امریکی ڈرون حملہ: پاکستانی طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود ہلاک

زبیراحمد نے 'خبریں' میں ‏نومبر 2, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. فراز اکرم

    فراز اکرم -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 15, 2011
    پیغامات:
    193
    یعنی افغان طالبان بھی خارجی ہیں؟
     
  2. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,903
    اس سوال سے پہلے آپ کے علم میں بات ہونی چاہیے کہ خارجی کسے کہتے ہیں‌، کیا آپ خارجیت کے مفہوم اور تاریخ سے واقف ہیں ؟
     
  3. اہل الحدیث

    اہل الحدیث -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏مارچ 24, 2009
    پیغامات:
    5,050
    مولوی فضل الرحمن کے مطابق:
    امریکہ اگر کسی کتے کو بھی مارے گا تو میں اس کو شہید کہوں گا۔

    اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مولوی صاحب کتنے "منجھے" ہوئے سیاستدان ہیں!!!
     
  4. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    یہ ان کی سگان سے محبت کا ثبوت ہے۔ ورنہ وہ کسی اور جانور کا نام بھی لے سکتے تھے۔
     
  5. نصر اللہ

    نصر اللہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏دسمبر 19, 2011
    پیغامات:
    1,845
    توسی صحیح او ہاہاہا۔
     
  6. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,903
    ویسے بڑی ہی عجیب بات کہی ۔اس سے پہلے تک میں‌ انہیں‌ ''منجھا '' ہوا سیاستدان سمجھتا رہا ہوں ۔
     
  7. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
  8. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    اور کتوں کے کتنے ہمدرد ہیں ؟:00026: اس پر وہ مرتبہ شہادت کو بھی قربان کر سکتے ہیں؟ لا حول ولا قوۃ
     
  9. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    مولوی فضل الرحمن نے ثابت کر دیا ہے کہ دیوبندی خارجی ٹی ٹی پی کے حمایتی ہیں
    جن لوگوں کو میاں محمد بخشؒ کے اس پنجابی شعر کی سمجھ نہ آئے وہ (مولانا) سے سمجھ لے کہ موصوف صاحب حیثیت ہی نہیں ماشا¿اللہ صاحب علم بھی سمجھے جاتے ہیں۔ مولانا کے کراہت آمیز بیان کا جواب اس ایک شعر میں مل جائے گا۔ امریکہ کے ہاتھوں کوئی کتا بھی مارا جائے، مولانا فضل الرحمان کے نزدیک (نعوذ باللہ) وہ شہید ہے مولانا فضل الرحمان کا بیان دہراتے ہوئے کراہت محسوس ہو رہی ہے مگر وضاحت کے لئے لکھنا مجبوری ہے۔ منور حسن نے حکیم اللہ محسود کو صرف شہید قرار دیا تھا جبکہ فضل الرحمان امریکہ دشمنی میں اس سے بھی آگے نکل گئے ہیں، موصوف نے حکیم اللہ محسود کو نہ صرف شہید قرار دیا بلکہ اسکی شہادت پر اپنی مولانیت کی مہر بھی ثبت کر دی اور کہا کہ ”امریکہ کتا بھی مارے تو شہید ہے۔“ فلاں شخص ”کتے کی موت مارا گیا“ اور اگر کتا امریکہ کے ہاتھوں مارا جائے تو (استغفرللہ) شہید کہلائے گا؟ مولانا فضل الرحمان کا بیان طبیعت پر اس قدر گراں گزرا ہے کہ سوچ کر بھی متلی ہونے لگی ہے۔ کیا یہ صاحب مولانا کہلانے کے اہل ہیں جو شہادت جیسے اعلیٰ و ارفعٰ محترم و مقدس رُِتبے کا ذکر کرتے ہوئے ”کتے“ کی مثال دیں؟ یا میرے خدایا! ہم کس دور میں سانس لے رہے ہیں، ایک طرف انسانوں کے ساتھ جانوروں سے بھی بدتر سلوک کیا جا رہا ہے اور دوسری جانب کتے کو بھی شہید قرار دیا جا رہا ہے۔ ان صاحب نے امریکہ دشمنی میں جو مثال دی ہے، اس گھٹیا ترین مثال کی توقع کسی بد کردار انسان سے بھی نہیں کی جا سکتی۔ الا ماشا¿اللہ امریکہ کے خلاف نفرت کے دعویداروں کا حقیقی چہرہ امریکہ ہی دکھا سکتا ہے۔ امریکہ سے نفرت اور دشمنی کا ڈھونگ رچایا جاتا ہے، یہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں، ان میں سے کسی کو امریکہ سے نفرت نہیں، سب فراڈ اور منافقت ہے۔ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ خدا ان لوگوں کے عیوب کو پردہ پوش رکھے، اگر حقائق بے نقاب ہو گئے تو نام نہاد امریکہ دشمنی کا بھانڈا پھوٹ جائے گا۔ یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے خطبات اور دعاﺅں میں با آواز بلند ”شہادت“ کی دعا مانگتے ہیں مگر نہ کسی جہاد میں شرکت کرتے ہیں اور نہ ہی اپنی اولاد کو جہاد میں بھیجتے ہیں، انہیں گھر بیٹھے شہادت چاہئے۔ ایسے مولوی حضرات نے شہادت کو کاروبار بنا رکھا ہے۔ اللہ سبحان تعالیٰ شہادت کی سند اگر ان جیسوں کے مشورے سے بانٹنا شروع کر دے تو پھر کوئی مولوی ”ہلاک“ نہیں ہو سکتا۔ ہوس اقتدار میں مارا جائے تب بھی شہید ، گھر سے دہی لینے جائے اور مارا جائے تو شہید، نزلے بخار میں مارا جائے تو شہید، بد ہضمی سے مارا جائے تو شہید، توند کے بوجھ تلے مر جائیں تب شہید کہلائے جائیں گے۔ ہزاروں بے گناہوں کے گھر تباہ کرنے والے، ماﺅں کے لخت جگر چھیننے والے، بیٹیوں کو بیوہ کرنے والے، ہزاروں بچوں کو یتیم کرنے والے، جب خود مارے جائیں تو شہید کہلائیں؟ صرف اس لئے کہ ان کے بدن کو چیرنے والے میزائل پر ”میڈ اِن امریکہ“ لکھا ہے؟ فضل الرحمان صاحب ہی نہیں ہم دعوے سے کہہ سکتے ہیں کہ ان جیسے کئی کھاتے پیتے نام نہاد مولویوں اور پیروں کے بیگ میں امریکہ کی ادویات اور وٹامن ملیں گے، جو ان کے پیروکار، کارکن، مرید، اولاد یا ان کے کوئی عزیز رشتہ دار انہیں امریکہ سے بھیجتے ہیں۔
    ان کے گھروں کی تلاشی لی جائے تو ادویات و وٹامن کے علاوہ بیشتر مصنوعات ملیں گی جو انہیں بطور تحائف بھیجی جاتی ہیں۔ ان جیسوں کے سر میں درد ہو جائے تو انہیں امریکی دوائی سے آرام آتا ہے۔ ملک و قوم کے ساتھ منافقت سے کتے کی موت اچھی، کم از کم اپنے مالک کا تو وفادار ہوتا ہے۔ ہنود و یہود و نصاریٰ کے خلاف تقاریر کرنے والے پہلے اپنے گریبانوں میں بھی جھانک لیا کریں کہ اس قوم کے بارے میں ایک امریکی نے کہا تھا کہ ”پاکستانی ڈالروں کی خاطر اپنی ماں کو بیچنے میں بھی عار محسوس نہیں کرتے۔ ڈالر بھی امریکہ کے ہیں، ہم یہ بات بھی دعوے کے ساتھ کہہ سکتے ہیں کہ نام نہاد غیرت مندوں کے خزانے ڈالروں سے مزین ہیں۔ سیاستدانوں کو تو سب ننگا کرتے ہیں، کوئی ان امریکہ مخالف نام نہاد مذہبی پیشواﺅں کو بھی ننگا کرنے کی جسارت کرے۔ گھر بیٹھے شہادت کے طلبگاروں کو نہ جہاد کی الف بے کا علم ہے اور نہ شہادت کی معرفت کا ادراک ہے۔ بے گناہوں کے لہو سے ہاتھ رنگنے والوںکو غازی اور شہید قرار دینے والے ، گھر کے وفادار کیوں کر ہو سکتے ہیں؟ الا ما شا¿اللہ دینی جماعتوں نے امریکہ پر لعن طعن کو دین کا ”چھٹا رکن“ بنایا ہُوا ہے حالانکہ ان لوگوں کو امریکہ کا شکر گزار ہونا چاہئے جس کی وجہ سے انہیں سب کچھ مل رہا ہے حتیٰ کہ ان کا کتا بھی مارا جائے تو (نعوذ باللہ) شہید کہلاتا ہے۔ ”میڈ ان امریکہ“ حمام میں سب ننگے ہیں۔ امریکہ نے بڑوں بڑوں کے رازوں پر پردہ ڈال رکھا ہے۔ فضل الرحمان صاحب نے رُتبہ شہادت کا جس طرح تمسخر اڑایا، ہتک آمیز مثال پیش کی، وہ کراہت آمیز ہی نہیں بلکہ ”مولانا“ القاب کا قتل ہے۔
    کتے کی موت نہ مارے جانا ۔۔۔!
     
  10. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے خارجیوں کو جہنم کے کتے کہا ہے ۔ ذمی اور معاہد کو مارنے والے کو جنت کی خوش بو بھی نہ ملے گی ۔ لیکن مولوی فضل الرحمن کے خیال میں یہ کتے شہید ہیں ۔
     
  11. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    جناب اور کچھ ہو نہ ہو جماعت اسلامی بھی خارجیت کی حامی ہے منور حسن نے بھی حکیم اللہ محسود جیسے ملک دشمن کو شہید کہہ دیا ہے ۔
     
  12. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    سید منور حسن کی شہادت

    ’’نوائے وقت‘‘ کے ایک دیرینہ قاری ننکانہ صاحب کے رانا نیامت علی خان نے ٹیلی فون پر مجھ سے پوچھا ہے کہ ’’اثر چوہان صاحب! امیر جماعت اسلامی سید منور حسن نے ہزاروں پاکستانیوں کے قاتل حکیم اللہ محسود کو ’’شہید‘‘ قرار دیا ہے تو تحریک پاکستان کے دوران 1947ء میں مشرقی پنجاب کے ضلع جالندھر میں مسلم لیگ نیشنل گارڈز کی حیثیت سے میرے جو چار بزرگ سکھوں کے ساتھ لڑتے لڑتے ’’شہید‘‘ ہوئے تھے وہ کیا تھے؟‘‘ میں نے رانا نیامت علی خان سے کہا کہ اس سوال کا جواب تو اصولاً سید منور حسن صاحب کو ہی دینا چاہیے لیکن میں اپنے طور پر کالم میں اس کا تذکرہ ضرور کروں گا۔
    سید منور حسن (اگست 1944ء میں) جماعت اسلامی کے قیام کے تین سال بعد دہلی میں پیدا ہوئے تھے ممکن ہے تحریک پاکستان کے حوالے سے ان کا پس منظر مختلف ہو فی الحال میں ان کی خدمت میں یہ شعر پیش کر رہا ہوں۔
    ’’خنجر چلے، کسی پہ، تڑپتے ہیں ہم امیر ۔۔۔ سارے جہاں کا درد، ہمارے جگر میں ہے‘‘
    یہ شعر حضرت امر مینائی کا ہے سید منور حسن جماعت اسلامی کے ’’امیر‘‘ ہیں ان کے جگر میں سارے جہاں کا درد تو نہیں لیکن وہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت پر تڑپ اٹھے ہیں۔ سید منور حسن کوئی باقاعدہ مفتی نہیں ہیں باقاعدہ مفتی تو سیاست کے کباڑخانے میں پڑی۔ متحدہ مجلس عمل کے امیر قاضی حسین احمد بھی نہیں تھے، جب انہوں نے مولانا فضل الرحمن اور مولانا عبدالغفور حیدری کے ساتھ 12 جولائی 2007ء کو اسلام آباد میں مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا تھا کہ ’’لال مسجد کے خلاف آپریشن میں قتل ہونے والے پاک فوج کے افسران اور اہلکاروں کو ’’شہید‘‘ نہیں کہا جا سکتا۔‘‘
    مولانا فضل الرحمان بھی ’’مفتی‘‘ نہیں ہیں البتہ ان کے والد کا نام مولانا مفتی محمود تھا، جن کا یہ بیان ریکارڈ پر موجود ہے کہ ’’ خدا کا شکر ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے‘‘ پھر مولانا مفتی محمود قائداعظمؒ کے پاکستان میں، اقتدار کے ثمرات سے لُطف اندوز ہوئے۔ جماعت اسلامی کے بانی امیر مولانا مودودی مرحوم نے اپنی تالیف ’’مسلمان اور موجودہ سیاسی کشمکش ‘‘ میں تحریر فرمایا تھا کہ ’’لیگ (یعنی آل انڈیا مسلم لیگ) کے قائداعظم سے لے کر چھوٹے مقتدیوں تک ایک بھی ایسا نہیں جو اسلامی ذہنیت اور اسلامی طرزِ فکر رکھتا ہو اور معاملات کو اسلامی نقطہ نظر سے دیکھتا ہو۔‘‘ جو مذہبی قائدین اب ’’نظریہ پاکستان‘‘ کے مفسر بنے پھرتے ہیں وہ اس سوال کا جواب دینے سے قاصر ہیں کہ جب ’’اسلام کے نام پر ‘‘ پاکستان بن رہا تھا تو ان کے بزرگوں نے علامہ اقبالؒ اور قائداعظمؒ کے خلاف کفر کے فتوے کیوں دیئے تھے؟
    ’’متحدہ مجلس عمل‘‘ میں شامل تمام مذہبی جماعتوں کے اکابرین کے ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے ریکارڈ پر ہیں لیکن یہ سب قائدین ایک دوسرے کی اقتداء میں نماز بھی پڑھ لیتے تھے۔ جمعیت علمائے ہند اور بعد میں اس کی وارث جمعیت علماء اسلام کے دونوں گروپوں کے اکابرین کا فتویٰ تھا کہ ’’مولانا مودودی چونکہ کسی دینی مدرسے کے فارغ التحصیل نہیں ہیں لہٰذا ہم انہیں مستند عالم دین نہیں سمجھتے۔ جماعت اسلامی کے دوسرے امرائ، میاں طفیل محمد ، قاضی حسین احمد بھی دینی مدرسوں کے فارغ التحصیل نہیں تھے اور نہ ہی سید منور حسن ہیں اور سید منور حسن کے ممدوح ، یا ہیرو حکیم اللہ محسود نے تو کسی مدرسے کا منہ تک نہیں دیکھا۔
    عرفِ عام میں اللہ کی راہ میں مارے جانے والے مسلمان کو ’’شہید‘‘ کہا جاتا ہے۔ ایم کیو ایم کے قائد جناب الطاف حسین نے سید منور کی طرف سے حکیم اللہ محسود کو ’’شہید‘‘ قرار دینے کو اسلامی تعلیمات کے منافی قرار دیتے ہوئے سوال کیا ہے کہ ’’کیا پاک فوج اور پولیس کے افسروں اور جوانوں کے سفاک قاتل اور مساجد، امام بارگاہوں اور اولیائے کرام کے مزاروں پر خودکش حملے کرانے اور بے گناہ اور معصوم لوگوں کو موت کی وادی میں دھکیلنے والے مجرم کو ’’شہید‘‘ کہا جا سکتا ہے۔؟‘‘
    سید منور حسن نے فرمایا کہ ’’الطاف حسین‘‘ قرآن مجید کا مطالعہ کریں تو اُن پر ’’شہید‘‘ کا مطلب واضح ہو جائے گا۔ حکیم اللہ محسود نے جہاد کیا تھا اور وہ افغانستان کے اندر اسلام دشمنوں کے خلاف لڑتا ہوا شہید ہوا‘‘۔
    سید منور حسن نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ کیا (خدانخواستہ) پاکستان کا نقشہ تبدیل ہو گیا ہے؟ کیا میران شاہ، افغانستان میں ہے؟ مولانا مودودی اگر آج زندہ ہوتے تو اس طرح کا فتویٰ ہر گز نہ دیتے۔
    ’’طالبان کے باپ‘‘ کہلانے والے مولانا سمیع الحق نے احتیاط سے کام لیا جب انہوں نے کہا کہ ’’یہ اللہ تعالی کو علم ہے کہ حکیم اللہ محسود ہلاک ہوا یا شہید‘‘ البتہ ’’شہیدوں کی پارٹی‘‘ کہلانے والے پاکستان پیپلز پارٹی کے سرپرست اعلیٰ بلاول بھٹو زرداری نے بھی حکیم اللہ محسود کو ’’شہید‘‘ قرار دینے کو چیلنج کیا ہے ۔ حضرت امیر مینائی نے ایک اور مقام پر کہا ؎
    ’’کُوئے جاناں میں ہوئی ہے جو شہادت میری ۔۔۔ دامنِ نوحؑ کے سائے میں ہے، تربت میری‘‘
    حکیم اللہ محسود کا مسئلہ ’’کُوئے جاناں‘‘ نہیں تھا اس لئے ان کی ’’تربت ‘‘ (قبر) دامنِ نوحؑ کے سائے میں تونہیں ہو سکتی۔ اسے کسی نامعلوم مقام پر سپردِخاک کر دیا گیا ہے۔ طالبان کے سابقہ ترجمان شاہد اللہ شاہد کو شاید علم ہو سید منور حسن کو تو نہیں بتایا گیا ہو گا ورنہ وہ بھی لال مسجد کے خطیب مولانا عبدالعزیز کی طرح دعویٰ کر سکتے تھے کہ ’’غازی عبدالرشید کی قبر کی طرح حکیم اللہ محسود کی قبر سے بھی خوشبو آتی ہے‘‘ بہرحال سید منور حسن نے حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کو ’’شہادت‘‘ قرار دے کر اپنی ’’شہادت‘‘ (گواہی) کو فتوے کے طور پر عام کر دیا ہے۔
    ’’کوئی دِلوائے گر فتویٰ تو، آئے ہم سے دِلوائے‘‘
    سید منور حسن کی - ’’شہادت‘‘
     
  13. dani

    dani نوآموز.

    شمولیت:
    ‏اکتوبر، 16, 2009
    پیغامات:
    4,329
    کہیں پرچہ لگے کہیں خبر گزرے

    قومی اخبارات میں ہر روز اور الیکٹرانک میڈیا پر لمحہ بہ لمحہ۔ خبروں کی اتنی بھرمار ہوتی ہے کہ…ع ’’ خبروں ‘‘ کے انتخاب نے،رسواکیا مجھے ‘‘
    کی صورت ہوجاتی ہے۔کبھی کبھی ایک ہی خبر کو موضوع بنا کر کالم لکھتے وقت یو ں محسوس ہوتا ہے کہ گویا ’’ پانی میں مدھانی‘‘ گھما رہا ہوں یا لفظوں کی جُگالی کر رہا ہوں۔اس عمل کو کالم کا پیٹ بھرنا بھی کہاجاسکتا ہے،جیسے سرکاری دفتروں میں ’’ فائل کا پیٹ بھرنا‘‘ کی ترکیب استعمال کی جاتی ہے۔اکثر و بیشتر پارلیمنٹ اور صوبائی اسمبلیوں میں مختلف قائدین کی تقریروں میں بھی یہی فارمولا استعمال ہوتا ہے تو صاحبو!آج کے کالم میں کئی خبروں کو موضوع کیوں نہ بنایاجائے؟ اُستاد سحرؔ نے کہا تھا…؎
    ’’ بے محل عاشقی سے،درگُزرے ۔۔۔۔ کوئی پرچہ لگے، خبر گُزرے‘‘
    خبر ہے کہ ’’ جمعیت علماء اسلام(ف) کے امیر مولانا فضل الرحمن نے ایک صحافی کے اس سوال کے جوا ب میں کہ ’’ کیا حکیم اللہ محسود ہلاک ہوا ہے یا شہید؟ کہا ’’ امریکہ اگر کسی کتے کو بھی ہلاک کردے تو میں اسے بھی شہید ہی کہوں گا‘‘مولانا صاحب کے اس بیان یا فتوے کواُن کا ’’اجتہاد‘‘ ہی کہاجاسکتا ہے۔اب مولانا فضل الرحمن اور دوسرے علماء دین سے پوچھا جاسکتا ہے کہ’’ فرض کیا پاکستان کے کسی گلی محلے میں گھومنے پھرنے والا یا کوئی پالتو کُتا کسی امریکی سیّاح،مہمان یا سفارت کار کو کاٹ لے اور وہ امریکی اُس کتے کے کاٹنے سے مر جائے تو کیا اُس کتے کو ’’ غازی‘‘ کہاجاسکتا ہے ؟۔ہمارے یہاں گھوڑے کو تو پہلے ہی ’’غازی مرد‘‘ کہاجاتا ہے۔
    عام طورپر کُتے کو ناپاک جانور سمجھاجاتا ہے،لیکن ’’ اصحابِ کہف‘‘ کے کُتے کو قابلِ عزت سمجھاجاتاہے۔اصحاب کہف( وہ سات اشخاص) جو دقیانوس بادشاہ کے خوف سے غار میں چھپ کر تین سو نو برس تک سوتے رہے۔مولوی نور الحسن نیّر نے اپنی ’’نوراللغات‘‘ میں لکھا ہے کہ ’’ علماء نے اصحاب کہف کے کُتے کو انسان کے زمرے میں داخل کیا ہے‘‘ بہرحال مولانا فضل الرحمن کی طرف سے یہ وضاحت بھی ضروری ہے کہ کیا امریکی حملے سے ’’ شہید‘‘ ہونے والے کُتے کی نمازِ جنازہ اور باقاعدہ تجہیزو تکفین بھی ہوگی؟۔
    6نومبرکے ’’ سیاست نامہ ‘‘ میں مَیں نے لکھا تھا کہ متحدہ مجلسِ عمل کے اکابرین کے ایک دوسرے کے خلاف کُفر کے فتوے ریکارڈ پر ہیں لیکن متحدہ مجلس عمل کے قائدین ایک دوسرے کی اقتداء میں نماز پڑھتے رہے ہیں۔اِس پر ڈائریکٹر آپریشن المرکز اسلامی مفتی محمد تصّدق حسین صاحب(والٹن لاہور) نے مجھے وضاحت(بذریعہ ایس۔ایم۔ایس) بھجوائی ہے لکھتے ہیں۔
    (’’جناب اثر چوہان صاحب۔آپ کے آج کے کالم میں ایک جملہ نظر سے گزرا کہ ’’ متحدہ مجلس عمل میں شامل تمام دینی جماعتوں کے اکابرین نے ایک دوسرے کے خلاف کفر کے فتوے دئیے ہیں اور سب قائدین ایک دوسرے کے پیچھے نماز بھی پڑھ لیتے تھے ‘‘۔آپ کی خدمت میں عرض ہے کہ یہ جملہ صحیح نہیں ہے۔اہلِ سنت حنفی( بریلوی) کے ترجمان۔امام شاہ احمد نورانی نے کبھی کسی بد عقیدہ شخص کے پیچھے نماز نہیں پڑھی۔مملکت اسلامیہ کے مفاد کی خاطر وہ اتحاد کے داعی رہے لیکن وہ نماز کی امامت خود کرواتے تھے۔تاریخ درست فرمادیں بے حد شکریہ)مفتی تصدق حسین0321-4749168
    میں مفتی صاحب کا ممنون ہوں کہ انہوں نے وضاحت فرمائی اس بات کی کہ ’’امام شاہ احمد نورانی نے متحدہ مجلسِ عمل میں شامل کسی بھی ’’ بد عقیدہ امام‘‘ کی اقتداء میں نماز کبھی نہیں پڑھی بلکہ وہ وقتِ نماز خود امامت کرواتے تھے‘‘۔
    خبر ہے کہ’’ وزارتِ دفاع نے اعتراف کرلیا ہے کہ ڈرون حملوں کے بارے پارلیمنٹ میں پیش کئے گئے اعدادو شمار غلط اور جعلی ہیں‘‘۔مرزا غالب نے کہا تھا…؎
    غلطی ہائے مضامیں مت پوچھ ۔۔۔۔ لوگ نالہ کو رسا باندھتے ہیں
    بھلا غلط گوئی اور غلط بیانی پر مسماۃ وزارتِ دفاع کو کون پکڑے گا کہ محترمہ جناب وزیراعظم کے عقدِ سیاسی میں ہیں۔مسماۃ وزارتِ خارجہ اُن کی سوتن ہیں۔اُن کا بھی یہی چلن ہے۔وہ وقت بہت دور ہے جس کی آس میں حضرتِ آتش چل بسے…؎
    ’’سکۂ داغِ وفا اِک دن ،مرے کام آئیںگے ۔۔۔۔ عشق کے بازار میں، اُن کا چلن ہوجائے گا‘‘
    خبر ہے کہ ’’بین الاقوامی مالیاتی فنڈ(آئی۔ایم۔ایف) پاکستان کے گردشی قرضے کے دوبارہ 160 ارب تک پہنچنے پر پریشانی کا شکار ہے ‘‘ خبر میں وزیر خزانہ جناب اسحق ڈار کا بھی تذکرہ ہے جو بذریعہ کلاسیکی موسیقی، دم توڑتی ہوئی معیشت کو تندرست کرنے کی نوید دیتے رہتے ہیں اور موصوف نے باقی معاملہ آئی۔ایم۔ایف حکام پر چھوڑ دیا ہے یعنی ’’ یک دو گیر و محکم گیر!‘‘…مرزا داغؔ دہلوی کا بھی یہی مسلک تھا،جب انہوں نے کہا …؎
    ’’ وہ سمجھے کیا، فلک کینہ خواہ کی گردش ۔۔۔ اُٹھائی جس نے،تمہاری نگاہ کی گردش‘‘
    خبر ہے کہ ’’ جمعیت علماء اسلام(ف) نے وزیراعظم نواز شریف سے دوبارہ اسلامی نظریاتی کونسل کی چیئر مین شپ مانگ لی ہے ‘‘۔ اس پر ایک انگریزی پنجابی ملا جلا ماہیا ہوجائے…؎
    ’’ حاضر اے دل ماہیا
    GIVE AND TAKEکرئیے
    اَیویں سُکّے تے نہ مِل ماہیا‘‘
    پیپلز پارٹی کے راہنما بیرسٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ ’’چودھری نثار علی خان نے قومی اسمبلی میں’’مگر مچھ کے آنسو بہائے !‘‘ اگرچہ معاملہ دو چودھریوں کا ہے لیکن میں تو یہی کہوں گا کہ ہمارے ہاں’’مگر مچھ‘‘ تو ہوتا ہی نہیں !
    ’’ کہیں پرچہ لگے، خبر گزرے !‘‘
     
  14. Amir Nawaz Khan

    Amir Nawaz Khan -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏فروری 4, 2012
    پیغامات:
    111
    ملا فضل اللہ کو تحریک طالبان پاکستان کا نیا امیر

    ملا فضل اللہ کو تحریک طالبان پاکستان کا نیا امیر مقرر کردیا گیا:ترجمان کالعدم تحریک طالبان پاکستان

    پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک)کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی مرکزی شوریٰ نے ملا فضل اللہ کو تنظیم کا نیا امیر مقرر کردیا گیاہے۔کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے بتا یا ہے کہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد کالعدم تحریک طالبان پاکستان کی مرکزی شوریٰ کا اجلاس شمالی وزیرستان میں منعقد کیا گیا جس میں پاکستان اور افغانستان میں موجود تمام ارکان نے شرکت کی، 6 روز تک جاری رہنے والے اجلاس کے دوران ملا فضل اللہ سمیت 5 ناموں پر غور کیا گیا تاہم شوریٰ نے مشاورت کے بعد تحریک طالبان سوات کے سربراہ ملا فضل اللہ کو کالعدم تحریک طالبان پاکستان کا نیا امیر جبکہ تحریک طالبان صوابی کے سربراہ خالد شیخ حقانی کو نائب امیر مقرر کردیا ہے۔ملا فضل اللہ کا تعلق سوات سے ہے۔وہ کالعدم تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ صوفی محمد کا داماد ہے اور ملا فضل اللہ 2007ءمیں مالاکنڈ ایجنسی میں شریعت کے نفاذ کے لئے جدو جہد پر منظر عام پر آیا تھا اس دوران وہ غیر قانونی ایف ایم ریڈیو کے ذریعے عوام کو شرعی اصولوں پر چلنے کی تلقین بھی کرتا رہا جس کی وجہ سے اسے ملا ریڈیو کے نام سے پہچانا جاتا تھا۔ 2008 ءمیں سوات امن معاہدے کی خلاف ورزی کے بعد سوات میں ہونے والے والے آپریشن کے نتیجے میں وہ فاٹا اور افغان صوبے نورستان فرار ہوگیا جہاں سے اس نے پاکستان میں کارروائیاں شروع کیں، اس کی جانب سے گزشتہ برس ملالہ یوسفزئی پر حملے کی ذمہ داری قبول کی گئی تھی تاہم گزشتہ ماہ اپنے ایک انٹرویو میں اس نے مالاکنڈ میں میجر جنرل ثنا للہ عباسی سمیت تین اعلیٰ فوجی افسران کی ہلاکت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنی فتح قرار دیا تھا۔ ملا فضل اللہ پر حکومت کی جانب سے 50 لاکھ انعام مقرر ہے جبکہ حکومتی سطح پر کئی بار افغان حکومت سے اس کی حوالگی کا مطالبہ بھی کیا جاچکا ہے۔
    ملا فضل اللہ کو تحریک طالبان پاکستان کا نیا امیر مقرر کردیا گیا:ترجمان کالعدم تحریک طالبان پاکستان
     
  15. مون لائیٹ آفریدی

    مون لائیٹ آفریدی -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏ستمبر 22, 2007
    پیغامات:
    4,799
    یہ بیان اس طرز پر بھی لکھا جاسکتا ہے ۔

    مولانا فضل اللہ صاحب کو تحریک طالبان پاکستان کا نیا امیر مقرر کردیا گیا:ترجمان تحریک طالبان پاکستان

    پشاور(مانیٹرنگ ڈیسک) تحریک طالبان پاکستان کی مرکزی شوریٰ نے مولانا فضل اللہ صا حب کو تنظیم کا نیا امیر مقرر کردیا گیاہے۔ تحریک طالبان کے ترجمان شاہد اللہ شاہد نے بتا یا ہے کہ حکیم اللہ محسود کی شہادت کے بعد تحریک طالبان پاکستان کی مرکزی شوریٰ کا اجلاس شمالی وزیرستان میں منعقد کیا گیا جس میں پاکستان اور افغانستان میں موجود تمام ارکان نے شرکت کی، 6 روز تک جاری رہنے والے اجلاس کے دوران مولانا فضل اللہ سمیت 5 ناموں پر غور کیا گیا تاہم شوریٰ نے مشاورت کے بعد تحریک طالبان سوات کے سربراہ مولانا فضل اللہ کو تحریک طالبان پاکستان کا نیا امیر جبکہ تحریک طالبان صوابی کے سربراہ خالد شیخ حقانی کو نائب امیر مقرر کردیا ہے۔مولانا فضل اللہ کا تعلق سوات سے ہے۔وہ تحریک نفاذ شریعت محمدی کے سربراہ صوفی محمد کا داماد ہے اور مو صوف 2007ءمیں مالاکنڈ ایجنسی میں شریعت کے نفاذ کے لئے جدو جہد پر منظر عام پر آیا تھا اس دوران وہ ایف ایم ریڈیو کے ذریعے عوام کو شرعی اصولوں پر چلنے کی تلقین بھی کرتا رہا جس کی وجہ سے کافی لوگوں کی اصلاح ہوئی تھی ۔ 2008 ءمیں سوات امن معاہدے کی حکومتی خلاف ورزی کے بعد سوات میں ہونے والے والے آپریشن کے نتیجے میں وہ فاٹا اور افغان صوبے نورستان گیا جہاں سے اس نے پاکستان میں کارروائیاں شروع کیں، اس کی جانب سے گزشتہ برس ملالہ یوسفزئی پر حملے کی ذمہ داری قبول کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا تاہم گزشتہ ماہ اپنے ایک انٹرویو میں اس نے مالاکنڈ میں میجر جنرل ثنا للہ عباسی سمیت تین اعلیٰ فوجی افسران کی ہلاکت پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے اسے اپنی فتح قرار دیا تھا۔ مولانا فضل اللہ پر حکومت کی جانب سے 50 لاکھ انعام مقرر ہے جبکہ حکومتی سطح پر کئی بار افغان حکومت سے اس کی حوالگی کا مطالبہ بھی کیا جاچکا ہے۔
     
  16. Amir Nawaz Khan

    Amir Nawaz Khan -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏فروری 4, 2012
    پیغامات:
    111
    انتقامی حملوں کی منصوبہ بندی کر لی، پاکستانی طالبان

    انتقامی حملوں کی منصوبہ بندی کر لی، پاکستانی طالبان

    ڈیرہ اسماعیل خان: پاکستان طالبان نے جمعہ کو اعلان کیا کہ انہوں نے حکومت کے خلاف انتقامی حملوں کی منصوبہ بندی کر لی ہے۔
    طالبان شوریٰ کے سربراہ عصمت اللہ شاہین نے نامعلوم مقام سے رائٹرز کو بتایا کہ وہ سیکورٹی فورسز، سرکاری تنصیبات، پولیس اور سیاسی رہنماؤں کو ہدف بنائیں گے۔
    گزشتہ ہفتے پاکستان تحریک طالبان کے سربراہ حکیم اللہ محسود کی امریکی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد شوری نے جمعرات کو ملا فضل اللہ کو گروپ کا سربراہ منتخب کیا تھا۔
    سخت گیر موقف رکھنے والے ملا فضل اللہ کے چناؤ کے ساتھ ہی جنگجوؤں کے ساتھ حکومت کے امن مذاکرات کے امکانات ختم ہوتے نظر آ رہے ہیں۔
    ٹی ٹی پی ترجمان شاہد اللہ شاہد کا گزشتہ روز کہا تھا کہ اب پاکستانی حکومت کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں ہوں گے کیوں کہ ملا فضل اللہ پہلے ہی ان مذاکرات کے خلاف تھے۔
    شاہین نے مزید بتایا کہ طالبان کے مرکزی اہداف میں فوج اور پنجاب میں سرکاری تنصیبات بھی شامل ہیں۔
    ‘ہمارے پاس منصوبہ ہے، لیکن میں یہاں واضح کر دوں کہ ہم عام شہریوں، بازاروں اور پبلک مقامات کو ہدف نہیں بنائیں گے اور لوگوں کو خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں’۔
    شاہین کے مطابق، پاکستان کے پاس ڈرون حملوں سے متعلق مکمل معلومات ہیں۔’ پاکستان امریکا کا غلام ہے، یہ امریکی کالونی ہے’۔
    انتقامی حملوں کی منصوبہ بندی کر لی، پاکستانی طالبان | Dawn Urdu
     
  17. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    یعنی جہاد چھوڑ دیا انہوں نے !!!!
    تحریک انتقام
     
  18. Amir Nawaz Khan

    Amir Nawaz Khan -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏فروری 4, 2012
    پیغامات:
    111
    طالبان پاکستان میں اسلامی نظام نافذ کرنے کے داعی ہیں مگر اس مقصد کے حصول کے لئے وہ تمام کام برملا کر رہے ہیں جو قران و حدیث ،سنت نبوی اور اسلامی شرعیہ کے خلاف ہیں، لہذا ان کا اسلامی نظام نافذ کرنے کا دعویٰ انتہائی مشکوک اور ناقابل اعتبار یقین وہے۔
    طالبان کا یہ کیسا جہاد ہے کہ خون مسلم ارزاں ہو گیا ہے اور طالبان دائیں بائیں صرف مسلمانوں کو ہی مار رہے ہیں۔بچوں اور بچیوں کے اسکول جلاتے ہیں۔ طالبعلموں اور اساتذہ کے قتل اور اغوا میں ملوث ہیں۔ اغوا برائے تاوان بھی کرتے ہیں اور ڈرگز کی تجارت بھی۔مساجد اور بازاروں پر حملے کرتے ہیں اور پھر بڑی ڈھٹائی سے، ان برے اعمال کی ذمہ داری بھی قبول کرتے ہیں۔
    جہاد تو الہہ تعالی کی خشنودی و رضا حاصل کرنے کے لئے الہہ کی راہ میں کیا جاتا ہے۔ ذاتی بدلہ لینا قبائلی روایات اور پشتون ولی کا حصہ تو ہو سکتا ہے مگر جہاد نہیں ہے۔ کسی بھی مسلم حکومت کے خلاف علم جنگ بلند کرتے ہوئے ہتھیار اٹھانا اور مسلح جدوجہد کرنا، خواہ حکومت کیسی ہی کیوں نہ ہو اسلامی تعلیمات میں اجازت نہیں۔ یہ فتنہ پروری اور خانہ جنگی ہے،اسے شرعی لحاظ سے محاربت و بغاوت، اجتماعی قتل انسانیت اور فساد فی الارض قرار دیا گیا ہے. دہشت گرد ،اسلام کے نام پر غیر اسلامی و خلاف شریعہ حرکات کے مرتکب ہورہے ہیں اور اس طرح اسلام کو بدنام کر رہے ہیں۔ بے گناہ انسانوں کو سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے قتل کرنا بدترین جرم ہے اور ناقابل معافی گناہ ہے.
    علمائے اسلام ایسے جہاد اور اسلام کو’’ فساد فی الارض ‘‘اور دہشت گردی قرار دیتے ہیں جس میں اپنے مخالف علماء ومشائخ کے گلے کاٹیں جائیں ،بے گناہ لوگوں حتی کہ عورتوں اور سکول کے بچوں کو بے دردی کیساتھ شہید کیا جائے ،لڑکیوں کو گھروں سے اٹھا کر ان سے جبراً نکاح کیا جائے، جس میں اسلامی سٹیٹ کو تباہ اور بے گناہوں کو شہید کرنے کیلئے خود کش حملہ آوروں کو جنت کے ٹکٹ دیئے جائیں، جس میں جہاد فی سبیل اللہ کی بجائے جہاد فی سبیل غیر اللہ ہو، جس میں مساجد اور مزارات اولیاء پر بم دھماکے کر کے نمازیوں اور قرآن خوانی کرنے والوں کو بے دردی کیساتھ شہید کیاجائے۔
    جو شخص زمین میں فتنہ و فساد برپا کرے، ڈکیتی و رہزنی اور قتل و غارت کا بازار گرم کرے اور اپنے ان مذموم افعال کے ذریعہ امن و امان کو ختم کر کے خوف و دہشت کی فضا پیدا کرے، تو اس قسم کی صورت حال کو قرآن مجید میں حرابہ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہ انسانی معاشرے کے خلاف ایک سنگین جرم ہے لہٰذا اسلام میں اس کی سزا بھی سنگین ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
    {إِنَّمَا جَزَاء الَّذِينَ يُحَارِبُونَ اللّهَ وَرَسُولَهُ وَيَسْعَوْنَ فِي الأَرْضِ فَسَادًا أَن يُقَتَّلُواْ أَوْ يُصَلَّبُواْ أَوْ تُقَطَّعَ أَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم مِّنْ خِلافٍ أَوْ يُنفَوْاْ مِنَ الأَرْضِ ذَلِكَ لَهُمْ خِزْيٌ فِي الدُّنْيَا وَلَهُمْ فِي الآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ } (33) سورة المائدة
    ”جو لوگ اللہ اور اس کے رسول سے لڑائی کریں اور ملک میں فساد کرنے کو دوڑتے پھریں، ان کی یہی سزا ہے کہ قتل کر دئیے جائیں یا سولی چڑھا دئیے جائیں یا ان کے ایک طرف کے ہاتھ اور ایک طرف کے پاﺅں کاٹ دئیے جائیں یا ملک سے نکال دئیے جائیں۔ یہ تو دنیا میں ان کی رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لےے بڑا بھاری) عذاب ہے۔“
    قرآن مجید، مخالف مذاہب اور عقائدکے ماننے والوں کو صفحہٴ ہستی سے مٹانے کا نہیں بلکہ ’ لکم دینکم ولی دین‘ اور ’ لااکراہ فی الدین‘ کادرس دیتاہے اور جو انتہاپسند عناصر اس کے برعکس عمل کررہے ہیں وہ اللہ تعالیٰ، اس کے رسول سلم ، قرآن مجید اور اسلام کی تعلیمات کی کھلی نفی کررہے ۔ دہشت گرد اسلام اور پاکستان کے دشمن ہیں اور ان کو مسلمان تو کجا انسان کہنا بھی درست نہ ہے.
     
  19. ابوعکاشہ

    ابوعکاشہ منتظم

    رکن انتظامیہ

    شمولیت:
    ‏اگست 2, 2007
    پیغامات:
    15,903
    امیرنواز خان صاحب، کیا خیال ہے آپ کا اپنے مبصرین کےبارے میں‌۔ امریکہ نے حکیم اللہ محسود کا قتل کر کے انہیں مضبوط کیا ہے یا انہیں‌کمزور ؟

     
  20. فراز اکرم

    فراز اکرم -: محسن :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 15, 2011
    پیغامات:
    193
    علامہ ابتسام الہی بھی؟؟؟؟
    [​IMG]
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں