عام زندگی میں بولے جانے والے محاورے

ام ثوبان نے 'گپ شپ' میں ‏اکتوبر، 23, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    السلام عليكم ورحمة وبركاته
    اعجاز بهائ کئ کمپیوٹرایئزڈ محاورے بهت هی اچهی پوسٹ هےاسی سے مجهے یہ یادآیا کہ هم کچه محاورے بلاسوچے سمجهے بول جاتے هیں جو شرع کے حساب سے بهی ٹهیک نہیں جس بہن بهائ کو کوئ ایسا محاوره یاد هو تو ضرور لکهے اس میں کچه میں لکهتی هوں جو ٹهیک نہ لگے ضرور اصلاح کیجیئے گا
    1.. موسیقی روح کی غزا هے
    حالانکہ یہ موسیقی روح کی غزا نہیں بلکہ اللہ کا زکر روح کی غذا هے...
    2.. سالی آدهی گهر والی
    اسلام میں کہیں بهی سالی کو آدهے تو کیا کہیں کسی چیز میں حصہ دار نہیں بنایا....
    3.. چور کی داڑهی میں تنکا
    کیا یہ داڑهی کی توهین نہیں یا کیا صرف چور کی داڑهی هوتی هے..
    4..... جیسا دیس ویسا بهیس
    کیا کرنا بهی جایئز هے ؟ اس کا مطلب هے اچهے لوگوں میں جاو تو اچهے بن جاو برے لوگوں میں جاو تو برے بن جاو اسلامی ملک میں رهے تو اسلامی رهے اور کسی دوسرے ملک جانا پڑهے تو ان جیسے هو جاو ..کیا یہ منافقت نہیں.

    اسی طرح کے هزاروں محاورے هیں کوئ بہن بهائ جانتااهو تو ضرور لکهے .....
     
    • معلوماتی معلوماتی x 1
  2. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,332
    وعلیکم السلام
    جزاک اللہ خیر ذکر اللہ دلوں کا اطمینان ہے۔ روح کی غذ ا پتہ نہیں۔۔۔ ہے کہ نہیں ہے ۔
    کیوں جی خالہ ماں برابر ہوتی ہے ۔ ہے کہ نہیں ہے ؟
    یہ چور اور تنکے کی توہین بھی تو ہو سکتی ہے ۔۔۔ ہے کہ نہیں ہے؟
    اس کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے کہ لوگوں میں اکلوتا نمونہ بن کے نہ پھرو۔ تھوڑا سا انسانوں میں گھل مل کر رہو۔۔۔ ہے کہ نہیں ہے؟
    میرے مطابق کوئی محاورہ اسلام سے ٹکراتا ہے تو اسے چھوڑ دیں لیکن زبردستی محاوروں کی اسلام سے ٹکر نہ کروائیں۔
     
    • متفق متفق x 1
  3. اسامہ طفیل

    اسامہ طفیل نوآموز

    شمولیت:
    ‏اگست 5, 2013
    پیغامات:
    198
    حیرت ہے کچھ لوگ سالی آدھی گھر والی کو خالہ ماں برابر پر محمول کر رہے ہیں جب کے سالی آدھی گھر والی کو کسی خاتون کے شوہر کے لے بولا جاتا ہے نا کہ بھانجوں کے لے اور خالہ ماں برابر کا مطلب یہ تو نہیں ہو جاتا وہ بہن کے شوہر کی بیوی کی حیثیت بھی اختیار کر جاتی ہے-
    پوسٹ کا موضوع بہت اچھا ہے جزاک اللہ !
     
  4. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 22, 2007
    پیغامات:
    4,799
    بیٹے کے لیے تو برابر ہے ۔ لیکن بیٹے کے باپ کے لیے نہیں‌۔ سمجھے ۔ اور یہی بات ام ثوبان سمجھانا چاہتی ہے ۔ اگر کوئی سمجھ رکھتا ہو ،
     
  5. ابن حسیم

    ابن حسیم ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 1, 2010
    پیغامات:
    891
    ہم لوگ محاورے تو یاد کیے رکھتے ہیں مگر ان کا درست استعمال کرنے سے قاصر ہوتے ہیں۔ جسطرح کسی بھی بات کو کسی بھی پہلو (مثبت یا منفی) میں لیا جا سکتا ہے اسی طرح محاوروں کو بھی مثبت یا منفی پہلو میں لیا جا سکتا ہے۔
    جیسے:
    موسیقی (بد) روح کی غذا ہے۔
    چور کی ڈاڑھی میں تنکا:
    ڈاڑھی بذات خود مقدس نہیں مگر ڈاڑھی متبع سنت کی مقدس ہوتی ہے۔ ڈاڑھی میں تنکا کا مطلب یہ ہوتا ہے کہ جسکی ڈاڑھی میں تنکا ہو وہ اس سے بے خبر ہوتا ہے اور دیکھنے والے سب با خبر ہوتے ہیں۔ اسی طرح چور ہمیشہ چالاکی کے باوجود اپنے قدموں کے نشانات چھوڑتا ہے جو خود اسکو نظر نہیں آتے مگر چورڈھونڈنے والوں کو نظر آجاتے ہیں۔۔۔

    لیکن ۔۔۔۔

    اسکا مطلب یہ نہیں کہ ہر محاورہ مثبت ہی بنا ہو گا ۔ نہیں قطعا نہیں محاورہ سازوں میں مثبت اور منفی دونوں لوگ پائے جاتے ہیں۔ منفی عکاسی کرنے والا محاورہ منفی ہی ہوتا ہے جیسے:
    سالی آدھی گھر والی۔
    باپ بڑا نہ بھیا ، سب سے بڑا روپیہ۔

    میرے خیال سے ہم کسی محاورہ کو زبردستی مثبت یا منفی مفہوم نہیں دے سکتے۔ محاورے/جملے کا مفہوم جس موقعہ پر بولا جائے اسی کی مطابقت سے لیا جائے گا۔
     
    • متفق متفق x 1
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,494
    متفق۔ یہ انسان پر منحصر ہے کہ وہ کسی بات کا کیا مطلب لے رہا ہے۔
    بعض 'اسلامی' لوگوں کا خیال ہے "نو سو چوہے کھا کر بلی حج کو چلی" میں حج اور توبہ کا مذاق ہے جب کہ میرا خیال ہے اس میں نمائشی توبہ اور مصنوعی نیکی پر طنز ہے۔
     
  7. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,494
    یہ بات درست ہے۔ حرام چیزوں سے بچنا انسان پر فرض ہے لیکن ہر چیز میں معاشرے سے الٹ روش اختیار کرنے سے آخر کار مذہبی لوگوں کی ایک قسم واقعی 'منفرد' بن کر رہ جاتی ہے۔
    جیسا دیس ویسا بھیس سے ملتا جلتا ایک اور محاورہ ہے کھاؤ من بھاتا پہنو جگ بھاتا۔ اس کا بھی یہی مطلب ہے کہ حلیہ مقامی لوگوں کے مطابق (جہاں تک شریعت اجازت دے) ہونا چاہیے۔ اسی لیے عرب ممالک جانے والے کئی پاکستانی وہاں ان کا لباس پہنتے ہیں، جب کہ پاکستان میں موجود عرب یہاں قمیص شلوار پہنتے ہیں۔ اس میں منافقت کی کیا بات ہے۔
     
    Last edited: ‏مارچ 2, 2019
  8. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,494
    اس محاورے میں بہ ظاہر کوئی منفی بات نہیں اگر اس کے ذریعے بے پردگی اور اختلاط کی حمایت نہ کی جائے۔ سالی ایک محترم رشتہ ہے۔ بہنیں بہنوں کے مشکل وقت میں ان کی خدمت کر کے واقعی پورا گھر سنبھالتی ہیں۔ اگر برے لوگوں کی عامیانہ باتوں کی وجہ سے لفظوں اور محاوروں کے معنی بدلنے لگیں تو آج کل کئی سادہ سے الفاظ برے معنوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔ تو کیا ہم وہ لفظ بولنا چھوڑ دیں؟ زبان پر برے لوگوں کا اجارہ نہیں۔ الفاظ کا معنی برے لوگ متعین نہیں کرتے، اچھے لوگ کرتے ہیں۔ برے لوگوں کو ان کی گندگی میں مگن رہنے دیں۔ ہم ان کی وجہ سے الفاظ چھوڑنے لگے تو گویا آدھی لغت سے دستبردار ہونا پڑے گا۔
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں