پرویز مشرف کا اعتراف جرم

mahs نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏اپریل 17, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. mahs

    mahs --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2012
    پیغامات:
    332
    سابق صدر اور پاک فوج کے سربراہ ریٹائرڈ جنرل پرویز مشرف نے، جنہوں

    نے دو مرتبہ پاکستان کا آئین توڑا اور آجکل پاکستان واپس آکر ایک بار پھر

    حکمرانی کے خواب دیکھ رہے ہیں، پہلی بار اعتراف کیا ہے کہ پاکستان پر

    ڈرون حملوں کے لیے امریکا سے خفیہ معاہدہ کیا تھا۔ اس اعتراف پر تو ان کے

    خلاف ایک اور مقدمہ قائم ہوسکتا ہے کہ اب وہ ملزم نہیں اعترافی مجرم ہیں۔

    ڈرون حملے تو پاکستان پر 2004ء سے ہورہے ہیں لیکن پرویز مشرف سمیت

    کسی نے یہ اعتراف نہیں کیا کہ حکومت کی طرف سے امریکا کو اس کی

    اجازت دی گئی تھی۔ اسی لیے تو امریکی عہدیدار کئی بار اس پر حیرانی کا

    اظہار کرچکے ہیں کہ پاکستان کی طرف سے احتجاج کیوں ہورہا ہے۔ پرویز

    مشرف نے سی این این کو انٹرویو دیتے ہوئے اعتراف کیا کہ ان کی حکومت

    نے خفیہ طور پر ڈرون حملوں کی اجازت دی تھی۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ

    اس کے لیے کوئی ’’بلینکٹ‘‘ معاہدہ (غیر مشروط) نہیں ہوا تھا اور یہ طے ہوا

    تھا کہ مخصوص مواقع پر میزائل حملہ اس وقت ہوگا جب ہدف اکیلا ہو اور

    حملے سے وسیع پیمانے پر نقصان نہ ہو۔ یہ بڑی احمقانہ شرط تھی جو پرویز

    مشرف ہی پیش کرسکتے تھے۔ جب سی آئی اے کو اجازت دے دی گئی تو اسے

    کیا پڑی کہ وہ اجتماعی نقصان (کولیٹرل) کا خیال کرے اور یہ پہلے دن سے

    ثابت بھی ہوتا رہا ہے۔ یہ کیسے ممکن تھا کہ سی آئی اے کسی کو نشانہ بنانے

    کے لیے اس بات کا انتظار کرے کہ وہ کہیں تنہا پایا جائے۔ چنانچہ خود امریکی

    رپورٹس گواہ ہیں کہ مبینہ دہشت گردوں سے زیادہ عام لوگ مارے گئے۔

    پاکستان ہی کیا افغانستان میں، جس پر 2001ء سے امریکی قیادت میں صہیونی

    اور صلیبی فوجیں قابض ہیں، وہاں پر بھی اندھا دھند میزائلی حملے ہوتے رہے

    ہیں۔گزشتہ دنوں ہی کئی افغان بچے شہید ہوئے جس پر کٹھ پتلی صدر کرزئی

    تک چیخ پڑے۔ پاکستان میں تو حکمران دم سادھے بیٹھے رہتے ہیں خواہ وہ

    فوجی حکومت ہو یا نام نہاد جمہوری حکومت۔ جنرل پرویز مشرف نے مزید

    فرمایا کہ ڈرون حملوں کی اجازت کے معاملہ پر فوج اور انٹیلی جنس کی سطح

    پر تبادلہ خیال ہوا تھا اور یہ طے ہوا تھا کہ حملے اس وقت کیے جائیں جب

    ہماری اسپیشل آپریشنز ٹاسک فورس اور فوج کے پاس کارروائی کا وقت نہ ہو۔

    وقت نہ ہونے سے ان کی کیا مراد ہے، یہ وہ ہی جانتے ہیں۔ یہ کوئی ایسا محاذ

    جنگ نہ تھا جہاں ذرا سی تاخیر سے پانسہ پلٹ جانے کا خطرہ ہو۔ کارگل کے

    محاذ جنگ پر تو جنرل صاحب اپنے ہی فوجیوں کو ہلاک کرواتے اور وقت

    گزارتے رہے۔ علاوہ ازیں اس بات کا تعین کرنے کی ذمہ داری کس کی تھی کہ

    پاک فوج کے پاس وقت نہیں رہا، اس لیے امریکا ڈرون حملے کرڈالے۔ ہم

    سمجھتے ہیں کہ وقت سمیت ہر قسم کے فیصلے امریکا اور سی آئی اے کے

    پاس ہی تھے۔ جنرل صاحب کا کہنا ہے کہ کبھی کبھی یہ ہوتا ہے کہ آپ

    کارروائی میں تاخیر برداشت نہیں کرسکتے۔ انہوں نے فرمایا کہ دشمن ایسے

    پہاڑوں پر چڑھا ہوا تھا جہاں پاک فوج نہیں جاسکتی چنانچہ ڈرون حملے کیے

    گئے۔ انہیں شاید یاد ہو کہ کمانڈر نیک محمد پہاڑوں پر نہیں چڑھا ہوا تھا جسے

    اس کے گھر میں نشانہ بنایا گیا۔ یہ وہی نیک محمد ہے جسے کچھ ہی دن پہلے

    پشاور کے کور کمانڈر نے ہار پہنائے تھے اور ایک سمجھوتا کیا تھا۔ جون

    2004ء میں جب نیک محمد کو نشانہ بنایا گیا تو پاکستانی انٹیلی جنس کے حکام

    نے دعویٰ کیا تھا کہ اسے پاک فوج نے میزائل کا نشانہ بنایا۔ اب جنرل صاحب

    کہہ رہے ہیں کہ نیک محمد امریکی ڈرون حملے میں مارا گیا۔ اس وقت جھوٹ

    کیوں بلوایا گیا، صرف یہ بات چھپانے کے لیے کہ امریکا کو ڈرون حملوں کی

    اجازت دی گئی ہے۔ ڈمہ ڈولا میں امریکی میزائل سے بے شمار افراد کی ہلاکت

    پر بھی مختلف داستانیں گھڑی گئیں کہ یہ لوگ بم بنارہے تھے کہ وہ پھٹ گیا۔

    اور پھر قبائلی علاقے سے ایک صحافی نے امریکی میزائل کا ٹکڑا ذرائع ابلاغ

    کے سامنے پیش کردیا۔ بھانڈا پھوڑنے کے جرم میں اس صحافی حیات خان کی

    لاش ہی ملی۔ ایسے جھوٹ تراشنے میں پرویز مشرف کی حکومت کے ترجمان

    وفاقی وزیر اطلاعات شیخ رشید بھی کسی سے پیچھے نہیں تھے۔ اب تو وہ سب

    سے زیادہ سچے بن رہے ہیں۔ چلیے، مان لیا کہ پرویز مشرف نے امریکا سے

    محدود ڈرون حملے کرنے کا سمجھوتا کیا تھا لیکن ان حملوں کے لیے پاکستان

    کے فضائی اڈے کس خوشی میں امریکا کے حوالے کیے گئے۔ اس سے بڑا ظلم

    اور کیا ہوگا کہ پاکستانیوں کو قتل کرنے کے لیے ڈرون طیارے پاکستان ہی کی

    سرزمین سے بلند ہوتے تھے اور قتل کرکے واپس ان پناہ گاہوں میں آجاتے تھے

    جو جنرل پرویز مشرف نے فراہم کی تھیں۔ سابق فوجی سربراہ نے خاص طور

    پر یہ ذکر کیا ہے کہ ڈرون حملوں کی اجازت دینے سے پہلے ملٹری اور انٹیلی

    جنس کی سطح پر مشورے ہوئے تھے۔ اس کا مقصد یہ بتانا ہے کہ وہ اکیلے ہی

    مجرم نہیں تھے۔ ان کے وکیل احمد رضا قصوری تو عدالت میں انتباہ کرچکے

    ہیں کہ پرویز مشرف پر مقدمہ چلا تو پنڈورا بکس کھل جائے گا۔ دیگر معاملات

    میں تو وہ ق لیگ کی حکومت اور وزیر اعظم کو آگے کردیتے ہیں، پاکستان کی

    سالمیت سے متعلق اس اہم فیصلے پر انہون نے وزیر اعظم اور کابینہ سے

    مشورہ کیوں نہیں کیا؟ وہ بھی ان کے حکم سے باہر تو نہ تھے۔ آج ان پر یہ ذمہ

    داری بھی ڈالی جاسکتی تھی۔ بہر حال وہ تو فوجی آمریت تھی لیکن نام نہاد

    جمہوری حکومت کے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کے حوالے سے وکی

    لیکس نے انکشاف کیا تھا کہ انہوں نے اپنی پارلیمنٹ کے احتجاج پر امریکا کو

    تسلی دی تھی کہ ہم احتجاج کرتے رہیں گے مگر آپ حملے جاری رکھیں۔ کیا یہ

    منافقت کی انتہا نہیں؟
     
  2. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,921
    mahs بھائی
    خبر کا کوئی حوالہ بھی دے دیں.
     
  3. mahs

    mahs --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2012
    پیغامات:
    332
    یونس بھائی میرے ایک دوست ریورٹر ہیں‌انہوں‌نے مجھے میل کی تھی۔
     
  4. نعیم یونس

    نعیم یونس -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2011
    پیغامات:
    7,921
    شکریہ بھائی.
     
  5. ملک 17

    ملک 17 -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 18, 2012
    پیغامات:
    68

    بہت بہت شکریہ جناب۔
    چونکہ یہ اسلامی فورم ہے اور اسلام کی رو سے اس پر بات کرنا سب سے زیادہ حق رکھتا ہے۔
    عرض یہ ہے کہ اسلام برائی کو اس وقت ہاتھ سے منع کرنے، یا اس کے خلاف بات کرنے کا حکم دیتا ہے جب برائی ہو رہی ہو۔ وقت گزرنے کے بعد اس کی حیثیت کیا ہوتی ہے، فی الحال اس پر بحث نہیں۔
    آپ نے اس مضمون کو مثالی معاشرہ میں ارسال کیا ہے۔

    اس کی اصل جگہ تو شاید خبریں کا زمرہ ہے تاکہ آپ اس کا حوالہ بھی کوڈ کر سکیں۔

    ہاں یہ تجربہ ہے کہ جس وقت برائی ہو رہی ہو اس وقت اس کے خلاف بات کرنے سے لوگوں کی آواز کو ’’دبا‘‘ دیا جاتا ہے۔ جیسا کہ آپ نے ایک صحافی کی مثال پیش کی۔ اور حاکم وقت اور حکومت کے خلاف بات سے ہمیشہ پرہیز ہی کروایا جاتا ہے۔

    فی الحال اس مضمون میں تشنگی باقی ہے۔

     
  6. mahs

    mahs --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2012
    پیغامات:
    332
    ملک صاحب میں‌نے تواردو مجلس پر ہر موضوع پر تھریڈ دیکھے ہیں۔ پھیر اس تھریڈ میں‌ کیا غلط ہے؟؟؟؟
     
  7. ملک 17

    ملک 17 -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 18, 2012
    پیغامات:
    68
    غلط کچھ بھی نہیں اور نہ ہی تنقیدی نظر سے اسے دیکھا ہے۔ آپ سے صرف یہ گذارش کی ہے کہ ایسا تھریڈ اگر خبروں والے زمرے میں ہو تو زیادہ مناسب ہے۔ باقی آپ کی مرضی۔ اگر کوئی بات بری لگی ہو تو معذرت۔
     
  8. mahs

    mahs --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2012
    پیغامات:
    332
    معذرت ملک صاحب انشاءاللہ آئندہ اس بات کا خیال رکھا جائے گا، کون سا موضوع کہاں پر لگانا ہے۔
     
  9. زبیراحمد

    زبیراحمد -: ماہر :-

    شمولیت:
    ‏اپریل 29, 2009
    پیغامات:
    3,445
    شیئرنگ کاشکریہ
     
  10. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,750
    شیئرنگ کا شکریہ بھائی
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں