کفار اور مشرکین والے علاقوں کی جانب سفر اور قیام کی شرائط

بابر تنویر نے 'دین کے تین بنیادی اصول اور ان کی شرح' میں ‏نومبر 20, 2013 کو نیا موضوع شروع کیا

  1. بابر تنویر

    بابر تنویر -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏دسمبر 20, 2010
    پیغامات:
    7,318
    کفار اور مشرکین والے علاقوں کی جانب سفر کے کی شرائط

    ہجرت کے حوالے سے ہم یہاں کفر و شرک والے علاقوں اور ممالک کی طرف سفر کرنے کا حکم ذکر کرنا ضروری سمجھتے ہیں۔

    تو ہم اس بارے میں یہ کہیں گے کہ کفار و مشرکین کے ممالک کی طرف سفر کرنا تین شرائط کے بغیر شرعا ناجائز نہیں:

    پہلی شرط : کہ انسان کہ پاس اتنا ٹھوس اور پختہ علم ہو، جس کے ذریعے و شکوک و شبہات کو دور کر سکے اور اپنے آپ کو بچا سکے۔

    دوسری شرط : وہ دینی اعتبار سے اتنا پختہ اور ثابت قدم ہو کہ شہوات اور حیوانی خواہشات میں پڑنے سے وہ بچ سکے۔

    تیسری شرط: کہ وہ ان ممالک کی طرف سفر کرنے کا محتاج اور ضرورت مند ہو۔ اگر یہ مذکورہ شروط پوری نہ ہوں، تو ایک مسلمان کے لیۓ کفار و مشرکین کے ممالک کی جانب سفر کرنا اس لیۓ جائز نہیں، کہ ایک تو اس کے فتنہ میں واقع ہوجانے کا ڈر ہے اور دوسرے ، سراسر نافرمانی کے اس سفر میں بہت سا مال بھی خرچ ہو جاتا ہے، اس لیۓ کہ انسان ان جیسے سفروں میں بہت زیادہ مال و دولت بلا ضرورت خرچ کر بیٹھتا ہے۔

    • اگر انسان کو کسی انتہائ اشد ضرورت کی بناء پر سفر کرنا پڑ جاۓ، جیسے علاج آپریشن کی غرض سے یا ایسے جدید منفعت بخش علوم کے حصول کے لیۓ، جو اس کے اپنے ملک میں ناپید ہوں، اور پھر اس کے پاس اس حد تک علم اور دینی و روحانی قوت بھی ہو، جیسا کہ ہم نے قبل ازیں بیان کیا ہے، تو ایسی صورت میں سفر کی ممانعت نہیں۔

    • لیکن اگر یہی سفر کفار و مشرکین کے ممالک کی محض سیر و سیاحت کے لیۓ ہو، کسی اور ضرورت و مصلحت کی بناء پر نہیں اور پھر اسی سیر و تفریح کی غرض سے کسی اسلامی ملک میں سفر کرنا اس کے بس میں ہو، جہاں شعائر اسلام کی پاسداری کرنے والے کثرت سے ہوں، تو ایسے میں کافر ملک کی طرف جانا قطعا جائز نہیں، جبکہ آج کے دور میں ہمارے مسلمانوں کے شہر (الحمدللہ) اور کئ ایک ممالک سیر و سیاحت کے اعتبار سے بہت موزوں اور مناسب ہیں، لہذا ایک مسلمان کے لیۓ یہ بہت مناسب اور آسان ہے کہ وہ کچھ وقت کے لیۓ ایسے ممالک اور جگہوں کا رخ کرے، جہاں وہ ایام تعطیلات گزار کر اپنا جی بہلا سکے۔

    کفر و شرک کے ممالک میں سکونت اختیار کرنے کی شرائط

    اور جہاں تک ایک مسلمان کے لیۓ کفر و شرک کے ممالک میں مستقل سکونت اختیار کرنے کا تعلق ہے تو اس کے مسلمان کے دین پر، اس کے آداب و اخلاق پر اور کردار پر بڑے خوفناک اور تباہ کن نتائج مرتب ہوتے ہیں، ہم نے خود اور ہمارے علاوہ دیگر لوگوں نے بہت سے اشخاص کو وہان رہتے ہوۓ، دین سے منحرف ہوکر، یا فسق و فجور میں لت پت اور یا پھر (العیاذ باللہ) اپنے دین سے مرتد ہو کر واپس لوٹتے دیکھا ہے، ان کی دین و مذہب سے نفرت کا یہ عالم ہوا کہ وہ اپنے دین سے ہاتھ دھونے کے ساتھ ساتھ بقیہ ادیان و مذاہب کے نہ صرف منکر ہوۓ، بلکہ اس دین سے وابستہ ہونے والی پاکیزہ ہستیاں ( السابقون الأولون ) اور متاخرین میں سے جو اسلام لائے، سب کے سب ان ملحدوں اور مرتدوں کے استہزاء اور مذاق بنے ( اور اب بھی یہ صورت حال جاری ہے- (العیاذ باللہ)۔۔۔۔۔ اسی لیۓ، یہ بات ازحد ضروری ہے کہ عام مسلمانوں کے اخلاقی تحفظ اور دینی و ایمانی تشخص کی بقاء کے لیۓ ٹھوس اور مضبوط اقدامات ہونے چاہئیں اور قانونی اعتبار سے بھی ایسی شروط وضع کی جائیں، جو مسلمانوں کو ان ہلاکت خیزیوں اور تباہ کاریوں سے روک سکیں۔

    بلاد کفر و شرک میں اقامت (ٹھرنے) کی دو بنیادی اور ضروری شرطیں

    پہلی شرط : سکونت اختیار کرنے والے شخص کا دین و ایمان محفوظ و مامون ہو، اس اعتبار سے کہ اس کے پاس اتنا مضبوط علم و ایمان اور عزیمت کی قوت و طاقت موجود ہو، جس کی بناء پر وہ اپنے دین پر ثابت قدم رہ سکے اور انحراف و گمراہی سے بچ سکے ، اور ساتھ ہی ساتھ اہل کفر کی محبت اور ان سے تعلقات سے دور رہتے ہوۓ، ان سے نفرت اور عداوت کو اپنے دل میں سماۓ رکھے، اس لیۓ کہ کفار و مشرکین سے محبت و عقیدت رکھنا اور ان سے تعلقات استوار رکھنا، ایمان کے منافی امور میں سے ہے۔

    اللہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے :لا تَجِدُ قَوْماً يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ )(المجادلة:الآية22)
    " تو جو لوگ اللہ اور آخرت کے دن پر یقین رکھتے ہیں، آپ انہیں کبھی ایسا نہ پائیں گے کہ وہ ایسے لوگوں سے دوستی لگائیں، جو اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرتے ہوں، خواہ وہ ان کے باپ ہوں، یا بیٹے ہوں، یا بھائ یا (سارے) کنبہ (وقبیلہ) والے ہوں"

    اور سورہ مائدہ میں حق تعالی جل شانہ کا ارشاد ہے
    : (يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَتَّخِذُوا الْيَهُودَ وَالنَّصَارَى أَوْلِيَاءَ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ إِنَّ اللَّهَ لا يَهْدِي الْقَوْمَ الظَّالِمِينَ * فَتَرَى الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ يُسَارِعُونَ فِيهِمْ يَقُولُونَ نَخْشَى أَنْ تُصِيبَنَا دَائِرَةٌ فَعَسَى اللَّهُ أَنْ يَأْتِيَ بِالْفَتْحِ أَوْ أَمْرٍ مِنْ عِنْدِهِ فَيُصْبِحُوا عَلَى مَا أَسَرُّوا فِي أَنْفُسِهِمْ نَادِمِينَ) (المائدة:51 - 52)
    اے ایمان والو! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا دوست نہ بناؤ، یہ سب ایک دوسرے کے دوست ہیں، اگر تم میں سے کسی نے ان کو دوست بنایا، تو وہ بھی انہی میں سے ہے، یقینا اللہ تعالی ظالموں کو ہدایت نہیں دیتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم دکھیں گے کہ جن لوگوں کے دلوں میں ( نفاق کا) روگ ہے، وہ انہی (یہود و نصاری) میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں، کہتے ہیں: کہ ہم ڈرتے ہیں کہ کسی مصیبت میں نہ پڑجائیں، ہو سکتا ہے کہ جلد ہی اللہ (مومنوں کو) فتح عطا فرما دے یا اپنی طرف سے کوئ اور بات ظاہر کردے، تو جو کچھ یہ اپنے دلوں میں چھپائے پھرتے ہیں، اس پر نادم ہو کر رہ جائیں گے۔

    اور صحیح حدیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے۔
    { من أحب قوماً فهو منهم و أن المرءَ معَ مَن أحَبَ }
    کہ جس شخص نے کسی قوم سے محبت کی تو وہ انہی میں شمار ہوگا، اور بے شک آدمی اسی کے ساتھ (ہوگا) جس کے ساتھ اس نے محبت کی ہوگی۔"


    اور اللہ کے دشمنوں سے محبت، ایک مسلمان کے لیۓ سب سے بڑی خطرے کی چیز ہے، اس لیۓ کہ ان کی محبت اصل میں ان کی موافقت اور ان کی پیروی کو مستلزم ہے، (یعنی اسے لازم قرارر دیتی ہے) یا پھر ان کی (دین کے خلاف ہر) بات کو رد کرنے سے بھی روکتی ہے، اسی لیۓ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ فرمایا { من أحب قوماً فهو منهم }

    دوسری شرط: کہ سکونت پذیر شخص کے لیے وہاں (دار الکفر و الشرک) میں اپنے دین ایمان کا کھلے عام اظہار ممکن ہو، اس طرح سے کہ وہ بغیر کسی ممانعت کے دین کے شعائر کا اہتمام اور اس پر عمل پیرا ہونے کا ہر طرح سے مجاز ہو، مثلا: فرض نمازوں کو باجماعت اور جمعۃ المبارک کی نماز کو ادا کرنے میں کوئ رکاوٹ نہ ہو اگر وہاں اس کے ساتھ اور لوگ ہوں جو اس کے ساتھ ان نمازوں اور جمعۃ المبارک کی ادائیگی کا اہتمام کرنا چاہتے ہوں۔ اسی طرح اسے دیگر شعائر دین (ارکان دین) یعنی زکوۃ، روزے اور حج وغیرہ کی ادائیگی کی ممانعت نہ ہو، اگر ایسا ممکن نہیں تو ان حالات میں اس پر ہجرت واجب ہونے کی وجہ سے اس کا کفار و مشرکین کے ملک میں ٹھرنا بھی جائز نہیں۔

    صاحب المغنی نے اپنی کتاب کے ج 8 ص 457، پر ہجرت کے ضمن میں، لوگوں کی مختلف اقسام کا ذکر کرتے ہوۓ کہا : کہ ان میں سے لوگوں کی ایک تو وہ قسم ہے، جن پر ہجرت واجب ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جو ہجرت کے طاقت تو رکھتے ہوں مگر 'بلاد کفار' میں اپنے دین کا اظہار ان کے لیۓ ناممکن ہو، اوروہ کفار کے درمیان رہتے ہوۓ اپنے دین کے واجبات پر بھی عمل پیرا نہ ہوسکتے ہیں، تو ایسے لوگوں پر اللہ عزوجل کے اس فرمان کی بناء پر ہجرت کرنا فرض ہوجاتی ہے۔

    إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلائِكَةُ ظَالِمِي أَنْفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنْتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الأَرْضِ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا فَأُولَئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَسَاءَتْ مَصِيراً) (النساء:97)
    " جو لوگ اپنے آپ پر ظلم کرتے رہے، جب فرشتے ان کی روح قبض کرنے آتے ہیں، تو ان سے پوچھتے ہیں ، تو ان سے پوچھتے ہیں کہ تم کس حال میں مبتلا تھے؟ وہ کہتے ہیں کہ ہم زمین میں کمزور و مجبور تھے۔" تو فرشتے انہیں جواب میں کہتے ہیں:" کیا اللہ کی زمین فراخ نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کر جاتے؟ ایسے لوگوں کا ٹھکانہ جہنم ہے جو ہت بری بازگشت ہے۔"

    آیت ہذا میں یہ شدید ترین وعید، ہجرت کے وجوب (فرض) پر دلالت کرتی ہے، اور اس لیۓ بھی کہ دین کے واجبات پر 'عمل' ہر اس شخص پر واجب ہے، جو اس کی طاقت رکھتا ہو، اور دین اسلام میں ہجرت تو "واجب کی ضرورت" اور اس کے تتمہ (تکمیل) میں سے ہے، اور جس 'عمل' کو ادا کیۓ بغیر واجب پورا نہ ہوتا ہو، تو اس عمل کو بجا لانا بھی واجب ہوتا ہے۔

    دین کے تین بنیادی اصول اور ان کی شرح(شرح اصول الثلاثة) - URDU MAJLIS FORUM
     
    • پسندیدہ پسندیدہ x 1
  2. ام ثوبان

    ام ثوبان رحمہا اللہ

    شمولیت:
    ‏فروری 14, 2012
    پیغامات:
    6,690
    جزاک اللہ خیرا
     
  3. اعجاز علی شاہ

    اعجاز علی شاہ -: ممتاز :-

    شمولیت:
    ‏اگست 10, 2007
    پیغامات:
    10,324
    جزاک اللہ خیرا وبارک اللہ فیک
    ماشاء اللہ بہت ہی اچھا کام کیا ہے۔
     
  4. ساجد تاج

    ساجد تاج -: رکن مکتبہ اسلامیہ :-

    شمولیت:
    ‏نومبر 24, 2008
    پیغامات:
    38,757
    جزاک اللہ خیرا
     
Loading...

اردو مجلس کو دوسروں تک پہنچائیں