مشورہ مطلوب ہے ۔۔

فتاة القرآن نے 'حالاتِ حاضرہ' میں ‏اپریل 5, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. فتاة القرآن

    فتاة القرآن -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 30, 2008
    پیغامات:
    1,444
    قبل للشيخ زايد بأن 85% من سكان الامارات من العمالة الوافدة و
    فقال : الرزق رزق الله , والمال مال الله و الفضل فضل الله والخلق خلق الله و الارض ارض الله ومن يعمل ويتوكل على الله يعطيه الله واللي يبينا حياه الله ..
    رحمك الله يا زايد
    [​IMG]
     
  2. فتاة القرآن

    فتاة القرآن -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 30, 2008
    پیغامات:
    1,444
    کہنا تو آسان ہے مگر نقل کفالہ میں اب سالوں سال معاملہ لٹکا رہ جاتا ہے
    میرے سکول میں ایک ٹیچر 3 سال سے اسی معاملے میں پھسی ہوئی ہیں
    اللہ آسانی کرے
     
  3. فتاة القرآن

    فتاة القرآن -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 30, 2008
    پیغامات:
    1,444
  4. فتاة القرآن

    فتاة القرآن -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 30, 2008
    پیغامات:
    1,444
  5. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,925
    جہاں تک میرے علم میں ہے کرسکتا ہے ۔ کوئی مسئلہ نہیں ۔
     
  6. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,852
    السلام علیکم

    ڈپلومیسی تو بہت دور کی بات ھے سعودی عرب میں اگر کوئی پاکستانی، سرکاری ملازم ھے تو وہ بھی پارٹ ٹائم جاب نہیں کر سکتا، اور ڈپلومیسی سعودی عرب میں کیا پوری دنیا کے ڈپلومیٹ پرائیویٹ جاب نہیں کر سکتے۔

    جو پرائیوٹ پارٹ ٹائم جاب کرتے ہیں وہ اپنے رسک پر کرتے ہیں۔ کسی غلط فہمی میں نہ رہنا کام کرتے پکڑے گئے تو پاکستانی سفارت خانہ کی بھی وزارت خارجہ میں رپورٹ ہو گی جس پر سختی سے نوٹس لیا جائے گا۔

    والسلام
     
  7. فتاة القرآن

    فتاة القرآن -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 30, 2008
    پیغامات:
    1,444
    سرکاری ملازم کا اقامہ ڈپلومیسی ہوتا ہے
     
    Last edited by a moderator: ‏اپریل 6, 2013
  8. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,852
    السلام علیکم

    یہ ایسے نہیں سمجھ آئے گا اسے سمجھنے کے لئے تھوڑی تھوڑی تفصیل بھی پیش کرتا ہوں۔

    شاپس چاہے چھوٹی ہو یا بڑی، کمپنی چاہے چھوٹی ہو یا بہت بڑی یا گروپس آف کمپنیز۔ ورکرز اور مالکان جو غیر سعودی ہوتے ہیں ان سب کے لئے پہلے وزارت العمل سے اپروول لینی پڑتی ھے اس کے بعد جوازات سے اس اپروول کے ساتھ ویزہ جاری ہوتا ھے۔ اس پر لیبر کارڈ بنتا ھے اور پاسپورٹ پر ویزہ لگتا ھے

    سعودی عرب میں جتنے بھی سرکاری ادارے ہیں ان کا لیبر سے کوئی قانونی کنکشن نہیں، ان کا ڈائریکٹ جوازات سے تعلق ھے اور اس پر بتاخہ ہر سرکاری ادارہ کا اپنا جاری ہوتا ھے۔

    آئیل ریفائنری کمپنیاں سب نیم سرکاری ہوتی ہیں اس پر بھی ورکرز کے لئے جوازات سے ڈائریکٹ ویزہ ملتا ھے ان کا بھی لیبر سے کوئی کنکشن نہیں۔

    عربیوں کے گھروں میں ملازم و ملازمہ کام کرتی ہیں ان کا بھی مکتب العمل سے کوئی کنکشن نہیں ان کا بتاخہ بھی جوازات بناتا ھے اور وزیزہ بھی جوازات سے لگتا ھے۔

    پاکستانی ڈپلومیٹک کا پاسپورٹ لال رنگ کا ہوتا ھے اس کا بھی آپکو علم ہونا ضروری ھے۔ اور اس کے علاوہ پاکستان میں جو سرکاری ملازم ہوتے ہیں ان کے پاسپورٹ کا رنگ نیلا ہوتا ھے مگر سرکاری ملازت اکثر سبز پاسپورٹ ہی رکھتے ہیں اس کی کچھ وجوہات ہیں جو ابھی ذکر کرنا ضروری نہیں۔

    آپ اپنی عزیزہ سے پوچھیں کہ ان کا جو سفارتی ویزہ ھے اس پر ان کے پاس وزارت العمل کا کارڈ ھے یا امبیسی کا۔ اگر تو لیبر کارڈ ھے تو پھر ویزہ پرائیوٹ ہو گا اور اگر امبیسی کا کارڈ ھے تو پھر ویزہ سیمی گورنمنٹ ہو گا۔

    ڈپلومیٹ وہ ہوتے ہیں جو امبیسی میں کام کرتے ہیں۔ اور پاکستان وزارت خارجہ کے ذریعے دوسرے ممالک میں پاکستانی ایمبیسی میں جاب کرتے ہیں۔
    سرکاری وہ ہیں جیسے کسی پاکستانی کو سعودی عرب شرطہ میں جاب ملی ھے تو اس کا ویزہ سرکاری ہو گا اور اسے کا وزات العمل سے کوئی کنکشن نہیں سیدھا جوازات سے ھے۔

    والسلام
     
    Last edited by a moderator: ‏اپریل 6, 2013
  9. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,925
  10. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,925
    اس خبر کے مطابق حکومت کی طرف سے تین مہینے کا وقت دیا گیا ہے کہ جو بھی نقالہ کفالہ کرانا چاہے ۔ کرا لے ۔ اس دوران کوئی قانونی کاروائی نہیں ہوگی ۔ اللہ اعلم ۔
    اليوم - السعودية - الملك يوجه بإعطاء فرصة للعاملين المخالفين لنظام العمل لتصحيح أوضاعهم
     
  11. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,312
  12. فتاة القرآن

    فتاة القرآن -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 30, 2008
    پیغامات:
    1,444
    جزاکم اللہ خیرا عکاشہ بھائی اعر عبدالرحمن بھائی
    ً میں ااج گئی تھی سکول آپ کے مشورے پر
    آلحمدللہ سب ٹھیک چل رہا تھا
     
    Last edited by a moderator: ‏اپریل 7, 2013
  13. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,120
    شکر ہے کہ ہمارا مدرسہ بھی کھل گیا -مدیرہ نے خاص تسلی دی اللہ تعالی سعودی خواتین کو جزائے خیر دے دین کے فروغ کے لیے وہ غیر ملکی خواتین کی بہت مدد کرتی ہیں‌-
     
  14. منہج سلف

    منہج سلف --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏اگست 9, 2007
    پیغامات:
    5,047
    السلام علیکم۔
    مجھے یہ سعودی عرب کا اقامہ اور کفیل وغیرہ کا سسٹم سمجھ میں نہیں آیا، یہ تو سرار غلامی ہی ہے، کم از کم میں اس سسٹم کے بالکل خلاف ہوں، کام کرے خارجی اور کچھ پیسہ عرب کفیل کو دے خوامخواہ، اور وہ جب چاہے اس کے ساتھ جو سلوک کرے چاہے تو بزنس پر قبضہ کرلے اور چاہے تو ڈپورٹ کروالے۔ سبحان اللہ
    کچھ عام ایسے ہیں اس مملک میں جن کا اسلام سے کوئی سروکار نہیں بلکہ قومیت اور غلامی پر مبنی ہیں جوکہ عرب اور خارجی (غلام) پر مبنی ہیں۔ اللہ ہی ان کو ہدایت نصیب فرمائے۔ آمین
    والسلام علیکم
     
  15. منصف

    منصف -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏جولائی 10, 2008
    پیغامات:
    1,920
    فتاہ القرآن ، آپ کو دیر سے پوسٹ کرنے میں معذرت ، ویسے تو دوسرے بھائیوں نے خصوصا کنعان نے بہت اچھی طرح آپ کے سوال کا جواب دے دیا ہے
    اور قانونی معاملات سمجا دیئے ہیں اس پر مذید لکھنے کی ضرورت نہیں

    بس یہ بتانا چاہتا ہوں کہ ابھی تک میرے علم میں یہ بات نہیں کہ اسکولوں میں چھاپے مارے گئے ہیں ، لیکن لوگ خوفزدہ ضرور ہوئے ہیں اور اسکولوں میں کافی حد تک کم رش تھا خصوصا غیر سعودی اساتذہ اور استانیاں جو بغیر انکے کفالت کے ہیں وہ تو غیر حاضر رہے
    (شائد اس بار بچوں نے حاضری لگائی ہوگی بورڈ پر ، استادوں کے نام لے لے کر,:00006: )
    تاہم جب سے یہ خبر آئی کہ تین مہینے کی مہلت دی گئی ، رونقیں عود آئی ہیں، چنانچہ جن دنوں اسکول بند تھے ، صبح سڑکیں کم ٹریفک ہونے کی وجہ سے میں بڑے آرام اور مزے سے دفتر جارہا تھا کہ آج پھر وہی ٹریفک کا اژدہام ، سمجھ گیا کہ معاملہ کیا ہے

    آپ کو فکر کرنے کی ضرورت نہیں ، آرام سے جائے ، اگر کفالت بھی نہیں کرانی اور تدریس کے شوق کو بھی جاری رکھنا ہے تو پرائیوٹ ٹیوشن کا دروازہ کھلا ہے
    آرام سے بے خوف خطر اپنے شوق کو جاری رکھے ۔۔۔اس میں کوئی مسئلہ نہیں

    اللہ سب مسلمانوں کی پریشانیوں کو دور کرے ۔‌آمین
     
  16. کنعان

    کنعان محسن

    شمولیت:
    ‏مئی 18, 2009
    پیغامات:
    2,852
    السلام علیکم

    ایسے کیسیز میں فیملیوں کے لئے بہت مشکل ہوتی ھے جب ان کا ویزہ سٹیٹس لیگل تو ھے مگر قانون کی کسی دفعہ کے مطابق اللیگل ہو تو؟

    اگر عورت پکڑی جائے تو پھر اس کے ساتھ بچے بھی ڈپورٹ ہونگے، اور وقتی طور پر سب سے بڑی مشکل ھے کہ بیوی آؤٹ جیل میں اور بچے گھر میں اور باپ کو بچے سنبھالنے بہت مشکل ہوتے ہیں جب تک انہیں ماں نظر نہیں‌ آئے گی بچے روتے رہیں‌ گے۔

    پھر بھی جس نے سکول جانا ھے تو وہ سکول جائے مگر احتیاط اب بھی ضروری ھے کیونکہ عربی لوگوں کا پتہ نہیں ہوتا 3 مہینے کا وقت دیا ھے ہو سکتا ھے اسی دوران بتائے بغیر دوبارہ کاروائی شروع کر دیں۔ کیونکہ 2 لاکھ کی تعداد بتائی جا رہی ھے اور ان کو واپس بھیجنے پر بھی وقت لگے گا اس سے جیلیں‌ یا جو بھی شیڈ انہوں نے کرایہ پر لئے ہونگے جب خالی ہونگے تو فوراً دوبارہ پکڑائی شروع کر دیں۔ اس لئے محتاط رہنا ضروری ھے۔

    والسلام
     
  17. فتاة القرآن

    فتاة القرآن -: منفرد :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 30, 2008
    پیغامات:
    1,444
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں