کتاب

عفراء نے 'نثری ادب' میں ‏جنوری 16, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    ہم دو ہزار روپے کے جوتے کو سستا اور دو سو روپے کی کتاب کو مہنگا سمجھتے ہیں۔ حالانکہ دنیا میں کتاب سے زیادہ سستی چیز کا تصور محال ہے۔ دو سو روپے میں دیوان غالب خرید کرہم صرف غالب کی شاعری نہیں اس کی پوری زندگی خرید لیتے ہیں، اور غالب کی پوری زندگی دو سو روپے کیا دو سو ارب روپے میں بھی سستی ہے۔ اس لیے کہ دو سو ارب روپے صرف کرکے بھی غالب کو پیدا نہیں کیا جاسکتا۔

    کالم سے اقتباس
    شاہنواز فاروقی​
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. مریم

    مریم -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2012
    پیغامات:
    844
    السلام علیکم
    کتاب سے دوری ہمارا ایک بڑا المیہ/۔۔۔۔۔۔۔۔۔!
     
  3. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    بہترین شئیرنگ سسٹر
    لیکن آجکل نیٹ نے ھر چھوٹے بڑے کو کتابوں سے دور کر دیا ھے

    مریم سسٹر کتاب سے دوری آجکل کے بچوں کا بہت بڑا المیہ ھے
     
  4. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    میں نےکہیں پڑھا تھا کہ جو قوم مہنگے جوتے خریدنے میں فخر اور سستی کتاب خریدنے میں دقت محسوس کرے اس قوم کو کتابوں سے زیادہ جوتوں کی ضرورت ھے
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  5. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    مجھے تو نیٹ نے ان کتابوں تک پہنچایا ہے جو یہاں لائبریریز میں نہیں ملتیں اور منگوانے پر کئی مہینے لگتے ہیں ۔ وہ بھی مفت ۔
     
  6. عطاءالرحمن منگلوری

    عطاءالرحمن منگلوری -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 9, 2012
    پیغامات:
    1,490
    یہ جملہ کتابوں کی دکان پر نمایاں جگہ آویزاں ہونا چاھیے۔۔
    کتابوں سے واقعی ہم لوگ بہت دور ہیں،لائیبریری میں جاتے ہوئے لوگ گھبراتے ہیں۔اسلام آباد کی ایک لائیبریری کے دروازے پر ایک دفعہ مجھے اس لئے روک دیا گیا کہ میں اس کا ممبر نہیں تھا۔بڑی مشکل سے لائیبریری دیکھنے کی اجازت ملی۔معلوم ہوا کہ وہاں بہت کم لوگ آتے ہیں اور کسی نووارد کو انتظامیہ اپنے آرام میں مداخلت تصور کرتی ہے۔اب نیٹ نے اور بھی دور کردیا ہے۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  7. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    بچوں کو مطالعہ کرنے والا کیسے بنایا جائے؟ -- شاہنواز فار وقی

    ہمارے زمانے میں اکثر بڑے اس بات کی شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ ان کے بچے کہنے کے باوجود مطالعہ نہیں کرتے۔ لیکن عام طور پر یہ شکایت 15، 20 سال کے ’’بچوں‘‘ کے بارے میں کی جاتی ہے اور شکایت کرنے والے بھول جاتے ہیں کہ انسان کو جو کچھ بننا ہوتا ہے 8، 10 سال کی عمر تک بن جاتا ہے۔ اس کے بعد جو کچھ سامنے آتا ہے وہ بچپن کی تفصیل ہوتی ہے۔ اس کے معنی یہ ہیں کہ اگر ہم اپنی نئی نسل کو مطالعے کا شوقین بنانا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے بچوں کو 4، 5 سال کی عمر سے پڑھنے والا بنانا ہوگا۔ لیکن سوال یہ ہے کہ 4، 5 سال کی عمر کے بچوں کو پڑھنے والا کیسے بنایا جاسکتا ہے۔؟
    اس مسئلے کا تمام روایتی تہذیبوں باالخصوص اسلامی تہذیب نے ایک زبردست حل تلاش کیا ہوا تھا اور وہ یہ کہ پڑھنے والوں کو پہلے ’’سننے والا‘‘ بنائو۔ یعنی Reader کو پہلے Listener کے ’’مرتبے‘‘ پر فائز کرو۔ برصغیر کے مسلمانوں کی ہند اسلامی تہذیب نے اس کی ابتدائی صورت یہ پیدا کی تھی کہ بچوں کو شیرخوارگی کی عمر سے طرح طرح کی ’’لوریاں‘‘ سنائی جائیں۔ مثلاً ایک لوری تھی۔
    حسبی ربیّ جل اللہ
    مافی قلبی غیر اللہ
    نور محمد صل اللہ
    لا الہٰ الا اللہ
    غور کیا جائے تو چار مصرعوں کی اس لوری میں پوری توحید اور رسالت موجود ہے۔ اس میں جامعیت بھی ہے اور اختصار بھی۔ اس لوری میں صوتی حُسن بھی بدرجہ اتم موجود ہے۔ جو بچے اس لوری کو سنتے تھے وہ اسلام کی بنیاد سے بھی آگاہ ہوتے تھے ان کے مزاج میں ایک شاعرانہ آہنگ بھی پیدا ہوجاتا تھا اور زبان کا ایک سانچہ بھی انہیں فراہم ہوجاتا تھا۔ ایک بچہ تین، چار سال کی عمر تک یہ لوری ہزاروں بار سنتا تھا اور یہ لوری اس کے شعور میں راسخ ہوکر اس کی شخصیت کا حصہ بن جاتی تھی۔ لیکن لوریوں کی دنیا صرف اس لوری تک محدود نہ تھی۔ ایک لوری جو ہم نے ہزاروں بار سنی یہ تھی۔
    آری نندیا آجا
    ’’فلاں‘‘ کو سُلا جا
    فلاں کی آنکھوں میں گھُل مل کے
    فلاں کا سوہنا نام بتا جا
    آتی ہوں بھئی آتی ہوں
    فلاں کو سلاتی ہوں
    فلاں کی آنکھوں میں گھُل مل کے
    فلاں کا سونا نام بتاتی ہوں
    آگئی لو آگئی
    فلاں کو سلا گئی
    فلاں کی آنکھوں میں گھُل مل کے
    فلاں کا سوہنا نام بتا گئی
    لائو جی لائو میری مزدوری دو
    لو جی لو تم لڈو لو
    لڈو میں سے نکلی مکھی
    فلاں کی جان اللہ نے رکھی
    اس لوری میں لوری سننے والے کا نام بدلتا رہتا تھا مگر مگر لوری یہی رہتی تھی۔ کہنے کو یہ لوری مذہبی نہیں ہے مگر اس لوری میں مذہب سطح پر موجود ہونے کے بجائے اس کی ’’ساخت‘‘ اور اس کی معنوی بُنت میں موجود ہے۔ یہاں کہنے کی اصل بات یہ ہے کہ یہ لوریاں بچوں میں مذہبی شعور، شاعرانہ مزاج اور زبان وبیان کی عمدہ اہلیت پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتی تھیں۔
    بچے 4، 5 سال کی عمر کے ہوتے تھے تو ان پر کہانیوں کی دنیا کا در کھل جاتا تھا۔ کہانیاں سنانے والے گھر کے لوگ ہوتے تھے۔ بظاہر دیکھا جائے تو کہانی پڑھنے اور سننے میں کوئی خاص فرق نظر نہیں آتا۔ لیکن ایسا نہیں ہے۔ کہانی پڑھنے او رسننے کے اثرات میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ کہانی سننے کے عمل میں کہانی سنانے والے کی شخصیت سے منسلک ہوجاتی ہے اور اس میں ایک ’’انسانی عنصر‘‘ در آتا ہے جو کہانی کو حقیقی بنانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ کہانی کی سماعت کا ایک فائدہ یہ ہے کہ کہانی سنتے ہوئے سامع کا تخیل پوری طرح آزاد ہوتا ہے اور وہ کہانی کے ساتھ سفر کرتا ہے۔ کہانی سنانے والی کی آواز کا اتار چڑھائو کہانی میں ڈرامائیت پیدا کردیتا ہے جس سے کہانی کی تاثیر بڑھ جاتی ہے۔ عام طور پر کہانی سنانے والا کہانی سناتے ہوئے ہاتھوں کی مخصوص حرکت اور چہرے کے تاثرات کو بھی کہانی کا حصہ بنا دیتا ہے۔ جس سے ایک جانب کہانی کی فضا اور ماحول پیدا ہوتا ہے اور دوسری جانب کہانی کو برجستگی کا لمس فراہم ہوتا ہے۔ کہانی پڑھنے کے اپنے فوائد ہیں مگر کہانی کی سماعت کا اپنا لطف اور اپنا اثر ہے اور بچپن میں کہانی کی سماعت کہانی کو پڑھنے سے زیادہ اہم ہوتی ہے۔
    بچپن میں یہ بات کبھی ہماری سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ کہانی سنانے والے رات ہی کو کیوں کہانی سناتے ہیں۔ دن میں کہانی کیوں نہیں سناتے۔ بلکہ ہم ان سے دن میں کہانی سنانے کی ضد کرتے تھے تو وہ مسکراتے تھے اور کہتے تھے دن میں کہانی نہیں سنتے ورنہ ماموں راستہ بھول جاتے ہیں اور ہم ماموں کو راستے پر گم ہونے سے بچانے کے لیے کہانی سننے کی ضد ترک کردیتے تھے۔ لیکن اب اس عمر میں تھوڑا بہت پڑھنے اور غور کرنے سے معلوم ہوا کہ کہانی اور رات کا چولی دامن کا ساتھ ہے اور دن میں کہانی کا اثر گھٹ کر آدھے سے بھی کم رہ جاتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ رات اسرار کا سمندر ہے اور رات کا لمس عام کہانی کو بھی پراسرار بنا دیتا ہے۔ تجزیہ کیا جائے تو رات کی کہانی میں جہاں عمودی جہت یا Vertical Dimension پیدا کرتی ہے وہیں دوسری جانب وہ کہانی میں وہی کردار ادا کرتی ہے جو فلم یا ٹیلی ڈرامے میں سیٹ اور روشنیاں پیدا کرتی ہیں۔ یہاں کہنے کی اصل بات یہ ہے کہ کہانی کی سماعت بچوں کو مطالعے پر مائل نہیں ’’مجبور‘‘ کر دیتی ہے۔ اس لیے کہ سماعت شاعری اور کہانی کو سامع کی شخصیت کا جز بنادیتی ہے۔ چنانچہ جو لوگ اپنے بچوں کو پڑھنے والا بنانا چاہتے ہیں ان کے لیے لازم ہے کہ وہ بچوں کو ابتداء ہی سے ادب کی مختلف ہستیوں یا Forms کا سامع بنائیں۔ سماعت مطالعے کو صرف شوق نہیں بناتی ذوق بھی بناتی ہے۔ آج سے 30، 40 سال پہلے عام اسکولوں کے طلبہ بھی 10، 12 سال کی عمر تک پہنچتے پہنچتے ایک ڈیڑھ درجن نظموں کے ’’حافظ‘‘ ہوجاتے تھے۔ ان میں سے اکثر کا یہی حافظہ انہیں ’’مشاعروں‘‘ تک لے جاتا تھا اور مشاعرے انہیں ’’شعری مجموعوں‘‘ کے مطالعے پر مجبور کردیتے تھے۔ لیکن ہماری معاشرتی زندگی سے ادب کی سماعت کا پورا منظر نامہ غائب ہوچکا ہے۔ اب نہ کہیں لوریاں ہیں۔ نہ کہانیاں۔ پہیلیاں ہیں نہ نظموں کا حافظ ہے۔ اب ہم چاہتے ہیں کہ جس بچے نے دس، پندرہ سال تک شاعری یا کہانی کے ذیل میں کچھ بھی نہیں سنا وہ اچانک ادب پڑھنے والا بن جائے۔ یہ دیوار میں در بنانے کی خواہش ہے۔ اس کے برعکس بچپن سے فراہم ہونے والی شعر وادب کی ’’سماعت‘‘ شخصیت کو ایک ایسی عمارت بنا دیتی ہے جس میں دروازے اور کھڑکیاں فطری طور پر عمارت کے نقشے کے حصے کے طور پر موجود ہوتے ہیں۔
    بچوں کے بارے میں ایک بنیادی بات یہ ہے کہ وہ اپنے ماحول میں موجود بڑوں کی نقل کرتے ہیں چنانچہ یہ نہیں ہوسکتا کہ کسی معاشرے میں بڑے کتاب نہ پڑھ رہے ہوں اور بچوں سے مطالبہ کیا جائے کہ وہ کتاب پڑھیں۔ اس سلسلے میں والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری بنیادی ہے۔ والدین اور اساتذہ بچوں کو کتاب پڑھتے ہوئے اور کتاب کی اہمیت پر اصرار کرتے ہوئے نظر آئیں گے تو بچوں میں مطالعے کا رحجان شوق بنے گا اور شوق ذوق میں تبدیل ہوگا۔ کتاب کے سلسلے میں بچوں ہی کو نہیں بڑوں کو بھی یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ کتاب بیک وقت دنیا کی سب سے مہنگی اور سب سے سستی چیز ہے۔ کتاب دنیا کی مہنگی ترین چیز اس لیے ہے کہ ایک کھرب ڈالر صرف کرکے بھی ایک شیکسپیئر ایک میر تقی میر اور ایک مولانا مودودیؒ پیدا نہیں کیا جاسکتا۔ کتاب دنیا کی سستی ترین چیز اس لیے ہے کہ جو کلیات میر ایک کھرب ڈالر خرچ کر کے بھی تخلیق نہیں کی جاسکتی وہ ہمیں بازار سے 5سو روپے میں مل جاتی ہے-
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  8. رفی

    رفی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 8, 2007
    پیغامات:
    12,395
    کتاب کتاب ہوتی ہے، چاہے ای بُک ہو یا پرنٹڈ بُک ۔ ۔ ۔ ۔:ڈ
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  9. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    اور پڑھنے والے نیٹ پر بھی ڈھونڈ کر چاٹ جاتے ہیں : ) نہ پڑھنے والے ہارڈ کاپی سے بھی اکتا جاتے ہیں :( !!
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  10. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    معاشرے میں ’’مطالعے کا قحط‘‘ -- شاہنواز فاروقی

    قحط پڑتا ہے تو لاکھوں لوگ بھوک سے مر جاتے ہیں اور قحط کی خبر ہر اعتبار سے عالمگیر ہوجاتی ہے۔ اس کی وجہ ظاہر ہے۔ قحط ایک انتہائی غیر معمولی صورتِ حال ہے اور بھوک سے لاکھوں افراد کا ہلاک ہوجانا دل دہلانے والا واقعہ ہے۔ لیکن پوری دنیا بالخصوص پاکستان میں مطالعے کا قحط پڑگیا ہے اور اس سے ہر سال لاکھوں افراد روحانی‘ ذہنی‘ نفسیاتی اور جذباتی موت کا شکار ہورہے ہیں لیکن یہ صورت ِحال ابھی تک اخبارات میں ایک کالم کی خبر بھی تخلیق نہیں کرسکی ہے۔

    اس کی وجہ ہے۔ لوگ جسمانی غذا‘ اس کی قلت اور اس قلت کے مضمرات کو سمجھتے ہیں، مگر وہ اس حقیقت کا ادراک کرنے میں ناکام ہیں کہ انسان کو جس طرح جسمانی غذا کی ضرورت ہوتی ہے اسی طرح روحانی‘ ذہنی‘ نفسیاتی اور جذباتی غذا بھی درکار ہوتی ہے، اور مطالعہ اس غذا کی فراہمی کا بہت بڑا ذریعہ ہے۔ معاشرے میں جن لوگوں کو حقیقتِ احوال کا تھوڑا بہت اندازہ ہے انھوں نے مطالعے سے گریز اور اس کو نظرانداز کرنے کے سلسلے میں طرح طرح کے عذر تراش لیے ہیں۔

    مثال کے طور پر ایک عذر یہ ہے کہ کتابیں‘ رسالے اور اخبارات مہنگے ہوگئے ہیں۔ اور یہ بات ایک حد تک درست ہے۔ لیکن اس حوالے سے جب ہم اپنے معاشرتی منظرنامے پر نظر ڈالتے ہیں تو یہ ہولناک حقیقت سامنے آتی ہے کہ ہم دو کروڑ کا گھر خریدتے ہیں‘ اس میں 20 لاکھ کی دو‘ دو‘ تین تین گاڑیاں رکھتے ہیں۔ اس گھر میں زندگی کی مہنگی سے مہنگی آسائش موجود ہوتی ہے مگر چھوٹا سا کتب خانہ نہیں ہوتا۔ حالانکہ ایک وقت وہ تھا جب متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے گھروں میں بھی سو‘ ڈیڑھ سو کتابیں ضرور ہوتی تھیں، مگر اب ہماری جھونپڑیوں میں کیا ’’محلوں‘‘ میں بھی کتب خانہ نہیں ہوتا۔ ہم پانچ ہزار کا جوتا خریدتے ہیں اور اسے سستا سمجھتے ہیں، لیکن 200 روپے کی کتاب کو ہم مہنگا کہتے ہیں۔

    نتیجہ یہ ہے کہ اب اکثر کتابوں کا ایڈیشن ایک ہزار کتابوں پر مشتمل ہوتا ہے۔ ان میں سے دو‘ تین سو کتابیں مصنف خود دوستوں میں مفت تقسیم کردیتا ہے‘ باقی کتابیں تین چار سال تک کتب فروشوں کے یہاں پڑی رہتی ہیں۔ چنانچہ اب دیکھنے میں آرہا ہے کہ بہت سی کتب پانچ سو کی تعداد میں شائع ہوتی ہیں اور عام طور پر ان کی اشاعت خود مصنف کے سرمائے سے ہوتی ہے۔ پاکستان کی آبادی 17 کروڑ ہے اور ملک میں شائع ہونے والے تمام اخبارات و رسائل کی مجموعی اشاعت بیس پچیس لاکھ سے زائد نہیں۔

    اخبار کا مطالعہ‘ مطالعے کی سیڑھی کا پہلا پائیدان ہے، لیکن اس پائیدان کی حالت بھی خستہ ہے۔ اخبارات کے قارئین کا کافی بڑا حصہ ’’مانگ کر‘‘ اخبار پڑھتا ہے۔ جو لوگ خرید کر اخبار پڑھتے ہیں اُن کی اکثریت پورا اخبار نہیں پڑھتی۔ اکثر قارئین اپنی دلچسپی کی خبریں پڑھتے ہیں۔ کم لوگ اخبار کی تمام خبریں ملاحظہ کرتے ہیں۔ اس سے بھی کم لوگ وہ ہیں جو اخبار کے کالم یا اداریہ پڑھتے ہیں۔ نتیجہ یہ کہ اخبار کے اکثر قارئین کا مطالعہ‘ مطالعہ کم اور اخبار کے ساتھ تانک جھانک یا “Flirt” زیادہ ہوتا ہے۔ اس صورت ِحال نے معاشرے میں ’’مطالعے کا قحط‘‘ پیدا کردیا ہے۔

    سوال یہ ہے کہ اس قحط سے نجات کیسے حاصل کی جاسکتی ہے؟ یہ زیادہ پرانی بات نہیں کہ برصغیر کی معاشرت میں علم و ادب کا چرچا تھا۔ آج ہمارا کوئی ادبی رسالہ پانچ سو یا ہزار سے زیادہ شائع نہیں ہوتا لیکن ساٹھ‘ ستّر سال پہلے اردو کے بعض ادبی جرائد کی ماہانہ اشاعت 75 ہزار سے زیادہ تھی۔ اُس وقت بعض شاعر، ادیب اتنے مقبول تھے کہ ان کو فلمی اصطلاح میں ’’سپر اسٹار‘‘ کہا جاسکتا ہے۔

    اُس زمانے میں پانچ دس ہزار افراد کے مشاعرے چھوٹے یا اوسط درجے کے کہلاتے تھے۔ تجزیہ کیا جائے تو اس فضا کا سب سے بڑا سہارا ہماری زبانی روایت یا Tradition Oral تھا۔ اُس زمانے میں کوئی گھر ایسا نہ تھا جہاں کہانیاں سنانے والا‘ لہک لہک کر نظمیں پڑھنے والا اور پہیلیاں بوجھنے والا نہ ہو۔ اُس زمانے کی کہانیاں متنوع ہوتی تھیں۔ ان میں مذہبی اور تاریخی قصے تھے۔ بادشاہوں‘ جنوں اور پریوں کی کہانیاں تھیں۔ ان میں انسان کی روح‘ قلب‘ ذہن اور تخیل کے لیے بہت کچھ تھا۔ ان قصوں اور کہانیوں سے بچوں میں مذہبیات اور ادب کا ذوق و شوق پیدا ہوجاتا تھا اور بچے اس ’’سمعی علم‘‘ کے ساتھ آسانی سے کتاب کی محبت میں گرفتار ہونے کے قابل ہوجاتے تھے۔

    اُس وقت مشاعرے کا ادارہ اتنا مستحکم اور طاقت ور تھا کہ جو ایک بار مشاعرے میں چلا جاتا تھا اسی کا ہوکر رہ جاتا تھا۔ اُس وقت مشاعرے میں اتنی جان تھی کہ اگر کوئی شخص صرف مشاعرے کی روایت سے وابستہ ہوجاتا تھا اور لکھی ہوئی شاعری نہیں بھی پڑھتا تھا تو بھی اس کا شاعرانہ ذوق نکھر جاتا تھا۔ یہ ذوق اکثر لوگوں کو شاعری ہی نہیں ادب کی دیگر اصناف کی طرف لے جاتا تھا۔

    پہیلیاں بظاہر معمولی چیز نظر آتی ہیں مگر ان میں ایک شعریت بھی تھی اور یہ صلاحیت بھی کہ وہ پہیلیاں پوچھنے اور بوجھنے والوں کو اشارے‘ کنائے اور رمز کی زبان بھی سکھا دیتی تھیں۔ اس گفتگو کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہمیں معاشرے میں مطالعے کا ذوق و شوق پیدا کرنا ہے تو اپنی کہانیاں کہنے‘ نظمیں سنانے اور پہیلیاں بوجھنے کی زبانی روایت یا Oral Tradition کو پھر سے زندہ کرنا ہوگا۔ یعنی ہمارے والدین کو اپنے بچوں‘ دادا دادی اور نانا نانی کو اپنے پوتوں پوتیوں اور نواسے نواسیوں، اور بڑے بہن بھائیوں کو اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے ایک بار پھر کچھ نہ کچھ وقت نکالنا ہوگا۔

    اس سے صرف مطالعے کا رجحان ہی پیدا نہیں ہوگا بلکہ خاندانی مراسم بھی بہتر ہوں گے اور ان میں محبت و تعلق کے خیالات و جذبات کی ’’نئی سرمایہ کاری‘‘ بھی ہوگی۔ غور کیا جائے تو ہماری زبانی روایت یا Oral Tradition میں دو بڑی خوبیاں تھیں۔ وہ برجستہ بھی تھا اور مرتب یا Institutionalized بھی۔ مطالعے کے رجحان کو مزید مرتب اور منظم کرنے کے لیے ناگزیر ہے کہ ہم مطالعے کو اپنے پورے تعلیمی نظام کا جزو لاینفک بنادیں۔ اس کی روایتی صورت تو یہ ہے کہ ہمارے معمول کے تدریسی نظام میں لائبریری کے لیے کچھ وقت مقرر ہوتا ہے، اس وقت کو بڑھانے کی ضرورت ہے اور ہفتے میں کم از کم تین پیریڈ لائبریری کے لیے مختص ہونے چاہئیں۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ہر اسکول‘ ہر کالج اور ہر یونیورسٹی میں ایک اچھا کتب خانہ موجود ہو۔ تاہم مطالعے کو تعلیمی نظام کا ناگزیر حصہ بنانے کے لیے ضروری ہے کہ پانچویں جماعت سے کتاب بینی ایک لازمی مضمون کے طور پر متعارف کرائی جائے۔

    اس مضمون میں بچوں کو کسی بھی موضوع بالخصوص ادبی نوعیت کی تین کتابیں پڑھنا اور پھر ان پر ایک تبصراتی اور تجزیاتی مضمون لکھنا ضروری ہو۔ بڑی جماعتوں بالخصوص یونیورسٹی کی سطح پر کتابوں کی تعداد مزید بڑھا دی جائے اور طالب علموں کے لیے ضروری ہوکہ وہ کتابوں پر لکھے ہوئے اپنے مضمون کو پوری جماعت کے سامنے سنائیں اور اس پر اگر کوئی اعتراض ہو تو اس کا تسلی بخش جواب دیں۔ اس طرح مطالعہ نہ صرف یہ کہ ابتدا ہی سے بچوںکی ’’عادت‘‘ بن جائے گا بلکہ ان کے فہم کی سطح بھی بلند ہوگی اور ان کی اظہار کی تمام صلاحیتیں بھی فروغ پائیں گی۔ ہر سطح کے تعلیمی نظام میں تقریر اور تحریر کے مقابلوں کو اس طرح ادارتی یا Institutionalize صورت دینے کی ضرورت ہے کہ ان مقابلوں کی پوری عمارت مطالعے پر کھڑی ہو۔ بدقسمتی سے ہمارے تقریری مقابلوں میں ساری توجہ زورِبیان پر دی جاتی ہے۔ حالانکہ خطابت میں اصل چیز صداقت اور مواد ہے۔ جس تقریر میں صداقت نہیں اور جس تقریر میں مواد کی سطح بلند نہیں وہ بے کار بلکہ چیخ وپکار ہے۔ ہمارے تقریری اور تحریری مقابلوں کا ایک بڑا نقص یہ ہے کہ ان کے لیے بہت چھوٹے انعامات اور اعزازات رکھے جاتے ہیں، حالانکہ ان کے لیے انعام اور اعزاز اتنا بڑا ہونا چاہیے کہ شرکاء مقابلہ جیتنے کے لیے اپنے پورے وجود کی قوت صرف کردیں۔

    ایسے مقابلے اگر ضلعی‘ صوبائی اور قومی سطح پر منعقد ہونے لگیں تو ان کے معیار اور ساکھ دونوں میں اضافہ ہوگا اور مطالعہ طالب علموں کے لیے محض ’’مشغلہ‘‘ یا Part time نہیں رہے گا‘ ایک ’’اہم ضرورت‘‘ بن جائے گا۔ ہماری قومی زندگی کا المیہ یہ ہے کہ اس میں طاقت‘ دولت‘ شہرت اور ان کی اقدار کا غلبہ ہوگیا ہے۔ اس پر طرہ یہ ہے کہ یہ چیزیں چند شعبوں مثلاً سیاست‘ کھیل‘ اداکاری اور گلوکاری سے وابستہ ہوکر رہ گئی ہیں۔ چنانچہ نئی نسل کے ہیروز یا تو کھلاڑی ہیں یا اداکار‘ گلوکار یا سیاست دان۔ اس منظرنامے میں نہ کہیں علم موجود ہے نہ صاحبِ علم۔ چنانچہ ہماری نئی نسلوں کے لیے علم اور تخلیقی سرگرمیوں میں کوئی کشش نہیں۔ اس صورتِ حال کی تبدیلی کے لیے ہیروز کی تبدیلی اور ہیروز کی فہرست میں ترجیحات کے اعتبار سے ردوبدل ناگزیر ہے۔

    اس کے لیے ضروری ہے کہ اقتدار اہلِ علم کے ہاتھ میں ہو، تاکہ علم اور طاقت کی یکجائی اجتماعی زندگی کا مرکزی حوالہ بن جائے۔ اس سلسلے میں ذرائع ابلاغ کا کردار اس لیے بنیادی ہے کہ مثالیوں یا Ideals کی تشکیل کے حوالے سے ان کی بڑی اہمیت ہوگئی ہے۔ اخبارات کو طے کرنا ہوگا کہ اگر وہ کھلاڑیوں، اداکاروں اور گلوکاروں کے لیے ہفتے میں ایک صفحہ مختص کرتے ہیں تو انہیں اہلِ علم کے لیے ہفتے میں کم از کم تین صفحے وقف کرنے ہوں گے، یا اگر ریڈیو اور ٹیلی ویژن ہفتے میں کھلاڑیوں اور اداکاروں کو ایک گھنٹہ دیتے ہیں تو انہیں اہلِ علم کے لیے تین گھنٹے صرف کرنے ہوں گے۔ ہیروز کی اس پیشکش میں پورے معاشرے کے لیے ایک پیغام ہوگا اور اس کے نتیجے میں ہم پورے معاشرے کو علم اور مطالعہ سے منسلک کرسکیں گے۔ پوری انسانی تاریخ میں کتب خانوں نے مطالعے کے رجحان کو پیدا کرنے‘ اسے فروغ دینے اور برقرار رکھنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

    ایک زمانہ تھا کہ دنیا کے بڑے شہر دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ بڑے کتب خانوں سے بھی پہچانے جاتے تھے۔ لیکن اب ہمارے ملک کی صورتِ حال یہ ہے کہ کراچی تقریباً پونے دو کروڑ کی آبادی کا شہر ہے اور اس میں کوئی ایسی لائبریری نہیں جہاں سے کتابیں جاری کراکے مطالعے کے لیے گھر لائی جاسکیں۔ مثالی بات تو یہ ہے کہ کونسلر کے حلقے کی سطح پر چھوٹی چھوٹی لائبریریوں کے قیام کے ذریعے پورے ملک کو کتب خانوں سے آراستہ کردیا جائے۔ لیکن یہ ممکن نہ ہو تو بڑے شہروں میں دس لاکھ افراد کے لیے کم از کم ایک کتب خانہ ضرور ہونا چاہیے۔ اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ کتابوں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں مطالعے کے رجحان کی حوصلہ شکنی کررہی ہیں۔

    کتابوں کی قیمتیں کم کرنے کی تین صورتیں ہیں: ایک یہ کہ ہم اپنے ملک میں ہی کاغذ پیدا کرنے لگیں‘ دوسرے یہ کہ اشاعتی اداروں کو اس بات کا پابند کیا جائے کہ وہ ہر قابلِ ذکر کتاب کے مجلّد یا Hard bound اور غیر مجلّد یا Paper Back ایڈیشن شائع کریں تاکہ کم آمدنی والے افراد بھی غیر مجلّد کتاب خرید کر اپنے شوقِ مطالعہ کی تسکین کرسکیں۔ کتابوں کی قیمتوں کو کم کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ زیادہ تعداد میں شائع ہونے والی کتابوں کی شرحِ منافع کی حد مقرر کردی جائے۔

    مطالعے کے فروغ کی ایک صورت یہ ہے کہ کتاب کو معاشرے کا سب سے بڑا اور قیمتی ’’تحفہ‘‘ بنادیا جائے، یہاں تک کہ معاشرے میں کتاب کا تحفہ دینا اور لینا فخر اور مسرت کی بات بن جائے۔ لیکن ان تمام کاموں سے پہلے معاشرے کو یہ بتانے کی ضرورت ہے کہ مطالعے کے فوائد بے شمار ہیں۔ انسان کے مشاہدات و تجربات اور خیالات بہت ہونے کے باوجود کم ہی ہوتے ہیں، لیکن مطالعہ مشاہدات، تجربات اور خیالات کا سمندر ہے، اور جو شخص کتاب پڑھتا ہے‘ یہ سمندر اُس کی ذاتی متاع بن جاتا ہے۔ مطالعے کی اہمیت یہ ہے کہ صرف ایک کتاب کا اچھی طرح مطالعہ انسان کو کچھ سے کچھ بنادیتا ہے۔ انسان جب کتاب پڑھنا شروع کرتا ہے تو وہ کسی اور طرح کا آدمی ہوتا ہے، اور جب وہ کتاب ختم کرتا ہے تو کسی اور طرح کا شخص بن چکا ہوتا ہے۔

    اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اگر ایک کتاب انسان کو اتنا بدل سکتی ہے تو سو کتابیں انسان کو کس طرح تبدیل کرسکتی ہیں! مطالعے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ یہ انسان کو مرتب اور منظم انداز میں سوچنا اور اظہار کرنا سکھاتا ہے، اور انسان کی کند ذہنی اور گونگا پن دور ہوجاتا ہے۔ مطالعہ کند ذہن شخص کو اوسط درجے کی ذہنی صلاحیت عطا کردیتا ہے‘ اوسط ذہنی صلاحیت کے حامل شخص کو ذہین بنادیتا ہے، اور ذہین شخص کو مطالعہ عبقری یا Genius بنادیتا ہے۔

    مطالعہ خودآگہی اور ماحول شناسی کا ذریعہ ہے اور ان دونوں چیزوں کے بغیر انسان اپنی زندگی کی معنویت کا تعین نہیں کرسکتا۔ اس تناظر میں دیکھا جائے تو ایک اچھی اور بڑی کتاب سے زیادہ سستی چیز کوئی ہو ہی نہیں سکتی۔ اچھی اور بڑی کتاب دو سو روپے کی کیا دو ہزار‘ دو لاکھ یا دو کروڑ روپے کی ہو تو بھی سستی ہے کیونکہ وہ مٹی کو سونا‘ حیوان کو انسان اور قبیح کو جمیل بناسکتی ہے۔
     
  11. Bilal-Madni

    Bilal-Madni -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 14, 2010
    پیغامات:
    2,469
    کتاب سے رشتہ کمزور کیوں؟ (عبدالرحمن آفتاب)

    تعلیمی نظام میں اگر کتابوں کے کردار کا جائزہ لیں تو ےہ فقط امتحان میںکامیابی حاصل کرنے کا ذریعہ نظر آتی ہیں۔ بچے کی عمر تین سال ہوتے ہی اسے اسکول میں داخل کرادیا جاتا ہے۔ جہاں اسے انگریزی حروف کی شُدبُد ہوتے ہی کمپیوٹر سمیت دیگر فنون کی تعلیم شروع کرادی جاتی ہے اور یوں باقاعدہ نصابی تدریس کا آغاز بھی ہوجاتا ہے۔ جن کتابوں میں مضامین اس قدر مشکل اور بور ہوتے ہیںکہ طالب علم کے لئے کتاب کا تصّور خوفناک صورتحال اختیار کر جاتا ہے۔ اس طرح طالب علم عمر کی ابتدائی ایام میں ہی یہ بات ذہن میں پیدا ہوجاتی ہے کہ اس کتاب کا مقصد بجائے تعلیم کا حصول اور مطالعے کے اسکول کی پڑھائی اور روز کا ہوم ورک ہی ہے۔ یعنی کتاب کا ایک سخت گیر سا تّصور اس کے ذہن میں راسخ ہو جاتا ہے، امتحانات کے لئے رٹا لگانا اور یہ نہیں معلوم ہوتا ہے کہ میں کیا پڑھ رہا ہوں یا کیوں پڑھ رہا ہوں۔

    ہمارے ہاں اول تو اسکول میں لائبریریاں ہوتی ہی نہیں ہیں اگر ہوتی بھی ہیں تو نہ ہونے کے برابر لہٰذا، طالب علم کتاب کو فرض اور ذمہ داری ادا کرنے کا ذریعہ ہی سمجھتا اور مطالعہ سے محفوظ ہونے کے ذائقہ سے آشنا نہیں ہوتا۔ یہی وجہ ہے کہ فرصت کے لمحوں میں طلبہ کتابوں سے دور بھاگتے ہیں۔ انہیں لگتا ہے کہ کتاب صرف پڑھائی کے لئے ہے۔ اس کے سوا پوری زندگی ان کو کو ئی مصرف نہیں کمپیوٹر، انٹرنیٹ اور دیگر کھیل میں طلبہ اپنا وقت ضائع کرتے ہیں۔ کتاب اور مطبوعہ ذرائع ابلاغ یعنی اخبارات و رسائل کو ہمارے انہی رویوں اور خرابیوں سے خطرہ ہے۔ جب کے ہم زیادہ تر جدید برقی ذرائع ابلاغ کو دوش دیتے نظر آتے ہیں۔ یہ درست ہے کہ ان چیزوں نے بھی طلباءطبقہ کی بہت زیادہ توجہ حاصل کی ہے۔ مگر جب ہمارا ماحول اور نصاب انہیں مطالعے کی ترغیب ہی نہیں دے رہا تو ظاہر ہے نتیجہ یہی نکلنا ہے۔

    اسکول کے بعد کالج کی سطح پر اس رُجحان کا جائزہ لیں کہ جب نصاب کی لکھی بندھی نصابی کُتب کی قید سے آزاد ہونا ہے اور طالب علم کو اےک موضوع پر ایک سے زائد کُتب سے استفادہ کرنا پڑہتا ہے، تب بھی شوق کی کیفیت نہیں ہو پاتی اس کی وجہ یہ ہے کہ جب بچپن سے طالب علم کے ذہن میں یہ بات ہوگی کہ ےہ صرف پڑھنے اور رٹا لگنے کے لئے ہے تو پھر نتیجہ یہی نکلے گا۔ کالجوں کی سطح پر اگرچہ لائبریریاں ہوتی ہیں مگر وہاں پر بالب علم طبقہ میں مطالعہ کا اس قدر فقدان ہے کہ ےاتو الماریوں میں رکھی کتب کو لگی دیمک ہی نظر آتی ہے ےا کتب اس قدر پرانی اور خاستہ حالت میں مٹی میں اٹ چکی ہوتی ہیں کہ ان کو پڑھنے کو دل چاہتے ہوئے بھی نہیں چاہتا۔ دوسری جانب انتظامیہ کی غفلت کی وجہ سے کتنی ہی کتب وہاں سے غائب ہوچکی ہیں جو بھی پڑھنے کے لئے لے گیا واپس نہیں کرتا اور اس پر انتظامیہ بے فکر کوئی خاطر خواہ نوٹس بھی نہیں لیا جاتا۔ ےہ جو موجودہ صورتِ حال ہے یہ کوئی اُچھبنے کی بات نہیں دراصل جب طلباءکو اسکول میں ہی مطالعے کا شوق نہیں دلایا جاتا کتب کی اہمیت اور اس کی افادیت نہیں بتلائی جاتی تو اب بھلا وہ کہاں سے ان کتب کا مطالعہ کرنے لگے۔ اسکولوں میںلائبریریاں موجود نہیں اور کالج میں موجود ہے مگر وہاں شوق نہیں اب تو جامعات میں بھی کم و پیش ایسی ہی صورتِ حال دیکھنے کو ملتی ہے۔ کتاب سے دوری کی وجہ سے آج ہمارے طالب علم تعلیم اور عمل سے کوسوں دور ہوتے جارہے ہیں۔

    ایک طرف ان کو اپنے احسا سات اور تاثرات کا اظہار کرنے کے الفاظ نہیں ملتے تو دوسری طرف ان کی آگہی اور علم کے فقدان کی وجہ سے ان کی معلومات محدود نصاب پر ہی اٹک جاتی ہے۔ زبان و آداب کاشغف تو درکنار انہیں اپنے شعبے کی نئی آنے والی کُتب کا پتا انٹرنیٹ پر ہی چلتا ہے۔ جس سے ظاہر ہے مکمل استفادہ نہیں ہو پاتا۔ جدید ذرائع کی اہمیت اپنی جگہ لیکن طلبہ کو صحیح معنوں میں کتابوں سے جوڑنے کے لئے تعلیمی نظام اور نصاب میں نمایاں تبدیلیاں کرنی ہوں گی۔ ساتھ ہی والدین کو مطالعے کی اہمیت محسوس کرتے ہوئے بچوں کو مطالعہ کا شوق دلانا ہوگا۔ ہمارا نصب نچلی سطح پر غیر ضروری طوالت اور اُلجھنون کا شکار ہے۔ جس کے نتیجے میں طلبہ کو مطالعے کا وقت نہیں مل پاتا۔

    ضرورت اس امر کے طلباءکو نہ صرف اپنے دیگر مشاغل کے لئے فرصت نکالیں بلکہ کتابوں سے بھی دوستی کرتے ہوئے کچھ وقت ان کے لئے بھی نکالیں۔ ہر تعلیمی ادارے کے لئے ایک عدد فعال کُتب خانہ لازمی ہو۔ دسویں کلاسز تک سوسو نمبر کا ایک پرچہ اس حوالے سے شامل کیا جائے جس میں اس طرح کا نصاب ہو جو مطالعہ اور کُتب کی طرف راغب کرے اور انہی بنیادوں پر سوالات کے جوابات دیں۔ کُتب مبنی سے طالب علم سمجھنے کی استعداد میں اضافہ ہوتا ہے جو کسی بھی شعبے کو انتخاب کرنے والے طالب علم کی کاکرگی میں مثبت تبدیلی کا سبب بنتا ہے۔
     
  12. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
    کتاب کی سافٹ کاپی پڑھنے سے تشفی نہی ھوتی جب تک ہارڈ کاپی نہ پڑھ لی جائے۔ میرا خیال ھے ہارڈ بک کے مطالعہ کو عادت بنانا چاھیے ۔
     
  13. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    عادت ڈال لینے کی بات ہے ۔ ہم جیسوں کی ڈگریاں پہلے ہی لاکھوں میں جارہی ہیں، ہر کتاب کی ہارڈکاپی پڑھنے لگے تو گئے کام سے ۔ اس وقت آپ پیپر کی قیمت دیکھ لیں ۔
     
  14. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    ہہہہ کیا نقشہ کھینچا ہے ۔بالکل درست۔ میرا بھائی ایک دن میرے کمرے کے دروازے میں کھڑا تھا ۔ کہنے لگا میں کب سے یہاں کھڑا ہوں تمہیں کوئی خبر نہیں ۔ میں نے اسے بتایا کہ اتنی اہم کتاب مفت مل گئی ہے۔چھوٹی بات ہے۔ کہنے لگا: کتابی کیڑے نیٹ پر بھی کتابیں چاٹتے ہیں ۔ کتاب اتنی اچھی تھی کہ میں نے جوابی حملہ موخر کر دیا۔ویسے میں اسے جوابا فیس بک کا طعنہ دیتی ہوں۔ مزے کی بات اس کتاب کو ریفرنس بکس میں شامل کرنے پر مجھے ٹیچر سے شاباش ملی ۔
     
  15. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,052
    میں نے تو چائینہ کا ٹیب لے لیا ہے۔ اٹھارہ ہزار پانچ سو میں۔ جتنی مرضی کتابیں پڑھو اور جس طرح مرضی۔
    نظر تھکنے کا مسئلہ بھی اتنا گھمبیر نہیں جتنا کمپیوٹر پر ہوتا ہے۔ اور چارجنگ دو دن۔۔۔۔
     
  16. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,918
    جی ہاں آپ کی کتب بینی کا اندازہ ہے ہم کو! شاباش شاباش : )
    پہلی کیٹیگری کی مثال تو آپ نے دے دی دوسری کی لگتا ہے مجھے اپنی ہی دینا پڑے گی!
    کبھی ہم کو بھی کتابوں کا ایسا ہی چسکا تھا مگر افسوس پڑھائ اور ٹائم مینیجمنٹ کی عدم موجودگی نے مطالعے کی عادت ہی چھڑا دی ہے : (
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  17. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,954
    مطالعہ سے دور رہنے والوں کے لیے یاد دہانی !

    میرے ایک قریبی دوست ہیں۔ ان کے سامنے اگر کوئی یہ کہہ بیٹھے کہ اسے مطالعے کی عادت نہیں یا مطالعے کے لیے وقت نہیں ملتا تو وہ پلٹ کر جواب دیتے ہیں ،’’ اطمینان رکھیے ! آپ اس معاملے میں تنہا نہیں ہیں۔ دیگر جانور بھی کتابیں نہیں پڑھتے۔‘‘
    ریحان احمد یوسفی(منقول)
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 2
  18. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    بہت خوب ۔
    پرانی نسل کے کتاب دوستوں کے کچھ ایسے مقولے ملتے ہیں کہ وہ جنت میں بھی کتاب مانگیں گے ، ہماری نسل شاید جنت میں بھی ای لائبریریز اور آڈیو بکس مانگے گی ۔
     
  19. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,954
    نئی نسل ای لائبریریز اور آڈیوبکس سے فائدہ کب اٹھا رہی ہے ۔ ہزاروں کتابیں نیٹ پر اپ لوڈ ہوچکی ۔ فتاوی ، عقیدہ ، احکام وغیرہ ، ہر موضوع پر کتاب مل جائے گی ، لیکن پھر بھی دین کی بنیادی باتیں معلوم نہیں ۔ سوالات کثرت سے کرتے ہیں ۔ ایسے کئی اراکین دیکھنے میں آئے ہیں جو ایک سوال بار بار کرتے ہیں ۔ اس کی وجہ یہی کہ وہ ضرورت پوری کرلیتے ہیں ، کچھ حاصل کرنے کی کوشش نہیں کرتے اور نہ ہی نیٹ پر موجود فتاوی اور کتب سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ای اور آڈیو بکس سے بھی وہی کتاب دوست ہی مستفید ہو رہے ہیں ۔ ایک مضمون تیار کرنے کےلیے کئی کتابیں پڑھ ڈالتے ہیں ۔ کچھ سال پہلے تک میرا خیال تھا کہ اگر کتب یونی کوڈ میں منتقل ہوجائیں تو لوگ زیادہ فائدہ اٹھائیں گے ۔ لیکن اب یہ طریقہ بھی کارگرنہیں رہا ۔ ۔شاید لوگوں کو اس سے اختلاف ہو ۔ لیکن میری رائے میں‌کچھ ایسا ہی ہے ۔
     
  20. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,484
    میرا واسطہ زیادہ تر سٹوڈنٹس سے رہتا ہے اس لیے مجھے لگتا ہے کہ خوب پڑھائی ہو رہی ہے ۔ پچھلے دنوں ایک نومسلم سٹوڈنٹ کے لیے اس کی مادری زبان میں اسلامی ای بکس چاہئیں تھیں، ان کے ملک میں مسلمان نادر ہیں ۔ ہم سب نے کافی تلاش کی لیکن کچھ نہ مل سکا، اسلام ہاوس کا ایک ربط مجھے ملا اور سعودیہ میں مقیم اسی کے ملک کے ایک اور سٹوڈنٹ نے مدد کر دی ۔ ماشاءاللہ دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں ۔
    یہاں ایک پاکستانی سٹوڈنٹ کو میرے لیکچر کے ایک پوائنٹ پر اعتراض تھا ، ہم کلاس کے باہر کاریڈور میں کھڑے تھے ، میں اپنے لیپ ٹاپ سے تفاسیر دکھا کر بات سمجھا سکتی تھی اسی وقت اتفاق سے میں نے اس کے ہاتھ میں اچھا فون دیکھا، میں نے اسے ویب سائٹس کے روابط بھیجے کہ یہاں سے قرآن اور تفاسیر ڈاون لوڈ کرو اور اگلے لیکچر کے بعد ملو۔ وہیں فون سے تفاسیر نکال کر اسے بات سمجھا دی ۔ اس کے بعد اس نے اپنی کلاس فیلوز میں وہ کتابیں بانٹیں ، اور ان کے اصرار پر میں نے ان کی ایک ایکسٹرا کلاس لی کہ اسلامی علوم میں مدد کے لیے کون سے ڈیجیٹل سورسز میسر ہیں ۔ نئی نسل کوان کی زبان میں سمجھایا جائے تو بہت کام کی ہے ۔ اسی طرح علم کی خوشبو پھیلتی ہے ۔
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں