نبی مکرم صلی اللہ علیہ کی ہجرت کا احوال

بابر تنویر نے 'دین کے تین بنیادی اصول اور ان کی شرح' میں ‏نومبر 17, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,319
    وفرضت عليه الصلوات الخمس، وصلى في مكة ثلاث سنين (7) ، وبعدها أمر بالهجرة (8) إلى المدينة
    " اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر (ہر دن اور رات میں) نماز پنچگانہ فرض کی گئ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین سال تک مکہ مکرمہ میں نماز ادا کرتے رہے، اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ منورہ کی طرف ہجرت کر جانے کا حکم مل گيا۔"

    کفار کی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف سازش اور اللہ تعالی کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ کو ہجرت کا حکم

    (7) اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ میں 'رباعی' نماز دو رکعت پڑھتے تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے ہجرت کرکے مدینہ منورہ نزول اجلال فرمایا، تو یہی دو رکعت، سفر کی نماز ٹھری اور حضر (یعنی اقامت کی حالت میں پڑھی جانے والی ) نمازیں بڑھا دی گئیں۔

    (8) اللہ عز و جل نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مدینہ طیبہ کی طرف ہجرت کا حکم فرمایا، اس لیۓ کہ اہل مکہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دعوت حق سے (سختی) سے روکا اور بعثت نبوی کے تیرہویں سال، ربیع الاول کے مہینے میں اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم "وحی الہی" کے پہلے مقدس شہر مکہ مکرمہ، جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک تمام مقامات میں سے سب سے بڑھ کر محبوب مقام ہے، سے (اللہ کی راہ میں) ہجرت کے لیۓ نکل کھڑےے ہوۓ، اس کے بعد کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلسل تیرہ برس (وہاں کے باسیوں کو) پیغام حق پہنچایا، ان کو علی وجہ البصیرۃ دعوت توحید دی، مگر قریش اور دیگر قبائل کے اکثر سر کردہ لوگوں کی جانب سے سواۓ اس دعوت کے انکار و اعراض (منہ موڑنے) کے اور پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ اور اہل ایمان کو انتہائ کڑی تکالیف و مصائب سے دوچار کرنے کے، اور کچھ نہ پایا، یہان تک کہ معاملے کی شدت نے ان مخالفین کو ایسے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کرنے تک پہنچا دیا کہ انہوں نے مکر و فریب اور دھوکہ دہی سے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو (نعوذ باللہ) قتل تک کرنے کے لیۓ خفیہ سازشیں تیار کرنا شرو‏ع کردیں، اور وہ اس طرح کہ ان (دسیسہ کار کافروں) کے بڑے سرکردہ سرداران اپنے دار الندوۃ (ایوان پارلیمنٹ) میں یہ سازشی جال بننے کے لیۓ، آپس میں مشورہ کی غرض سے اکٹھے ہوئے کہ وہ ایسے حالات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کون سا رویہ اور طریقہ اختیا کریں؟ خصوصا، جب انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو مدینہ منورہ کی جانب ہجرت کرتے ہوۓ دیکھا، اس لیۓ کہ خود اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بھی عنقریب مدینہ میں اپنے ساتھیوں سے جا ملیں گے، پھر وہ وہاں کے رہنے والوں (یعنی انصار) سے (اور ان مہاجرین سے) مدد اور نصرت طلب کریں گے، اور مدینہ کے لوگ (انصار) تو وہ ہیں، جنہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر اس جذبے سے بیعت کی ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ان کے مخالفین اور دشمنوں سے اسی طرح دفاع کریں گے، جس طرح وہ اپنے دشمنوں سے، اپنے بچوں اور اپنی عورتوں کا دفاع کرتے ہیں، اور انجام کار یہ ہوگا کہ اس (رسول صلی اللہ علیہ وسلم) کا قریش پر غلبہ ہوگا اور وہ خود اس مدینہ کی ریاست کا حکمران ہوگا۔
    ان کی آپس کی گفتگو جب اس مرحلہ میں داخل ہوئ تو اللہ کے دشمن ابو جہل نے اپنی راۓ پیش کی، کہ ہم قبائل عرب کے ہر قبیلے سے ایک مضبوط اور تنومند جوان کا انتخاب کرتے ہیں، پھر ہم ان میں سے ہر ایک کے ہاتھ میں ایک قاطع (یعنی تیز دھار اور کاٹ رکھنے والی) تلوار دیتے ہیں، یہ سب جوان اکھٹے ہو کر محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا گھیراؤ کر لیں پھر اس پر یکبارپل پڑیں اور ایک ہی وار سے اس کا کام تمام کردیں، تو اس طرح ہم اس سے چھٹکارا پا کر سکھ کا سانس لیں گے، نیز محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو قتل کرنے کا یہ طریقہ اختیار کرنے سے عرب کے تمام قبائل میں اس کا خون بٹ جاۓ گا اور بنو عبد مناف یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا خاندان اپنی پوری قوم سے ٹکر لینے کی سکت نہیں رکھ سکے گا اور بالآخر وہ اس کی دیت لینے پر راضی ہو جائیں گے، تو ہم سب مل کر انہیں یہ دیت (آسانی سے) ادا کردیں گے۔

    ہجرت کی ابتداء ۔ مکہ سے غار ثور اور پھر وہاں مدینہ کی جانب سفر

    کفار و مشرکین کی اس ناپاک سازش سے اللہ تعالی نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کر دیا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہجرت حکم فرمایا ہجرت مدینہ کے سلسلے میں (آپ کے یار غار) حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ پہلے ہی سے تیار بیٹھے تھے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا :اے ابو بکر ذرا ٹھر جائیے، مجھے امید ہے کہ (عنقریب اللہ کی طرف سے) مجھے ہجرت کی اجازت مل جاۓ، اس پر حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ رسول صلی اللہ علیہ کی مصاحبت و رفاقت میں تڑپ کر رک گۓ۔
    ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ تعالی عنہا فرماتی ہیں :" اس وقت جب نصف النہار کی چمکدار دوپہر کو ہم ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ (یعنی اپنے والد محترم) کے گھر پر تھے کہ اچانک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خلاف معمول دروازے پر تشریف لائے تو ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ (میرے والد محترم) نے کہا :" میرے ماں باپ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر فدا (قربان) ہوں اللہ کی قسم ! اس وقت آپ صلی اللہ علیہ کو کوئ نہایت اہم معاملہ یہاں تک لایا ہے۔" تب اللہ کے نبی تشریف لاۓ اور (میرے والد محترم) ابو بکر صدیق رضی اللہ تعال عنہ سے فرمایا:" جو بھی اور فرد گھر پر ہے، اسے اپنے سے علیحدہ کردو، تو انہوں نے کہا: اگر کوئ ہے تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ (عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا) ہی ہیں۔ میرے ماں باپ آپ پر فدا ہوں! تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:" مجھے مکہ مکرمہ سے مدینہ کی طرف ہجرت کے لیۓ نکلنے کی اجازت دے دی گئ ہے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے یہ سن کر کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مصاحبت میں( میں بھی جاؤں گا؟) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہاں اس پر حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ: میری ان دو سواریوں میں سے ایک سواری کو (زادہ راہ کے طور پر) قبول فرمائیے، تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :( مفت میں نہیں) قیمتا لوں گا۔"
    پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ گھر سے نکلے اور "جبل ثور" کی غار میں تین راتیں متواتر ٹھرے رہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ کے بیٹے حضرت عبداللہ رات بسر کرتے تھے۔ جو ایک ذہین و فطین اور ہوشیار نوجوان تھے۔ وہ روزانہ رات کے آخری پہر مکہ پہنچ جایا کرتے اور صبح کے وقت 'قریش مکہ' کے درمیان ہوتے وہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں، جو بھی کوئ نئ خبر سنتے، اسے فورا ازبر کرلیتے اور جب رات کا اندھیرا چھانے لگتا تو واپس غار ثور کے قریب (آپ صلی اللہ علیہ اور آپ کے ساتھیوں کو) وہ خبر آ سناتے۔ اب تو قریش مکہ نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کی تلاش اور جستجو میں ہر حربہ استعمال کرنے کا فیصلہ کرلیا، یہاں تک کہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یار غار دونوں یا دونوں میں سے کسی ایک کو پکڑ کر لانے والے کے لیۓ سو اونٹ کا انعام کا اعلان کر دیا، لیکن دشمنوں کی یہ سب کوششیں اکارت گئیں۔ اللہ تعالی ان دونوں کے ساتھ تھا، اپنی عنایت سے ان دونوں کی حفاظت اور نگہبانی فرما رہا تھا، یہاں تک کہ قریش کا ایک (کھوج لگانے والا) گروہ اسی غار ثور کے دھانے پر آکھڑا ہوا، لیکن وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے یار غار کو نہ دیکھ سکے۔ حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ خود کہتے ہیں :" میں نے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا (اس وقت کہ جب ہم غار میں تھے) کہ ان (کفار) میں سے کوئ ایک اگر اپنے پاؤں کی طرف (یعنی نیچے) دیکھ لے، تو وہ ہم کو دیکھ لے گا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (کمال اطمینان اور سکون سے) فرمایا : "لا تحزن إن الله معنا، ما ظنك يا أبا بكر بإثنين الله ثالثهما"(61) " کے اے ابوبکر رضی اللہ تعالی عنہ غم نہ کر، یقینا اللہ تعالی ہمارے ساتھ ہے، تیرا ان دوشخصوں کے بارے میں کیا خیال ہے کہ جن کا تیسرا اللہ ہے؟" یہاں تک کہ جب ان دونوں ہستیوں کے بارے میں تلاش و جستجو میں کچھ کمی ہوئ، تو یہ تین راتوں کے بعد غار سے نکلے، اور (اوپر سے لمبا چکر کاٹ کر) سمندر کے ساحلی راستے کو اختیار کرتے ہوۓ مدینہ منورہ کی طرف متوجہ ہوئے۔"

    اہل مدینہ کا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مدینہ آمد کا بے چینی سے انتظار اور آپ صلی اللہ علیہ کی مدینہ آمد

    اور اہل مدینہ کے مہاجرین و انصار (رضی اللہ تعالی عنہم) نے جب سے یہ سنا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لانے کے لیۓ مکہ سے نکل چکے ہیں، تب سے وہ روزانہ صبح کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کے ورود مسعود کا 'حرۃ' مقام تک آ کر انتظار کرتے اور دھوپ کے شدت اختیا کرنے پو وہ واپس اپنے گھروں کو لوٹ جاتے، پھر وہ (سہانا) دن بھی آگيا جس میں ماہتاب رسالت رسول اللہ علیہ وسلم نے (اپنے ساتھیوں سمیت) مدینہ منورہ میں اجلال نزول فرمایا، حسب معمول دن کا خاصا حصہ آگے بڑھ گیا تھا اور گرمی میں تیزی آچکی تھی، مدینہ کے باسی طویل انتظار کے بعد (مایوس ہو کر) آج بھی اپنے گھروں کی طرف پلٹ چکے تھے ، کہ اچانک اہل یہود میں سے ایک آدمی مدینہ کے اونچے قلعوں (یعنی ٹیلوں) میں سے کسی ٹیلے پر اپنی ضرورت کی کوئ چیز دیکھنے کو چڑھا، تو اس کی نگاہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں پر پڑی، جو ریت کے سراب کو بھسم کرتے ہوۓ مدینہ کی جانب آرہے تھے، تو اس آدمی سے رہا نہ گیا، یہاں تک کہ اس نے بلند آواز سے پکارا : کہ عرب کی جماعت! یہ رہا تمہارا نصیبہ اور تمہاری عزت و شرف (کا نشان اعلی) جس کے تم عرصہ سے منتظر تھے۔ مسلمانوں نے یہ اعلان سنتے ہیں (خوشی اور مسرت کے جذبات میں لبریز) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لیۓ اور آپ صلی اللہ علیہ کی اس دن تعظیم و تکریم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے استقبال کے لیۓ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اس دن تعظیم و تکریم اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت و جلالت کے اظہار کے لیۓ، نیز آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات اور دین اسلام کے مخالفین اور دشمنوں سے آپ کے دفاع اور حفاظت کے کیۓ گۓ عہد کی تجدید کی غرض سے اپنے اوپر ہتھیار بھی سجا لیے، اور حرہ مقام پر جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے دوسرے ساتھیوں سے شرف ملاقات حاصل کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اہل مدینہ کے مہاجرین و انصار کے جلو میں اپنی دائیں سمت چلے اور قباء مقام پر قبیلہ بنی عمرو بن عوف میں قیام فرمایا۔ آپ وہاں ایک ہفتہ عشرہ یا اس سے کم مدت ٹھرے اور اسلام کی پہلی مسجد (مسجد قباء) کی بنیاد رکھی، بعد ازاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ کی جانب کوچ فرمایا اور لوگ اس وقت بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے اور دیگر اہل مدینہ مختلف راستوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رفاقت کی سعادت پانے لگے۔"

    حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ خود فرماتے ہیں: جب ہم نے مدینہ میں قدم رکھا تو لوگ استقبال کے لیۓ مختلف راستوں اور گھروں کی چھتوں پر سے امڈے پڑے جبکہ مدینہ کے بچے اور خدام بلند آواز سے یہ کہہ رہے تھے:

    الله أكبر جاء رسول الله، الله أكبر جاء محمد.
    " اللہ بہت بڑا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آۓ ، اللہ بہت بڑا ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آۓ۔"


    دین کے تین بنیادی اصول اور ان کی شرح(شرح اصول الثلاثة) - URDU MAJLIS FORUM
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 3
  2. ام محمد

    ام محمد -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 1, 2012
    پیغامات:
    3,120
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    جزاک اللہ خیرا
     
  4. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,756
    جزاک اللہ خیرا
     
  5. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    ماشاء اللہ
    اللہ تعالی تاقیامت آپ کو اس کا اجر عطا کرے۔
    بہت ہی مبارک کاوش ہے۔
     
  6. عائشہ

    عائشہ ركن مجلس علماء

    شمولیت:
    ‏مارچ 30, 2009
    پیغامات:
    24,492
    جزاک اللہ خیرا و بارک فیک ۔
     
  7. Ishauq

    Ishauq -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏فروری 2, 2012
    پیغامات:
    9,612
    جزاک اللہ خیرا
     

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں