معرکۂ عظیم از رضی الدین سیّد

ابو عبیدہ نے 'نقطۂ نظر' میں ‏مارچ 13, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    معرکۂ عظیم


    از
    رضی الدین سیّد







    نیشنل اکیڈمی آف اسلامک ریسرچ کراچی
    فون: 0300-2397571






    نام کتاب …………………… معرکہء عظیم
    مصنف …………………… رضی الدین سیّد
    اشاعت اوّل 1000
    اشاعت دوم 1000
    اشاعت سوم 1000
    اشاعت چہارم جنوری 2005ء 1000
    اشاعت پنجم جنوری 2006ء 1000
    اشاعت ششم فروری 2007ء 1000
    تعداد صفحات …………………… 142
    تعداد …………………… 1000
    قیمت …………………… روپے





    فہرست مضامین
    نمبر مضامین صفحہ نمبر
    ۱۔ قرآن پاک میں بیان کردہ یہودیوں کے جرائم ۶
    ۲۔ یہودیوں کے نزدیک دجال کا مقام ۱۳
    ۳۔ کیا دجال کی آمد کے لئے اسٹیج تیار ہو رہا ہے؟ ۱۷
    ۴۔ مسلمانوں کی انفرادی عبادات بھی خطرے کی زد میں ۲۴
    ۵۔ اسرائیلی معیشت۔ زوال کا شکار ۳۱
    ۶۔ امریکی یہودی تنظیمیں اور ان کا کردار ۳۵
    ۷۔ ایک امریکی صدر جس نے اسرائیل کو اس کی اوقات یاد دلائی ۴۱
    ۸۔ ہولوکاسٹ اور اس وقت کی دنیا کا ردّ عمل ۴۶
    ۹۔ بنی اسرائیل پر ان کی مقدس کتابوں میں بھی پھٹکار کی گئی ہے ۵۱
    ۱۰۔ حضرت امام مہدی ؑ۔ احادیث کی روشنی میں ۵۶
    ۱۱۔ الملحمۃ الکبریٰ ۶۱
    ۱۲۔ ’’آرمیگاڈون ‘‘کی تیاریاں عروج پر ۶۸
    ۱۳۔ یہودیو! ہمارا فلسطین چھوڑ دو ۷۳
    ۱۴۔ اسرائیل اپنے محسنوں کو بھی نہیں بخشتا ۷۷
    ۱۵۔ مسئلہ فلطین اور ہماری ذمہ داریاں ۸۱
    ۱۶۔ عیسائیت آخرکار یہودیت کے آگے ڈھیر ہو گئی ۸۷
    ۱۷۔ یہودیوں اور عیسائیوں کا گٹھ جوڑ ۹۶
    ۱۸۔ دجال کے فتنے ۱۰۱
    ۱۹۔ نزول حضرت عیسیٰ علیہ السلام : حکمتیں ۱۰۶
    ۲۰۔ قائد اعظم اسرائیل کو ایک ناجائز وجود سمجھتے تھے ۱۰۹
    ۲۱۔ بھارت اور اسرائیل … دو متضاد کیس ۱۱۴
    ۲۲۔ تحریک ِ پاکستان اور تحریک ِ اسرائیل۔ ایک تقابلی مطالعہ ۱۱۸
    ۲۳۔ عالمی حکومت ۱۲۳
    ۲۴۔ مبغوض قوم یہودی۔ مگر اس کی خوبیاں۔ آہ! ۱۲۸
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    گزارشاتِ مصنف​


    یہودی سازشیں اتنی گہری ہیں کہ ان کا مکمل احاطہ کرنا شاید کسی کے بس کی بات نہیں۔ انہوں نے اپنی عیاری و ہوشیاری سے عیسائیوں تک کو اپنا ہمنوا بنا لیا ہے یہاں تک کہ وہ مسلمانوں کے قتل عام کے پُرزور وکیل بن گئے ہیں۔ جب کہ حیرت انگیز طور پر مدینے کے بعد ہماری ان سے کبھی لڑائی نہیں رہی ہے۔ بلکہ مسلمانوں نے تو انہیں ہمیشہ عزت و تحفظ ہی دیا ہے۔حضرت عیسیٰ ؑکو نام نہاد طور پر مصلوب کرنے میں انہی یہودیوں کا ہاتھ ہے۔ دوسری طرف ہم مسلمان حضرت عیسیٰ ؑکو عیسائیوں سے بھی بڑھ کر اللہ کے نبی مانتے ہیں۔ لہٰذا ہونا یہ چاہئے تھا کہ عیسائی قوم مسلمانوں کی ہمنوا ہوتی اورمل کر یہودیوں سے دشمنی کا اظہار کرتی لیکن اس وقت تمام عیسائی دنیا یہودیوں کے ساتھ مل کر مسلمانوں کو صفحۂ ہستی سے نیست و نابود کردینے کے درپے ہے۔ ان دونوں اقوام نے مسلمانوں کا ساری دنیا میں گھیراؤ کرلیا ہے اور ہر ملک کے باہر اور اندر اپنی افواج بٹھا دی ہیں تاکہ کہیں سے مزاحمت ہو تو انہیں فوری طور پر دبوچ لیا جائے۔ ان کا ارادہ تو بلکہ مکے اور مدینے پر قبضے کا بھی ہے۔

    عیسائی، یہودی اور مسلمان تینوں اقوام چونکہ صاحب کتاب ہیں اس لئے دجال، یاجوج ماجوج، ملحمۃ الکبریٰ اور حضرت مسیح علیہ السلام کی دوبارہ واپسی پر سب کے سب متفق ہیں۔ لیکن عجیب بات بلکہ تشویشناک امر یہ ہے کہ یہودی اور عیسائی تو ان آخری نشانیوں کے لئے دیوانہ وار بے تاب ہیں اور ماحول کو دنیا کی آخری ساعت کے مطابق تبدیل کرنے کے لئے بے چین ہیں لیکن مسلمان اس قسم کسی بھی سرگرمی سے بالکل غافل ہیں۔ حالانکہ ان پر مذکورہ دونوں اقوام سے کہیں زیادہ دجال کا خوف طاری ہونا چاہئے اور حضرت عیسیٰ ؑ کی دوبارہ آمد کا شدید انتظار کرنا چاہئے۔

    راقم کی اس مختصر سی کتاب میں یہودی سازشوں اور علامات قیامت کے موجودہ دور پر انطباق کو سہل انداز میں سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ یہ وہ مضامین ہیں جو عام افراد کی آگاہی کے لئے وقتاً فوقتاً قومی اخبارات مثلاً نوائے وقت، ایکسپریس، کائنات اسلام، صحیفۂ اہلِ حدیث اور خواتین میگزین وغیرہ میں شائع ہوتے رہے ہیں۔

    راقم کو یقین ہے کہ محض انہی سادہ مضامین کو پڑھ کر مسلمانوں کو دجال کی سازشوں اور عالم اسلام کو درپیش خوفناک حالات کا بڑی حد تک اندازہ ہوجائے گا۔

    اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ راقم کی اس کوشش کو قبول کرے اور مسلمانوں میں قوتِ عمل بیدار کرے۔
    رضی الدین سید​

     
  3. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    قرآن میں بیان کردہ یہود کے جرائم​


    روس، برطانیہ اور امریکہ کی مشترکہ سازش کے تحت وجود میںلائی جانے والی ناجائز یہودی ریاست ’’اسرائیل‘‘ اس وقت عالم اسلام اور عرب دنیا کے لئے ایک مسلسل عذاب بنی ہوئی ہے۔ وہ مہذب قومیں جنہوں نے دنیا میں امن کی خاطر اقوام متحدہ کو جنم دیا اور جنہوں نے احترام انسانیت کے عالمی منشور پر دستخط کئے، آج انہوں نے خود ’’اسرائیل‘‘ کو وحشیانہ بربریت کے فروغ کے لئے مادر پدر آزاد چھوڑا ہوا ہے۔ خود ہی یہ عظیم طاقتیں بقائے باہمی کی قراردادیں منظور کرواتی ہیں اور خود ہی نسلی تعصب میں ان قرار دادوں کی ایک ایک شق کی دھجیاں اڑاتی ہیں۔

    تم ہی تجویز صلح لاتے ہو، تم ہی سامان جنگ بانٹتے ہو
    تم ہی کرتے ہو قتل کا ماتم، تم ہی تیر و تفنگ بانٹتے ہو
    دنیا بھر میں پھیلے ہوئے یہودیوں کی تعداد فی زمانہ ڈیڑھ کروڑ کے لگ بھگ ہے جن میں سے باسٹھ لاکھ خود اسرائیل میں بستے ہیں۔ ظاہر ہے کہ نہ تو یہ زمین ان کی تھی اور نہ یہ مکانات ان کے تھے۔ دنیا بھر میں راندۂ درگاہ بنے ہوئے ان یہودیوں کو عرب دنیا کے عین قلب میں آباد کرنے کی سازش جنگ عظیم اول کے اختتام پر شروع ہوئی جسے اعلان بالفور کا نام دیا گیا۔ یہ ٹھیک وہی زمانہ تھا جب عیسائی اقوام نے دنیا بھر میں مسلمانوں کے اتحاد و یکجہتی پر کاری ضرب لگائی تھی۔ انہوں نے وسیع و عریض خلافت عثمانیہ کو توڑ کر پاش پاش کیا اور دسیوں چھوٹی بڑی عرب ریاستیں وجود میں لے کر آئے۔ اس دن سے آج تک مسلمانوں کو نہ تو پھر ویسی اتحاد و یکجہتی میسر آئی اور نہ ’’اسرائیلی‘‘ ریاست سمٹ کر مختصر ہوسکی۔ حال یہ ہے کہ مسلم ریاستیں سکڑ کر چھوٹی ہو رہی ہیں جبکہ یہودی ریاست پھیل کر بڑی ہو رہی ہے۔ عالم یہ ہے کہ یہ یہودی ریاست 1948ء کے بعد سے مسلسل توسیع پذیر ہے اور اس کی سرحدیں آئے دن پھیلتی چلی جا رہی ہیں۔

    بدقسمتی سے یہودی ایک ایسی قوم رہے ہیں جنہوں نے اپنی ہزاروں سالہ زندگی اللہ تعالیٰ کی مسلسل نافرمانیوں میں گزاری ہے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام کے دور سے بنی اسرائیل نام کی قوم کا آغاز ہوا اور دم تحریر تک یہ قوم مسلسل بغاوت، سازش اور فساد کی علمبردار رہی ہے۔ اس قوم پر رب کائنات نے متعدد بار لعنت کی ہے۔ اسرائیلیوں کی مکر و فریب کی پوری تفصیل قرآن پاک میں محفوظ کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ایک طویل چارج شیٹ ان کے نام سے مرتب کی ہے جس کے بعد اس نے اس قوم کو قیادت کے منصب سے معزول کر کے مسلمانوں کو اس مقام پر فائز کیا۔ دنیا بھر کی اقوام میں یہ وہ واحد قوم ہے جس کو اللہ تعالیٰ نے سب سے زیادہ غضب و غصے اور پھٹکار و ملامت کا سزاوار ٹھہرایا ہے۔قرآن پاک کے تفصیلی مطالعے سے یہودیوں کے جو طویل جرائم ہمارے سامنے آتے ہیں، انہیں پڑھ کر اس قوم کی نفسیاتی کیفیت ہمارے سامنے آتی ہے۔ ذیل کی سطور میں ایک تفصیل ان جرائم کی پیش کی جا رہی ہے جس سے بنی اسرائیل کے لوگوں کی تاریخ اور ان کا ذہن سمجھنے میں بہت مدد ملے گی۔
     
  4. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    (۱) یہ قوم عہد و پیمان کی مسلسل نافرمانی کرتی تھی جس کے بعد کوہ طور کو ان کے سروں پر اٹھا کر لٹکایا گیا۔ تاہم اس کے باوجود عہد شکینوں کا ان کا یہ سلسلہ جاری رہا ۔

    (۲) یہ لوگ اللہ کی آیات کو فروخت کرتے تھے اور ان سے اپنے ڈھب کے مطلب برآمد کرتے تھے۔

    (۳) دوسروں کو نیکی کا حکم دیتے تھے اور خود کو بھول جاتے تھے۔

    (۴) آل فرعون کے ظلم و ستم سے نجات پانے اور سمندر میں سے راستہ مہیا کئے جانے کے باوجود اپنے پروردگار کے مستقل ناشکر گزار بنے رہے۔

    (۵) حضرت موسیٰ علیہ السلام کے طُور پر جانے اور اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے دوران وہ بچھڑے کی پرستش میں لگ گئے۔

    (۶) کھلے عام کہتے تھے کہ وہ آنکھوں سے دیکھے بغیر اللہ تعالیٰ پر ایمان نہیںلائیں گے۔

    (۷) اللہ نے جب انہیں آسمان سے بلا محنت و مشقت رزق (من و سلویٰ) فراہم کیا تو ضد کر کے اسے بند کروایا اور مطالبہ کیا کہ ان کے لئے زمین سے اناج اور سبزیاں اگانے کا بندوبست کیا جائے۔

    (۸) اللہ کی جانب سے صحرا کی چلچلاتی ہوئی دھوپ سے بچاؤ کے لئے ان پر بادلوں کا سایہ مہیا کیا گیا مگر کبھی اللہ کے آگے عاجزی اختیار نہیںکی۔

    (۹) اللہ نے انہیں ایک بستی میں داخل ہوتے وقت ’’حِطّہ‘‘ (معافی) کا لفظ ادا کرنے کے لئے کہا مگر انہوں نے ضد میں اسے بدل کر کسی اور لفظ میں تبدیل کردیا۔

    (۱۰) اس نے اپنی رحمت کی وجہ سے اس بستی میں بارہ قبیلوں کیلئے بارہ چشمے ایک چٹان سے برآمد کئے۔ مگر اسکے باوجود وہ اللہ کے نبیوں کی نافرمانی کرتے رہے۔

    (۱۱) آسمان سے بھیجے گئے اپنے پیغمبروں کو قتل کرنے اور انہیں پھانسی پر چڑھانے سے بھی انہیں کوئی عار نہ تھا۔ حضرت یحییٰ علیہ السلام کا سر قلم کروایا۔ ایک نبی کو کنوئیں میں الٹا لٹکا کر چھوڑ دیا اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو تختہ دار تک پہنچانے کی سازش میں پیش پیش رہے۔

    (۱۲) اللہ نے انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تو بہت سٹپٹائے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پانچ دفعہ مطالبہ کیا کہ وہ اپنے رب سے اس کے بارے میں ٹھیک ٹھیک حکم لے کر آئیں تاکہ کسی طرح گائے کے ذبح سے بچ جائیں۔

    (۱۳) کہتے تھے کہ پیغمبری صرف بنی اسرائیل کی نسل کے لئے وقف ہے اس لئے وہ بنی اسماعیل کے پیغمبر حضرت محمد رسول اللہ ﷺ پر ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔

    (۱۴) ان سے کہا گیا تھا کہ وہ ہفتے میں ایک دن (یوم سبت) کوئی کاروبار کریں نہ کوئی شکار۔ مگر انہوں نے اس فرمان میں طرح طرح کے حیلے بہانے کر کے یوم سبت کے احترام کو پامال کیا۔

    (۱۵) آسمانی کتابوں میں لفظی و معنوی تحریف کرتے تھے۔

    (۱۶) نبی اکرم e کی مجلس میں اگر ان کے کسی فرد کے منہ سے کوئی سچی بات نکل جاتی تھی تو واپسی میں وہ اسے بے حد مطعون کرتے تھے۔

    (۱۷) بڑے دعوے سے کہتے تھے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے چہیتے ہیں اور یہ کہ دوزخ کی آگ انہیں کبھی نہ چھوئے گی۔

    (۱۸) ان کے آپس میں بھی شدید اختلافات تھے چنانچہ وہ آپس میں قتل و غارت گری کرتے تھے اور قبیلوں کو ان کی بستیوں سے نکال دیتے تھے (جیسا کہ اب انہوں نے مسلم فلسطینیوں کے ساتھ کیا ہوا ہے)۔

    (۱۹) اکثر و بیشتر کہا کرتے تھے کہ ان کے دلوں پر غلاف پڑا ہوا ہے۔ اس لئے اسلام کی کوئی بات ان کے دلوں میں نہیں اتر سکتی۔

    (۲۰) حضور ﷺ کی بعثت سے پہلے ایک نبی کے آنے کی پیش گوئیاں کرتے تھے اور اہل مدینہ کو کہا کرتے تھے کہ اس نبی ﷺ کو آنے دو پھر ہم تم سے نمٹ لیں گے لیکن نبی کریم ﷺ کی بعثت کے بعدیہ یہودی ہی نبی ﷺ کے بدترین دشمن ثابت ہوئے۔
     
  5. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    (۲۱) حضرت جبریل u کو اپنا دشمن نمبر ایک قرار دیتے تھے کیونکہ وہ وحی کے ذریعے انکی سازشیں تمام عالم پر آشکار کرتے تھے اور کیونکہ ان کے بقول حضرت جبریل ؑنے نبوت کے لئے کسی غلط ہستی ﷺ کا انتخاب کیا تھا۔ (نعوذباللہ)

    (۲۲) جادو سیکھتے اور سکھاتے تھے اور اس کے ذریعے سے میاں بیوی میں تفرقے ڈالتے تھے۔ جادو کو جناب سلیمان علیہ السلام سے منسوب کرتے تھے حالانکہ قرآن کہتا ہے کہ ان کا جادو سے دور کا بھی تعلق نہیں تھا۔

    (۲۳) حضور e کو مخاطب کرنے کے لئے ’’راعنا‘‘ کا لفظ استعمال کرتے تھے (یعنی ذرا ہماری بات سنئے) لیکن عادت کے مطابق آواز دبا کر ’’راعنا‘‘ کو ’’راعینا‘‘ کردیتے تھے جس کا مطلب ہے نعوذباللہ (اے ہمارے چرواہے)۔ تنبیہ کے باوجود وہ اس سے باز نہ آئے۔

    (۲۴) قرآن پاک میں جب کسی سابقہ حکم کو منسوخ کیا جاتا تھا تو اس منسوخی پر اعتراض کرتے تھے۔

    (۲۵) اپنے پیغمبروں اور خود حضور اقدس ﷺ سے کرید کرید کر سوالات کرتے تھے۔ نہ صرف وہ بلکہ خود مسلمانوں کو بھی اس کام پر اکساتے تھے۔

    (۲۶) امان دیئے جانے کے باوجود خیبر میں بیٹھ کر مدینے کو تباہ کرنے کے منصوبے بناتے تھے۔

    (۲۷) جھوٹ کے لئے کان لگاتے تھے اور دوسرے لوگوں کی خاطر سُن گن لیتے پھرتے تھے۔

    (۲۸) کتاب اللہ کے الفاظ کو ان کا صحیح محل متعین ہونے کے باوجود اصل معنی سے پھیر دیتے تھے۔

    (۲۹) لوگوں سے کہتے پھرتے تھے کہ اگر تمہیں فلاںحکم دیا جائے تو مانو نہیں تو نہ مانو۔

    (۳۰) وہ لوگوں کو ہمیشہ اللہ کے راستے سے روکتے تھے۔

    (۳۱) سود لینے دینے پر مرتے مٹتے تھے۔

    (۳۲) لوگوں کے مال ناجائز طریقوں سے کھاتے تھے۔

    (۳۳) انہوں نے دو مرتبہ زمین میں فساد عظیم برپا کیا۔

    (۳۴) دشمن پر غلبے کے لئے نبی سیموئیل ؑ سے ایک بادشاہ مقرر کرنے کی درخواست کی لیکن جب انہوں نے حضرت طالوت کو بادشاہ مقرر کردیا تو اس پر سخت اعتراض کیا ۔

    (۳۵) اپنے نبیوں پر دوسروں کی بیویوں کو تانک جھانک کرنے ‘ان سے اور اپنی بہن سے نعوذ بااللہ بدکاری کرنے کے الزامات بھی بلا جھجک لگاتے تھے ۔

    (۳۶) نبی اکرم e پر جادو کیا اور ایک بھاری چٹان کے ذریعے آپ e کو ہلاک کرنے کی کوشش کی۔

    (۳۷) جب سیدنا موسیٰ u نے یہودیوں کو فلسطین کے حکمران کے خلاف جنگ کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے جواب دیا کہ ’’موسیٰ ہم وہاں ہرگز داخل نہیں ہوں گے جب تک وہ لوگ وہاں ہیں۔ آپ جائیں اور آپ کا رَبّ جائے ہم تو یہیں بیٹھے رہیں گے (المائدہ:۲۴)۔

    یہودیوں کے جرائم کی یہ ایک مختصر جھلک ہے جو ہم نے قرآن پاک کی سورئہ بقرہ (پارہ اول) کی آیات ۴۹ تا ۱۲۳ ، سورۂ مائدہ آیت ۴۱، سورئہ نساء آیات ۱۶۱ تا ۱۵۹ اور سورئہ بنی اسرائیل آیت ۵ سے اخذ کی ہیں۔ سورئہ بقرہ گویا بنی اسرائیل کی فرد جرم کا ایک دوسرا نام ہے۔ بنی اسرائیل کی عمر کم و بیش ۴ ہزار سال ہے۔ لیکن مندرجہ بالا جرائم پڑھ کر نظر آتا ہے کہ سچائی، فرمانبرداری اور شکر گزاری اس قوم کے قریب سے بھی نہیں گزری۔ ظاہر ہے کہ جب کسی قوم کی نفسیات میں اجتماعی طور پر ظلم و فساد بھرا ہوا ہو تو وہ آج بھی اپنی پست کرداری سے کیسے باز رہ سکتی ہے؟ خواہ اس کے ہاں کتنے ہی علماء موجود ہوں یا علم و فضل کے افراد کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے ہوں۔ یہ ان کی اسی ٹیڑھ کا نتیجہ تھا کہ انہیں بار بار تباہ و برباد کیا گیا۔ یہودی قوم کی تباہی و بربادی کی تاریخ کا ایک سرسری جائزہ سورئہ بنی اسرائیل (پارہ نمبر ۱۵ آیات ۵ تا ۸) میں کیا گیا ہے جس کی تفسیر کے ذریعے اس کی تاریخ بہت واضح ہو کر ہمارے سامنے آتی ہے۔

    کسی زمانے میں وہ اللہ تعالیٰ کی بہت پسندیدہ قوم تھی لیکن اُن کے گھناؤنے جرائم کی بنیاد پر اللہ تعالیٰ نے اِسے امامت کے منصب سے ہمیشہ کے لئے معزول کر دیا۔ تاہم چونکہ وہ قرآن پاک کو نہیں مانتے اس لئے اپنی معزولی کو بھی وہ تسلیم نہیں کرتے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم آج بھی اللہ تعالیٰ کی سب سے چہیتی (Chosen) قوم ہیں۔
     
  6. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    یہودیوں کے نزدیک دجال کا مقام


    فتنہ مسیح الدجال دنیا کا ایک ہولناک فتنہ ہے۔ اس فتنے سے آگاہی کے لئے نبی کریم ﷺ نے بے شمار ارشادات فرمائے ہیں۔ جن میں سے چند یہ ہیں۔

    (۱) کوئی نبی ایسا نہیں ہے جس نے اپنی امت کو کانے کذاب (دجال) سے نہ ڈرایا ہو۔ (متفق علیہ )

    (۲) جناب آدم u کی پیدائش سے قیامت کے وجود تک دجال سے بڑا کوئی واقعہ نہیں ہو سکتا۔ (مسلم)۔

    (۳) ام المومنین حضرت زینب ؓ بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ﷺ ایک دن میرے ہاں گھبرائے ہوئے تشریف لائے اور فرمایا ’’لا الہ الا اللہ ، خرابی ہے عرب کے لئے اس آفت سے جو قریب آگئی ہے۔ آج یاجوج ماجوج کے بند میں اتنا شگاف پڑ گیا ہے‘‘ یہ فرماتے ہوئے آپ نے اپنے انگوٹھے اور ساتھ والی انگلی کو ملا کر حلقہ بنایا۔ حضرت زینب ؓ نے سوال کیا یا رسول اللہ ﷺ کیا ہم اس کے باوجود ہلاک ہوجائیں گے کہ نیک لوگ موجود ہوں گے؟ آپ ﷺ نے فرمایا ’’ہاں (کیونکہ) اس وقت خباثت بڑھ جائے گی۔‘‘ (بخاری)۔

    اس کے بعد سوال پیدا ہوتا ہے کہ دجال کو مسیح کیوں کہا جاتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ یہودی اسے اپنے دین کا زندہ کرنے والا سمجھتے ہیں۔ یہودیوں کے نزدیک دجال ان کا مسیحا اور نجات دہندہ ہے۔ اس کی ایک اور وجہ شاید یہ بھی ہو سکتی ہے کہ حضرت عیسیٰ ؑ کی طرح دجال بھی مردہ انسانوں کو زندہ کر سکے گا۔ چنانچہ اس مضمون میں ہم یہودیوں کا تعلق دجال کے حوالے سے دیکھنے کی کوشش کریں گے۔ (واضح رہے کہ احادیث کے مطابق دجال بذات خود یہودی فرد ہو گا)۔

    جب یہودیت نے توحید، رسالت اور آخرت ہر ایک حقیقت سے اپنا رشتہ توڑ لیا حتیٰ کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو جو انہی کو راہ ہدایت دکھانے کے لئے بھیجے گئے تھے۔ اپنی دانست میں صلیب پر چڑھا دیا تو ان کا رشتہ اپنے انبیاء سے ہمیشہ کے لئے ختم ہو گیا۔ چنانچہ وہ خوب جانتے ہیں کہ اللہ کے ہاں، فرشتوں کے ہاں، آسمانوں اور زمین میں ان کے لئے اب کوئی گنجائش نہیں۔ وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ اب ان کے لئے کوئی مسیح نہیں آئے گا اور جو آئے گا وہ ان کے لئے قہر بن کر آئے گا۔

    چنانچہ انہوں نے اپنے دفاع کی خاطر 68 عیسوی میں دجال کو اپنا مسیحا تصور کرلیا اور اسی تصور کو وہ آج تک پروان چڑھا رہے ہیں۔ ان کے اس تصور میں اللہ اور اللہ کے فرشتوں سے مایوسی، ساری دنیا سے غصہ، اپنی طاقت اور ابلیس اور اس کے دجالوں کی مدد سے کھوئی ہوئی چیزوں (بشمول ہیکل سلیمانی) اور آئندہ کی بشارتوں کو حاصل کرنے کی کوشش شامل ہے۔
     
  7. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    یہودیوں کے تصور مسیحا کی بنیادیں یہ ہیں :

    (۱) اللہ تعالیٰ یہودیوں کی مصیبتوں کے خاتمے اور ان کی سربلندی کے لئے مسیح بھیجے گا۔

    (۲) یہ مسیح ان کے موجودہ دین کی تصدیق کرے گا۔

    (۳) جو اس موجودہ دین کی توثیق نہیں کرے گاوہ جھوٹا مسیح اور قابل گردن زدنیہوگا۔

    (۴) وہ عیسیٰ ابن مریم ؑجو مسیح بن کر آئے تھے اور جسے انہوں نے (یہودیوں نے) ان کے بقول صلیب دے دیا تھا اور اب جن کے آنے کی عیسائی اور مسلمان خبر دیتے ہیں وہ ان کا دشمن ہو گا لہٰذا وہ مسیح نہیں (نعوذباللہ) دجال Anti-Christہے۔

    (۵) اب چونکہ عرش سے زمین تک یہودیوں کے لئے کوئی مددگار نہیں ہے۔ اس لئے اب تمام بشارتوں کے حصول کے لئے واحد امید وہ دجال ہے جو مسیح بن کر آئے گا لہٰذا وہ دجال ہی ان کا مسیح ہے۔ (حضرت عیسیٰ ؑکو نعوذباللہ وہ دجال (Anti Christ) اور دجال کو وہ مسیح کہتے ہیں۔

    (۶) ان کے قدیم صحیفوں کے مطابق دجال کی حکومت مسیح کی حکومت ہے۔ اس کی حکومت کا دن خدا کا دن ہے۔ وہی اسرائیل کی نجات کا دن ہے۔ اسی روز ہیکل مکمل تعمیر ہو گا اور اسی دن صیہون آباد ہو گا۔

    اس تصور مسیح کی بنیاد پر یہودی تین راستوں سے پیش قدمی کر رہے ہیں۔

    (i) روحانی، ذہنی اور نفسیاتی طور پر ویسی دنیا بنانا جیسی مسیح ان کے لئے بناتا (چنانچہ ذہنی طور پر وہ دنیا پر پہلے ہی غلبہ پاچکے ہیں)

    (ii) مادی طور پر ویسی دنیا بنانا جیسی مسیح ان کے لئے بناتا۔ (خلافت کا خاتمہ، اقوام متحدہ کا قیام، اسرائیل کا قیام اور ہیکل سلیمانی کی تعمیر وغیرہ اسی ضمن کے اقدام ہیں)۔

    (iii) معاشی طور پر ساری دنیا کو اپنے شکنجے میں کس لینا اور انہیں اپنا محتاج بنا دینا۔

    وہ چاہتے ہیں کہ مسجد اقصیٰ توڑ کر وہاں ہیکل سلیمانی تعمیر کریں تاکہ ان کا آنے والا مسیحا وہاں بیٹھ کر حکمرانی کر سکے۔

    دجال کی اس تفصیل کے بعد اب ہم کچھ چشم کشا حقائق پیش کرتے ہیں جو ممکن ہے قارئین کو جھنجوڑ دیں اور حساس دلوں کو آمادہ عمل کردیں۔

    ٭ امریکہ وہ دوسری یہودی ریاست ہے جو یہودیوں کی دربدری کے 1700 سال بعد زمین پر قائم ہوئی۔ امریکہ کے قیام کا مقصد اس کے سوا کچھ نہیں تھا کہ کرۂ ارض سے خلافت اسلامیہ کا خاتمہ کردیا جائے، فلسطین پر قبضہ کیا جائے، عظیم اسرائیلی سلطنت قائم کی جائے اور مسجد اقصیٰ کو ڈھا کر ہیکل سلیمانی کی تعمیر کی جائے۔

    ٭ امریکہ کی معروف سرکاری مہر اور نشان دراصل مشہور یہودی تنظیم فری میسن کی مہر اور نشان کی نقل ہے۔

    ٭ پینٹاگون جو امریکی افواج کا سپریم ہیڈ کوارٹر ہے۔ فری میسنوں کے مطابق یہ حضرت سلیمان علیہ السلام کی مُہر یا ڈھال کا نام ہے۔

    ٭ صدر امریکہ کی رہائش گاہ ’’وہائٹ ہاؤس‘‘ بھی یہودیوں کی ایک تصوراتی مقدس آبادی کا دوسرا نام ہے۔ یہودی اس مقدس آبادی کو CASABLANKA بھی کہتے ہیں یعنی ’’قصر ابیض‘‘ ۔ اور وہائٹ ہاؤس کے معنی بھی قصر ابیض ہی ہیں۔

    ٭ برطانیہ بھی یہودیوں کی ریاست کا دوسرا نام ہے۔ یہ یہودیوں کی پہلی غیر اعلانیہ مملکت ہے۔

    ٭ لارڈ بالفور جس نے فلسطین پر قبضے کا معاہدہ ’’بالفور ڈکلیئریشن‘‘ پیش کیا جس کی بنیاد پر آج اسرائیلی ریاست قائم ہے۔ وہ برطانوی حکومت ہی کا وزیرخارجہ تھا۔

    یہ وہ چند حقائق ہیں جو صیہونیت کی درپردہ تصویر پیش کرتے ہیں صیہونیت کی تحریک دنیا میں کسی اسلامی ملک اور کسی اسلامی تحریک کو زندہ نہیں رہنے دینا چاہتی۔
     
  8. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    کیا دجال کی آمد

    کے لئے اسٹیج تیار ہو رہا ہے؟

    چونکہ دجال کی آمد ایک اہم موضوع ہے اس لئے ہمیں اس کا بہت باریک بینی سے جائزہ لینا ہو گا۔ اس سلسلے میں ہم پہلے یہودیوں کے تصور دجال پر ایک نظر ڈالتے ہیں۔

    (۱) یہودی دجال کو اپنا مسیح مانتے ہیں جو آ کر دنیا میں ان کی عالمی حکومت قائم کرے گا اور انہیں دنیا میں سرفرازی و سربلندی عطا کرے گا۔

    (۲) یہ دجال ان کے موجودہ دین کی توثیق کرے گا۔

    (۳) اسکے ذریعے سے ان کی موجودہ مصیبتوں کے دور ختم ہوجائیں گے۔

    چنانچہ وہ بڑی شدت و بے چینی سے دجال مسیح کی آمد کے منتظر ہیں اور اس کی آمد کے لئے بے تابانہ دعائیں مانگتے ہیں۔ کتاب دانیال باب ۲ آیت ۴۰ میں لکھا ہوا ہے کہ ’’اور چوتھی مملکت لوہے کی طرح مضبوط ہوگی لوہے سے تو ساری چیزیں چور چور ہوجاتی اور پس جاتی ہیں لہٰذا جس طرح لوہے سے وہ سب کچلی جاتی ہیں اسی طرح اس چوتھی مملکت سے سب کچھ چور چور ہو کر پس جائے گا۔‘‘لہٰذا وہ اسی چوتھی حکومت کے انتظار میں ہیں۔

    دوسری طرف حضور eنے بھی دجال کی آمد کی پیشین گوئی متعدد ارشادات میں بہت واضح طور پر فرمائی ہے۔ مثلاً آپ e نے فرمایا :

    (۱) لوگ دجال سے خوف کھا کر بھاگیں گے اور پہاڑوں میں پناہ لیں گے۔ اس دن دجال کے ساتھی کروڑوں میں ہوں گے۔ (مسلم)

    (۲) میرے اور عیسیٰ علیہ السلام کے درمیان کوئی نبی نہیں ہے اور یہ کہ وہ اترنے

    والے ہیں۔ پس جب تم ان کو دیکھو تو پہچان لینا۔ وہ ایک درمیانے قد کے آدمی ہیں۔ رنگ سرخی و سفیدی مائل ہے۔ وہ زرد رنگ کے کپڑے پہنے ہوئے ہوں گے ان کے سر کے بال ایسے ہوں گے گویا ابھی ان سے پانی ٹپکنے والا ہے۔ حالانکہ وہ بھیگے ہوئے نہ ہوں گے۔ وہ اسلام کے لئے لوگوں سے جنگ کریں گے۔ صلیب کو پاش پاش کردیں گے۔ سور کو قتل کردیں گے اور جزیہ ختم کردیں گے، اللہ اس زمانہ میں اسلام کے سوا تمام ملتوں کو مٹا دے گا۔ وہ مسیح دجال کو ہلاک کردیں گے اور زمین میں چالیس سال تک زندہ رہیں گے۔ پھر ان کا انتقال ہوجائے گا اور مسلمان ان کی نماز جنازہ پڑھیں گے۔ (ابو داؤد)

    (۳) اسی دوران کہ دجال یہ کچھ کررہا ہو گا اللہ تعالیٰ مسیح ابن مریم ؑ کو بھیج دے گا اوروہ دمشق کے مشرقی حصے میں سفید مینار کے پاس دو فرشتوں کے بازوؤں پر اپنے ہاتھ رکھے ہوئے اتریں گے۔ ان کے سانس کی ہوا جس کافر تک جائے گا (اور وہ ان کی حد نگاہ تک جائے گی) تو وہ زندہ نہ بچے گا پھر ابن مریم ؑ دجال کا پیچھا کریں گے اور لُد کے دروازے پر اس کو جا پکڑیں گے اور پھر اس کو قتل کردیں گے۔ (مسلم و ترمذی)

    واضح رہے کہ لُداس وقت تل ابیب سے چند میل کے فاصلے پر اسرائیل کا ایک بڑا فوجی ایئرپورٹ ہے۔ نبی مکرم e نے ڈیڑھ ہزار سال پہلے اس وقت لُد کا ذکر فرمایا تھا جب اسرائیل کا کوئی وجود بھی نہ تھا۔ لُد کا شہر آج کل شام اور موجودہ اسرائیل کی سرحد پر آخری شہر ہے۔
     
  9. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    (۴) حضرت عیسیٰ علیہ السلام فجر کی نماز کے وقت اتریں گے اور نماز سے فارغ ہو کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام اپنا حربہ لے کر دجال کی طرف چل پڑیں گے۔ جب وہ ان کو دیکھے گا تو اس طرح پگھلے گا جیسے سیسہ پگھلتا ہے۔ عیسیٰ علیہ السلام اسے اپنے حربے سے ہلاک کردیں گے پھر آپ مسلمانوں کو اپنے حربے سے دجال کا ٹپکتا ہوا خون دکھائیں گے۔ (مسند احمد)

    حقیقت یہ ہے کہ دجال کا فتنہ ایک عظیم فتنہ ہو گا جس میں مسلمانوں کو اپنا ایمان بچانا بھی مشکل ہوجائے گا اور حالت یہ ہو گی کہ بقول نبی کریم ﷺ ایک شخص صبح کو مسلمان ہو گا تو شام کو کافر ہوجائے گا اور شام کو مسلمان ہو گا تو صبح کو کافر ہوجائے گا۔

    چونکہ دجال یہودیوں کا مسیح اعظم ہے اس لئے وہ اس کی آمد کے لئے ابھی سے اسٹیج تیار کررہے ہیں۔

    (1) انیسویں صدی، دجال کی آمد کی تیاریوں کی صدی تھی لیکن بیسویں اور اکیسویں صدی یہودیوں کی جانب اس مقصد کے حصول کی صدیاں ہیں۔ یہودی چاہتے ہیں کہ پوری دنیا میں ایک ہی یہودی مملکت ہواور باقی تمام ممالک اپنی فوجیں ختم کردیں۔ لہٰذا اس سلسلے میں یہودی دماغوں نے ایک خوبصورت نام سے اقوام متحدہ کو جنم دیا جس کا اگلا قدم تمام ممالک پر فوجی کنٹرول حاصل کرنا اور ان کی ذاتی فوجیں ختم کرنا ہے۔

    (2) اسی طرح یہودی دنیا بھر میں کسی بھی اسلامی ملک اور کسی بھی اسلامی تحریک کو زندہ نہیں رہنے دینا چاہتے۔ افغانستان اور عراق پر حملہ اسی سلسلے کی کڑی تھی۔

    (3) اور اب امریکہ نے (جس کے پیچھے یہودی اور فری میسینری تحریک کام کررہی ہے) واضح طور پر اعلان کردیا ہے کہ اس کا اگلا نشانہ صومالیہ، عراق، سوڈان، ایران، شام، سعودی عرب اور یمن ہیں (واضح رہے کہ یہ تمام ممالک اسلامی ہیں اور ان سب پر دہشت گرد ہونے کا الزام لگا یا گیا ہے۔ نیز ان ممالک پر یہ بھی شک ہے کہ وہ اسامہ بن لادن اور ملا عمر کو پناہ دیتے رہے ہوں گے)

    (4) اس کے بعد پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کو تلف کرنے کی کارروائی کی جائے گی جسے ہماری حکومتیں شاید بہ آسانی مان لیں اور جس کے لئے ہماری گزشتہ حکومتوں نے اشارے بھی دیئے تھے۔ اور موجودہ حکومت نے پاکستانی ایٹم بم کے موجدکو انتہائی اذیت میں بھی رکھا ہوا ہے۔

    (5) اسرائیلی مملکت کا قیام بھی دجال کی آمد کی ایک کڑی تھی۔ اور اب ہر سال اس کی سرحد کی مستقل توسیع ہو رہی ہے۔ آج کا اسرائیل 1948ء کے اسرائیل سے کم از کم تین گناوسیع ہے۔ اسرائیل آئندہ کہاں تک پھیلے گا اس کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کے اندر شام، لبنان، اردن، عراق، ترکی کا کچھ حصہ، مصر کا کچھ حصہ اور سعودی عرب کے نجد اور مدینہ منورہ شامل ہیں۔ ان کے یہ عزائم پوشیدہ نہیں ہیں بلکہ اعلانیہ ہیں اور اس کے نقشے خود یہودیوں نے دنیا بھر میںپھیلائے ہیں۔اسرائیل کے پرچم پر اوپر اور نیچے دو نیلی پٹیاں دریائے نیل اور دریائے فرات کو ظاہر کرتی ہیں۔

    (6) موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ آئندہ کسی بڑی عالمی جنگ کی ہڑبونگ سے فائدہ اٹھا کر یہودی اور ان کی مددگار حکومتیں مذکورہ علاقوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کریں گی اور ٹھیک ایسے ہی موقعہ پر دجال اکبر سامنے آئے گا۔ مذکورہ احادیث کے مطابق حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان سے تشریف لائیں گے اور دمشق کے مقام پر محاذ جنگ گرم ہو گا دجال آپ ؑ کو دیکھ کر واپساسرائیل کی طرف بھاگے گا جس کا پیچھا کرتے ہوئے آپؑ لُد کے ہوائی اڈے پر اسے پکڑ لیں گے اور وہیں اسے قتل کر کے قصہ ختم کردیں گے۔
     
  10. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    (7) یہودی چاہتے ہیں کہ دجال کی آمد سے پہلے یروشلم میں اپنی عبادت گاہ ہیکل سلیمانی تعمیر کردی جائے۔ ان کے مطابق حضرت سلیمان ؑ نے یروشلم میں مسجد اقصیٰ نہیں بلکہ ہیکل سلیمانی تعمیر کی تھی پھر بعد کے مسلم حکمرانوں نے اسے توڑ کر مسجد اقصیٰ تعمیر کر لی ہے۔ 1985ء کے بعد سے تو ہر مہینے ایسی کارروائی پکڑی جاتی ہے جس کا مقصد مسجد اقصیٰ کو ڈھا دینا ہے۔ 1999ء تک یہ کوششیں کم از کم 100 مرتبہ ہوچکی ہیں۔ رابرٹ آئی ویڈمین نے THE VILLAGE VOICE کے 1985ء کے ایک شمارے میں لکھا تھا کہ (مسجد اقصیٰ کا ایک ماڈل تیار کیا گیا اسے تباہ کرنے کے طریقوں کو جانچا گیا اور صحرا میں دھماکہ کا تجربہ کیا گیا تاکہ یہ دیکھا جائے کہ جب مسجد اقصیٰ ڈائنامائٹ سے اڑائی جائے گی تو وہ کس جانب گرے گی اور اس کے ٹکڑے کس طرح گریں گے؟) یہ تجربہ اس لئے بھی کیا گیا تاکہ دیکھا جا سکے کہ اس دھماکے سے قریب ہی موجود ان کی متبرک دیوار (دیوار گریہ) تو کہیں متاثر نہیں ہوتی ہے۔

    (8) اس ضمن میں یہ بات بھی بہت اہم ہے کہ یہودی اسرائیل میں ایسے ہزاروں درخت پیشگی طور پر لگا رہے ہیں جو جناب عیسیٰ u کی آمد کے بعد بقول نبی مکرم e، ان کیلئے عارضی پناہ گاہ کا کام دیں گے۔ اس درخت کے بارے میںآپ e نے فرمایا تھا کہ وہ بیت المقدس میں بہت زیادہ ہوتا ہے۔ اس درخت کا نام آپ e نے ’’الغرقد ‘‘ فرمایا تھا۔ (متفق علیہ کتاب الفتن)

    (9) 1948ء تا 1967ء جب تک یروشلم (ایلیاہ) ان کے قبضے میں نہیں آیا تھا یہودی ہر روز یہی دعا کرتے تھے کہ (خدایا اگلا سال یروشلم میں!) پھر جب یروشلم ان کے قبضہ میں آگیا تو اب وہ ہر روز یہ دعا کرتے ہیں کہ خدایا ہمارا مسیح جلد آئے۔
     
  11. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    مندرجہ بالا علامات کا خلاصہ

    یہودیوں کی جانب سے دجال کی آمد کے لئے اسٹیج کی تیاریوں کا خلاصہ حسب ذیل ہے :

    (ا) عالمی بینک اور انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (imf) کے ذریعے عالم اسلام کو مکمل طور پر یہودی قرضے میں جکڑ لینا۔

    (ب) تیل کی دولت پر قبضے کے لئے امریکی افواج کو سعودی عرب اور عراق میں لا کر بٹھا دینا۔

    (ج) عثمانی خلافت کا بالجبر خاتمہ کردینا۔

    (د) مسلم حکومتوں کی جانب سے تمام اسلامی تحریکوں پر پابندی کی خبریں آنا نیز غیر ملکی طلباء کو گرفتار کرنا۔

    (ہ) کشمیر کے حل کی صورت میں ایک اور اسرائیل نما ریاست کے قیام کی کوشش کرنا۔

    (و) افغانستان پر قبضہ کرلینا۔

    (ز) شہر یروشلم کو جبراً ہتھیا لینا۔

    (ح) دنیا بھر میں موجود نمایاں بنیاد پرستوں کو گرفتار کر کے امریکہ طلب کرنا۔یہ تمام ایسے معاملات ہیں جن سے ظاہر ہوتا ہے کہ یہودی دجال کی آمد کے لئے فضا تیار کررہے ہیں۔

    ضروری ہے کہ ہم اس موقع پر یہودیوں کی مقدس کتاب ’’تنک‘‘ (tanak) کے ایک باب کا ترجمہ پیش کردیں جو کچھ اس طرح ہے:

    ’’میں تم کو قوموں میں سے نکال لوں گا اور تمام ملکوں سے جمع کروں گا اور تمہارے اپنے ملک میں پہنچا دوں گا … تم میرے حکم پر چلو گے اور میرے قانون کو مان کر اس کے مطابق عمل کرو گے، تم اس ملک میں جا بسو گے جو میں نے تمہارے آباؤ اجداد کو دیا تھا۔‘‘

    یہ ترجمہ واضح طور پر اسرائیل کے قیام کی طرف اشارہ کررہا ہے۔ اس وقت دنیا بھر کے یہودی ملکوں ملکوں سے کھینچ کر اسرائیل میں جا رہے ہیں۔

    یہ ٹھیک وہی بات ہے جسے قرآن پاک نے بیان کیا ہے (ترجمہ) ’’اور ہم نے بنی اسرائیل سے کہہ دیا ہے کہ اب تم اس سرزمین میں رہو۔ پھر جب آخرت کا وعدہ ہو گا تو ہم تم سب کو جمع کر کے حاضر کردیں گے۔‘‘ (بنی اسرائیل آیت ۱۰۴) قرآن پاک اور تنک کی پیشین گوئیوں میں کتنی حیرت انگیز مماثلت ہے۔
     
  12. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    مسلمانوں کی انفرادی عبادات
    بھی خطرے کی زد میں

    پاکستان کا تو خیر معاملہ یہ رہا ہے کہ یہاں قیام پاکستان کے بعد ہی سے مقتدر طبقے کو دین کا نام سننا پسند نہ تھا۔ انہیں دین و مذہب کے نام سے سخت وحشت ہوتی تھی۔ کتنی عجب بات ہے کہ وہ ملک جو اسلام کے نعرے پر حاصل کیا گیا تھا اور جس کی بنیاد ہی نظریہ پاکستان رہی اسی سرزمین میں دین کو برسرِ اقتدار آنے سے روکنے کے لئے ہر ممکن جتن اختیار کئے گئے۔ یہی وجہ ہے کہ آج تک ملک کو کوئی خالص دینی آئین میسر نہ آسکا ۔ اور اسی جرم میں ممتاز عالم دین مولانا مودودی مرحوم کو پھانسی کی سزا بھی سنائی گئی۔

    افغانستان میں طالبان کی بظاہر ’’سرکوبی‘‘ کے بعد حالات جس تیزی سے بدل گئے ہیں اور جس شدت کے ساتھ مغرب کو اسلام سے وحشت ہوتی جارہی ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مستقبل قریب میں مسلمانوں کے لئے پوری دنیا میں حالات بہت کٹھن ہوجائیں گے۔ دجالی قوتیں مسلمانوں کی ایک ایک حرکت پر انفرادی و اجتماعی دونوں لحاظ سے نظریں رکھ رہی ہوں گی۔ چنانچہ اللہ کے بندوں کے لئے اس کے بعد دین کی خاطر کام کرنا دشوار بنا دیا جائے گا اور پھر ان کی ذاتی عبادات بھی خطرے کی زد میں لے آئی جائیں گی۔ موجودہ حالات میں اس کی کچھ جھلکیاں ہمیں نظر بھی آرہی ہیں۔ مثلاً ان صیہونی طاقتوں نے اسلام کے بنیادی فریضے ’’جہاد‘‘ کو دہشت گردی کا نام دے کر عالمی طور پر پہلے ہی بدنام کردیا ہے۔

    آج دنیا بھر کے خطوں سے مسلمانوں کو ’’دہشت گرد‘‘ کا نام دے کر چن چن کر تلاش کیا جا رہا ہے۔ ان کی اپنی امریکہ نواز حکومتیں انہیں پکڑ پکڑ کر بلا جھجک امریکہ کے حوالے کررہی ہیں۔ اس ضمن میں ہر ایئرپورٹ پر عربی، فلسطینی، سوڈانی، پاکستانی اور دیگر مسلم ممالک کے افراد شک و شبے میں حراست میں لئے جا رہے ہیں اور ان سے اسامہ بن لادن، القاعدہ، ملا عمر، طالبان اور دہشت گردی سے کھلا یا چھپا تعلق دریافت کیا جا رہا ہے۔

    اس دوران اگر کسی عالم دین یا تحریکی شخصیت نے اتفاق سے افغانستان کا سفر بھی کیا ہو تو گویا اس کی تو شامت ہی آجاتی ہے۔ پھر تو وہ سو فیصد دہشت گرد اور القائدہ کا رکن شمار ہوتا ہے۔ دوسری طرف طلبہ کے نصاب سے یہود دشمن اور جہاد سے متعلق آیات مسلسل نکالی جا رہی ہیں۔ (واضح رہے کہ یہ کام ہر مسلم ملک میں یکسانی سے انجام دیا جا رہا ہے)۔

    یہ وہ صورت حال ہے جس کی وجہ سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ یہودی طاقتیں آئندہ کسی متحرک دینی شخصیت کو دین کا کام کرنے کی اجازت نہیں دینا چاہتیں۔ اس مقصد کے لئے وہ متعلقہ حکومتوں کو احکامات جاری کرتی ہیں اور پھر وہ حکومتیں اس پر من و عن عمل کرتی ہیں۔ تنگ آ کر اگر یہ شخصیات کسی غیر ملک میں منتقل ہونا چاہیں تب بھی ایئرپورٹ پر fia اور fbi کے افسران پاسپورٹ کی گہری چھان بین کر کے اسے گرفتار کرلیتے ہیں۔ کیا ہم نہیں دیکھتے کہ کس طرح مغربی ایئرپورٹس پر باشرع داڑھی اور جبہ و ٹوپی والے مسلمان اور اسکارف و برقعہ پہننے والی خواتین کے ساتھ بدسلوکی اور انہیں علیحدہ لے جا کر تفصیلی تفتیش کی جاتی ہے۔
     
  13. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    یہی وجہ ہے کہ ہم کہتے ہیں کہ اب یہودی قوتیں اس سے آگے بڑھ کر اپنے اقدامات کریں گی اور مسلمانوں کی انفرادی عبادات مثلاً نماز، روزہ، زکوٰۃ اور حج پر بھی پابندی لگانے کے احکامات جاری کریں گی۔ جسے شاید ہماری مسلم حکومتیں خوشی یا ناخوشی سے قبول کرلیں گی۔ انہیںہماری ذاتی عبادتوں سے بھی دہشت گردی کی مہک آتی ہے۔ حکم دیا جائے گا کہ مسجدیں توڑ دو، حج کی پروازیں بند کردو، مسلمانوں کو عمرے کے لئے ویزے جاری کرنا ختم کردو اور روزے رکھوانے کا سلسلہ بند کردو وغیرہ ۔ اورشایدمسلم حکومتیں ان احکامات کی تعمیل میں آناً فاناً مصروف ہوجائیں گی۔ جبریہ ہدایات جاری کی جائیں گی کہ قرآن پاک سے جہاد کی آیات نکال دی جائیں جیسا کہ حال ہی میں امریکی یہودی نے وہاں کے میڈیا پر تجویز دی تھی کہ خانہ کعبہ پر بم گرا کر اسے ہمیشہ کے لئے برباد کردیا جائے۔ اس کے بعد ہماری تابعدار حکومتیں بڑے خوبصورت دلائل کے ساتھ ان آیا ت کو خارج کرنے کے لئے مہم شروع کردیں گی۔ یہودی طاقتیں جانتی ہیں کہ مسلمانوں کو دینی غذا مدرسوں ہی سے فراہم ہوتی ہے اس لئے انہیں بند کردینا ہی مسئلے کا اصل حل ہے۔ یہ وہ ہزار سالہ پرانے مدرسے ہیں جنہیں انگریزوں اور فرانسیسیوں نے بھی اپنے دورِ اقتدار میں کبھی بند کرنے کا نہ سوچا تھاحالانکہ انہی مدرسوں میں سلطان صلاح الدین ایوبی اور محمد بن قاسم نے بھی تعلیم حاصل کی تھی۔ ان کے نزدیک اس دور میں ان اداروں کے اساتذہ و طلبہ بالکل بے ضرر قسم کے لوگ تھے۔ لیکن آج یہی لوگ صیہونیوں کو سب سے زیادہ خطرناک نظر آرہے ہیں۔ یہ کوئی بعید امر نہیں ہے کہ امریکی و یہودی طاقتیں مسلمانوں کو سیٹلائٹ کے ذریعے سحری کرتے اور گھروں میں نماز پڑھتے ہوئے دیکھیں اور میزائل کے ذریعے سے انہیں سزا دینے کی کوشش کریں۔ اس کے باوجود جو مسلمان ان احکامات کی پرواہ نہیں کریں گے اور اپنے فرائض و عبادات پر عمل کے لئے اصرار کریں گے تو ان کے لئے سخت سزائیں تجویز کی جائیں گی۔ انہیں ملازمتوں سے برخواست کیا جائے گا۔ ان کے بینک اکاؤنٹس منجمد کئے جائیں گے اور انہیں جیل کی سزائیں سنائی جائیں گی وغیرہ وغیرہ۔ بلکہ مغرب کے اندر رہنے والے مسلمانوں کو بھی جہاں تحریر و تقریر کی آزادی اور جمہوریت کا بہت چلن ہے اور جہاں اختلاف رائے کو حق سمجھ کر برداشت کیا جاتا ہے۔ وہاں بھی یہ تمام کارروائیاں بغیر کسی رو رعایت کے دہرائی جائیں گی۔ یہ وہ دور ہو گا جو مسلمانوں کے لئے سب سے زیادہ کٹھن ہو گا۔ اسی لئے اللہ کے نبی ﷺ نے ارشاد فرمایا تھا کہ ’’قیامت سے پہلے دو خیمے ہوں گے جن میں سے ایک میں نفاق اور دوسرے میں اسلام ہو گا۔ آپ ﷺ نے فرمایا کہ نفاق کے خیمے میں 90 فیصد اور اسلام کے خیمے میں صرف 10 فیصد لوگ ہوں گے۔ (ابو دائود)

    چنانچہ دجال کے خاتمے تک اللہ کے یہ دشمن مسلمانوں کے خلاف اسی طرح دہشت گردی کرتے رہیں گے تاکہ انہیں دباؤ میں رکھ سکیں۔ مسلمانوں کے ساتھ یہ قابل رحم صورت حال دور خلافت کے خاتمے ہی سے جاری ہے۔ جبر کی حکمرانی کا موجودہ دور، خلافت کے احیاء کے آخری دور تک جاری رہے گا۔ جس کے بعد دنیا پر اسلام کی حکمرانی کا دور واپس آئے گا۔
     
  14. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    بہرحال ان تابناک ایام کے آنے سے پہلے تک، موجودہ جبریہ دور سے گزرنے کے باعث ایک طرف مومنوں کو زبردست چیلنجوں کا سامنا کرنا پڑرہا ہے اور دوسری طرف اس کی وجہ سے مومنوں اور منافقوں کے درمیان شناخت آسان ہوتی جا رہی ہے۔ نفاق نے آج کے اکثر و بیشتر مسلمانوں کے دل میں گھر کر لیاہے۔

    مسلمانوں کی وعدہ شدہ آخری کامیابی حاصل ہونے تک یوں تو بہت ساری نشانیاں طویل عرصے سے ہمارے سامنے آچکی ہیں۔ تاہم بہت ساری نشانیاں ابھی ظاہر ہونی باقی ہیں۔ جن آزمائشوں سے امت مسلمہ کو دوچار ہونا پڑے گا ان میں سے چند یہ ہیں :

    ٭ معصوم مسلم مرد، عورتیں اور بچے ہلاک کئے جائیں گے لیکن الٹا ہم ہی کو قاتل اوربربریت پسند کہا جائے گا اور اس طرح مسلمانوں کے قتل عام کو جائز قرار دے دیا جائے گا۔

    ٭ مسلمانوں کو کچلا اور دبایا جائے گا، ان کے خلاف سازشیں کی جائیں گی۔ اور پھر بھی انہیں کو دہشت گرد کہہ کر پکارا جائے گا۔ دہشت گردی اور ظلم و ستم عالمی ثقافت کا حصہ بن جائیں گے۔

    ٭ تمام مسلمان ’’مشکوک‘‘ کہلائیں گے اور جو لوگ ان سے اظہار ہمدردی کریں گے وہ بھی ’’ہدف‘‘ سمجھے جائیں گے۔

    ٭ ہمارے ہی ممالک لوٹے اور برباد کئے جائیں گے مگر اس کے باوجود ہمیں ہی مجرم کہہ کر پکارا جائے گا۔

    ٭ ’’اقتصادی پابندیوں‘‘ کے نام سے اکثر مسلم ممالک کا گھیراؤ کیا جائے گا۔

    ٭ اللہ تعالیٰ کی دشمن طاقتیں مسلم ممالک کے دولت اور وسائل پر قبضہ کر کے خود مسلم ممالک ہی کے خلاف استعمال کریں گی۔

    ٭ منافقین اللہ کے دشمنوں کے ساتھ مل کر ان کی مدد کریں گے اور مومنوں کے خلاف غلط بیانیوں کا سہارا لیں گے۔

    ٭ مسلمانوں کی اکثریت بے بسی کے ساتھ بس اتنا ہی کہہ کر رہ جائے گی کہ ’’ہم کیا کریں۔ ہم تو کچھ بھی نہیں کرسکتے۔‘‘

    ٭ کفر کا رعب بڑھتا رہے گا یہاں تک کہ یہ بڑھتے بڑھتے دجال کی شکل میں ظاہر ہونے لگے گا۔ یہ دجال جھوٹ، فریب، استحصال اور ظلم میں ماہر ترین ہو گا۔

    ٭ مسلمانوں کو اس وقت اپنے ایمان پر چلنا انتہائی مشکل ہوجائے گا۔
     
  15. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    غالباً یہی وہ حالات ہیں جن کے بارے میں نبی کریم e نے آج سے پندرہ سو سال قبل پیشین گوئی فرمائی تھی کہ ’’وہ ایسی صورت حال ہوگی جس میں ایک شخص اگر صبح کو مسلمان ہو گا تو شام کو کافر ہوجائے گا اور شام کو مسلمان ہو گا تو صبح کو کافر ہوجائے گا۔ پھر آپ e نے فرمایا تھا کہ ’’عنقریب ایسے فتنے جنم لیں گے جس میں بیٹھنے والا کھڑے رہنے والے سے، کھڑا رہنے والا چلنے والے سے، اور چلنے والا دوڑنے والے سے بہتر ہو گا۔‘‘ پھر آپ e نے آگاہ کیا کہ ’’جو ان فتنوں کی طرف جھانکے گا وہ فتنے اس کی طرف دوڑیں گے۔ لہٰذا جو شخص بھی کوئی پناہ گاہ پائے ، وہ اس میں چھپ جائے۔‘‘ (بخاری و مسلم)

    اس انتہائی آزمائش والے دور میں اہل ایمان کی نوے فیصد اکثریت نفاق کے خیمے میں داخل ہوجائے گی جب کہ صرف دس فیصد ایمان والے باقی رہ جائیں گے اور وہ اپنے ایمان کے خیمے میں منتقل ہوجائیں گے۔

    یہ وہ سخت آزمائشوں کا دور ہو گا جس میں سے مسلمانوں کو لازماً گزرنا ہو گا۔ یہودی بھی مسلمانوں کو اس مصیبت میں مبتلا کروانے کے لئے اس وقت کا بے چینی سے انتظار کررہے ہیں۔ وہ عالمی سطح پر مسلسل ایسے اقدامات کررہے ہیں جن کی وجہ سے مسلمانوں کی نہ صرف تمام تحریکیں ختم ہوجائیں بلکہ ان کی انفرادی و ذاتی عبادات بھی باقی نہ رہیں۔ کیونکہ ان کا مسیح دجال ان کے بقول انہیں سرخروئی اور تمام عالم پر غلبہ دلائے گا۔

    یہ تمام علامات قرب قیامت کی ہیں۔ مسلمانوں کو اس وقت سے بچنے کے لئے اللہ سے توبہ کرنی چاہئے اور اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کی فکر کرنی چاہئے۔ تاہم فی الوقت مسلمان محض دنیوی چمک دمک پر ریجھے ہوئے ہیں اور اس سے آگے کچھ بھی سوچنے پر تیار نہیں ہیں۔ حالانکہ کتنی ہولناک صورت حال تیزی سے ان کے قریب بڑھتی چلی آرہی ہے۔ اپنے نزدیک ہم سب کچھ ہیں سوائے مسلمان کے، اور غیروں کے نزدیک ہم کچھ بھی نہیں ہیں سوائے مسلمان کے۔ کیسا عجیب تضاد ہے مسلم اور غیر مسلم کے طرز عمل میں!
     
  16. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    اسرائیلی معیشت۔ زوال کا شکار​

    اس وقت دنیا بھر میں پھیلے ہوئے یہودیوں کی کل آبادی صرف ایک کروڑ پچاس لاکھ ہے جس میں سے 48 لاکھ یہودی ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں اور تقریباً باسٹھ لاکھ یہودی اسرائیل میں آباد ہیں۔ اسرائیل کی آبادی پہلے اور بھی کم تھی لیکن افغان روس جنگ میں روس کی شکست و ریخت کے بعد روس کی ریاستوں سے یہودی اسرائیل پہنچ رہے تھے۔ اس دور میں دن رات کے حساب سے تقریبا 5 لاکھ یہودی ہجرت کر کے مستقل طور قیام کی خاطر اسرائیل وارد ہوئے تھے۔ اس طرح ان کی تعداد میں وہاں بڑا اضافہ ہوا۔ البتہ امریکی یہودیوں کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ تمام تر ترغیب اور تحریص اور اسرائیلی ریاست کے مذہبی تقدس کا درجہ رکھنے کے باوجود امریکی یہودی اسرائیل آنے کو تیار نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیل کے وفادار ضرور ہیں اور اس کی تمام تر مالی امداد بھی کریں گے لیکن امریکہ چھوڑ کر اسرائیل میں جا بسنا ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔ انہیں امریکی سہولتیں، آزادی اور ذاتی مفاد کی تسکین امریکہ سے نکلنے پر آمادہ نہیں کرتی۔

    اس وقت مقبوضہ فلسطین میں مسلمانوں کی تعداد 2000 کے اعداد و شمار کے مطابق 37 لاکھ جبکہ اوپر بتائی گئی حقیقت کے لحاظ سے فلسطین میں یہودیوں کی تعداد 62 لاکھ ہے جو فلسطینیوں کی نسبت174فیصد ہیں۔ لیکن حیرت انگیز طور پر اپنے تمام تر اسلحے، ساز و سامان اور عالمی تعاون کے باوجود وہ آج تک ان 37 لاکھ فلسطینیوں پر قابو نہیں پا سکے ہیں جبکہ غریب فلسطینی نہتے اور دربدر بھی ہیں۔ تاریخ کا یہ حیرت انگیز کمال ہے اور اس کی واحد وجہ مسلمانوں کا قدرتی رعب ہے۔ جہاد کرنے والے مسلمانوںکے اندر اللہ تعالیٰ قدرتی طور پر ایک ایسا رُعب ڈال دیتا ہے کہ بڑی بڑی طاقتور افواج بھی ان سے غیر محسوس طور پر مرعوب رہنے لگتی ہیں۔ مسلمانوں کا رُعب یہودیوں کے لئے ایک لحاظ سے deterrent کا کام دے رہا ہے، ورنہ 62 لاکھ یہودی ان 26فیصد فلسطینیوں کو نہ جانے کب کا تباہ و برباد کر چکے ہوتے۔

    اسرائیل کا معاشی بحران ہر روز بڑھتا جا رہا ہے اور وہاں کی سرکردہ تجارتی شخصیات مطالبہ کر رہی ہیں کہ تباہی کے خطرے سے دوچار ملکی معیشت کو بچانے کے لئے ایک متحدہ قومی حکومت بہت ضروری ہے۔ امریکہ اسرائیل کو ہر سال سوا تین ارب ڈالر کی خطیر رقم بطور امداد فراہم کرتا ہے تاہم اس کے باوجود اسرائیلی حکومت امریکہ سے مسلسل مزید مالی تعاون مانگتی رہتی ہے۔ گذشتہ عشرے میں صیہونیوں کے خلاف جو دو انتفاضے شروع ہوئے تھے، اس نے اسرائیلی معیشت پر کاری ضربیں لگائی ہیں جن کے باعث اسرائیل کی سیاحت، زراعت، تعمیرات اور صنعت کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق اسرائیل میں بے روزگاری کی شرح بھی بڑھ رہی ہے۔ اے این پی کی رپورٹ کے لحاظ سے اگست 2003ء تک اسرائیل کے 65 فیصد تجارتی مراکز بند ہو چکے تھے جس کی وجہ سے اُس سال 48 ہزار افراد ملازمتوں سے فارغ کئے گئے تھے۔ اب حال ہی میں حماس کی قیادت نے اعلان کیا ہے اگر ان کی منتخب حکومت کو تباہ و برباد کیا گیا تو وہ اسرائیل میں ایک بار پھر تیسری انتفاضہ شروع کر دے گی۔ اسرائیلی شہریوں پر خودکش بم دھماکوں کا اتنا بھاری خوف طاری ہے کہ شاپنگ علاقے اور تفریحی مقامات عام طور پر خالی نظر آتے ہیں۔
     
  17. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    مذکورہ انتفاضوں کے باعث اسرائیل کے فوجی اخراجات بھی حد سے سوا ہو گئے ہیں۔ میجر جنرل یوزی دریان نے جو 2001ء میں اسرائیل کی نیشنل سیکورٹی کاؤنسل کا سربراہ تھا، ستمبر 2001ء میں وضاحت کی تھی کہ انتفاضہ کی تحریک کی وجہ سے اسرائیل کو ہر سال 3 ارب ڈال کا خسارہ برداشت کرنا پڑ رہا ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی فوجیوں میں بھی بغاوت کے آثار پیدا ہوئے ہیں۔ ان میں سے کئی فوجیوں نے اسرائیلی حکومت کا ساتھ دینے سے انکار کر دیا ہے۔

    اسرائیلی معیشت کے زوال کی ایک اور بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کی تیار کردہ اکثر مصنوعات مسلم دنیا کے 56 ممالک میں سے محض دو یا تین ممالک میں برآمد کی جاتی ہیں کیونکہ ان کے سفارتی تعلقات اسرائیل کے ساتھ قائم نہیں ہیں۔ روزنامہ انقلاب بمبئی کے ایک تجزئیے کے مطابق اسرائیل میں دنیا بھر کے یہودیوں کی آمد کے ساتھ ساتھ ان کی ایک بڑی تعداد اب خوابوں کے اپنے اس ملک سے ترک وطن کرنے پر مجبور ہوئی ہے۔ یہ یہودی خیال کرتے ہیں کہ اسرائیلی حکومت کا ہر شہری کو لازمی فوجی خدمت انجام دینے کا قانون ان کے ساتھ زیادتی ہے جس کی بنیاد پر ہر شہری کو اسرائیلی فوج کے ساتھ فلسطینیوں اور لبنانیوں وغیرہ سے لڑنے کیلئے جنگی کاروائیوں میں لازماً حصہ لینا ہوتا ہے۔ پسلوانیا (امریکہ) کے ایک پروفیسر ایان لیسٹک کے مطابق اگر فلسطینی انتفاضہ تحریک یونہی جاری رہی تو اسرائیل سے بھاگنے والے یہودیوں کی تعداد بڑھتی ہی چلی جائے گی۔

    یورپی ممالک کی طرح ہندوستان کے یہودی بھی بھاری تعداد میں اسرائیل آکر آباد ہوئے تھے لیکن ان کے ساتھ اس حکومت نے متعصبانہ سلوک کیا اور انہیں غیرآباد اور غیر سہولیاتی علاقوں میں بسایا گیا۔ حکومت کی اس غیر منصفانہ پالیسی پر ہیبرو یونیورسٹی کی ڈاکٹر سیلوابیل خاصی برہم نظر آتی ہیں۔ انہوں نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یورپی یہودیوں کو تو یروشلم اور تل ابیب جیسے شہروں میں بسایا جاتا ہے جبکہ ہندوستان سے آئے ہوئے یہودیوں کو دھول اور گندگی سے بھرے چھوٹے چھوٹے قصباتی علاقوں میں آباد کیا جاتا ہے۔ اس نے کہا کہ فلسطینی علاقوں سے قریب ان چھوٹے شہروں میں اکثر بمباری بھی ہوتی رہتی ہے۔ 1970ء میں اسرائیل کی طرف ہجرت کرنے والے اسرائیلی رہنما لاریمیڈ کے مطابق ’’ہندوستان میں ہم کافی خوش تھے۔ وہاں ہمیں کبھی اپنے حقوق کی لڑائی نہیں لڑنی پڑی لیکن یہاں ہمیں ہر روز یہ سب کچھ کرنا پڑتا ہے۔ اور یہ سب کچھ ہمارے کالے رنگ کی وجہ سے ہوتا ہے‘‘۔ ایک دوسرا بھارتی یہودی انجینئر یووال ابراہیم کہتا ہے کہ ’’اگر آپ گورے یہودی نہیں ہیں تو آپ کے ساتھ درجہ دوئم کے شہری جیسا برتاؤ کیا جائے گا‘‘۔ (بحوالہ سہ روز دعوت، نئی دہلی 7 نومبر 2006ء)۔
     
  18. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    قارئین کے لئے یہ بات بھی حیرت و مسرت کا باعث ہو گی کہ دنیا میں یہودیوں کی آبادی ویسے ہی کم ہو رہی ہے۔ یہودی افراد عیسائیوں کے ساتھ باہم شادیاں کرتے ہیں لیکن چونکہ عیسائیوں میں مذہب کی گرفت بہت کمزور ہے، اس لئے پیدا ہونے والی اولاد 30 فیصد لادین ہے۔ 40 فیصد عیسائی اور صرف 30 فیصد یہودی رہتی ہے۔ بی بی سی کے ایک جائزے کے مطابق اسرائیل میں آباد فلسطینی مسلمانوں میں آبادی تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ اگر یہی حال رہا تو آئندہ دس سے پندرہ برسوں میں یہودی ان علاقوںمیں اقلیت بن کر رہ جائیں گے جہاں اسرائیل نے ناجائز قبضہ کیا ہوا ہے۔ بی بی سی کا کہنا ہے کہ آبادی میں اضافے کی اس جنگ میں اسرائیل کی شکست واضح ہے۔ (پندرہ روزہ جہاد کشمیر۔ راولپنڈی۔ 6 ستمبر2006ء بحوالہ انقلاب بمبئی)۔

    سینٹرل بینک آف اسرائیل نے نومبر 2002ء میں حکومت کو متنبہ کر دیا تھا کہ 2003ء میں اسرائیل کو معاشی ابتری (Resurrection) کا سامنا کرتے ہوئے لگاتار تین سال ہو جائیں گے۔ اسرائیلی معیشت کی قسمت پھیرنے کے لئے حکومتی مشیروں کی نظر یں صرف امریکا کی امداد پر جمی ہوئی ہیں لیکن اسرائیل کے خلاف بار بار اٹھنے والی انتفاضہ اسرائیلی حکومت کی ہر کوشش پر پانی پھیر دیتی ہے۔ جس طرح کا بھاری معاشی خسارہ اسرائیل کو درپیش ہے اور جس طرح اسرائیلیوں کی ذاتی خوشحالی اور تحفظ خطرے میں پڑے ہوئے ہیں، اس کا لازمی نتیجہ یہی نکل رہا ہے کہ یہودیوں کی بہت بڑی تعداد اب اسرائیل سے اپنے آبائی وطن پرواز کر رہی ہے۔
     
  19. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001

    امریکی یہودی تنظیمیں اور ان کا کردار​


    یہ بات تو اب بہت عام ہو چکی ہے کہ امریکہ آج مکمل طور پر اسرائیل کی گرفت میں ہے بلکہ ایک سابق امریکی فوجی افسر کے بقول پینٹاگون تو اسرائیل کے لئے ایک گھر کی حیثیت رکھتا ہے۔ امریکہ میں اس وقت کئی یہودی تنظیمیں بیک وقت کام کر رہی ہیں جن سب کے مقاصد ایک ہی ہیں۔ (۱) امریکی حکومت اور پارلیمنٹ کو مکمل طور پر یہودی گرفت میں رکھیں۔ (۲) اسرائیل مخالف امریکیوں کے لئے زندگی دشوار کر دیں (اسی لئے امریکہ میں اسرائیل کے خلاف بات کرتے ہوئے ہر رکنِ کانگریس سخت کانپتا ہے)۔ (۳) اسرائیل کے لئے امریکی حکومت سے زیادہ سے زیادہ اسلحہ اور امداد کی ترسیل کروائی جائے۔ (۴)۔ امریکی عوام سے کروڑوں ڈالر عطیات جمع کئے جائیں اور (۵) مسلم ممالک کے خلاف کریک ڈاؤن پر ہر امریکی حکومت پر دباؤ بڑھایا جائے۔

    یہ یہودی تنظیمیں امریکہ میں آباد یہودیوں کے اندر اس انداز میں کام کرتی ہیں کہ ان میں صیہونی مقاصد کے ساتھ لگن پیدا ہو سکے اور وہ یہ باور کر لیں کہ اسرائیل ہی ان کی زندگی کا محور و مرکز ہے۔ ایک امریکی یہودی تنظیم ’’امریکن زائنسٹ فیڈریشن‘‘ مختلف شہروں میں عوامی اجتماعات کا انعقاد کرتی ہے جن کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ غیر یہودیوں سمیت زیادہ سے زیادہ لوگوں تک اسرائیل کا بطور ریاست تصور پہنچایا جائے اور یروشلم کو اسرائیل کا سرکاری دارالحکومت تسلیم کرانے کے لئے عوامی دباؤ بڑھایا جائے۔ اس تنظیم نے ایک صیہونی کارواں بھی تشکیل دیا ہے جو ہر سال امریکہ کے بیس شہروں کا دورہ کرتا ہے اور اسرائیل کے حق میں فضا ہموار کرتا ہے۔ بعض یہودی تنظیموں نے تعلیمی اداروں میں اپنے اثر و نفوذ کے لئے اکیڈمک کونسلیں قائم کر رکھی ہیں جن کے ذریعے وہ یونیورسٹیوں کے اساتذہ کو اسرائیل کے بارے میں آگاہ کرتی ہیں۔ امریکہ ہی میں یہودی خواتین کی بھی ایک تنظیم (حداثہ) کام کر رہی ہے جس کا اثر و نفوذ اسکول کے طلبہ و طالبات میں ہے۔ حداثہ نوجوانوں کی قیادت کے لئے تربیتی کیمپ بھی منعقد کرتی ہے اور تیرہ سال سے زائد عمر کے بچوں کے لئے مسلم گرما میں ’’اسرائیل کی سیر‘‘ کا انتظام بھی کرواتی ہے۔
     
  20. ابو عبیدہ

    ابو عبیدہ محسن

    شمولیت:
    ‏فروری 22, 2013
    پیغامات:
    1,001
    امریکہ کی یہودی سماجی انجمنوں کا ایک بنیادی کام یہ رہا ہے کہ امریکی معاشرے میں یہودیوں کے خلاف تعصبات یا شہری حقوق کی خلاف ورزی کی سرعام مذمت کی جائے۔ لہٰذا اب یہ انجمنیں ان افراد یا شعبوں کو بھی ہدف تنقید بنانے سے نہیں چوکتیں جو اسرائیل پر معمولی سی بھی نکتہ چینی کرتے ہیں۔ ان تنظیموں کے عہدیدار، جو خود بھی بااثر امریکی یہودی ہوتے ہیں، امریکی حکومت اور انتظامیہ کے بڑوں سے ملاقاتیں کرتے ہیں اور انہیں اپنی کانفرنسوں میں مدعو کرتے ہیں جہاں ان سے صیہونیت کے حق میں تقریر کروائی جاتی ہیں۔ ان تقریروں کے عوض یہودی تنظیمیں ان امریکی سیاست دانوں کو بھاری رقوم بطور ’’اعزازیہ‘‘ ادا کرتی ہیں۔ امریکی جیوئش کمیٹی کے صدر بلاسٹن نے اب سے کئی عشرے قبل ڈیوڈبن گوریان (جو بعد میں اسرائیل کا وزیر اعظم بنا) کے ساتھ ایک بیان میں کہا: ’’کسی کو اسرائیل کے لئے ہماری محبت کو غلط نہیں سمجھنا چاہیئے۔ ہم دن رات اس محبت کااظہار کرتے رہیں گے۔ ہم اسرائیل کے لئے اپنی پوری قوت، اپنی ذہنی اور بدنی صلاحیتوں سے کام کریں گے۔ ہم اپنے تمام وسائل اور توانائی کو بروئے کار لائیں گے۔ اسرائیل سے بڑھ کر ہماری کوئی ترجیح نہیں ہے‘‘۔ ایک دوسری یہودی تنظیم جس سے گذشتہ دنوں پاکستان کے صدر مشرف نے بھی خطاب کیا تھا، یعنی امریکن جیوئش کانگریس، رائے عامہ کی تشکیل کرنے والوں کے اشتراک و تعاون کے ذریعے یہ باور کروانے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے کہ اقتصادی اور فوجی اعتبار سے ایک مضبوط اسرائیل مشرقِ وسطی کے امن اور امریکہ کے نازک دفاعی مفادات کے تحفظ کے لئے ناگزیر ہے۔ وہ کہتی ہے کہ ہم وہائٹ ہاؤس میں پیدا ہونے والے ہر اس رجحان کے خلاف کام کرتے رہیں گے جو کیمپ ڈیوڈ معاہدے کی روح کے منافی ہو۔1976ء میں اسی امریکی یہودی کانگریس نے نیویارک ٹائمز میں پورے صفحے کا ایک اشتہار شائع کروایا جس کا عنوان تھا: ’’یہودی ہونے پر فخر کیجئے‘‘۔

    یہ کانگریس امریکہ کے بڑے بڑے شہروں کے مئیر حضرات کو یروشلم کے دور پر بھیجنے کے انتظامات کرتی ہے۔ ان دوروں پر جانے والوں کو کانفرنسوں میں سب سے پہلے یہ باور کرایا جاتا ہے کہ پورے یروشلم میں اسرائیل کی بالادستی کیوں ضروری ہے؟ اس کے بعد جب یہ امریکی مئیر دوروں سے واپس آتے ہیں تو وہ امریکی عوام اور انتظامیہ پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہیں۔ یہ کانگریس اپنے ارکان پر زور دیتی ہے کہ جب حالات معمول پر ہوں تو ذرائع ابلاغ کے اہم افراد اور کالم نگاروں سے ذاتی سطح پر تعلقات استوار کریں، اس طرح دوررس نتائج پیدا ہوں گے اور ’’بحران‘‘ کے دنوں میں ان تعلقات کو ضرورت کے مطابق کام میں لایا جا سکے گا۔ اس کانگریس کے تحت ذرائع ابلاغ سے متعلق شخصیات کو اسرائیل کے دوروں کا بھی بندوبست کرایا جاتا ہے۔ وہ کہتی ہے کہ اخبارات میں اشتہارات صرف اسی صورت میں دیئے جائیں جب آپ کا نقطہ نظر شائع کرانے کی تمام کوششیں ناکام ہو جائیں۔
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں