بچوں اور بیوی سے غلط سلوک کی سزا (ایک عبرت ناک سچی کہانی)

Innocent Panther نے 'مثالی معاشرہ' میں ‏اپریل 22, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. Innocent Panther

    Innocent Panther محسن

    شمولیت:
    ‏نومبر 12, 2011
    پیغامات:
    600
    بچوں اور بیوی سے غلط سلوک کی سزا (ایک عبرت ناک سچی کہانی)

    میں ایک ایسا مرد ہوں جس کو الله تعالى نے سب کچھ دیا مگر میں نے نہ اس کی نعمتوں کا شکر ادا کیا نہ اسکی نعمتوں کی سنبھال کے رکھا - میرا باپ بچپن میں فوت ہو گیا تھا اور میری ماں نے مجھے بڑی محنت اور مشقت سے پڑھا لکھا کر اس قابل کیا کہ میں اپنے پیروں پر کھڑا ہو جاؤں - نوکری ملنے کے بعد جیسا کہ سب ماؤں کی آرزو ہوتی ہے کہ جلدی بیٹے کا گھر بسا دیں ، ماں مجھے بھی بہت ساری لڑکیاں دکھائیں مگر میں کیونکہ اپنے خاندان کا پہلا فرد تھا جس کو صرف نہ ایک اچھی لڑکی ملی تھی بلکہ خوش شکل اور چرب زبان بھی تھا اور لوگوں کو متأثر کرنے کے فن سے بھی آشنا تھا ، اسکے علاوہ مغرور اور خود سر ہونے باعث اپنے غریب رشتے داروں کو منہ تک نہ لگاتا تھا - آخر ایک لڑکی کو دیکھ کر میں نے ہاں کر دی اور یوں میری شادی ہوگئی-

    اب اسے میری پسند کہیں یا نہ کہیں ، لڑکی میری دیکھی بھالی تھی اور ایک اعلیٰ تعلیم یافتہ اور اعلیٰ خاندان سے تعلق رکھتی تھی - سلیقہ شعار اور فرض شناس تھی - خوبصورت تو نہ تھی بس قبول صورت تھی ، شمع محفل نہ بن سکتی تھی ، نہ جان محفل بن نے کی صلاحيت رکھتی تھی - لہٰذا جلد ہی وہ میری نظروں سے گر گئی لیکن میری زیادتیوں کا اپنے گھر والوں سے تذکرہ نہ کرتی تھی - جس طرح سے شادی سے پہلے میرے کام ماں کرتی تھی اسی طرح اسنے سنبھال لئے مگر جو رویہ میرا ماں کے ساتھ لا تعلقى کا تھا وہی بیوی کے ساتھ رہا نہ میں نے کبھی ماں کا خیال کیا تھا نہ بیوی کا-

    جب کبھی میں اپنے دوستوں کے گھر جاتا اور انکا اپنے خاندان والوں کے ساتھ پیار و محبت کا سلوک دیکھتا تو اپنے رویہ کا فرق محسوس کرتا - حد سے زیادہ خود سر اور خود پسند تھا ، جلدی بیوی نے میری طبعیت کا اندازہ کر لیا - کبھی کبھی وہ مجھے احساس دلانے کے لئے دوسروں کی مثال دیتی تو چڑ جاتا - کوئی رشتہ دار عورتیں بیوی کی تعریف کرتیں تو میں جل کر بیوی میں ہزاروں عيب نکال کر اسکو بد دل کر دیتا اور اگر بیوی کسی دوست کی اس طرح تعریف کرتی کہ وہ اپنی بیوی کے ساتھ کیا سلوک کرتا ہے کتنا خیال رکھتا ہے تو میں دوست میں کوئی بڑا عيب نکال کر اسکو برا بنا دیتا یا پھر ایسے دوستوں کے گھر بیوی کو لے جانا ہی چھوڑ دیتا-

    ابتداء میں تو وہ میرا بڑا خیال کرتی گھر کے اندر باہر کے تمام کام خوش اسلوبی سے ہو جاتے ، بچے بھی جلدی جلدی ہوئے - وہ میرے آرام کے خاطر الگ چھوٹے بچوں کو لے جاکر سوتی - جلدی جلدی بچوں کی پیدائش اور کام کی زیادتی کے باعث اگر اس سے کوئی کوتاہی سرزد ہو جاتی تو اسکے بدلے اسکو نہ صرف اپنی ماں اور بچوں کے سامنے گالیاں دیتا بلکہ اسکے احتجاج پر اس پر ہاتھ اٹھانے سے بھی باز نہ آتا-

    آج ان حالات کو پہونچ کر اب میں سوچتا ہوں کہ لوگ جانور بھی پال لیتے ہیں تو اس سے پیار سے بات کرتے ہیں ، انکا خیال رکھتے ہیں مگر میں تو اپنی ذات کے خول میں بند تھا - ماں بیوی بچوں سب سے خدمات لیتا خود کسی کے کام نہ آتا - میرے چھوٹے چھوٹے بچے کیسے بڑے ہوئے کب بیمار ہوئے اور کیسے صحت یاب ہوئے مجھے نہیں معلوم ..... یہ بھی علم نہیں کہ کیسے گھر چلایا جاتا رہا اور کیا اور کس کس اشیاء کی قیمتیں کب بڑھیں؟

    گھر والوں نے مجھے ہر فکر سے آزاد کر دیا تھا پھر بھی میں دفتر جانے اور پیسے کماکر لاکر دینے کو اپنے گھر والوں پر احسان سمجھتا - میرے سارے دوست دفتر کے ٹور پر جاتے تو بیویوں کو بھی اپنے پاس سے ٹکٹ لے کر لے جاتے مگر میں بیوی پر روپیہ خرچ کرنے کو فضول خرچی سمجھتا - اسکی بیماری کو وہم سمجھ کر نظر انداز کرتا بلکہ اسکے علاج سے بھی بے خبر ہو جاتا - اگر وہ بیماری یا تھک کر مجھ سے پہلے سو جاتی تو اسکو گالیاں دیتا - بڑھتی ہوئی عمر اور بیماری کے باعث اسنے اپنے کام بچوں میں تقسیم کرنا چاہے تو یہ بھی میں نے اسکی کام چوری تصور کی اور اسے سخت ملامت کرتا-

    وہ کہتی کہ میں مرجاؤنگی تو گھر کون سنبھالیگا ، تو میرا جواب ہوتا کہ کل کی مر جاتی آج مرجاؤ - تمہارا پوچھنے والا کون ہے ؟ جب بیوی بیمار ہوتی تو بجائے اس پر توجہ دینے کے دوسری شادی کے چکر میں گھر سے باہر رہتا - جب وہ مسلسل بیمار رہنے لگی تو میں نے دوسری شادی رچا لی - دوسری بیوی بہت چالاک تھی ، اس نے گھر اور بچوں کے کاموں سے غفلت برتی میرے ذاتی کام خود سنبھال لئے ، اس طرح اسنے مجھے جورو کا غلام بنا لیا اور میں اس کے اثر میں آکر بچوں تک کو بھول گیا –

    اسکی سزا قدرت نے مجھے اس طرح سے دی جب میری دوسری بیوی کے ہاں ولادت ہوئی تو دوسری بیوی مر گئی - پہلی نے اگرچہ طلاق نہ لی تھی مگر اپنے میکے جا بیٹھی تھی ، مجھے گھریلو کاموں اور بچوں سنبھالنے کے لئے پھر اپنی پہلی بیوی کو بلانا پڑا مگر اس نے میرے پاس آنے سے انکار کر دیا کہ جس گھر میں میرے بچے نہیں ہیں میں وہاں آکر کیا کرونگی کیونکہ سوتیلی ماں کے سلوک اور شادی بعد میری بے رخی کے باعث میرا اکلوتا اور قابل بیٹا امریکا چلا گیا اور اپنی ماں کو بھی اپنے پاس بلا لیا تھا - ایک لڑکی تھی جسکی سوتیلی ماں نے ایک بڈھے سے شادی کر دی تھی جو اسے لے کر دبئی چلا گیا تھا -

    آج میں تنہا اپنے اعمال کی سزا بھگت رہا ہوں - دوست احباب رشتےدار مجھ پر طنز کرکے چلے جاتے ہیں کہ سب خدا کی نا شکری اور غرور و تکبر کا نتیجہ ہے -

    اب میں ہوں اور میری بیماریاں میری ساتھی ہیں مگر نہ اولاد میرے پاس رہنا گورا کرتی ہے اور نہ کوئی اور رشتےدار - نرس رکھنے کہ مجھ میں استطاعت نہیں - اگر خود کشی حرام نہ ہوتی تو میں کب کا کر چکا ہوتا بس تنہائیوں کے عذاب جھل رہا ہوں -

    هدية الوالدين للحافظ مبشر حسين حفظه الله سے اقتباس صفحہ 76 سے 78 (روز نامه جنگ بحوالہ مثالی باپ صفحہ 313 سے 315 تک) ​
     
    Last edited by a moderator: ‏اپریل 22, 2013
  2. mahs

    mahs --- V . I . P ---

    شمولیت:
    ‏ستمبر 6, 2012
    پیغامات:
    332
    کیا کہیں۔ اتنا کہوں‌ گا
    عروج کو زوال ہے جو صبح کا سورج طلوع ہوتا ہے اس نے ضرور غروب ہونا ہوتا ہے
    اور ہم یہ بھول جاتے ہیں‌جو کچھ ظلم و زیادتی ہم کسی کے ساتھ کرتے ہیں‌
    کیا یہ ایسا ہمیشہ رہے گا
    نہیں‌
    ایسا ہر گز نہیں‌ ہوتا یہ دنیا مکافات عمل ہے
    اللہ ہمیں‌ معاف فرمائے آمین یا رب العالمین
     
    Last edited by a moderator: ‏اپریل 22, 2013
  3. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,757
    جزاک اللہ خیرا

    ایک کڑوی حقیقت کی طرف توجہ دلائی آپ نے
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں