حضرت حسین رضی اللہ عنہ

irfan_channa نے 'سیرتِ سلف الصالحین' میں ‏نومبر 20, 2012 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. irfan_channa

    irfan_channa -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 10, 2010
    پیغامات:
    225
    آں امام عاشقاں پور بتول
    سروآزادے زبستان رسول
    اللہ اللہ بائے بسم اللہ پدر
    معنی ذبح عظیم آمد پسر
    بہرآں شہزادہ خیر الملل
    دوش ختم المرسلیں نعم الجمل
    موسیٰ  و فروعون، شبیرو و یزید
    ایں دو قوت از حیات آید پدید
    زندہ حق از قوت شبیری است
    باطل آخر داغ حسرت میری است
    خاست آں برجلوہ خیر الامم
    چوں سحاب قبلہ باراں در قدم
    برزمین کربلا با رید و رفت
    لالہ در ویرانہ ہا کارید و رفت
    تاقیات قطع استبداد کرد
    موج خون اوچمن ایجاد کرد
    بہرحق درخاک و خوں غلطیدہ است
    پس بنائے لا الہ گردیدہ است
    عزم او چوں کوہساراں استوار
    پائیدار و تند سیر و کامگار
    تیغ بہر عزت دین است وبس
    مقصد او حفظ آئین است وبس
    ما سواللہ را مسلماں بندہ نیست
    پیش فرعونے سرش افگندہ نیست
    خون او تفسیر ایں اسرار کرد
    ملت خوابیدہ رابیدار کرد
    نقش الااللہ بر صحرا نوشت
    سطر عنوان نجات ما نوشت
    شوکت شام و فر بغداد رفت
    سطوت غرناطہ ہم از یاد رفت
    تارما از زخمہ اش لرزاں ہنوز
    تازہ از تکبیر او ایماں ہنوز
    اے صبا اے پیک دور افتادگاں
    اشک ما بر خاک پاک او رساں

    ”وہ کہ عاشوں کے امام و پیشوا، حضرت فاطمةالزہرا کے فرزند ارجمند اور نبی کے باغ کا سرو آزاد تھے۔ اللہ اللہ! کیا شان تھی کہ آپ کے والد بزرگوار (حضرت علی) بسم اللہ کی ”ب“ کا درجہ رکھتے تھے اور بیٹا ذبح عظیم کے معنی و تفسیر بن کر آیا۔ امت مسلمہ کے اس حسین شہزادے کے لئے رسول کریم کے مبارک کندھے سواری تھے۔ زندگی کے بطن سے متضاد قوتوں نے جنم لیا۔ جیسے موسیٰ  اور فرعون، جیسے شبیر (امام حسین) اور یزید ۔حق بہرحال قوت شبیری کے زور پر ہی زندہ رہتا ہے اور آخر کار داغ حسرت لے کر فنا ہو جانا، باطل کا مقدر ہے۔ وہ بہترین امت کا بہترین جلوہ تھا جو یوں اٹھا جیسے بارش سے بھرا ہوا بادل قبلہ کی سمت سے اٹھتا ہے یہ بادل کربلا کی زمین پر برسا اور کھل گیا۔ دشت میں گل ہائے لالہ کی فصل کاشت کی اور آگے بڑھ گیا۔ اس نے قیامت تک کے لئے جبر و استبداد کی جڑیں کاٹ دیں۔ اس کے لہو کی موجوں سے ایک نیا چمن لہلہا اٹھا۔ وہ حق و صداقت کیلئے خاک و خون میں مل گیا لیکن اس اصول کی بنیاد رکھ گیا کہ اللہ کے سوا کسی کے سامنے نہیں جھکنا۔ اس کا عزم جواں پہاڑوں کی طرح مضبوط و سر بلند تھا، مستحکم، پائیدار اور آمادہ عمل۔ اس نے بتایا کہ تلوار فقط دین کی عزت و آبرو اور آئین اسلام کی حفاظت کے لئے ہے مسلمان اللہ کے سوا کسی کی غلامی قبول نہیں کرتا اور اس کا سر کسی فرعون کے سامنے نہیں جھکتا۔ اس کے لہو نے یہ راز آشکارا کردیا اور سوئی ہوئی ملت کو بیدار کردیا۔ اس نے صحرا کی ریت پر الا اللہ کا نقش لکھا اور دراصل ہماری نجات کے عنوان کی سطر تحریر کردی۔ آج شام کی شان و شوکت جاتی رہی۔ بغداد کا کرو فر بھی تمام ہوگیا۔ غرناطہ کی شان بھی مٹ گئی لیکن ہماری زندگی کا ساز حسین کے مضراب سے زندہ ہے اس کے نعرہ تکبیر سے ہمارا ایمان تازہ ہے۔ اے باد صبا! اے بہت دور بسنے والوں کی قاصد! جا اور حسین کی قبر کی خاک پاک تک ہمارے آنسوؤں کا نذرانہ پہنچا دے۔“

    علامہ اقبال
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں