت اور بتائے ہوئے لمحوں کی یادیں۔
    ان دوستوں کو کن دھاتوں سے تشبیہ دوں کا فیصلہ کرنا بھی مشکل ہوگیا ہے کہ جب تک ان کی کچھ باتیں دہرا کر اپنی یادوں کو تازہ نا کرلوں۔
    اگر کچھ دوست ایسے تھے جن کو خالص سونے کی اینٹ سے تشبیہ نا دینا زیادتی ہوگی،
    تو کچھ دوست ایسے بھی تھے جن کو زنگ آلود لوہا کہہ کر پکارنا بھی اچھا نہیں لگ رہا،
    تو کچھ دوست ایسے بھی تھے جن کی کسی صحیح ، مناسب اور قیمتی دھات سے تشبیہ دیئے جانے سے قبل ہی ان سے تعلق ٹوٹ گیا۔
    سچ تو یہ ہے کہ مجھے یہ کہاوت بہت اچھی لگی ہے کیونکہ میں سونے کی قدر و قیمت اور اہمیت بھی جانتا ہوں اور سونے سے متعلقہ سارے اعتقادات اور تصورات بھی۔
    حقیقی زندگی میں ہم بہت سے دوستوں کو کھو بیٹھتے ہیں کیونکہ ہم اُنہیں کھرے سونے جیسا دیکھنا چاہتے ہیں یا اُن سے خالص اور کھرے سونے جیسی توقعات رکھتے ہیں ۔ چہ جائیکہ سونے پر لگا گرد و غبار یا اُس پر چڑھی میل صفائی ستھرائی یا دھلائی سے اُتاری بھی جا سکتی ہے ۔
    یا پھر ہم ان دوستوں سے صرف لیتے رہنے کی توقع رکھتے ہیں مگر دینے کیلئے کبھی بھی نہیں سوچتے۔
    یا پھر ہم اپنے ان دوستوں کی چھوٹی چھوٹی کوتاہیوں کو پکڑ لیں گے۔
    اُن کی معمولی باتوں کو گانٹھ باندھ کر حساب کرنے کیلئے رکھ چھوڑیں گے۔
    گویا ہم اُن سے یہ توقع کرتے تھے کہ وہ ہمارے لئے فرشتوں کی مانند ہوا کریں۔
    سچ تو یہ ہے کہ ہمارے اپنے اندر بھی کئی خامیاں ہوتی ہیں، ارادتا یا غیر ارادی طور پر ہم ان کوتاہیوں کا سبب بھی دوسروں پر تھوپنے کی کوشش کرتے ہیں۔
    شاید سیانے اسی لئے تو کہتے ہیں کہ جس نے بغیر عیب کا دوست ڈھونڈھنے کی کوشش کی وہ ساری عمر کسی دوست کے بغیر ہی رہا۔
    بہت سے ایسے لوگ بھی ہوتے ہیں جن سے آپ کسی شخص کےساتھ اُس کی دوستی کے بارے میں پوچھ لیں تووہ کچھ اس طرح کہنا شروع کرے گا کہ؛
    بخدا بندہ تو بہت ہی پیارا اور بہت ہی اچھا ہے مگر۔۔۔۔
    اور پھر اس کے بعد وہ شخص اپنے دوست کے معمولی عیبوں کو بھی خورد بین لگا کر دیکھنا
    اور بڑھا چڑھا کر بیان کرنا شروع کرے گا ،
    اس کی کمیوں اور کوتاہیوں کو ڈھونڈھ ڈھونڈھ کر سامنے لائے گا
    اس پر اپنے ملاحظات کےا نبار لگاتا جائے گا
    برائیوں کو اس طرح سے بیان کرے گا کہ
    اس دوست کی خوبیاں دفن ہو کر رہ جائیں اور کوئی اس کی شکل دیکھنے کو بھی روادا رنا ہو۔
    اس دنیا میں کچھ دوست دل کے بہت ہی اچھے مگر تھوڑا بہت جھوٹ بولنے والے ہوتے ہیں،
    تو کچھ دوست بہت ہی کرم نواز اور مخلص مگر بزدل قسم کے ہوتے ہیں،
    کچھ دوست بہت جلدی غصہ کر جانے والے مگر دل کے بہت ہی کھرے ہوتے ہیں،
    تو کچھ دوست ہنسی مذاق کئے بغیر نہیں رہ سکتے مگر ان کا دل بہت صاف ہوتا ہے۔
    کچھ دوست انتہائی کنجوس مگر ان کی دوستی پر کوئی شک نہیں کیا جا سکتا۔
    کچھ دوست ایسے بھی ہوتے ہیں جو وعدوں کا تو خیال نہیں رکھتے مگر ویسے بالکل سچے ہوتے ہیں۔
    اور بھی دوستوں کی بہت سی قسمیں ہیں۔۔۔۔۔
    بس کہنے کی بات صرف اتنی ہے کہ ہم فرشتہ صفت دوستوں کی تلاش میں نا ہوں
    کیوں کہ دوست تو بندہ بشر ہی ہوگا۔
    بس ہم پہلے اپنے آپ کو جانچ کر دیکھیں
    اپنی کمیوں کوتاہیوں اور عیبوں کو دیکھ لیں
    اور پھر ان کمیوں کوتاہیوں کا موازنہ اپنے دوست میں موجود کوتاہیوں سے کر لیں
    ہم اپنی عادت کو ٹوہ لگانے ، خامیاں کریدنے اور برائیاں ڈھونڈھنے والا نا بنائیں۔
    اگر سامنے والا بھی کچھ ایسے ہی فرشتہ طینت دوست کی تلاش میں نکلا ہوا مل گیا تو پھر۔۔
    آپ کو کچھ ایسے پرکھے گا کہ آپ کو اپنا سانس بھی دبتا ہوا محسوس ہوگا۔
    آپ کی معصوم اور بے ضرر خامیوں کی تفسیر بھی آپ سے کچھ اس طرح سے پوچھے گا کہ
    آپ تڑپیں گے غصہ کھائیں گے اور دل کو زخمی کریں گے
    لیکن وہ آپ کو کوئی الزام بھی نہیں دینے دے گاکیونکہ
    اس طرح اس کی انا مجروح ہو سکتی ہوگی
    وہ تو صرف لینے کی نیت سے نکلا ہوگا دینے کیلئے نہیں
    کیا کریں آپ بھی تو کچھ ایسے ہی تھے ناں۔۔
    آپ جیسے اور ان جیسے لوگوں کو آخر میں تنہائی ہی ملتی ہے اور
    نفسیاتی امراض ان لوگوں کا مقدر ہوا کرتے ہیں۔
    وفا، اخلاص جیسی مثالی شرطوں کے ساتھ دوستی کی تلاش کرنے والوں کے مقدر میں کتے، بلیوں اور بندروں جیسے جانوروں سے دوستی کرنا لکھا ہوتا ہے،
    بالکل ایسے ہی جیسے مغرب والوں نے یہ روش اپنائی ہے۔
    انسان حیرت کے مارے مبہوت رہ جاتا ہے جب راہ چلتے ہوئے ایسے لوگوں کو دیکھتا ہے جو اپنے کتے سے باتیں کر رہے ہوتے ہیں۔ یا پھر کوئی کتیا لیکر باغ میں بیٹھے اسے کھانا کھلا رہے ہوتے ہیں، اس سے ہنس رہے ہوتے ہیں ، اسے چوم چاٹ رہے ہوتے ہیں اور کبھی کبھی اسے غصہ اور سرزنش تک بھی کر رہے ہوتے ہیں۔
    حیوانوں کےساتھ اس انسانی قرب کی وجہ ان انسانوں کی ضرورت سے زیادہ انا پرستی ہوتی ہے یا پھر دولت اور انا پرستی کے زعم میں انسانوں سے میل جول کی رغبت کا ختم ہوجانا ہوا کرتا ہے۔
    کیونکہ یہ لوگ وہی تو ہوتے ہیں جو دوستوں سے صرف لینا چاہتے ہیں دینا ہرگز نہیں، یہ دوستوں سے خواہش رکھتے ہیں کہ وہ ان کی دلیلیں اور تاویلیں سنیں، واہ واہ کریں بلکہ ان کے مزاج کی تبدیلی تک کو بھی برداشت کریں۔
    دیکھئے دوست ایک نعمت ہوا کرتے ہیں اور یہ نعمت حفاظت چاہتی ہے،
    یہ ناطہ لینے اور دینے سے چلتا ہے،
    ایک دوسرے کی کمی کوتاہیوں سے صرف نظر اور باہمی برداشت سے چلتا ہے۔
    دوست آپ کا سہارا ہوتے ہیں بازو ہوتے ہیں ایک چھاؤں ہوتے ہیں اور ایک دیوار ہوتے ہیں،
    اس سے پہلے کہ آپ بندروں اور کتے بلیوں میں جا کر پناہ ڈھونڈھیں اس رشتے کی قدر کر لیں



    محمد سلیم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 4
  2. ابو جزاء

    ابو جزاء -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 11, 2012
    پیغامات:
    597
    جزاک اللہ خیرا و احسن الجزاء

    ما شاء اللہ بہت عمدہ شیئرنگ ہے۔
     
  3. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    جزاک اللہ خیرا و احسن الجزاء
     
  4. Bilal-Madni

    Bilal-Madni -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2010
    پیغامات:
    2,469
    جزاک اللہ خیرا و احسن الجزاء
     
  5. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    جزاک اللہ خیرا
     
  6. ام احمد

    ام احمد محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 7, 2008
    پیغامات:
    1,333
    جزاک اللہ خیرا و احسن الجزاء
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں