نماز اور ہم

عفراء نے 'نقطۂ نظر' میں ‏ستمبر 18, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,919
    اللہ تعالیٰ نے پوری کائنات انسان کے لیے خلق کی ہے اور انسان کو اپنے لیے بنایا ہے۔ یعنی پوری کائنات انسان کے لیے ہے اور انسان خود اللہ تعالیٰ کے لیے۔

    اللہ تعالیٰ نے قرآنِ مجید میں ارشاد فرمایا ہے کہ ہم نے انسان اور جنوں کو اپنی عبادت کے لیے خلق کیا ہے۔

    اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کی زندگی کی ساری معنویت عبادت سے متعین ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عبادت عبد اور معبود کے تعلق کا سب سے خوب صورت اور سب سے جامع بیان ہے۔

    صرف عبادت ہی سے عبد کا عبد اور معبود کا معبود ہونا پوری شدت سے ظاہر ہوتا ہے۔ اسلام میں عبادت کے نظام کا مرکزی حوالہ نماز ہے۔ اسی لیے کہا گیا ہے کہ نماز دین کا ستون ہے۔ مسلم اور غیر مسلم کے درمیان تمیز نماز ہی سے قائم ہوتی ہے۔ نماز مومن کی معراج ہے۔

    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرامؓ کے زمانے میں اسلامی معاشرہ نماز کو اتنی اہمیت دیتا تھا کہ اگر کوئی شخص دو تین نمازوں میں مسجد سے مسلسل غیر حاضر ہوتا تو اس کے بارے میں خیال کیا جاتا تھا کہ وہ یا تو بیمار ہے یا منافق ہوگیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں نے اپنی تاریخ کے ہر دور میں انفرادی اور اجتماعی طور پر نماز کی حفاظت کی ہے۔

    اس کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ مسلمانوں نے تاریخ کے صفحات پر جب بھی کہیں کوئی نئی بستی آباد کی، اس بستی میں سب سے پہلے مسجد کی تعمیر کو یقینی بنایا۔ مسلمانوں کی اجتماعی نفسیات اور اجتماعی شعور پر مسجد کے نقشے یا اس کے ڈیزائن کا اتنا زبردست اثر تھا کہ ایک زمانے تک مسلمانوں کے گھر بھی مسجد کی طرز پر تعمیر ہوتے تھے۔

    یعنی تعمیراتی سطح پر مسلمانوں کی رہائش گاہیں مسجد کی توسیع بن گئی تھیں۔ شہری تمدن، اس کی ضروریات اور اس کے دبائو نے شہروں میں مکانات کی تعمیر کے اس روایتی طرز کو فنا کردیا ہے، البتہ دیہات میں آج بھی ایسے مکانات مل جاتے ہیں جو مسجد کی طرز پر تعمیر کیے گئے ہوتے ہیں۔ ہمارے مذہبی شعور کے زوال نے جہاں ہماری طرزِتعمیر کو متاثر کیا ہے وہیں نماز کے سلسلے میں بھی ہماری طرزِ فکر میں ایک بنیادی تغیر آگیا ہے۔

    نماز کے بارے میں ہمارا طرزِفکر یہ ہے کہ ہمیں چوبیس گھنٹے میں بہت سے ضروری کام کرنے ہیں اور ان کے درمیان پانچ فرض نمازیں ادا کرنی ہیں۔ جبکہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم، صحابہ کرامؓ اور تابعین کا طرزِفکر اور طرزِعمل یہ تھاکہ ہمیں چوبیس گھنٹے میں پانچ فرض نمازیں ادا کرنی ہیں اور ان کے درمیان بہت سے ضروری کام کرنے ہیں۔ غور کیا جائے تو ان دونوں نقطہ ہائے نظر میں کئی بنیادی فرق ہیں۔

    نماز کے بارے میں موجودہ طرزِفکر میں دنیا کے کاموں کی اہمیت بنیادی اور نماز کی اہمیت ثانوی ہے۔ ثانوی چیزوں کے لیے ہر چیز ثانوی استعمال ہوتی ہے۔

    مثلاً نیت، جذبہ، وقت، محنت، توانائی، توجہ۔ چونکہ ہماری زندگی میں دنیا کے کاموں کی اہمیت بنیادی اور نماز کی اہمیت ثانوی ہے اس لیے ہماری زندگی میں نماز ایک ’’عادت‘‘ بن گئی ہے۔ عادت کا مسئلہ یہ ہے کہ جب چیزیں عادت بن جاتی ہیں تو وہ روح سے محروم ہونے لگتی ہیں۔

    ہماری نمازوں کا معاملہ بھی یہی ہے۔ ان میں عادت زیادہ ہے، روح کم ہے۔ حالانکہ صورت حال اس کے برعکس ہونی چاہیے، یعنی نماز میں روح زیادہ ہونی چاہیے اور عادت کا عنصر کم ہونا چاہیے۔ لیکن یہ تغیر اسی وقت رونما ہوسکتا ہے جب نماز کے سلسلے میں ہمارا طرزِفکر یہ ہوجائے کہ ہمیں چوبیس گھنٹے میں پانچ فرض نمازیں ادا کرنی ہیں اور ان کے درمیان کچھ ضروری کام کرنے ہیں۔

    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ بہترین عمل وقت پر نماز ادا کرنا ہے۔ اس ارشادِ مبارک میں نماز کو دنیا کی ہر دوسری چیز پر فوقیت حاصل ہے، اور جب نماز کو دنیا کی ہر چیز پر فوقیت حاصل ہوجاتی ہے تو پھر نماز کی نیت بھی شاندار ہوجاتی ہے۔

    اس میں جذبہ بھی اعلیٰ درجے کا بروئے کار آتا ہے۔ اس میں توجہ کا معیار بھی بلند ہوجاتا ہے۔ محنت اور توانائی بھی اعلیٰ درجے کی استعمال ہونے لگتی ہے۔ اخلاص کی نوعیت بھی بہترین ہوجاتی ہے۔ زندگی کی بنیادی حقیقت یہ ہے کہ ترجیح کے تبدیل ہونے سے سب کچھ نہیں تو بہت کچھ بدل جاتا ہے۔

    حضرت عائشہ صدیقہؓ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان موجود ہوتے تھے تو معلوم بھی نہیں ہوتا تھا کہ ہمارے درمیان اولوالعزم پیغمبر موجود ہیں، لیکن جیسے ہی اذان کی آواز سنائی دیتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرۂ مبارک متغیر ہوجاتا اور ایسا محسوس ہوتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں جانتے بھی نہیں۔

    ہماری زندگی کا عام تجربہ ہے کہ اگر ہماری ملاقات صدر اور وزیراعظم یا کسی صوبائی وزیر سے بھی ہورہی ہو تو ہم اس کی بھرپور تیاری کرتے ہیں۔ ذہن میں ملاقات کا خاکہ مرتب کرتے ہیں، ملاقات کے ایجنڈے کا تعین کرتے ہیں، ملاقات کے ادب و آداب پر غور و فکر کرتے ہیں، نہاتے دھوتے ہیں، اچھا لباس زیب تن کرتے ہیں، وقت ِمقررہ پر ملاقات کے لیے پہنچتے ہیں۔

    اگر ہماری ملاقات صدر اور وزیراعظم سے ہونے والی ہو تو جوش و جذبے اور خوشی کے مارے لوگوں کو ٹھیک سے نیند نہیں آتی۔ نماز کا معاملہ یہ ہے کہ نماز انسان کے خالق، مالک اور رازق سے ملاقات ہے، لیکن اس ملاقات کے سلسلے میں ہمارے اندر کوئی بیتابی نہیں ہوتی۔ اس کے لیے ہمارے اندر کوئی جوش و جذبہ نہیں ہوتا۔ اس ملاقات کے لیے ہم ذہنی، نفسیاتی اور عملی سطح پر کوئی خاص تیاری نہیں کرتے۔

    ہماری پوری زندگی میں دوچار بار بھی ایسا نہیں ہوتا کہ ہمیں نماز کے انتظار میں نیند نہ آئے، یا اگر ہم رات کو سوجائیں تو فجر کی نماز کے لیے وقت سے پہلے گھبرا کر اٹھ بیٹھیں اور خیال کریں کہ کہیں ہماری نماز تو قضا نہیں ہوگئی! اس صورتِ حال کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ہماری نمازیں خدا کے ساتھ ’’معمول کی ملاقاتیں‘‘ بن کر رہ جاتی ہیں جن میں کوئی جذبہ و شوق نہیں ہوتا، جن میں عشق و محبت کا کوئی رنگ نہیں ہوتا۔

    حالانکہ نماز اور نمازیوں کے بارے میں کیسے کیسے حقائق بیان کیے گئے ہیں۔ ایک روایت کے مطابق نماز اور نمازی کی ایک قسم ہے کہ نمازی نماز کے لیے کھڑا ہوتا ہے تو اس کے سر سے آسمان تک اللہ تعالیٰ کی رحمت اس پر سایہ کرلیتی ہے۔ فرشتے اس کے چہرے کے گرد منڈلانے لگتے ہیں اور ان میں سے ایک فرشتہ پکار کر کہتا ہے کہ اے نمازی اگر تجھے معلوم ہوجائے کہ تُو کس سے باتیں کررہا ہے تو، تُو قیامت تک سلام نہ پھیرے۔

    نماز کے بارے میں ایک عام شکایت یہ ہے کہ نماز میں طرح طرح کے خیالات ذہن پر یلغار کرتے ہیں۔ یہ مسئلہ مبتدیوں کی نماز سے کامل انسانوں کی نماز تک پھیلا ہوا ہے۔

    رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک دن یہودی آئے اور کہنے لگے کہ ہم نے سنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نماز پڑھتے ہیں تو خیالات ان کی نماز میں مداخلت کرتے ہیں۔ یہودیوں نے کہاکہ ہم جب عبادت کرتے ہیں تو ہمیں خیالات پریشان نہیں کرتے۔

    حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیقؓ کی طرف دیکھا اور فرمایا: ابوبکرؓ اس کا جواب دیجیے۔ حضرت ابوبکرؓ نے یہودیوں سے مخاطب ہوکر کہا: مسئلہ یہ ہے کہ چور اسی گھر میں آتے ہیں جس میں خزانہ ہو۔ جہاں خزانہ نہیں ہوتا وہاں چور نہیں آتے۔ یہ کاملین کی نماز اور خیالات کا معاملہ ہے۔

    مبتدیوں کی نماز میں خیالات کی مداخلت کے حوالے سے مولانا اشرف علی تھانویؒ نے ایک عمدہ بات کہہ رکھی ہے۔ مولانا نے فرمایا ہے کہ نماز میں خیالات آئیں تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ اصول ہے کہ جب گھر کے ’’اصل مالک‘‘ آجاتے ہیں تو ’’قابض‘‘ کو رخصت ہونا پڑتا ہے۔ مطلب یہ کہ نماز میں خیالات آتے نہیں، جاتے ہیں اور یہ ذہن کے خیالات سے پاک ہونے کا عمل ہے۔

    وقت کی 9 ابعاد یا 9 Dimensions ہیں، ان میں سے 5 بنیادی اور 4 ثانوی ہیں۔ اور وقت سے انسان کے تعلق کی نوعیت یہ ہے کہ یا تو انسان وقت پر غالب آجاتا ہے یا وقت اس پر غالب آجاتا ہیٖ، اور جس پر وقت غالب آجائے اس کے بارے میں قرآن مجید کا یہ اعلان سچا ہوجاتا ہے کہ ’’عصر کی قسم بے شک انسان خسارے میں ہے‘‘۔

    سوال یہ ہے کہ وقت پر غلبے کی صورت کیا ہے؟ اس سوال کا جواب یہ ہے کہ وقت کی بنیادی ابعاد یا Dimensions پانچ ہیں اور فرض نمازیں بھی پانچ ہیں۔ چنانچہ جو شخص پانچ فرض نمازیں نمازوں کے جمال اور کمال کے ساتھ ادا کرتا ہے وہ وقت کی پانچ بنیادی ابعاد پہ غلبے کا حق ادا کرتا ہے۔

    وقت کی ثانوی ابعاد چار ہیں اور نفلی نمازوں کی تعداد بھی چار ہے۔ یعنی تہجد، اشراق، چاشت اور اوّابین۔ اس بات کا مفہوم یہ ہے کہ جو شخص نماز کی حقیقی روح کے ساتھ 9 نمازیں ادا کرتا ہے وہ وقت کی تمام ابعاد یا تمام Dimensions پر غالب آجاتا ہے اور وہ ’’صاحب الزمان‘‘ کہلاتا ہے۔

    اسلام میں عبادت کا مفہوم محدود نہیں لیکن اس سلسلے میں بنیادی بات یہ ہے کہ نماز زندگی کا اجمال ہے اور اسلام چاہتا ہے کہ انسان کی پوری زندگی نماز کے اجمال کی تفصیل بن جائے۔ یعنی انسان کی پوری زندگی نماز بن جائے۔ لیکن ایسا اسی وقت ممکن ہے جب نماز کو اس کی حقیقی روح کے مطابق ادا کریں۔


    شاہنواز فاروقی

     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
    • اعلی اعلی x 1
  2. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    جزاک اللہ خیرا سسٹر
     
  3. حسیب رزاق

    حسیب رزاق -: معاون :-

    شمولیت:
    ‏فروری 8, 2013
    پیغامات:
    103
    جزاک اللہ خیر

    چاشت اور اوّابین کے بارے میں تفصیل درکار ہے؟
     
  4. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,120
    جزاک اللہ خیرا
     
  5. عبد الرحمن یحیی

    عبد الرحمن یحیی -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 25, 2011
    پیغامات:
    2,312
    شاید اس حدیث کی طرف اشارہ ہے
    اسود کہتے ہیں کہ میں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں کیا کرتے تھے، انہوں نے بتایا کہ گھر والوں کے کام میں لگے رہتے تھے اور جب نماز کا وقت آجاتا تو نماز کے لئے تشریف لے جاتے۔
    صحیح بخاری:جلد سوم:حدیث نمبر 984

    بہن اللہ آپ کے علم ،عمل اور عمر میں برکت دے کوشش کریں کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب جو بات بھی بات شیئر کریں حوالہ ساتھ ضرور دیں
    اگر ان دو احادیث کے حوالے ساتھ ہوتے تو بہت اچھا ہوتا

    1 ۔
    2 ۔
     
  6. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,919
    بھائی یہ مضمون میں نے لکھا ہوتا تو آپ کی نصیحت پر عمل کر لیتی لیکن یہ میں نے لکھا نہیں۔ مصنف کا نام لکھا ہوا ہے نیچے۔
     
  7. عفراء

    عفراء webmaster

    شمولیت:
    ‏ستمبر 30, 2012
    پیغامات:
    3,919
    وایاک
    علمائے کرام سے پوچھیے سوال جواب سیکشن میں۔
     
    • متفق متفق x 1
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,494
    جزاک اللہ خیرا۔
     
  9. انا

    انا -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 4, 2014
    پیغامات:
    1,400
    جزاک اللہ خیرا
    کتنا درست تجزیہ کیا ہے۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ ہماری نمازوں کو ہمارے لیے سب سے اہم بنا دے اور خشوع وخضوع سے پڑھنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  10. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,494
    بہت اچھا انتخاب ہے عفراء۔ جو انسان سچائی سے اپنا محاسبہ کرتے ہیں ان کے لیے بہت اچھے سوال ہیں۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں