تیسری اصل "معرفة نبيكم" (نبی کی پہچان)

بابر تنویر نے 'دین کے تین بنیادی اصول اور ان کی شرح' میں ‏نومبر 14, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    "معرفة نبيكم"
    (نبی کی پہچان)

    آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ

    الأصل الثالث(1) : معرفة نبيكم محمد صلى الله عليه وسلم وهو : محمد بن عبد الله بن عبد المطلب بن هاشم وهاشم من قريش، وقريش من العرب، والعرب من ذرية إسماعيل، إبن إبراهيم الخليل، عليه وعلى نبينا أفضل الصلاة والسلام . وله من العمر: ثلاث وستون سنة ، منها أربعون قبل النبوة ، وثلاث وعشرون نبياً ورسولاً ، نبيء بإقرأ . وارسل بالمدثر ، وبلده مكة ، وهاجر إلى المدينة
    تیسرا اصول: تمہارے نبی حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت ہے" اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام و نسب یہ ہے: محمد بن عبد اللہ بن عبد المطلب بن ہاشم بن عبد مناف۔۔۔۔ بنو ہاشم قبیلہ قریش سے اور قبیلہ قریش، عرب سے اور عرب، حضرت اسماعیل بن سیدنا ابراہیم خلیل اللہ علیہما و علی نبینا افضل الصلاہ و السلام کی اولاد سے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کل تریسٹھ (63) برس عمر پائ، جن میں سے چالیس (40) برس بعثت و نبوت سے پہلے اور بقیہ تئیس (23) سال بحیثیت نبی و رسول گزارے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ یعنی سورہ علق کی ابتدائ پانچ آیات مبارکہ کے نزول کے ساتھ نبوت کے پاکیزہ خلعت سے نوازا گیا اور يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ قُمْ فَأَنْذِرْ۔۔۔۔الآیہ یعنی سورہ المدثر کے نزول کے ساتھ بار رسالت سے مشرف ہوۓ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جاۓ پیدائش مکہ مکرمہ ہے اور مدینہ طیبہ کی جانب آپ صلی علیہ وسلم نے ہجرت فرمائ۔"


    (1) یعنی ان تین اصولوں میں سے تیسرا اصول جن کی معرفت حاصل کرنا انسان پر واجب ہے اور یہ وہ یہ ہیں :

    بندے کا اپنے رب کی، اپنے دین کی اور اپنے نبی صلی اللہ علیہ کی معرفت حاصل کرنا اور جہاں تک بندے کی اپنے رب (پروردگار) اور اپنے دین کی معرفت کی بات ہے، تو اس بارے میں کلام (گفتگو قبل ازیں) گزر چکی ہے

    اور بندے کی اپنے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی معرفت کا جہاں تک تعلق ہے تو (اس معرفت کا حصول) پانچ امور کو متضمن (یعنی شامل) ہے۔

    پہلا امر: کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سلسلہ نسب کی پہچان کی جاۓ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نسب کے اعتبار سے لوگوں میں سب سے اعلی اور معزز تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاندانی لحاظ سے ہاشمی، قریش اور خالص عربی ہیں، اور (جیسا کہ شیخ الاسلام محمد بن عبد الوھاب رحمہ اللہ تعالی نے فرمایا ہے) آپ محمد بن عبداللہ بن عبد المطلب بن ہاشم۔۔۔۔۔۔ آخر تک ہیں۔

    دوسرا امر: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جاۓ ولادت اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جاۓ ہجرت وغیرہ تفاصیل سمیت معلوم کی جائیں، جیسا کہ شیخ الاسلام محمد بن عبد الوھاب نے ان امور کا تذکرہ اپنے اس بیان میں کیا ہے وله من العمر: ثلاث وستون سنة ، ، وبلده مكة ، وهاجر إلى المدينة۔۔۔۔۔۔۔" اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی پوری عمر تریسٹھ برس تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جاۓ پیداش مکہ شہر ہے اور آپ نے مدینہ طیبہ کی جانب ہجرت کی۔"

    مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ المکرم‍ہ میں پیدا ہوۓ تریپن سال گزارے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کی اور وہاں آپ نے بقیہ دس برس بسر کیۓ، تو اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پورے تریسٹھ بر مکمل ہوجانے پر بعد از ہجرت گیارہویں سال ربیع الاول کے مہینے میں مدینہ منورہ میں رحلت فرمائ۔

    تیسرا امر: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے عرصہ نبوت و رسالت کی معرفت حاصل کرنا اور یہ پورے تئیس برس کے مدت ہے اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کا آغاز ہوا، تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک چالیس برس تھی جیسا کہ آپ صلی علیہ وسلم کے شعراۓ رضی اللہ تعالی عنہم میں سے کسی کا شعر ہے:
    وأتت عليه أربعون فأشرقت --------- شمس النبوة منه في رمضان
    اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عمر مبارک کے چالیس برس پورے ہوۓ تو رمضان المبارک کے مہینے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اطہر سے خورشید نبوت جگمگانے لگا۔"

    چوتھا امر: کس دلیل کی بناء پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نبی تھے اور کس دلیل کی بناء پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول تھے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ جل شانہ کے اس فرمان کے نازل ہونے پر نبوت سے سرفراز کیۓ گۓ

    اقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ * خَلَقَ الإنسان مِنْ عَلَقٍ * اقْرَأْ وَرَبُّكَ الأَكْرَمُ * الَّذِي عَلَّمَ بِالْقَلَمِ * عَلَّمَ الإنسان مَا لَمْ يَعْلَمْ) (العلق:1 - 5) ،
    " اپنے اس پروردگار کے نام سے پڑھیۓ، جس نے (ہر چیز کو) پیدا کیا (اور) انسان کو خون کے لوتھڑے سے پیدا کیا، پڑھیۓ اور آپ کا پروردگار بڑا کریم ہے، جس سے قلم کے ذریعے علم سکھایا (اور) انسان کو وہ کچھ سکھایا جو وہ (سرے سے) جانتا ہی نہ تھا۔
    پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم منصب رسالت سے بہر ور فرماۓ گۓ، جب اللہ جل مجدہ، کا یہ فرمان نازل ہوا

    يَا أَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ* قُمْ فَأَنْذِرْ * وَرَبَّكَ فَكَبِّرْ * وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ * وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ * وَلا تَمْنُنْ تَسْتَكْثِرُ* وَلِرَبِّكَ فَاصْبِرْ (المدثر:1 - 7)
    "اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم جو کمبل اوڑھے سے رہے ہو، اٹھیے اور (لوگوں کو برے انجام سے) ڈرائيے اور اپنے پروردگار کی بڑائ بیان کییجیۓ اور اپنے کپڑے پاک صاف رکھیۓ اور گندگي سے دور رہیۓ اور زیادہ حاصل کرنے کے لیۓ احسان نہ کیجیۓ اور اپنے پروردگار کی خاطر صبر کیجیۓ۔"

    تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت کریمہ کے نزول پر، منصب رسالت کے فریضہ کی ادائیگی کے لیۓ کمر بستہ ہوگۓ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی قوم کو (عذاب الہی سے) ڈرایا اور اللہ عزوجل کے حکم کی بجا آوری کے لیۓ اٹھ کھڑے ہوۓ۔"

    اور 'نبی' اور 'رسول' میں فرق کے بارے میں اہل علم حضرات کہتے ہیں:"

    کہ 'نبی' وہ ہے جس کی جانب شریعت (بذریعہ وحی) نازل کی جاۓ، مگر وہ اس شریعت طاہرہ کی تبلیغ کا پابند نہ بنایا جاۓ
    اور 'رسول' وہ ہستی ہے، جس کی طرف اللہ تعالی شریعت (بذریعہ وحی) نازل فرماۓ اور اسے اس کی تبلیغ اور اس پر عمل کرنے کا بھی حکم فرماۓ، تو علماۓ کرام کے اس قول کی بناء پر ہررسول نبی ہوتا ہے جبکہ ہر نبی رسول نہیں ہوتا۔

    پانچواں امر: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کون سا بنیادی پیغام دے کر بھیجا گيا اور کیوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو (تمام بنی نوع انسان کی طرف) اللہ عزوجل کی توحید کا پیغام دے کر اور اس (جل جلالہ) کی شریعت طاہرہ دے کر، جو ہر امر معروف (نیکی) کی بجا آوری اور ہر امر منکر (برائ) کو ترک کرنے پر مشتمل ہے، بھیجا گیا ہے، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام جہانوں کے لیۓ رحمت بنا کر بھیجے گۓ ہیں، تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم دنیا کے باسیوں کو، کفر و شرک اور جہالت کے ظلمتوں (اندھیروں) سے نکال کر، علم و عرفان اور ایمان و توحید کی روشنی سے بہرہ ور کردیں، یہاں تک کہ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس ہدایت و رحمت کے ذریعے، اللہ تعالی کی مغفرت اور اس کی رضا و خوشنودی سے مشرف ہو کر، اس کی تیار کردہ سزا اور ناراضگي سے بھی بچ سکیں۔
    دین کے تین بنیادی اصول اور ان کی شرح(شرح اصول الثلاثة) - URDU MAJLIS FORUM
     
  2. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    جزاک اللہ خیرا وبارک اللہ فیک
     
  3. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں