اسلام کی تبلیغ اور ہماری ظاہری شکل

ابو عبداللہ صغیر نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏نومبر 19, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو عبداللہ صغیر

    ابو عبداللہ صغیر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏مئی 25, 2008
    پیغامات:
    1,979
    [​IMG]

    معاشرے میں کچھ لوگ تو بس یہی سوچ کر ہی پرے بیٹھ رہتے ہیں کہ بھلا وہ دین کی کیا خدمت کر سکتے ہیں؟ ان کے مطابق یہ بہت ضروری ہوتا ہے کہ ان کی لمبی سی داڑھی ہو، شلوار ٹخنوں سے اوپر، قرآن شریف اگر پوارا نہیں تو کچھ تو ضرور حفظ ہو، پانچوں نمازوں کی پابندی ہو اور ماتھے پر ایک محراب بنا ہوا ہو، جیب میں تسبیح اور سر پر ٹوپی ہو وغیرہ وغیرہ تو تب جا کر وہ کوئی نیکی کی تبلیغ کر سکتا ہے۔

    حقیقت میں ایسا نہیں ہے، آپ پر یہ فریضہ تو ایسی صورت میں بھی عائد ہوتا ہے جب آپ گناہگار ہی کیوں نا ہوں۔ آپ شراب نوشی کرنے والے ہیں تو کیا ہوا ابھی تک ہمارے زمرے میں تو ہیں ناں۔ کسی بہت بڑی برائی میں مبتلا ہیں تو کیا ہوا اسلام کے دائرے میں تو ہیں ناں۔ نماز کی ادائیگی میں آپ سے کوتاہی ہو رہی ہے تو کیا ہوا دین محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے خارج تو نہیں ہو چکے ناں۔

    مثال کے طور پر اگر ایک شخص نشے میں دُھت ، شراب کی بوتل ہاتھ میں تھامے اور بستر پر فحاشی کرتے ہوئے مر گیا تو وہ پھر بھی مسلمان ہی ہے۔ ہم پر واجب ہوگا کہ ہم اُسے غسل دیں، کفن پہنا کر اُسکا جنازہ ادا کریں اور مسلمانوں کے قبرستان میں شرعی طریقے سے دفن کریں ۔ چاہے جو کچھ بھی ہو جائے وہ مسلمان ہی رہے گا، ایسا ہی ہے ناں۔ ۔ تو اس بات کو دھیان میں رکھیئے کہ کہیں شیطان آپ کو اس طرح نا ورغلائے کہ آپ تو ایک گناہگار انسان ہیں اور دین کی اشاعت یا دین کی خدمت کا آپ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

    اسی سلسلے میں آج میرے پسندیدہ شیخ عریفی کا سنایا ہوا واقعہ آپ کی نذر ہے، کہتے ہیں کہ میں ایک بار کسی یورپی ملک سے واپس آ رہا تھا۔ لندن کے ہیتھرو ایئر پورٹ پر ٹرانزٹ اُترا، میرے پاس کچھ کیسٹیں تھیں جو میں ہمیشہ لوگوں کو تحفہ دینے کیلئے اپنے ساتھ رکھتا ہوں، میں نے وقت گزاری کیلئے یہ کیسٹیں لوگوں کو دینا شروع کیں۔ میرا طریقہ کار بہت آسان سا تھا۔ شکل و صورت سے عربی لگنے والے آدمی کے پاس سے گزرتا اور اُسے السلام علیکم کہتا۔ اگر وہ جوابا و علیکم السلام کہتا تو میں اُسے ایک کیسٹ تھما دیتا، لوگ میرا شکریہ ادا کرتے اور میں آگے بڑھ جاتا۔

    اس اثناء میں میرا گزر وہاں کے میکڈونالڈ ریسٹورنٹ کے سامنے سے ہوا جہاں پر ایک عورت عبایہ پہنے کھڑی تھی ۔ عورت اپنی وضع قطع سے ریاض یا اُسکے نواح میں رہنے والی لگتی تھی کیونکہ اسکا عبایہ بالکل ویسا تھا جیسے ریاض کی عورتیں پہنتی ہیں۔ بازو کی جگہ ایک تنگ سا سوراخ جہاں سے ضرورتا ہاتھ نکالا جاتا ہے۔ اس عورت کے پاس ایک ٹرالی پر سامان رکھا ہوا تھا اور ٹرالی پر ایک پانچ یا چھ سال کی بچی بھی بیٹھی ہوئی تھی۔ ریسٹورنٹ میں رش کی وجہ سے اس عورت کی دوسری بیٹی اندر جا کر کچھ خرید رہی تھی اور یہ دونوں باہر انتظار کر رہے تھے۔

    میں نے وہاں سے گزرتے ہوئے ان کو سلام کیا اور بچی کی طرف ایک کیسٹ بڑھائی اور کہا، بیٹی یہ میری طرف سے تحفہ لے لو۔ بچی نے ہونقوں کی طرح میرے منہ کو دیکھا، صاف لگ رہا تھا کہ بچی کو میری بات سمجھ نہیں آئی۔ اس بار میں نے مسکراتے ہوئے دوبارہ زور سے بچی کو کہا یہ کیسٹ لے لو، یہ تمہارے لیئے تحفہ ہے مگر بچی نے ابھی بھی کچھ نا سمجھا اور میری طرف ہاتھ نا بڑھایا۔ تاہم اس اثناء میں بچی کی ماں نے بچی کو آنکھ سے کیسٹ لے لینے کا اشارہ کیا اور مجھے ٹھیٹھ انگریزی لہجے میں تھینک یو ویری مچ کہا۔ مجھے اُس کے تھینک یو ویری مچ کہنے سے حیرت تو ہوئی مگر میں نے سوچا کہ یہ ہماری بہن اگر لندن میں رہتی ہے تو خیر سے اسکا اتنا حق تو بنتا ہی ہے کہ یہاں کے اہل زبان کی کچھ اقدار کا پاس رکھے اور اُن کی زبان کو انہی کے انداز میں اپنائے۔ کیسٹ دے کر میں آگے بڑھ گیا اور بات آئی گئی ہو گئی۔

    جہاز میں سوار ہو کرمیں ریاض آ گیا۔ ایئرپورٹ پر میرا دوست سعود مجھے لینے کیلئے انتظار کر رہا تھا جو ایئرلائن کا ملازم بھی ہے۔ سعود مجھ سے پہلے ایک سفید فام مگر سینے تک آئی ہوئی داڑھی والے شخص کے ساتھ کھڑا ہوا باتیں کر رہا تھا۔ مجھے آتا دیکھ کر اُس سے مصافحہ کر کے میرے پاس آگیا، مجھے مل کر میرا حال احوال پوچھ ہی رہا تھا کہ مجھے وہی عورت اپنی دونوں بیٹیوں کے ساتھ آتی دکھائی دی جنہیں میں لندن کے ایئرپورٹ پر دیکھ چکا تھا، مجھے قطعی اندازہ نہیں تھا کہ یہ لوگ بھی میرے ساتھ ہی ایک ہی جہاز میں آئے تھے یا انہوں نے بھی ریاض ہی آنا تھا۔ ان لوگوں کو لینے کیلئےوہی سفید فام آگے بڑھا جو کچھ دیر پہلے سعود کے ساتھ کھڑا ہوا باتیں کر رہا تھا۔ میں نے حیرت کے ساتھ پوچھا سعود، یہ کون لوگ ہیں؟ سعود نے کہا یہ آدمی امریکی ہے اور ایک پرائیویٹ ہسپتال میں سپیشلسٹ ڈاکٹر ہے۔ جبکہ یہ عورت انگلینڈ سے ہے اور اس امریکی کی بیوی ہے ، دونوں بچیاں ان کی بیٹیاں ہیں اور یہ سب لوگ نو مسلم ہیں، اس سفید فام نے اپنی بیوی اور بچوں کو ساتھ لیا اور سامان لینے کیلئے آگے بڑھ گیا۔

    سعود نے مجھ سے سوال کیا کہ عریفی صاحب کیا آپ جانتے ہیں کہ یہ لوگ کس کے ہاتھوں مسلمان ہوئے ہیں؟ میں نے کہا یقینی بات ہے کہ یہ لوگ اس مضبوطی سے دین پر قائم، پردے کی پابند بیوی اور شرع کا پابند خاوند، یہ اہم اور پڑھے لکھے لوگ کسی بہت بڑے شان اور توقیر والے عالم دین کے ہاتھوں ہی مسلمان ہوئے ہونگے۔ سعود نے کہا نہیں، ایسا نہیں ہے۔ ان لوگوں نے ایک سوڈانی میل نرس کے ہاتھوں اسلام قبول کیا ہے جو کہ ان کے ساتھ ہی ہسپتال میں کام کرتا ہے۔ اس سوڈانی کی نا داڑھی ہے اور نا مونچھیں، سگریٹ کے بغیر ایک لمحہ نا گزار پائے اور اس کے ہونٹ سگریٹ پی پی کر جلے ہوئے ہیں۔ کوئی دیکھے تو کہے کہ اس شخص سے اسلام کو کیا فائدہ پہنچے گا مگر یہ دین کی اشاعت اور خدمت کیلئے ہمہ وقت تیار ایک متحرک داعی ہے ۔ یہ سب کچھ سن کر میں حسرت سے صرف سبحان اللہ ہی کہہ پایا۔

    جی، ایک لمحے کو سوچنے کی بات ہے کہ اگر یہ کیفیت آپ کے ساتھ ہو تو شیطان ضرور آپ کو کہے گا کہ میاں تم ٹھہرے ایک نشئی، داڑھی کو تم مونڈتے ہو، شباہت تمہاری اسلامی نہیں ہے، لباس تمہارا شرعی نہیں ہے ، تم کو کیا پڑی ہے اسلام سے، جاؤ پہلے اپنے آپ کو درست کرو اور پھر دوسروں کو درست کرنے کی سوچو۔ اگر آپ شیطان کی اس منطق پر چل پڑے تو پھر کیسے دین کا یہ سلسلہ آگے بڑھے گا۔ میں یہاں پر یہ وضاحت کر دوں کہ میں برائیوں کی حمایت نہیں کر رہا اور نا ہی گناہوں سے محبت کو فروغ دے رہا ہوں مگر ان سب سے اہم کام کی حوصلہ افزائی کر رہا ہوں کہ ہمیں اپنی مقدور بھر کوشش کرتے ہوئے دین کی ترویج میں اپنا حصہ ضرور ڈالنا چاہیئے۔



    محمد سلیم
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  2. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    السلام علیکم

    میں تو ابو عبداللہ صغیر بھائی کے پوسٹ کردہ سلیم صاحب کے مضمون سے ٹوٹلی متفق ہوں۔، البتہ بہت سے ہمارے ساتھی اس سے اختلاف رکھتے ہوںگے۔

    "ایک لطیف ساواقعہ مجھے یاد آیا، ایک صاحب اپنے دوست سے کسی صاحب کے اخلاق کے بارے میں‌بتارہے تھے کہ واقعی وہ بہت ہی بلند پایہ اخلاق کا حامل انسان ہے، کم بات کرتا ہے، معاملات اچھے ہے، دوسروں‌سے مسکر کر ملتا ہے، مکاری نہیں‌سادگی ہے، بلاوجہ دوسروں کو تکلیف نہیں‌دیتا وغیرہ" کہتے کہتے کہنے لگے "اسکے اندر دیندار لوگوں کی کوئی صفات نہیں‌ہے" تو سامع پریشان ہوکر پوچھنے لگا "کیا مطلب" کہنے لگے کہ ہاں‌اسکے بہت سی معاملاتی ، اخلاقی وہ برائیاں‌نہیں‌ہیں‌جو کہ نام نہاد دیندار طبقہ جو کہ بظاہر تو لبادہ اچھا کیا ہوا ہوتا ہے، لیکن بہت سے انسانی اقدار سے آشنا تو ہوتا ہے، لیکن اپنانا نہیں‌، بلکہ منفی انداز کا رویہ روا رکھتا ہے"

    اس سے قطع نظر کہ یہ دونوں‌دوستوں کے کلام کی کتنی حقیقت ہے، واقعی صرف دینداری کا لبادہ ہی اوڑھ لیا جائے جس میں‌لباس بھی ہو داڑھی بھی، علم بھی ہو اور دلائل بھی لیکن یہی شخص اگر اخلاقی طورپر کھوکھلا ہوتب ایسے ہی چراغ کی مثال ہے کہ چراغ تو ہے، جل بھی رہا ہے، لیکن دھواں دیتا ہے، روشنی سے زیادہ دھواں پھینک کر دوسروں‌کو پریشان کردیتا ہے۔

    بہرحال بہت ہی بہترین تمثیلی مضمون ہے، مجھے تو بڑا پسند آیا۔

    جزاک اللہ خیرا
     
  3. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,922
    جزاک اللہ خیرا یا ابو عبد اللہ
    اللہ تعالی ھمیں اپنے ظاہر و باطن کو سنوارنے کی توفیق دے.
    آمین ‏‎ ‎
     
  4. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,312
    [font="al_mushaf"]
    اللھم آمین

    جزاك اللہ خیرا[/font]
     
  5. ام احمد

    ام احمد محسن

    شمولیت:
    ‏جنوری 7, 2008
    پیغامات:
    1,333
    جزاك اللہ خیرا
     
  6. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    جزاک اللہ خیرا
    آمین
     
  7. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    آمین ثم آمین
     
  8. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,446
    جزاک اللہ خیر
     
  9. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,318
    بھائ ابو عبد اللہ صغیر یہاں صاحب مضمون سے تھوڑا اختلاف کروں گا۔
    بالکل ایک مبلغ میں یہ تمام باتیں نہیں تو ان میں سے بعض باتیں ضرور ہونی چاہیں۔ مثلا۔۔۔۔۔۔۔
    1- داڑھی سنت رسول ہے بلک تمام انبیاء کی سنت ہے۔ ۔ کوئ مبلغ ہو یا عام مسلمان اسے داڑھی تو رکھنی چاہیۓ۔ داڑھی نہ رکھنے والا کیسے کسی کو داڑھی رکھنے کا کہہ سکتا ہے۔
    2- مرد کو اپنے کپڑوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم مطابق ٹخنوں سے اوپر رکھنا ہی چاہیۓ۔ میرے اپنے کپڑے ٹخنوں سے نیچے ہوں تو میں کیسے کسی کو اپنے کپڑ ٹخنوں سے اوپر رکھنے کا کہہ سکتا ہوں۔
    3- نماز دین کا ایک ستون ہے۔ مسلمان کو پانچ وقت کی پابندی کرنی ہی چاہیۓ۔ میں خود نماز نہ پڑھوں اور دوسروں کو نماز کی تلقین کروں کہنے والا کہہ سکتا ہے کہ بھائ تم خود تو پڑھتے نہیں دوسروں کیسے نماز کی تلقین کر سکتے ہو۔

    اب ذرا اس آیت پر غور کیجیۓ۔

    11. يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لِمَ تَقُولُونَ مَا لَا تَفْعَلُونَ ﴿الصف: ٢﴾اے ایمان والو کیو ں کہتے ہو جو تم کرتے نہیں (2) الصف
    ایمان والوں کی ایک صفت یہ بھی ہے کہ وہ پہلے خود کرتے ہیں پھر کسی اور کو اس کی تعلیم دیتے ہیں۔ اور جب میں اسلام کا ایک مبلغ بننا چاہوں تو یقینا پہلے مجھے اسلام کے احکام کی پابندی کرنی چاہیۓ تب ہی میں ایک اچھا مبلغ بن سکتا ہوں۔

    بھائ کیا آپ اس بات سے اختلاف کریں گے کہ نشہ کرنا، داڑھی مونڈنا، اسلامی شباہت اختیار نہ کرنا شیطانی کام ہیں۔ اگر ہیں تو پھر ایک مبلغ ان تمام شیطانی کاموں سے اجتناب کرے گا۔ تب ہی وہ ایک اچھا مبلغ بن سکتا ہے۔
    واللہ اعلم
     
  10. ابو جزاء

    ابو جزاء -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏جنوری 11, 2012
    پیغامات:
    597
    ثم آمین
     
  11. ابومصعب

    ابومصعب -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 11, 2009
    پیغامات:
    4,067
    بابر تنویر بھائی۔
    واقعی آپکی باتیں‌درست ہیں‌کہ ایک مبلغ میں‌یہ اور یہ چیزیں‌ہونی چاہئے (مندرجہ بالا پیش کردہ)
    البتہ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اللہ تعالی کس سے کب اور کونسا کام لے، اور اللہ کو کس بندے کا کونسا عمل پسند آجائے۔، جیسا کہ چھوٹے سے چھوٹا عمل بعض اوقات اللہ کی نظر میں بہت بڑا بن سکتا ہے۔۔۔اور یہ سب اللہ کی رحمت سے ہی ممکن ہے۔، البتہ جو اہم نکتہ ہے کہ جو لوگ باشعور ہیں وہ لوگ، اگر داعی دین بن رہے ہیں‌تب ان کو اپنے باطن کے ساتھ ظاہر کو بھی ویسا ہی بنالینا چاہئے جیسا کہ ایک حقیقی داعی میں ہونا چاہئے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔پھر بھی اللہ ہی بہتر جانے کے کس کا عمل کب کسکے لئے اور خود اسکے لئے باعث رحمت بن جائے۔۔۔۔!!!!
     
  12. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    جزاك اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں